اسیرِ کربلا حضرت سیّدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالٰی عنہ

مدینۂ منورہ زَادَہَا اللہُ شَرَفاً وَتَعْظِیْماً میں کچھ غریب گھرانے تھے جن کے کھانے پینے کا انتظام راتوں رات ہو جاتا اور دینے والےکا پتا بھی نہیں چلتا تھا۔ وقت گزرتا رہا اور شہرِ مدینہ میں سو (100) کے قریب گھروں کو اَن دیکھے ہاتھوں سے سامانِ زندگی ملتا رہا۔ پھر ایک عظیم ہستی کا انتقال ہوا، ساتھ ہی اُن فقرائے مدینہ کو راشن ملنا بھی بند ہوگیا۔ تب ظاہر ہوا کہ پوشیدہ صدقہ کرنے والے وہ عظیم بزرگ حسینی سادات کے جدِّ امجد، نواسۂ رسول کے فرزندِ دلبند، حضرت سیِّدُنا امام زینُ العابدین علی اوسط رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہتھے۔(حلیۃ الاولیاء،ج3،ص160ماخوذاً)ولادت اور نامِ نامی: آپ کی ولادت38سن ہجری کو مدینۂ منورہ میں ہوئی۔آپ کا نام”علی“ رکھا  گیا اور کثرتِ عبادت کے سبب سجّاد اور زینُ العابِدِین (یعنی عبادت گزاروں کی زِینت) کے لقب سے مشہور ہوئے۔ آپ کی کنیت ابوالحسن ہے۔(الاعلام،ج4،ص277 ملتقطا)پرورش و تربیت: آپ 2 سال اپنے دادا حضور حضرت سیِّدُنا مولا مشکل کشا، علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تعالٰی وجہَہُ الکریم کی پرورش میں رہے، 10 سال اپنے تایا جان حضرت سیِّدُنا امامِ حَسَن مجتبیٰرضی اللہ تعالٰی عنہ کی تربیت میں رہے اور پھر تقریباً 11 سال والدِ ماجد حضرت سیِّدُنا امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کی زیرِ نگرانی عُلوم ومَعرِفَت کی منازل طے کیں۔(شرح شجرۂ قادریہ، ص52) اخلاق وعادات:آپ خلفائے راشدین رضی اللہ تعالٰی  عنہم کے عقیدت مند اور علمِ دین کے بے حد شائق تھے، شبہ والی چیزوں سے دامن بچاتےتھے، آپ کی عادات میں صلۂ رحمی، سخاوت اور پوشیدہ صدقہ کرنا شامل تھا۔ (سیر اعلام النبلاء،ج 5،ص333تا 340ماخوذاً) خوفِ خدا: حضرت سیِّدُنا امام زین العابدین علیہ رحمۃ اللہ المُبِینبہت تقویٰ اور خوفِ خدا کے حامل تھے، جب وضو کرتے تو خوف کے مارے چہرے کا رنگ زرد پڑ جاتا تھا، گھر والوں نے پوچھا کہ آپ پر وضو کے وقت یہ کیفیت کیوں طاری ہوجاتی ہے؟ تو فرمایا: تمہیں معلوم ہے کہ میں کس کے سامنے کھڑاہونے جا رہا ہوں؟(احیاء علوم الدین،ج4،ص227)عفوو درگزر:ایک مرتبہ کنیز آپ کو وضو کروارہی تھی کہ اس کے ہاتھ سے برتن چھوٹ کر آپ کے چہرے سے ٹکرایا جس سے چہرہ زخمی ہوگیا، آپ رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ نے سر اُٹھا کر اُس کی طرف دیکھا ہی تھا کہ اُس نے عفو ودرگزر کی فضیلت پر مشتمل ایک آیتِ مبارکہ پڑھ دی، جسے سن کر آپ نے نہ صرف اسے معاف کیا بلکہ ارشاد فرمایا: جا! تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رضا کے لئے آزاد ہے۔(تاریخ ابن عساکر،ج41،ص387ملخصاً)میدانِ کربلا: میدانِ کربلا کی طرف جانے والے حسینی قافلے میں آپ رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ شامل تو تھے لیکن بیمار تھے، اس لئے یزیدی لشکر آپ کو شہید کرنے سے باز رہا۔ حسینی سادات کی نسل آپ رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہسےہی آگے بڑھی۔(تاریخ الاسلام للذہبی،ج6،ص432 ملتقطاً) آپ سے بہت سے تابعینِ کرام نے علم حاصل کیا اوراحادیث مبارکہ روایت کی ہیں۔وفات و مزار:حضرت سیِّدُنا امام زینُ العابدینعلیہ رحمۃ اللہ المُبِین  نے14 ربیع الاوّل 94 سن ہجری کو 56سال کی عمرمیں اس دارِ فانی سے کوچ فرمایا، مزار مبارک جنَّۃُ البقیع میں ہے۔(سیر اعلام النبلاء،ج5،ص341 ملتقطاً)

اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو،اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم 

سیّد سجاد کے صدقے میں ساجد رکھ مجھے

علمِ حق دے باقر علم ہدیٰ کے واسطے

 

Share

اسیرِ کربلا حضرت سیّدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالٰی عنہ

مفتیِ اعظم پاکستان،استاذالعلما،جامعِ علم وتقویٰ،وقارُ المِلّۃ والدّین، حضرت علّامہ مولانا مفتی محمد وقارالدین قادِری رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی 14صفر المظفر 1333ھ بمطابق یکم (1st) جنوری 1915ء پیلی بھیت(یوپی،ہند) میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم پیلی بھیت کے”مدرسۂ آستانہ شیریہ“ میں حاصل کی،بعد میں  بریلی شریف کے دارالعلوم منظرالاسلام میں داخلہ لیا وہاں صدر الشریعہ ، بدرالطریقہ مفتی محمدامجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القَویاور دیگر اساتذہ کے  سامنے زانوئے تَلَمُّذْ طے کیا۔آپ نے کئی علوم میں مہارت حاصل کی،1938ء میں صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القَوی نے آپ کی دستار بندی فرمائی اور سندِ فراغت عطا فرمائی۔اس کے بعد عظیم دینی و علمی درسگاہ منظر الاسلام بریلی شریف میں دس سال تک تدریس کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔قیامِ پاکستان کے بعد آپ نے مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلادیش) میں ہجرت کی اوردینی خدمات سرانجام دیں پھر1971ء میں مغربی پاکستان  سے تشریف لانے کے بعد  مفتی  محمد ظفر علی نعمانی اور شیخ الحدیث علامہ عبد المصطفےٰ الازہریرحمۃ اللہ تعالٰی علیہما کے اصرار پردار العلوم امجدیہ (عالمگیرروڈ باب المدینہ، کراچی) میں تدریس شروع کردی،بعد میں آپ کو  دار الافتاء کی سرپرستی بھی سونپ دی گئی۔وقارالفتاویٰ (تین جلدیں)آپ کے فتاوٰی کا مجموعہ ہے۔مفتیِ اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانا مفتی وقارالدین قادِری رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی نے امیرِ اہلِ سنّت ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو سلسلۂ  عالیہ قادریہ رضویہ کی خلافت بھی  عطا فرمائی۔ وصال: آپ نے 20ربیع الاول 1413ھ بمطابق 19ستمبر 1993ء بروز ہفتہ نمازِ فجر  کے وقت اس دنیا سے پردہ فرمایا۔(ماخوذ از وقارالفتاویٰ،ج1،ص1تا38) مزار شریف دارالعلوم امجدیہ (بابُ المدینہ، کراچی) میں ہے۔

سنّیوں کے دل میں ہے عزّت ”وقار الدّین“ کی

آج بھی ممنون ہے ملّت ”وقار الدّین“  کی

Share

Articles

Comments


Security Code