وہ بزرگانِ دین جن کا وصال /عرس ربیع الاول میں ہے

رَبِیعُ الْاَوّل اسلامی سال کا تیسرا مہینا ہے۔ اس میں جن صحابۂ کرام، اَولیائے عِظام اور علمائے اسلام کا وصال ہوا، ان کا مختصر ذکر5عنوانات کے تحت کیا گیا ہے۔ صحابۂ کرام و صحابیات علیہمُ الرِّضوَان: (1)اُمّ المؤمنین حضرتِ سیِّدتنا جُویرِیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا  سردارِ قبیلہ بنومصطلق کی شہزادی، حسنِ ظاہری وباطنی کی جامع اور کثرت سے ذکر و عبادت کرنے والی تھیں۔ آپ نے ربیعُ الاوّل 50ھ میں وصال فرمایا اور جَنَّۃُ البَقِیْع میں دفن ہوئیں۔ (الاستیعاب،ج 4،ص366،367،شرحِ زرقانی،ج 4،ص428،427) (2)نورِچشمِ رسول، جگر گوشۂ بتول، حضرت امام ابو محمد حسن مُجتبٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے 5ربیعُ الاوّل 49ھ کو وصال فرمایا، مزید تذکرہ صفحہ 20 پرملاحظہ فرمائیے۔ اولیائے کرام رحمہمُ اللہُ السّلَام:(3)شہزادۂ غوثُ الوریٰ حضرت سیّد شمسُ الدّین عبدُالعزیز جیلانی قادری علیہ رحمۃ اللہ الوَالی کی ولادت 532ھ کو بغداد شریف عراق میں ہوئی اور یومِ وصال 18ربیع ُالاول 602ھ ہے، مزار مبارک حیال (ضلع عقرہ صوبہ دھوک) عراق میں مشہور زیارت گاہوں میں شامل ہے۔ آپ محدّث، واعِظ، مدرّس اور استاذالعلماء تھے۔ موجودہ نقیب و متولّیِ دربارِغوثِ اعظم آپ کی نسلِ پاک سے ہیں۔(قلائد الجواہر، ص35) (4)سیّدالاولیاء، استاذالعلماء حضرت سیّد محی الدین ابو نصْر محمد جیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی کی ولادت بغداد میں ہوئی اور 22ربیعُ الاوّل 656ھ کو وصال فرمایا، آپ کا مزار شریف بغداد میں ہے۔ آپ سلسلہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کے 20ویں  شیخِ طریقت ہیں۔ (قلائد الجواہر، ص47-شرحِ شجرۂ قادریہ رضویہ عطّاریہ، ص92) (5)بانیِ سلسلۂ احمدیہ بدویہ، غوثِ کبیر، قطبِ شہیر حضرت سیّد احمد بدوی شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی  کی ولادت 596ھ زَرْقاالحجَر (نزد فاس) مَراکش میں ہوئی، وصال 12ربیعُ الاوّل 675ھ کو فرمایا۔ مزارِ مبارک طَنطا(Tanta) (صوبہ الغربیہ) مصر میں قبولیتِ دعا کا مقام ہے۔ آپ اکابر اولیا سے ہیں۔(طبقاتِ امام شعرانی، جزء1، ج1،ص254، 256، چار بڑے اَقطاب، ص53،44) (6)شمس مارَہرہ، غوثِ زماں، حضرت سیّد شاہ ابوالفضل آلِ احمد اچھے میاں مارَہروی قادری علیہ رحمۃ اللہ الوَالی کی ولادت 1160ھ کو مارَہرہ مطہرہ (ضلع ایٹایوپی) ہند میں ہوئی، وصال 17 ربیع ُالاوّل 1235ھ کو یہیں فرمایا۔ آپ جَیِّد عالمِ دین، واعِظ، مصنّف اور شیخِ طریقت تھے، آدابُ السالکین اور آئینِ احمدی جیسی کتب آپ کی یادگار ہیں۔ آپ سلسلہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کے 36ویں شیخِ طریقت ہیں۔ (احوال و آثارِ شاہ آل ِاحمد اچھے میاں مارہروی، ص26) (7)شیرِِ ربّانی، شیخ المشائخ حضرت شیر محمد شَرقْپوری نقشبندی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1282ھ میں شرقپور شریف (ضلع شیخوپورہ، پنجاب) پاکستان میں ہوئی اور 3 ربیعُ الاوّل 1347ھ کو وصال فرمایا، مزارِ پُرانوار شَرْقْپور شریف میں زیارت گاہِ خاص و عام ہے۔(تذکرۂ اکابرِ اہلِ سنّت، ص180 تا 183) علمائے اسلام رحمہمُ اللہُ السّلَام: (8)فقہِ مالکی کے عظیم المرتبت امام، بدرالعاشقین، حضرتِ سیِّدنا امام مالِک بن انس رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادت 93ھ میں مدینۂ منورہ میں ہوئی اور 14ربیعُ الاوّل 179ھ کو وصال فرمایا۔ قبر شریف جَنَّۃُ البَقِیْع میں ہے۔ آپ کی کتاب ”مؤطا امام مالک“ احادیثِ مبارکہ کے مقبول و معروف مجموعوں میں قدیم ترین ہے۔(تذکرۃ الحفاظ، جزء1، ج1،ص157،سیر اعلام النبلا،ج 7،ص435) (9)شاگردِ امامِ اعظم، قاضیِ سلطنتِ عباسیہ حضرتِ سیّدنا امام ابویوسف یعقوب بن ابراہیم انصاری علیہ رحمۃ اللہ الوَالی کی ولادت 113ھ میں کوفہ میں ہوئی اور 5 ربیعُ الاوّل 182ھ کو وصال فرمایا۔ آپ کا مزار مسجدِ امام ابو یوسف کاظمیہ بغداد شریف میں ہے۔ آپ قاضی القُضاۃ (چیف جسٹس)، استاذالفُقَہاء، مُجتہد، محدّث اور فقہِ حنَفی کے جلیل القدر اِمام ہیں۔(تاریخ ِبغداد،ج 14،ص247-263) (10)فقہِ حنبلیہ کے عظیم پیشوا حضرتِ سیِّدنا امام احمد بن حنبل علیہ رحمۃ اللہ الاکبر  کی ولادت 164ھ میں بغداد میں ہوئی اور 12 ربیعُ الاوّل 241ھ کو وصال فرمایا۔ آپ کو بغداد شریف کے غربی جانب بابِ حرب میں دفن کیا گیا پھر دریائے دجلہ میں طُغیانی کی وجہ سے سجد عارف آغا، حیدر خانہ (شارع الرشید بغداد) میں منتقل کردیا گیا۔ آپ مُجتہد، حافظ الحدیث، عالمِ اجلّ، اُمّتِ محمدی کی مؤثر شخصیت اور ائمۂ اربعہ میں سے ایک ہیں۔ چالیس ہزار (40000) احادیث پر مشتمل کتاب ”مسند امام احمد بن حنبل“ آپ کی یادگار ہے۔( البدایہ والنہایہ،ج 7،ص339) (11)استاذِ قطبِ مدینہ حضرت علّامہ غلام قادر ہاشمی سیالوی بھیروی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1265ھ بھیرہ شریف (ضلع گلزارِ طیبہ( سرگودھا)) پاکستان میں ہوئی۔ 19 ربیعُ الاوّل 1327ھ کو وصال فرمایا، مزار مبارک بیگم شاہی مسجد نزد مستی گیٹ مرکزُالاولیاء لاہور پاکستان میں ہے۔ آپ جَیِّد عالمِ دین، چشتی سلسلے کے شیخِ طریقت، بہترین مدرِّس اور درجن سے زائد کُتُب کے مصنّف ہیں، ”اسلام کی گیارہ کتابیں“ آپ کی ہی تصنیف کردہ ہے۔(سیدی ضیاء الدین احمد القادری،ج1،ص613-تذکرۂ اکابرِ اہلِ سنت، ص326) احبابِ اعلیٰ حضرت علیہم رحمۃ ربِّ العزّت (12)عارفِ کامل حضرت مولانا فضلِ رحمٰن صدیقی گنج مرادآبادی نقشبندی قادری علیہ رحمۃ اللہ الوَالی کی ولادت1208 ھ سندیلہ (ضلع ہردوئی، یوپی ہند) میں ہوئی اور وصال 22ربیعُ الاوّل 1313 ھ کو فرمایا۔ مزار مبارک گنج مراد آباد (ضلع انّاؤ،یوپی ہند) میں ہے۔ آپ عالمِ باعمل، استاذ و شیخ العلماء والمشائخ، اکابرینِ اہلِ سنّت سے تھے۔ جَدِّ اعلیٰ حضرت مولانا رضا علی خان علیہ رحمۃ  الرَّحمٰن آپ کے ہی مرید و خلیفہ تھے۔(تذکرہ محدث سورتی ص53-57،تجلیات ِ تاج الشریعہ ص86) (13)مُحِبِِّ اعلیٰ حضرت، شیخ الاسلام حضرت سیّدنا شیخ محمد سعید بابصیل شافعی کی ولادت 1245ھ کومکّہ شریف میں ہوئی اور یہیں 24ربیعُ الاوّل 1330ھ کو وصال فرمایا۔ قبر مبارک جنۃُ المعلیٰ میں ہے۔ آپ رئیسُ العلماء، مفتیِ شافعیہ، عالمِ باعمل، مصنّف اور مُقْرِظِ اَلدَّوْلَۃُ الْمَکِّیۃ اور حُسامُ الْحَرَمَیْن ہیں۔( اما م احمد رضا محدث بریلوی اور علماءِ مکہ مکرمہ، ص 251-278) تلامذہ و خلفائے اعلیٰ حضرت علیہم رحمۃ ربِّ العزّت (14)مفکرِ اسلام، پروفیسر حضرت علّامہ سیّد محمد سلیمان اشرف بہاری علیہ رحمۃ اللہ الوَالی کی ولادتِ باسعادت 1295ھ میں مِیر داد، ضلع پٹنہ، بہار ہند میں ہوئی اور وصال 5ربیعُ الاوّل 1358ھ کو فرمایا۔ تدفین علی گڑھ اسلامی یونیورسٹی کے اندر شیروانیوں والے قبرستان میں ہوئی۔ آپ کی کئی کتب مثلاً النّور، الرّشاد وغیرہ یادگار ہیں۔(تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص144، سیدی ضیاء الدین احمد القادری،ج 2،ص266-268 ) (15)شیخُ الاصفیاء حضرت مولانا سیّد غلام علی اجمیری چشتی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی عالمِ باعمل، عاشقِ سلطانُ الہند، مُحِبِّ اعلیٰ حضرت، حُسنِ اخلاق کے پیکر اور خادمِ درگاہِ اجمیر شریف تھے 15ربیعُ الاوّل 1374ھ کو وصال فرمایا، مزار خواجہ غریب نواز سے متصل قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔(تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 471تا474) (16)قطبِ میواڑ حضرت مولانا مفتی محمدظہیر الحسن اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1302ھ کو محلہ اورنگ آباد اعظم گڑھ (یوپی) ہند میں ہوئی اور 12ربیعُ الاوّل 1382ھ کو وصال فرمایا، مزار مبارک مسجد سے متصل احاطۂ اولیا برھم پول اودھے پور (راجستھان) ہند میں ہے۔ آپ جَیِّد مفتیِ اسلام، مدرّس مدرسہ اسلامیہ اودھے پور، عالمِ باعمل اور شیخِ طریقت تھے۔(سالنامہ یاد گارِ رضا 2007ء، ص143-151) (17) ہمدردِ مِلّت، حضرت مولانا حافظ سیّد محمد حسین میرٹھی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1290ھ بریلی شریف (یوپی) ہند میں ہوئی۔ آپ حافظ القراٰن، صاحبِ ثروت عالمِ دین اور دین کا درد رکھنے والے راہنما تھے۔ آپ نے میرٹھ میں دینی کُتُب شائع کرنے کیلئے طلسمی پریس اور یتیموں کے لئے مسلم دارالیتامٰی والمساکین قائم فرمایا اور جب پاکستان آئے تو گُلبہار میں عظیم الشان جامع مسجد غوثیہ کی بنیاد رکھی۔ آپ نے 14 ربیع ُالاوّل 1384ھ میں وصال فرمایا، تدفین قبرستان پاپوش نگر بابُ المدینہ (کراچی) میں ہوئی۔(تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص213،سالنامہ معارفِ رضا 2008ء، ص236-238)

Share

Articles