مدنی آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے طبّی مدنی پھول

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمارے پیارےآقاصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنی اُمّت کو نہ صرف آخرت میں نجات کے نسخے بتائے بلکہ دنیا میں بھی کامیاب اور صحت مند زندگی گزارنے کے لئے راہنمائی فرمائی۔ذیل میں علمِ طِبّ کے حوالے سے فرامین ِ مصطفٰے صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا مدنی گلدستہ پیش کیا جارہا ہے۔

انسانی جسم میں معدہ(Stomach) کی اہمیت:سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا: معدہ بدن کا حوض ہے اور رگیں اس کی طرف آتی ہیں۔ معدہ درست ہو تو رگیں تندرستی کے ساتھ لوٹتی ہیں  اور اگرمعدہ خراب ہو تو بیماری کے ساتھ لَوٹتی ہیں۔([1])وضاحت :معدے سے رگیں دوسرے اَعضا کی طرف اچّھی رطوبتیں اور صالح غذا لے کر چلتی ہیں جس سے صحت اچّھی ہوتی ہے۔ یہ حدیث علمِ طِبّ کی اصل ہے کہ اگر معدہ درست ہے تو تمام جسم درست ہے اگر معدہ خراب ہے تو سارا جسم بیمار۔([2])کن چیزوں میں شفا ہے؟:احادیثِ مبارکہ میں جن چیزوں کے استعمال کے فوائد بیان کئے گئے ہیں ان میں سے  12  کا تذکرہ ملاحظہ کیجئے:(1)شہد(Honey): جو شخص ہر مہینے میں تین دن صبح شہد چاٹ لیا کرےتو اسے کوئی  بڑی  بلا نہ پہنچے گی۔([3]) شہد کے شربت میں ایسی تاثیریں ہیں جن سے بڑے بڑے اَطِبّاء (Doctors)بھی ناواقف ہیں،بلغمی بیماریوں کے لیے شہد بہت مفید ہے۔([4]) (2)ککڑی:ککڑی کو لازم پکڑلو کیونکہ اللہ تعالٰی نے اس میں ہر بیماری سے شفارکھی ہے۔([5]) (3)کھجور:(١) سات روز تک روزانہ مدینۂ منورہ کی سات عَجْوہ کَھجوریں (Dates) کھانا جُذام(یعنی کوڑھ)میں نفع دیتاہے۔([6]) (٢)عَجْوہ کَھجُور جنَّت سے ہے، اس میں زَہر(Poison) سے شِفا ہے۔([7]) (۳)جس نے نَہارمُنہ عَجْوہ کھجور کےسات دانے کھالئے  اُس دن اسے جادو اور زَہر بھی نقصان نہ دےسکیں گے۔([8]) (۴)کَھجور کھانے سے قُولَنج (بڑی انتڑی کا درد، Appendix) نہیں ہوتا۔([9]) (۵)نَہارمُنہ کَھجور کھاؤ اِس سے پیٹ کے کیڑے مر جاتے ہیں۔([10]) (4)کلونجی:کلونجی میں موت کے سوا ہر بیماری سے شفا ہے۔([11]) (5)میتھی:میتھی سے شِفا حاصل کرو۔([12]) (6)مُنقّٰی: اسے کھاؤ یہ (مُنقّٰی) بہترین کھانا ہے،  (مُنَقّی) اَعصاب (یعنی نَسوں اور پٹھوں)کو مضبوط کرتا، کمزوری کو دور کرتا، غصّے کو ٹھنڈا کرتا، بلغم کو دور کرتا، چہرے کی رَنگت نکھارتا اورمُنہ کو خوشبودار کرتاہے۔([13]) سوکھے ہوئے چھوٹے انگور کِشمش اور سوکھے ہوئے بڑے انگورمنقّہ کہلاتےہیں۔([14]) (7) تَلْبِیْنَہ:(۱)تلبینہ میں ہر بیماری سے شفا ہے۔([15])  (۲)تلبینہ بیمار کے دل کو تسلّی دیتا اور بعض رنج کو دورکرتا ہے۔([16]) وضاحت:عرب میں آٹا یا بُھوسی کو پتلا پتلا پکاتےہیں اس میں کچھ دودھ کچھ شہد ڈالتے ہیں، اسے اردو میں لَپٹا اور پنجاب میں سیرہ کہتے ہیں۔یہ چونکہ دودھ کی طرح سفید اور پتلا ہوتا ہے اس لئے تَلْبِیْنَہ کہا جاتا ہے۔یہ بہت ہلکی غذا ہے زُود ہضم(یعنی جلد ہضم ہونے والی)ہے،اکثر بیماروں کو دیا جاتا ہے،یہ پیٹ میں بوجھ نہیں کرتا دل کو قوت بخشتا ہے۔([17])  (8)بِہی (ناشپاتی اور سیب کی طرح کا ایک پھل،سَفَرْجَل) نہار منہ کھاؤ کیونکہ یہ سینے کی گرمی کو دور کرتا ہے۔([18])  (9) کھانے سے پہلے تربوز کھانا پیٹ کو خوب دھودیتا اوربیماری کوجڑسےختم کر دیتا ہے۔([19]) (10) زیتون کھاؤ اور اس کا تیل استعمال کرو کیونکہ اس میں ستّر(70) بیماریوں سے شفا ہے جن میں سے ایک جُذام(کوڑھ) ہے۔([20])  (11)مسواک میں موت کے علاوہ ہر بیماری سے شفا ہے۔([21]) (12)آبِ زم زم ہربیماری سےشفاہے۔([22]) مُضرِ صحت چیزوں سے ممانعت:جن چیزوں سے انسانی صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے ، سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ان کی نشاندہی بھی فرمائی ہے،اس حوالے سے دو احادیثِ مبارکہ ملاحظہ فرمائیے: (1)نہار منہ پانی پینے والے کی قوت میں کمی آجاتی ہے۔([23]) (2)سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خبیث دوا سے منع فرمایا۔([24])  وضاحت:خبیث سے مراد حرام یا نجس ہے، بعض شارحین نے فرمایا کہ اس سے مراد بدمزہ بدبودار دوائیں ہیں۔ یعنی مریض کو نہایت بد مزہ بدبودار دوائیں نہ کھلاؤ کہ اس سے زیادہ بیمار ہونے کا اندیشہ ہے خصوصًا نازک طبع لوگوں کے لئے۔([25]) سرکارِمدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنےپرہیزی ارشاد فرمائی:حضرت سیّدتنا اُمِّ مُنْذِر رضی اللہ تعالٰی عنہا  فرماتی ہیں:(ایک دن) نبیِّ کریم،رء و فٌ رَّحیم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم حضرتِ علی کَرَّمَ اللہ تعالٰی وجہَہُ الکریم کے ہمراہ میرے یہاں تشریف لائے۔ہمارے یہاں کھجوروں کے خوشے لٹکے ہوئے تھے۔ رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم انہیں تناول فرمانے لگے، حضرتِ علیکَرَّمَ اللہ تعالٰی وجہَہُ الکریم بھی ساتھ کھانے لگے۔ پیارے آقاصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنےفرمایا:اےعلی! ٹھہرو،ٹھہرو!(یعنی تم ان کھجوروں کو کھانے سے پرہیز کرو)کیونکہ تم  میں ابھی نَقاہت ہے(یعنی تم ابھی بیماری سے اٹھے ہو اور تم پر کمزوری کا اثر غالب ہےاس لئے تمہارے لئے پرہیز ضروری ہے) حضرت ِسیّدتُنا اُمِّ مُنْذِر رضی اللہ تعالٰی عنہافرماتی ہیں:پھر میں نے ان کے لئے چُقَندر اور جَو پکائے تو نبیِّ کریم،رء و فٌ رَّحیم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:اے علی!تم اس میں سے کھاؤ کیونکہ یہ تمہارے لئے نَفْع بخش اور مُوافِق ہے۔([26])  حکیم الامت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ  الرَّحمٰن اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم حکیمِ جسمانی بھی ہیں۔ دوائیں، پرہیز،مُضِرومُفیدغذائیں سب کچھ جانتے ہیں۔یہ بھی معلوم ہوا کہ بیمار بلکہ بیماری سے اٹھنے والے کمزور کو پرہیز لازم ہے۔اَطِبّاء کہتے ہیں کہ دوا سے زیادہ پرہیز ضروری ہے دوا بغیر پرہیز ایسی ہے جیسے نماز بغیر وضو۔([27]) کھانے پینے پرمجبور نہ کرو:فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے:اپنے بیماروں کو کھانے پینے پر مجبور نہ کروکیونکہ انہیں اللہ تعالٰیکھلاتاپلاتاہے۔([28]) وضاحت:بعض بیمار کھانےپینے سے نفرت کرتے ہیں، تیمارداروں کو چاہئے کہ انہیں اس پر مجبور نہ کریں، اس نہ کھانے میں ان کے  لئے بہتری ہوتی ہے۔([29]) تین متفرق فرامینِ مصطفٰےصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم :

(1) اگر تم میں سے کوئی سائے میں بیٹھا ہو اور اُس پر سے  سایہ ہٹ جائے، اس کا کچھ حصّہ دھوپ میں اورکچھ سائے میں ہو جائے تو اُس کوچاہئے کہ وہاں سےاُٹھ کھڑاہو۔([30]) وضاحت:یا تو سایہ میں ہی چلا جائے یا بالکل دھوپ میں ہو جائے کیونکہ سایہ ٹھنڈا ہے اور دھوپ گرم اور بیک وَقت ایک جسم پر ٹھنڈک و گرمی لینا صحت کیلئے مُضِر(یعنی نقصان دِہ)ہے اس لئے ایسا نہ کرے۔([31])  (2)رات کا کھانا (Dinner)تَرک نہ کرو،(کچھ نہ ملے تو) ایک مٹھی کھجور ہی کھا لیا کرو کیونکہ رات کا کھانا چھوڑ دینے سے (جلد) بڑھاپا آجاتاہے۔([32])  (3)”سَافِرُوْا تَصِحُّوْا یعنی سفر کرو ، تندرست ہو جاؤ گے۔([33])  میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سفر کے ذَرِیعے آب و ہوا تبدیل ہوتی ہے اور تجرِبات بڑھتے ہیں۔ دعوتِ اسلامی کے سنّتوں کی تربیَت کے مَدَنی قافِلوں میں ثواب کی نیّت سے سفر کرتے رہا کیجئے ،اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ثواب بھی ملے گا اورضِمناً صِحّت میں بھی بَرَکت حاصِل ہوگی، اگر فَقَط حُصولِ صحّت کی نیّت کی تو ثوابِ آخِرت نہیں ملے گا۔([34]) کیا حدیث میں بتایا ہوا علاج ہر ایک کر سکتا ہے؟:احادیثِ مبارَکہ میں بیان کردہ علاج بھی اپنی مرضی سے نہیں کرنے چاہئیں۔ بے شک سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے فرامِینِ والا شان حق،حق اور حق ہی ہیں مگر جو علاج نبیوں کے سرتاج ،صاحِبِ معراج صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے تجویز فرمائے ہیں ہوسکتاہےوہ خاص خاص مَوقَعوں موسِموں کی مُناسِبتوں اور مخصوص لوگوں کے مزاجوں اور طبیعتوں کے مُوافِق ہوں جیسا کہ حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنَّان  اِس حدیثِ پاک:”فِی الْحَبَّۃِ السَّوداءِ شِفاءٌ مِّنْ کُلِّ دَاءٍ اِلَّاالسّامَیعنی کالادانہ (کلونجی) میں موت کے سِوا ہر بیماری سے شِفاہے“کے تحت فرماتے ہیں:ہر مرض(میں شِفا)سے مُراد ہر بلغمی اور رطوبت کے اَمراض میں (شفا ہے)، کیونکہ کلونجی گرم اور خشک ہوتی ہے لہٰذا مَرطُوب(یعنی تَری والی) اور سردی کی بیماریوں میں مُفید ہو گی۔( مزید فرماتے ہیں:)یہاں مُراد عرب کی عام بیماریاں ہیں (مِرقات)یعنی کلونجی عرب کی عام بیماریوں میں مفید ہے۔خیال رہےکہ احادیثِ شریفہ کی دوائیں کسی حاذِق (یعنی ماہرِ) طبیب کی رائے سے استِعمال کرنی چاہئیں (اہلِ عرب کو تجویز کردہ دوائیں)صِرف (اپنی)رائے سے استِعمال نہ کریں کہ ہمارے (طَبعی) مزاج اہلِ عرب کے(طَبعی ) مزاج سے جُداگانہ ہیں۔([35])

مریضانِ جہاں کو تم شفا دیتے ہو دَم بھر میں

خُدارا دَرد کا ہو میرے دَرماں یارسولاللہ([36])

 

 



...[1]شعب الایمان،ج5،ص66،حدیث:5796

[2] ... مراٰۃ المناجیح،ج6،ص247

[3] ... ابن ماجہ،ج 4،ص94، حدیث: 3450

[4] ... مراٰۃ المناجیح،ج6،ص251)

[5] ... کنزالعمال،ج5،ص19، جزء:10، حدیث:28277

[6] ... الکامل لابن عدی،ج 7،ص407

[7] ... ترمذی،ج4،ص17،حدیث:2073

[8] ... بخاری،ج3،ص540،حدیث:5445

[9] ... کنزالعمال،ج5،ص12،جزء:10،حدیث:28191

[10] ... جامع صغیر،ص398،حدیث:6394

[11] ... بخاری،ج 4،ص18، حدیث:5687

[12] ... تنزیہ الشریعۃ،ج2،ص246

[13] ... کشف الخفاء،ج2،ص291، حدیث:2839

[14] ... پیٹ کاقفلِ مدینہ، ص150

[15] ... کنزالعمال،ج 5،ص16،جزء:10،حدیث:28242

[16] ... بخاری،ج4،ص19،حدیث:5689

[17] ... مراٰۃالمناجیح،ج6،ص17

[18] ... جامع صغیر،ص398، حدیث:6404

[19] ... کنزالعمال،ج5،ص20،جزء:10، حدیث: 28283

[20] ... جامع صغیر،ص398، حدیث:6392

[21] ... جامع صغیر،ص297، حدیث:4840

[22] ... جمع الجوامع،ج 6،ص190،حدیث:18373

[23] ... مجمع الزوائد،ج5،ص142،حدیث: 8292

[24] ... ترمذی،ج4،ص7،حدیث:2052

[25] ... مراٰۃ المناجیح،ج 6،ص228

[26] ... ترمذی،ج4،ص3،حدیث: 2013،پان گٹکا،ص3

[27] ... مراٰۃ المناجیح،ج 6،ص37

[28] ... ابن ماجہ،ج4،ص91،حدیث:3444

[29] ... مراٰۃ المناجیح،ج6،ص225

[30] ... ابوداؤد،ج 4،ص338،حدیث:4821

[31] ... مراٰۃالمناجیح،ج 6،ص387

[32] ... ابن ماجہ،ج4،ص50،حدیث:3355

[33] ... جامع صغیر،ص284، حدیث:4624

[34] ... گھریلو علاج،ص25

[35] ... مراٰۃ المناجیح،ج 6،ص216 تا 217

[36] ... قبالۂ بخشش،ص127

 

Share

Articles

Comments


Security Code