فرامینِ بزرگانِ دین رحمہم اللہ المبین/احمد رضا کا تازہ گلستاں ہے آج بھی/علم وحکمت کے مدنی پھول

بزرگانِ دین رحمھم اللہ المُبِین کے اَنمول فرامین

سب سے زیادہ نرم دل والے

(1)اِرشاد ِامیرُ المؤمنین حضرتِ سَیّدُنا عمر فاروقِ اعظمرضی اللہ تعالٰی عنہ:”تو بہ کر نے والوں کی صحبت میں بیٹھو کہ وہ سب سے زیادہ نرم دل ہوتے ہیں۔‘‘(مصنف ابن ابی شیبہ،ج19،ص145، حدیث:35606)

تقویٰ کے ساتھ تھوڑا عمل بھی مقبول ہے

(2)اِرشادِ امیرُالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم:’’عمل سے بڑھ کر اس کی قُبولیت کا اِہْتِمام کرو!اِس لئے کہ تقویٰ کے ساتھ کیا گیا تھوڑا عمل بھی بہت ہوتا ہے او ر جو عمل مقبول ہوجائے وہ کیونکرتھوڑا ہوگا۔‘‘(تاريخُ الخلفاء ،ج1 ،ص143 )

سچ بھاری اورتَلخ لگتاہے

(3)اِرشادِ سَیّدُنا عبداللہ بِن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ:”سچ بھاری اورتلخ لگتاہے جبکہ جھوٹ ہلکا و شِیریں محسوس ہوتا ہے اورکبھی تھوڑی سی شہوت طویل غم کا سبب بن جاتی ہے۔“(الزہد لابن المبارک،ص:98)

ہزار عابدوں سے افضل کون؟

(4)اِرشادِ سَیّدُنا محمد بن علی باقِر علیہ رحمۃاللہِ الغافِر:’’وہ عالِم جس کے عِلم سے فائدہ حاصل کیا جائے ہزار عابدوں سے افضل ہے۔‘‘(حلیۃُ الاولیاء،ج3،ص214)

تین پسندیدہ چیزیں

(5)ارشادِسَیّدُنا عبداللہ بن عَونرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ:”اے میرے  بھائیو!میں تمہارے لئے تین چیزیں پسند کرتا ہوں:

(۱)قراٰنِ پاک کہ دن رات اس کی تِلاوت کرتے رہو (۲)مسلمانوں کی جماعت کو لازِم پکڑواور(۳)مسلمانوں کی عِزّتوں کے دَرپَے ہونے سے بچو۔‘‘(حلیۃُ الاولیاء،ج3،ص47)

تھوڑا عمل کب  زیادہ عمل سے بہترہے؟

(6)اِرشادِسیِّدُنا مَطَر ورّاقعلیہ رحمۃ اللہ الرَّزَّاق:’’سنّت کے مطابق کیاجانے والاتھوڑا عمل اُس زیادہ عمل سے بہترہے جو سنّت کےمطابق نہ ہو۔سنّت کےمطابق عمل کرنے والے کا عمل اللہ عَزَّوَجَلَّ قبول فرماتاہے۔(حلیۃُ الاولیاء،ج3،ص 90)

احمق کون؟

(7)ارشادِسَیّدُنااِیاس بن مُعاویہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ:’’جو شخص اپنے عیوب کونہ پہچان پائے وہ اَحمق ہے۔‘‘ (حلیۃُ الاولیاء،ج3،ص 146)

احمد رضا کا تازہ گلستاں ہے آج بھی

اپنوں کو بددُعا نہ دو!

(1)اپنے اور اپنے اَحباب کے نفس و اَہل و مال و وَلَد(بچوں)  پر بد دُعا نہ کرے، کیا معلوم کہ  وقتِ اجابت(یعنی قبولیت کا وقت) ہو اور بعدِ وقوعِ بَلا(مصیبت میں مبتلا ہونے کے بعد) پھر نَدامت ہو۔(فضائل دعا،ص212)

ناپاک کمائی کا وبال

(2)بچے کو  پاک کمائی  سے روزی دے کہ ناپاک مال ناپاک ہی عادتیں ڈا لتا ہے ۔(فتاویٰ رضویہ ،ج24،ص453)

جِنّات غیب سے جاہل ہیں

(3)جِنّ غیب سے نِرے جاہِل ہیں،ان سے آئندہ کی بات پوچھنی  عقلاً حماقت اور شرعاً حرام  اور اُن کی غیب دانی کا اِعْتِقاد تو کفر۔(فتاویٰ افریقہ ،ص178)

اللہ تک پہنچنے کا راستہ

(4)شریعت ہی صرف وہ راہ  ہے  جس کا مُنتَہا اللہ ہے اور جس سے وصول اِلَیاللہ(خدا تک پہنچنا) ہے اور اس کے بغیر آدمی جو راہ  چلے گا اللہ کی راہ سے دُور پڑے گا۔(فتاویٰ رضویہ ،ج29ص388)

مرید کے لئے زہرِ قاتل!

(5)پیروں پر اعتراض سے بچے  کہ یہ مُریدوں  کے لئے زہرِ قاتل ہے، کم کوئی  مُرید ہوگا  جو اپنے  دل میں شیخ  پر کوئی اعتراض کرے  پھر فلاح پائے ۔(فتاویٰ افریقہ ،ص141)

رسم و رواج کی تکمیل کے لئے سُوال کرنا

(6)آج کل اکثر لوگ بیٹی کے بیاہ کے لئے بھیک مانگتے ہیں اور اِس سے مقصود رُسومِ مُرَوَّجۂ ہند کا پورا کرنا ہوتا ہے، حالانکہ وہ رسمیں اصلاً حاجتِ شرعیہ نہیں تو ان کے لئے سُوال حلال نہیں ہو سکتا۔(فضائلِ دُعا،ص270)

عطّار کا چمن

محبت کا نسخہ!

(1)سب کے ساتھ شفقت اور حُسنِ اَخلاق سے پیش آئیں گے تو لوگ آپ سے مَحبت کریں گے۔ مَحبت دو، مَحبت لو، نفرت کرو گے تو نفرت ملے گی۔(مَدَنی مذاکرہ، 17ربیع الآخر 1438ھ)

انمول ہیرا

(2)وقت وہ انمول ہیرا ہے جو ایک بار ضائع ہونے کے بعد دوبارہ نہیں مل سکتا جبکہ دولت ضائع ہوجائے تو پھر مل سکتی ہے۔(مَدَنی مذاکرہ، 5ربیع الآخر 1438ھ)

خطرناک چور!

(3)مال کا لُٹیرا چور ہے اور اس سے بچنے کے کئی ذریعے ہیں کیونکہ وہ نظر آتا ہے جبکہ نیکیوں کا  لُٹیرا شیطٰن ہے اور یہ نظر نہیں آتا لہٰذا اس سے نیکیاں بچانے کے لئے زیادہ کوشش کرنے کی ضَرورت ہے۔(مَدَنی مذاکرہ،یکم محرم الحرام 1436ھ)

نِسبت کا ادب کیجئے

(4)جس چیز کی نسبت حَرَمَیْنِ طَیِّبَیْن (یعنی مکّہ و مدینہ) اور بزرگانِ دین سے ہوجائے شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے اُس کا خوب ادب کیجئے اور اس تَبَرُّک کے لئے بہتر سے بہترین الفاظ استعمال کیجئے۔(مَدَنی مذاکرہ،9محرم الحرام 1436ھ)

امیرِ اہلِ سنّت کی خواہش!

(5)میں طَلَبۂ کِرام کو علمِ دین حاصل کرنے کا حریص ہونے کے ساتھ ساتھ مدنی کاموں کا حریص بھی دیکھنا چاہتا ہوں۔

(مَدَنی مذاکرہ،11ربیع الاوّل 1438ھ)

بُرائیوں میں اضافے کا سبب

(6)اسلامی معلومات کی کمی اور دین سے دُوری کی وجہ سے معاشرتی بُرائیاں بڑھتی جارہی ہیں۔(مَدَنی مذاکرہ، 22ربیع الآخر 1438ھ)

Share