نشہ اور اس کے اسباب

ایک بزنس مین کا نوجوان بیٹا(عمر تقریباً21سال) لاہور کی ایک مشہور یونیورسٹی میں بی سی ایس آنرز (Bcs.Hons.) کا طالبِ علم تھا، وہ جمعہ کی شام ہاسٹل (Hostel) سے نکلا اور اتوار کو واپس آیا اور اپنے کمرے میں بند ہوگیا۔ اگلی صبح کافی دیر تک جب وہ باہر نہ نکلا تو مجبوراً انتظامیہ نے دروازہ کھولا۔نوجوان بیڈ (Bed) پر بےسُدھ پڑا تھا،اسے فوراً اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کا انتقال ہوئے تو کئی گھنٹے گزر چکے ہیں۔ موت کی وجہ جاننے کے لئے پوسٹ مارٹم ہوا تو پتا چلا کہ یہ نوجوان ہیروئن کا عادی تھا اور ہیروئن کی زیادہ ڈوز (مقدار) لینے کی وجہ سے اس کی موت واقع ہوگئی ۔(ایکسپریس نیوزآن لائن)

جوان بیٹے کی اچانک موت پر اس کے والدکا کیا حال ہوا ہوگا ہر صاحبِ اولاد سمجھ سکتا ہے۔افسوس!ہر مہینے سینکڑوں نوجوان نشے کی وجہ سے موت کے گھاٹ اُتر جاتے ہیں!اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اس سے کوسوں دُور رکھے۔ نشہ کرنے والے شروع شروع میں  گھر والوں سے چھپ کر نشہ کرتے ہیں، پھر جب گھر والوں کو اس کا پتا چلتا ہے توپانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں والدین ڈانٹ ڈپٹ، مارپیٹ، مِنّت سماجت، نصیحت وملامت جیسے حربے استعمال کرتے ہیں کہ کسی طرح اپنے پیارے کو نشے سے باز رکھ سکیں  لیکن  اکثر ناکامی ہوتی ہے کیونکہ نشہ کرنے والے کو جب نشے کی طلب ہوتی ہے تو اسے کچھ یاد نہیں رہتا۔

صحت مند افراد ہی صحت مند مُعاشرے (Society) کی بنیاد ہوتے ہیں اور نشہ اس کی بنیادوں کو کھوکھلا کردیتا ہے۔ دنیا میں اس وقت کروڑوں لوگ نشے کی عادت میں مبتلا ہیں، صرف ہمارے ملک پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد لاکھوں میں ہے اور اس میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، اقوامِ متحدہ (UNO) کی طرف سے کئے گئے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں نشہ کرنے والوں کی تعداد 67 لاکھ سے زیادہ ہے۔نشہ کرنے والوں کی عمریں 15 سال سے لے کر 64 سال تک کے درمیان ہیں۔نشہ کرنے والوں میں عورتیں بھی شامل ہیں۔(بی بی سی اردو نیوز )

نشہ کرنے کی وجوہات

سوچنے کی بات یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ نشے کی عادت میں کیوں مبتلا ہوجاتے ہیں؟ اس کی چند وجوہات ممکن  ہیں:

(1)علم وعمل کی کمی: علم ِدین، اللہ و رسول  عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اطاعت کی طرف بلاتا ہے اور باعمل مسلمان کے لئے اتنی ہی بات کافی ہوتی ہے کہ اس چیزسے اللہ و رسول عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے منع فرمایا ہے۔ علمِ دین کی کمی کی وجہ سے انسان بہت سی بُرائیوں میں مبتلا ہوسکتا ہے جن میں سے ایک نشہ بھی ہے۔ (2)انجام سے غافل ہونا: نشے کی عادت میں پڑنے کا ایک سبب اس کے بھیانک انجام سے غفلت اور دِینی،دُنیوی اور طبّی نُقصانات سے بے خبری  بھی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب کسی چیز کے نُقصانات کا علم نہ ہو تو انسان اس سے بچنے کی کوشش کیونکر کرے گا!(نشے کے نقصانات پہلی قسط میں بیان ہوچکے ہیں) (3)آسانی سے دستیاب ہونا: نشے کا آسانی سے مل جانا بھی نشے کے عام ہونے کی ایک وجہ ہے۔ پاکستان کے قانون ساز ادارے سینٹ (senate) کی ایک کمیٹی کو دی گئی بریفنگ کے مطابق صرف اسلام آباد کے پرائیویٹ اسکولوں کے 44 سے 53 فیصد اسٹوڈنٹس منشیات کے عادی ہیں جن میں16 سال تک کے بچے شامل ہیں،یہ بچے اسکول کے عملے،کینٹین،ساتھی طالبِ علموں اور اسکول کے سامنے موجود ٹھیلوں سے شراب، چرس، ہیروئن، کوکین اور گولیاں خرید کر استعمال کرتے ہیں۔ یہ عموماً خوشحال گھرانوں کے بچے ہوتے ہیں چنانچہ  پیسہ ان کا ایشو (Issue) نہیں۔ایک مشہور یونیورسٹی کے ڈین نے انکشاف کیا کہ یونیورسٹی میں کھلے عام منشیات سپلائی ہو رہی ہے جبکہ شراب تو یاری دوستی میں مفت پلائی جاتی ہے۔(ایکسپریس نیوزآن لائن) (4)تفریح کے طور پر نشہ کرنا:نشے کا آغاز تفریحاً بھی کیا جاتا ہے، شروع شروع میں انسان کسی کی دیکھا دیکھی موج مستی کے لئے تھوڑا بہت نشہ کرتا ہے مگر کچھ ہی عرصے بعد اس کا جسم نشے کی کم مقدار پر تسکین نہیں پاتا چنانچہ وہ مجبوراً نشے کی مقدار کو بڑھا دیتا ہے اور بالآخر نشے باز تباہی کے دہانے پرجا کھڑا ہوتا ہے۔(5)بُری صحبت : منشیات کے عادیوں کی بڑی تعداد بُری صحبت کی وجہ سے نشے میں مبتلا ہوتی ہے ۔پہلے پہل اسے نشہ مفت فراہم کیا جاتا ہے کہ آزما کر تو دیکھو غم دُور ہوجائیں گے، دکھ درد بھول جاؤ گے، ہواؤں میں اُڑنے لگو گے وغیرہ وغیرہ۔ ان کی باتوں میں آکر جب ایک مرتبہ نشہ آور چیز استعمال کرلیتا ہے تو نشے کے جال میں ایسا پھنستا ہے کہ بعض اوقات مرتے دم تک رہائی نصیب نہیں ہوتی۔ (6)ڈپریشن:زندگی نشیب وفراز کا نام ہے، کبھی خوشی تو کبھی غم، لیکن پریشانیوں، دشواریوں اور مشکلوں کو اپنے ذہن پر سوار کرلینے والے ڈپریشن(ذہنی دباؤ) کا شکار ہوجاتے ہیں پھر کئی لوگ ذہنی سکون پانے کے لئے منشیات کا سہارا لیتے ہیں اور وقتی طور پر اپنے اعصاب کو سُلا کر مطمئن ہوجاتے ہیں کہ ہمیں مایوسیوں کا علاج مل گیا ہے مگر یہ ان کی غلط فہمی ہوتی ہے۔ نشہ انسان کے اعصاب پر اثر انداز ہو کر آہستہ آہستہ فکر وعمل کی طاقت چھین لیتا ہے پھر نشے باز کی دنیا بھی بگڑتی ہے اور آخرت بھی۔ (7)کثرتِ مال:ایک شخص  کثرتِ مال کی وجہ سے فارغ ُالبال ہو، کھانے پینے کی بے فکری ہو، ہر طرح کی آسائش اسے حاصل ہوں، کرنے کے لئے کوئی کام نہ ہو تو بطورِ فیشن نشے کو شروع کرنے والا ایسا شخص نہ صرف اپنی صحت (Health)کو برباد کرتا ہے بلکہ گھر بار اور کاروبار سے بھی توجہ ہٹا لیتا ہے۔ (8)غربت: جہاں سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہونے والے نشہ کی لَت میں مبتلا ہوجاتے ہیں وہاں بےروزگاری کے ہاتھوں تنگ آئے افراد بھی ایسے لوگوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو ایک طرف انہیں طرح طرح کے خواب دکھا کر منشیات فروشی کے دھندے میں ملوث کردیتے ہیں اور دوسری طرف انہیں منشیات کا عادی بنا کر ان کی زندگی تباہ کر دیتے ہیں۔(9)گھریلو ناچاقیاں: والدین کا ایک دوسرے سے مستقل جھگڑا، گھر میں خانہ جنگی کی کیفیت، نفسانفسی کا عالَم اولاد کے حق میں زہرِ قاتل ہوتا ہے۔ والدین کی محبت کے ترسے ہوئے یہ کم سن نوجوان اس ماحول کی تلخی کو نشے کی جھوٹی حلاوت (Sweetness) سے دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں اورتباہی کے گڑھے میں جاگرتے ہیں۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہم میں سے ہر ایک کو چاہئے کہ وہ خُود بھی نشے سے دور رہے اور دوسروں کو بھی اس سے بچائے اور بدقسمتی سے جو اس مصیبت میں گرفتار ہوچکا ہے وہ جلد اَز جلد سچی توبہ کرے، اپنا علاج کروائے اوراس سے چھٹکارے کی کوشش کرے، اگر خود علاج نہ کروائے تو گھر والوں کو چاہئے کہ اس کے مستقل علاج کےساتھ ساتھ اسے اچھی صحبت بھی فراہم کریں۔عاشقانِ رسول کی مدنی تحریک دعوتِ اسلامی سے وابستہ ہوجانا بھی اچھی صحبت حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔

Share