ملکِ سخن کی شاہی تم کو رضا مُسَلَّم

اشعار کی تشریح

ملکِ سخن کی شاہی تم کو رضا مُسَلَّم

ابوالحسّان عطاری مدنی

ماہنامہ صفر المظفر1439

اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان  علیہ رحمۃ  الرَّحمٰن  چودھویں صدی ہجری کے مُجدّد ، بہت بڑے عالِم ا ور مفتی ہونے کے علاوہ اعلیٰ درجے کے نعت گو شاعر بھی تھے ، رِوایتی  شُعرا کی طرح آپ غوروتفکُّر کرکے اور باقاعدہ اہتمام سے اشعار نہیں لکھتے تھے بلکہ جب  عشقِ رسول کے جذبات غالب آتے اور مدینۂ منورہ کی یاد ستاتی تو اپنے جذبات کو اشعار کی صورت میں بیان فرمادیتے تھے۔               (اکسیر اعظم مع مجیر معظم مترجم ، ص115مفہوماً)

کلامِ رضا کا ایک حصہ نہ مل سکا : افسوس کہ امامِ اہلِ سنّت   رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ   کا سارا کلام محفوظ نہیں رہ سکا اور آپ کی حیاتِ ظاہری میں ہی کئی کلام گم ہوگئے تھے ، خود فرماتے ہیں : بے زحمتِ فکر خدا جو چاہتا ہے بندہ عرض کرتا ہے ، پھر اسے جمع کرنے اور محفوظ رکھنے کی فکر نہیں ہوتی ، بہت ایسا ہوتا ہے کہ مُتفرِّق (Different) اوراق پر لکھ ڈالتا ہوں یہاں تک کہ عربی ، فارسی اور اردو منظُومات کی چار بِیاضیں گم کرچکا ہوں اور فکرِ تلاش سے آزاد ہوں کہ جو کچھ رقم ہوگیا وہ اِنْ شَآءَ اللہ العزیز اس کثیرُ السَّیِّاٰت (گناہگار) کے  نامۂ حَسَنات (نیکیوں کے رجسٹر) میں ثَبت ہوگیا ، میرے اعمال سے وہ باہر جانے والا نہیں ، خواہ میرے ساتھ رہے یا نہ رہے۔ (اکسیر اعظم مع مجیر معظم مترجم ، ص115)

چار زبانوں میں نعت : اعلیٰ حضرت  علیہ رحمۃ ربِّ العزّت  نے اردو کے علاوہ عرَبی اور فارسی میں بھی کلام تحریر فرمائے جبکہ ایک کلام ایسا ہے جو بَیَک وقت چار زبانوں عربی ، فارسی ، ہندی اور اردو پر مشتمل ہے۔ مولانا سیّد ارشاد علی اور مولانا سیّد محمد شاہ ناطق کی فرمائش پر آپ نے وہیں بیٹھے بیٹھے فی البدیہہ یہ نعتِ پاک قلمبند فرمائی ، اس نعت کا مَطْلَع (پہلا شعر) یہ ہے :

لَمْ یَاتِ نظیرُکَ فی نَظَرٍ مثلِ تَو نہ شُد پیدا جانا

جگ راج کو تاج تَورے سر سو ہے تجھ کو شہِ دوسرا جانا

جبکہ مقطع (آخری شعر) میں نعت کہنے کا سبب بننے والے دونوں حضرات یعنی ارشاد اور ناطق کا بھی ذکر فرمادیا :

بس خامۂ خامِ نوائے رضا ، نہ یہ طرز مری نہ یہ رنگ مرا

ارشادِاحبّا ناطق تھا ، ناچار اس راہ پڑا جانا

(تجلیاتِ امام احمد رضا ، ص93ملخصاً)

اعلیٰ حضرت کا عربی کلام : اعلیٰ حضرت  علیہ رحمۃ ربِّ العزّت  کا عربی دیوان گم ہوگیا تھا ، بعد میں جامعہ ازہر مصر کے استاذ ڈاکٹر حازم محمد احمد عبدالرحیم محفوظ نے  آپ   رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ   کے عربی قصائد ، تاریخی قطعات ، رُباعِیات اور مُتفرِِّق اشعار مختلف کُتُب اور مَخْطوطات سے جمع کئے ، جنہیں 1416ھ مطابق 1996ء میں مرکزالاولیاء (لاہور) سے “ بَسَاتینُ الغُفْرانکے نام سے شائع کیا گیا۔

آپ کے عربی اشعار کی مجموعی تعداد مختلف اقوال کے مطابق 751یا 1145ہے۔

(مولانا امام احمد رضا کی نعتیہ  شاعری ، ص210 )

اعلیٰ حضرت  علیہ رحمۃ ربِّ العزّت  کے عربی کلام میں سے قصیدَتان رائِعَتان مشہور ہیں جو آپ نے 1300ھ میں عالِمِ کبیرمولانا شاہ فضلِ رسول قادری بدایونی  علیہ رحمۃ اللہ الغنِی  کے سالانہ عرس مبارک کے  موقع پر 27 سال 5ماہ کی عمر میں پیش کئے تھے۔ اصحابِِ بدر کی نسبت سے دونوں قصیدے 313 اشعار پر مشتمل ہیں۔ دونوں مبارک قصیدوں میں قراٰن و حدیث کے اشارات اور عربی امثال و محاورات  کا  خوب استعمال کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک قصیدے کا آغاز حمد و صلوٰۃ پر مشتمل ان دو اشعار سے ہوتا ہے :

اَلْحَمْدُ لِلْمُتَوَحِّدٖ                                                           بِجَلَالِہِ الْمُتَفَرِّدٖ

وَصَلَاۃُ مَوْلَانَا عَلٰی                                                   خَیْرِ الْاَنَامِ مُحَمَّدٖ

ترجمہ : تمام تعریفیں ا س تنہا ذات کے لئے جو عظمت و جلال میں مُتَفَرِّد ہے اور ہمارے مولیٰ کی رحمتِ کاملہ محمد مصطفےٰ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  پر نازل ہو جو مخلوق میں سب سے افضل وبہتر ہیں۔

(ماخوذ ازمقدمہ قصیدتان رائعتان مع ترجمہ و شرح)

اعلیٰ حضرت کا فارسی کلام : اعلیٰ حضرت  علیہ رحمۃ ربِّ العزّت  کے دستیاب فارسی کلام کا کچھ حصّہ حدائقِ بخشش میں موجود ہے جبکہ آپ کی منتخب فارسی نعتوں کا ایک مجموعہ 1994ء میں “ ارمغانِ رضا “ کے نام سے شائع کیا گیا جس میں 12 منتخب نعتیں اور ایک مثنوی ہے لیکن ابھی بہت سا فارسی کلام منتشر ہے۔

(تاریخِ نعت گوئی میں امام احمد رضا کا مقام ، ص21)

اِکسیرِ اعظم : اعلیٰ حضرت  علیہ رحمۃ ربِّ العزّت  کے کلام میں حضور سیّدنا غوثِ اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاَکرم کے مناقب کی بڑی تعداد شامل ہے ، اُردو کی طرح آپ نے فارسی زبان میں بھی بارگاہِ غوثیت میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا ہےجن میں سے “ اِکْسِیرِاعظم “ نامی قصیدےکو نمایاں مقام حاصل ہے۔ ایک خاص موقع پر آپ نے یہ منقبت نظم فرمائی جس کا نام برادرِ اعلیٰ حضرت شہنشاہِ سُخن مولانا حسن رضا خان  علیہ رحمۃ  الرَّحمٰن  نے “ اِکسیرِ اعظم “ رکھا ، پھر اعلیٰ حضرت  علیہ رحمۃ ربِّ العزّت  نے فارسی زبان میں ہی اس کلام کی شرح تصنیف فرمائی جس کا نام “ مُجِیرِ مُعظّمرکھا گیا۔ فارسی کلام اور شرح کا اردو ترجمہ “ تابِِ مُنظّمکے نام سے  عُمْدَۃُ الاَذْکِیا استاذُالعلما حضرت علّامہ مولانا محمد احمد مصباحی(استاذجامعۃ الاشرفیہ مبارک پورہند) نے تحریر فرمایا جو منظرِ عام پر آچکا ہے۔ اس مبارک قصیدے کا ایک شعر مع ترجمہ ملاحظہ فرمائیے :

اولیا را گر گُہر باشد تو بحرِ گوہری

در بدستِ شاں زرے دادند زر راکاں توئی

ترجمہ : اولیا کے پاس اگر موتی ہے تو موتی کا سمندر تم ہو اور اگر ان کے ہاتھ میں کوئی سونا دیا گیا ہے تو سونے کی کان تم ہو۔                                    (اکسیر اعظم مترجم ، ص136)

شریعت کی پاسداری : اعلیٰ حضرت  علیہ رحمۃ ربِّ العزّت  کی شاعری کا سب سے نمایاں وَصْف احکامِ شریعت کی پاسداری ہے۔ ردِیف و قافیہ کی پابندیاں نبھانے کے لئے شاعر بسا اوقات خلافِ شریعت باتوں  بلکہ مَعَاذَ اللہ کُفریات میں جاپڑتے ہیں۔ امامِ اہلِ سنّت کا کلام نہ صرف  شریعت  کی پابندیوں پر پورا اترنے والا بلکہ قراٰن و حدیث کی ترجمانی پر مشتمل ہے نیز آپ نے اپنے کلام میں جا بجا قراٰن و حدیث کے اقتباسات کو شامل کیا ہے۔ تحدیثِ نعمت کے طور پرآپ خود فرماتے ہیں :

ہوں اپنے کلام سے نہایت محظوظ

بیجا سے ہے اَلْمِنَّۃُ لِلّٰہِ محفوظ

قرآن سے میں نے نعت گوئی سیکھی

یعنی رہے احکامِ شریعت ملحوظ

(حدائقِ بخشش ، ص442)

حدائقِ بخشش میں  اشعار کی تعداد : ایک قول کے مطابق حدائقِ بخشش میں2781 اشعار ہیں۔         (اثر القرآن والسنۃ فی شعر الامام احمد رضا خان ، ص49)

کلامِ رضا کا عربی ترجمہ : اعلیٰ حضرت  علیہ رحمۃ ربِّ العزّت  کے اردو کلام کا عربی ترجمہ بھی “ صَفْوَۃُ الْمَدِیْح “ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ (اثر القرآن والسنۃ فی شعر الامام احمد رضا خان ، ص50)

ملکِ سخن کی شاہی تم کو رضا مسلّم : فنِ شاعری میں برادرِ اعلیٰ حضرت مولانا حسن رضا خان علیہ رحمۃ الحنَّان کے استاد اور مشہور شاعر داغ دہلوی نے کسی موقع پر اعلیٰ حضرت  علیہ رحمۃ ربِّ العزّت  کا یہ کلام دیکھا :

ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلادیے ہیں

 

جس راہ چل گئے ہیں کوچے بسادیے ہیں

اس وقت تک اس کلام کا مقطع نہیں لکھا گیا تھا۔ داغ دہلوی اس  کلام کو گُنگُنا  کر جھومتے رہے ، روتے رہے اور پھر فرمایا : میں اس کلام کی فن کے اعتبار سے کیا تعریف کروں ، بس میری زبان پر یہ آرہا ہے :

ملکِ سخن کی شاہی تم کو رضؔا مسلّم

جس سمت آگئے ہو سکّے بٹھادیے ہیں

چنانچہ اسی شعر کو کلام میں بطورِ مقطع شامل کرلیا گیا۔ (تجلیات امام احمد رضا ، ص91بتصرفٍ)

حدائقِ بخشش اور دعوتِ اسلامی : اگر یہ کہا جائے کہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان  علیہ رحمۃ  الرَّحمٰن  کے ترجَمۂ قراٰن کنزُالایمانکی طرح آپ کی نعتیہ شاعری کو عوامُ النّاس میں عام کرنے میں بھی  دعوتِ اسلامی کا بہت بڑا کردار ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ شیخِ طریقت ، امیرِ اہلِ سنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  وقتاً فوقتاً خود بھی “ حدائقِ بخشش “ کے اشعار پڑھتے ہیں اور نعت خوانوں کو بھی اعلیٰ حضرت  علیہ رحمۃ ربِّ العزّت  کا کلام پڑھنے کی ترغیب دلاتے رہتے ہیں۔ دعوتِ اسلامی کے علمی وتحقیقی شعبے “ اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیہ “ میں کام ہونے  کے بعد “ مکتبۃُ المدینہ “ سے “ حدائقِ بخشش “ کی اشاعت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماعات  اور مدنی چینل پر “ حدائقِ بخشش “ سے بھی کلام پڑھے جاتے ہیں اور یوں آج امامِ اہلِ سنّت  علیہ رحمۃ ربِّ العزّت  کی نعتیہ شاعری کی دھوم دھام ہے۔

ع گونج گونج اٹھے ہیں نغماتِ رضا سے بوستاں

کیوں نہ ہو کس پھول کی مِدحت میں وا مِنْقَار ہے

 

Share

Articles

Comments


Security Code