ادائے مصطفےٰ مرحبا مرحبا

سَردارِ اَنبیا، حبیبِ کِبرِیا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ذاتِ والا تَبار کی ہر ہر ادا باکمال ہے۔آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی پیاری پیاری اداؤں میں سے  8 پیاری پیاری ادائیں یہ ہیں:

لَبَّیْک کہتے: آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو جو بھی پکارتا، اُسے لَبَّیْک کہہ کر جواب عنایت فرماتے تھے۔(الشفاءج1،ص 121)بات پوری سنتے: اگر کوئی شخص آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے کان میں سرگوشی کرتا تو جب تک اُس کی بات مکمل نہ ہو جاتی اپنا سَر مُبارک اُس کے منہ سے دور نہ فرماتے۔ (ایضاً) پاؤں نہ پھیلاتے: صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان مجلس میں حاضر ہوتے تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کبھی پاؤں پھیلاکر نہیں بیٹھتے تھے۔(ایضاً) چادر بچھاتے: مُلاقات کے لئے اگر کوئی حاضر ہوتا توبعض اوقات  اُس کےلئے اپنی چادر بچھاتے بلکہ اپنی مَسْنَد بھی پیش کردیا کرتے تھے۔ (ایضاً،ج1،ص122)کنیت سے پکارنا: صحابَۂ کرام علیہم الرضوان کو اُن کی کنیت اور اُن کے پسندیدہ ناموں سے پکارتے تھے۔ (ایضاً) با وقار گفتگو: آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نہایت  وقار کے ساتھ اِس طرح ٹھہر ٹھہر کر گفتگو فرماتے کہ اگر کوئی آپ کے جملوں کو گننا چاہتا تو  گن سکتا تھا۔(ایضاً،ج1،ص139)چلنے کا پُروقار انداز:آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم رفتار کے ساتھ اور ذرا جُھک کر(یوں) چلا کرتے تھے  گویا کسی بلندی سے اُتر رہے ہیں۔(شمائل ترمذی،ص 87)حضرتِ سیّدُنا ابوہُریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اِس قدر تیز چلتے تھے  گویا زمین آپ کے قدموں کے نیچے سے لپیٹی جا رہی ہو۔ ہم  آ پ کے ساتھ چلنے میں ہانپنے لگتے تھے مگر آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بغیر کسی مشقت کے تیز رفتاری کے ساتھ چلتے رہتے۔(شمائل ترمذی،ص86)خوشبو کا تحفہ: آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم خوشبو کا تحفہ کبھی واپس نہیں کرتے تھے، بلکہ فرماتے: خوشبو کا تحفہ  رَد مت کرو! کیونکہ یہ جنّت سے نکلی  ہے۔ (ایضاً،ص 130)اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں بھی رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارک اداؤں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

راکبِ دوشِ مصطفےٰ

راکبِ دوشِ مصطفےٰ حضرتِ سیِّدُنا امام ابو محمد حَسَن مُجتَبیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ  کی ولادتِ باسعادت 15رمضان المبارک 3 ہجری میں ہوئی۔ (الطبقات الکبیر،ج6،ص356)

2        فرامینِ مصطفٰے صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم : (1)نبیِّ رحمت شفیعِ اُمّت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے امام حَسَن مُجتَبیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بارے میں دعا کی: اَللّٰهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ یعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! میں اس سے مَحَبَّت کرتا ہوں تو بھی اِس سے مَحَبَّت فرما۔ (بخاری،ج 2،ص547، حدیث: 3749) (2)”یہ دنیا  میں میرا پھول ہے اور بے شک میرا یہ بیٹا سیِّد (سردار) ہے، اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہ میں صلح کروائے گا۔“(مُسندالبَزَّار،ج9،ص111،حدیث:3657) شہادت: آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے 5 ربیع ُالاَوّل 50 ہجری کو47 برس کی عمر میں مدینۂ منورہ  زادَھا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً میں زہر خورانی (زہر دیئے جانے)کے سبب شہادت پائی اور جنّت البقیع میں اپنی والدہ حضرتِ سیِّدتُنا فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے قُرب میں دفن ہوئے۔(تاریخ الخلفاء،ص 152 -154،حلیۃالاولیاء،ج 2،ص47)

 

Share

Articles

Comments


Security Code