صالحین سے مخلوق کی محبت

ارشادِ باری تعالٰی ہے:(اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا(۹۶)) ترجمہ :بیشک وہ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے عنقریب رحمٰن ان کے لیے محبت پیدا کردے گا۔(پ16،مریم:96)(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

تفسیر: اس آیتِ مبارَکہ کی تفسیر میں اکثر مفسّرین نے بخاری و مسلم کی ذیل میں درج حدیثِ پاک بیان فرمائی ہے: حضور اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جب اللّٰہ تعالٰی کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو حضرت جبریل علیہ السَّلام کو ندا کی جاتی ہے کہ اللّٰہ تعالٰی فلاں بندے سے محبت کرتا ہے لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو، تو جبریل علیہ السَّلام اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر حضرت جبریل علیہ السَّلام آسمان والوں میں ندا کرتے ہیں کہ اللّٰہ تعالٰی فلاں بندے سے محبت فرماتا ہے لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو، چنانچہ آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر زمین والوں میں اس کی مقبولیت رکھ دی جاتی ہے۔(بخاری،ج2،ص382، حدیث:3209-مسلم، ص1086، حدیث:6705)

ترمذی شریف میں حدیثِ مذکور کا آیتِ بالا کی تفسیر میں بیان کرنا خود نبی کریم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے بھی مذکور ہے۔ (ترمذی،ج5،ص109، حدیث:3172) حضرت عبد اللّٰہ  بن عباس رضی اللّٰہ  تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اللّٰہ تعالٰی نیک آدمی کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے اور ”وُدًّا“ کی تفسیر میں مزید فرمایا کہ اس سے مراد دنیا میں اچھی روزی، لوگوں کی زبانوں پر ذکرِ خیر اور مسلمانوں کے دلوں میں محبت ہے۔ امام مجاہد رحمہ اللّٰہ نے فرمایا کہ اللّٰہ تعالٰی خود اس بندے سے محبت فرماتا ہے اور مخلوق کا محبوب بنا دیتا ہے۔(تفسیر طبری،ج 8،ص385، مریم، تحت الآیہ:96) حضرت ہرم بن حیان رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: جب بندہ اپنے دل سے   اللّٰہ تعالٰی کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اللّٰہ تعالٰی اہلِ ایمان کے دلوں کو اس کی طرف متوجہ کر دیتا ہے یہاں تک کہ اسے لوگوں کی محبت و شفقت عطا کر دیتا ہے۔(خازن،ج3،ص248، مریم، تحت الآیہ:96)

علّامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے    تاویلاتِ نجمیہ کے حوالے سے ایمان، اعمالِ صالحہ اور اُن کے ثمرات کو ایک خوبصورت مثال کے انداز میں یوں بیان فرمایا ہے: یہ آیت اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب ایمان کا بیج دل کی زمین میں بویا جائے اور نیک اعمال کے پانی سے اس کی پرورش کی جائے تو وہ بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کا پھل نکل آتا ہے اور اس کا پھل اللّٰہ تعالٰی کی محبت، انبیاء کرام علیہمُ الصَّلوٰۃ و السَّلام، فرشتوں اور مؤمنین سب کی محبت ہے۔(روح البیان،ج 5،ص359، مریم، تحت الآیہ:96)

آیت و حدیث کے فرمان سے معلوم ہوا کہ مؤمنینِ صالحین و اولیائے کاملین کی مقبولیتِ عامہ ان کی محبوبیتِ خداوندی کی دلیل اور خاص عطیہ الٰہیہ ہے جس کا زندہ ثبوت حضور سیّدنا غوثِ اعظم، خواجہ غریبِ نواز، بابا فرید گنجِ شکر، داتا گنج بخش علی ہجویری، حضرت مجدد الف ثانی، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان اور پیر مہر علی شاہ صاحب اور ہزاروں اولیاء کرام رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم کی مبارک ہستیوں کی صورت میں موجود ہے۔ فرمانِ حدیث کے مطابق لوگوں کے دل صالحین و اولیاء کی طرف قدرتی طور پر راغب ہوجاتے ہیں، وہ اپنی شہرت و مقبولیت کے لئے کوئی اہتمام نہیں کرتے جیسا کہ امام فخر الدّین رازی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ لکھتے ہیں کہ یہاں ایک قول یہ ہے کہ اللّٰہ تعالٰی صالحین کے لئے لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا فرما دیتا ہے حالانکہ وہ نیک لوگ نہ تو لوگوں سے محبت طلب کرتے ہیں اور نہ ہی لوگوں کی نظر میں پسندیدہ بننے کے اسباب اختیار کرتے ہیں بلکہ یہ (لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کرنا) خاص اللّٰہ تعالٰی  کا فعل ہوتا ہے۔(تفسیر کبیر،ج 7،ص567، مریم، تحت الآیہ:96)

اِس آیتِ مبارَکہ کے معانی اور اولیاء کرام کے اعمالِ صالحہ، اخلاقِ حسنہ، خصائلِ جمیلہ اور اوصافِ حمیدہ کو دیکھتے ہیں تو قرآن پاک کی صداقت پر ایمان تازہ ہوجاتا ہے چنانچہ مختلف اولیاء کرام کی سیرت کو ایک نظر دیکھیں تو ایمان کے درخت پر اعمالِ صالحہ کی شاخیں جھومتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ان کی زندگی کتاب و سنّت کی پیروی، علم و عمل میں موافقت، آخرت کی دنیا پر ترجیح کا مظہر ہوگی، ان کے شب و روز کے معمولات میں شب بیداری، سوز و گداز، قیامُ اللیل، سجودِ محبت و خشیت، ذکرِ الٰہی، تلاوتِ قرآن، تفکر و تدبر، توبہ و استغفار نظر آئے گا۔ ان کے قلبی اعمال میں محاسبہِ اعمال، اخلاص و للہیت، صبر و شکر، توکل علی اللّٰہ، توحیدِ کامل، تسلیم و رضا، فقر و قناعت، زہد و ورع، فکرِ آخرت، محبت و رضائے الٰہی، خیر خواہی، احترامِ مسلم، حسنِ ظن کے روشن پہلو ہوں گے۔ ان کے قول و فعل میں نرم دمِ گفتگو، گرم دمِ جستجو، مسلمانوں سے حسنِ ظن، عفو و درگزر، چشم پوشی، مخالفین کے ساتھ حسنِ سلوک، حقوقُ العباد کی ادائیگی، مخلوق پر شفقت و رحمت کا ظہور ہوگا، ان کا شیوہ عاجزی و انکساری ہوگا اور ان سب کے باوجود اللّٰہ تعالٰی کی خفیہ تدبیر اور بُرے خاتمے سے ڈرتے ہوں گے۔

یہ وہ ہیں جن پر مؤمنین، صالحین، متقین، صابرین، شاکرین،  خاشعین، مطیعین، متوکلین، محبین، ناصحین، اصحابِِ یمین وغیرہا کے اوصاف کھلی آنکھوں نظر آئیں گے اور ان کے صلہ میں اللّٰہ تعالٰی ان کی محبت و عقیدت لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے۔ دیکھ لیں، آج اولیاء اللّٰہاپنے مزارات میں سو رہے ہیں اور لوگ ان کی طرف کھنچے چلے جا رہے ہیں حالانکہ سابقہ زمانے کے صالحین کو ہم میں سے کسی نے دیکھا بھی نہیں اور یونہی زندہ موجودہ علماء و صلحاء و مشائخِ  کرام کو دیکھ لیں کہ جو اصحابِِتقویٰ و صلاح ہیں ان سے لوگ کتنی محبت کرتے ہیں اور کس طرح ان کا ذکرِ خیر کرتے ہیں جس کی ایک مثال دیکھنی ہو تو امیرِ اَہلِ سنّت حضرت مولانا محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی ہمہ گیرمقبولیت و شہرت و محبت و عقیدت کو آپ خود مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ یہ سب اُن نیک اعمال کی برکتیں ہیں جو اخلاص کے ساتھ صرف رضائے الٰہی کے لئے کئے جائیں۔

ریاکاری اور اخلاص کا فرق لوگوں سے عموماً پوشیدہ ہوتا ہے لیکن اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں کچھ پوشیدہ نہیں اور اللّٰہ تعالٰی عمل کی حقیقت و اصلیت کے مطابق ہی صلہ عطا فرماتا ہے چنانچہ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: ایک شخص نے کہا: خدا کی قسم! میں اللّٰہ تعالٰی کی بہت عبادت کروں گا تاکہ اس کے سبب لوگوں میں میرا چرچا ہوجائے، چنانچہ نماز کے وقت یہ حالت کہ نماز میں کھڑا نظر آتا، سب سے پہلے مسجد میں داخل ہوتا اور سب سے آخر میں نکلتا تھا۔ سات مہینے تک اس کا یہی معلوم رہا اور اس دوران جب بھی لوگوں کے پاس سے گزرتا تو وہ یہی کہتے: اس ریاکار کی طرف دیکھو۔ ایک دن اس نے دل میں سوچا کہ میرا تذکرہ تو برائی کے ساتھ ہی ہوتا ہے، اب میں اپنا ہر عمل رضائے الٰہی  کے لئے ہی کروں گا۔ اس نے صرف اپنی قلبی نیت بدلی اور عمل پہلے کی طرح کرتا رہا، اس کے بعد وہ لوگوں کے پاس سے  گزرا تو اب وہ کہنے لگے: اللّٰہ تعالٰی فلاں پر رحم فرمائے۔ پھر آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ( اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا(۹۶))بیشک وہ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے عنقریب رحمٰن ان کے لیے محبت پیدا کردے گا۔ (پ16،مریم:96)(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اللّٰہ تعالٰی ہمیں اخلاص کے ساتھ اعمالِ صالحہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…مفتی محمد قاسم عطاری 

٭…دارالافتاءاہل سنت عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code