رشتے کا انتخاب

رِشتہ دیکھنے کا کام بڑی احتیاط سے کرنا چاہئے لیکن بعض لوگوں کا انداز سامنے والے کے لئے تکلیف دہ ہوجاتا ہے مثلاً جو عورتیں رشتہ دیکھنے جاتی ہیں کبھی لڑکی کو چَلا کر دیکھیں گی کہ کہیں لنگڑاتی تو نہیں، دھوپ میں لے جاکر اس کے گورے رنگ کے اصلی ہونے کا یقین کریں گی، بعض تو حد ہی کردیتی ہیں کہ منہ کھلوا کر دانت چیک کرتی ہیں۔ اس کے بعد بھی اتنی منہ پھٹ ہوتی ہیں کہ لڑکی کے سامنے ہی اس کے عیب گنوانا شروع کردیتی ہیں کہ تھوڑی موٹی ہے اگر دُبلی (Smart) ہوتی تو ہم کچھ سوچتے ، قد چھوٹا ہے، رنگ سانولا ہے،تعلیم کم ہے، عمر تھوڑی زیادہ ہے وغیرہ وغیرہ، اس طرح کی صورتِ حال کا سامنا کبھی کبھار لڑکے والوں کو بھی کرنا پڑتا ہے۔رِشتہ پسند نہ آنے کی صورت میں کسی کی بہن، بیٹی کے متعلق اپنی رائے  کا اظہار کرنے سے پہلے ہزار بار سوچ لیجئے کہ اگر ایسا انداز میری بہن، بیٹی کے لئے اختيار کیا جاتا تو میرے دل پر کیا گزرتی؟ اس لئے معذرت کرنے کا انداز بھی شائستہ اور ایسا   نپا تُلا ہونا چاہئے کہ جس میں کسی کی دل شِکنی ہو نہ جھوٹ بولنا پڑے۔

جو لوگ خواہ مخواہ نکتہ چینی کرکے اچھے  رشتے ٹھکراتے رہتے ہیں بعض اوقات وہ اس حکایت کے مصداق بن جاتے ہیں: کسی شخص کو ایک عرصے تک ایسی بیوی کی تلاش رہی جس میں زمانے بھر کی اچھائیاں موجود ہوں کسی نے پوچھا: کیا ایسی بیوی ملی؟ اُس نے کہا:ملی تو صحیح لیکن اُسے بھی ایک ایسی ہی خصوصیات کے حامل شوہر کی تلاش تھی جسے پانے میں وہ ناکام رہی۔ یعنی پہلے اس  کو کوئی پسند نہیں آتی تھی اب یہ کسی کو پسند نہیں آتا۔

رشتہ طے کرنے سے پہلے کسی تجربہ کار شخص سے مشورہ ضرور  کرلیں۔ تلاشِ رشتہ میں سیرت اور صورت کے ساتھ ساتھ اس چیز کا خیال رکھنا بھی بے حد ضروری ہے کہ جس كا  رشتہ طے ہو چکا ہو اُس کے ہاں پیغامِ نکاح نہ بھیجا جائے  جیسا کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے اور اُس کے پیغامِ نکاح پر پیغام نہ دے، مگر اُس صورت میں کہ اُس نے اجازت دے دی ہو۔ (مسلم، ص626، حدیث:3812) اسی طرح بعض لوگ لڑکی والوں کی طرف سے رشتے کے انکار کے باوجود پیچھا نہیں چھوڑتے۔ اس قسم کی ہَٹ دھرمی سے باز رہنا چاہئے۔

رشتہ طے کرنے میں والدین کوچاہئے کہ اپنی بیٹی اور بیٹے کی رضامندی بھی پوچھ لیں اور ان کی مرضی کے خلاف زبردستی شادی ہرگز ہرگز نہ کریں ایسے رشتے زیادہ عرصہ قائم نہیں رہ پاتے بلکہ بسا اوقات والدین کی طرف سےاس بھیانک غلطی کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب پانی سر سے گزر جاتا ہے۔چنانچہ شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی تصنیف ”پردے کے بارے میں سوال جواب“ صفحہ 323پر اسی مناسبت سے ایک سچا واقعہ تحریرہے،جس کا خلاصہ یہ ہے: والدہ اپنی مرضی کے مطابق اپنی بچیوں کی شادی پر مُصِرّ تھیں، ایک رات اسی کشمکش میں ماں اور تین بیٹیوں کی آپس میں تلخ کلامی ہوئی، رات کو تینوں نے ایک  کمرے میں بند ہوکر زہریلی گولیاں کھاکر خود کشی جیسے بڑے گناہ کا ارتکاب کر لیا۔

 خود کشی یعنی خود اپنے ہاتھ سے اپنے کو مار ڈالنا   گناہِ کبیرہ،حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔

اللہ تعالٰی ہمیں نکاح جیسی عظیم سنّت اور دیگر تمام معاملات شریعت کے مطابق بجالانے کی  توفیق عطافرمائے۔

                             اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

Share

Articles

Comments


Security Code