اللّٰہ تعالٰی سے مُعافی مانگنے کا بہترین وقت/ مدینے شریف یا اجمیر شریف کی انگوٹھی پہننا کیسا؟/ بطخ  کھانا کیسا؟

اللّٰہ تعالٰی سے مُعافی مانگنے کا بہترین وقت

سوال: اللّٰہ تعالٰی سے مُعافی مانگنے کے لئے سب سے بہترین وقت کونسا ہے؟

جواب:اگر بتقاضائے بَشَرِیَّت کوئی گناہ سَرزَد ہوجائے تو اُسی وقت توبہ کرنا واجب ہے اور اللّٰہ تعالٰی سے معافی مانگنے کا بہترین وقت بھی یہی ہے کہ گناہ ہوتے ہی فوراً توبہ کرلی جائے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                 صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

مدینے شریف یا اجمیر شریف کی انگوٹھی پہننا کیسا؟

سوال:مدینے شریف یا اجمیر شریف کی انگوٹھی پہننے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب:مَردوں کو چاندی کی شرعی([1]) انگوٹھی کے علاوہ دیگر دھاتوں کی بنی ہوئی انگوٹھی خواہ وہ مدینے شریف کی ہو یا اجمیر شریف کی پہننا ”ناجائز“ ہے۔ انگوٹھی مدینے کی ہے یہ نہیں دیکھا جائے گا بلکہ مدینے والے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شریعت کے اَحکام دیکھے جائیں گے لہٰذا مَرد کے لئے چاندی کی شرعی مقدار کےعلاوہ کسی بھی قسم کی دھات کی انگوٹھی پہننا جائز نہیں ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                 صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

بطخ  کھانا کیسا؟

سوال:کیا بطخ  کھانا حلال ہے؟

جواب:جی ہاں! بطخ  کھانا حلال ہے۔(تفسیراتِ احمدیہ، پ8، الانعام، تحت الآیۃ: 146، ص405) اور اسے بھی بِسْمِ اللہِ اَللہُ اَکْبَر پڑھ کر ذبح کیا جائے گا۔

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                 صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

کاش! میں سرکار علیہ الصَّلوٰۃ وَالسَّلام کے دور میں ہوتا؟

سوال:”کاش! میں سرکار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دور میں ہوتا تو سرکار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زیارت کرتا۔“ یہ کہنا کیسا ہے؟

جواب:یہ آرزو کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ کاش! ہم بھی پیارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مبارک دور میں پیدا ہوئے ہوتے اور رَحمتِ عالَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قدموں سے لپٹے رہتے یعنی صاحبِ ایمان بھی ہوتے، ورنہ اُس مبارک دور میں ابو جہل بھی تھا، اس کو کوئی فائدہ نہیں ہوا اور وہ کُفر پر ہی مَر گیا۔ اسی طرح کی آرزو کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت فرماتے ہیں:

جو ہم بھی واں ہوتے خاکِ گلشن لپٹ کے قدموں سے لیتے اُترن

مگر کریں کیا نَصیب میں تو یہ نامُرادی کے دِن لکھے تھے

                                                      (حدائقِ بخشش، ص 231)

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                 صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

اعلٰی حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کا بچپن

سوال:اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کےبچپن کے متعلِق کچھ ارشاد فرمائیے؟

جواب:میرے آقا اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن بچپن  سے ہی دوسرے بچّوں سے کافی مختلف اور بہت ذہین و ہوشیار تھے، آپ کا حافظہ بھی بہت قَوی تھا، صرف چھ سال کی عُمْر میں آپ نے سرکار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے جشنِ ولادت کے موقع پر ایسا بیان فرمایا تھا کہ بڑے بڑے دَنگ رَہ گئے کہ چھ سال کے بچّے کو سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بارے میں اتنی معلومات ہیں! 13سال دس ماہ چار دن کی عمر میں میرے آقا اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت نے پہلا فتویٰ حُرمت ِ رَضاعت (یعنی دودھ کے رشتے) کے متعلِق دیا، آپ کے والدِ گرامی رَئیسُ الْمُتَکلِّمِیْن حضرت علّامہ مولانا مفتی نقی علی خان علیہ رحمۃ المنَّان فتویٰ صحیح پاکر بہت خوش ہوئے اور آپ کو مفتی کا منصب سونپ دیا، اس کے باوجود آپ طویل عرصے تک اپنے والدِ گرامی سے فتویٰ چیک کرواتے رہے۔ اس عمر میں بچے کھیلتے ہیں، لیکن میرے آقا اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت مفتی بَن گئے تھے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم (اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کی سیرت جاننے کے لئے مکتبۃُ المدینہ کے دو رسالے ”تذکرۂ امام احمد رضا“ اور ”بریلی سے مدینہ“ کا مطالَعہ کیجئے۔)

عِلْم کا چَشمہ ہوا ہے مَوجزَن تحریر میں

جب قلم تُو نے اٹھایا اے امام احمدرضا

                                                      (وسائلِ بخشش مُرَمَّم، ص525)

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                 صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

اپنی تعریف سننے کا شوق رکھنا کیسا؟

سوال:اپنی تعریف سننے کا شوق رکھنا کیسا ہے؟

جواب:اپنی تعریف سننے کا شوق اچھا نہیں ہے، اس میں بہت خطرہ (Risk) ہے جیساکہ سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”اپنی تعریف کو پسند کرنا، انسان کو اندھا اور بہرا کردیتا ہے۔“(فردوس الاخبار،ج1،ص347، حدیث:2548) لوگوں کے منہ سے اپنی تعریف اور فضائل سُن کر اپنے نفس کو قابو میں رکھنا اِنتہائی مشکِل ہوتا ہے اس لئے اپنی تعریف سننے سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ہاں! اگر اپنی تعریف سننے کا شوق نہ ہو پھر کوئی تعریف کر دے تو اپنے نفس کو قابو میں رکھتے ہوئے اپنی جائز تعریف سننے میں حَرَج نہیں جیسا کہ بزرگانِ دین رحمہم اللہ المُبِین کے سامنے اُن کی تعریفات کی گئیں، منقبتیں پڑھی گئیں لیکن ان حضرات نے منع نہ کیا۔ اس ضمن میں ایک حکایت ملاحظہ کیجئے چنانچہ خلیفۂ اعلیٰ حضرت،مبلغِ اسلام حضرتِ علّامہ مولانا شاہ عبدالعلیم صِدّیقی میرٹھی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ حرمینِ طیبین زادہُما اللہ شرفاً وَّ تعظیماً سے واپسی پر میرے آقا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نہایت خوش آوازی میں آپ کی شان میں منقبت پڑھی تو سیِّدی اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت نے اس پر کوئی ناگواری کا اِظہار نہیں فرمایا بلکہ اِرشاد فرمایا: مولانا! میں آپ کی خدمت میں کیا پیش کروں؟ (اپنے بہت قیمتی عمامہ کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے فرمایا:) اگر اس عمامے کو پیش کروں تو آپ اُس دِیارِ پاک سے تشریف لارہے ہیں، یہ عمامہ آپ کے قدموں کے لائق بھی نہیں۔ البتّہ میرے کپڑوں میں سب سے بیش قیمت (یعنی قیمتی) ایک جُبَّہ ہے، وہ حاضر کئے دیتا ہوں اور کاشانۂ اقدس سے سُرخ کاشانی مخمل کا جُبَّۂ مبارکہ لاکر عطا فرما دیا، جو ڈیڑھ سو روپے سے کسی طرح کم قیمت کا نہ ہوگا۔ مولانا مَمدوح نے کھڑے ہوکر دونوں ہاتھ پھیلا کرلے لیا۔ آنکھوں سے لگایا، لبوں سے چوما، سَر پر رکھا اور سینے سے دیر تک لگائے رہے۔(حیاتِ اعلیٰ حضرت،ج1،ص132تا134 ملخصاً)

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                 صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد



...[1] جب کبھی انگوٹھی پہنئے تو اِس بات کا خاص خیال رکھئے کہ صِرف ساڑھے چار ماشہ سے کم وَزن چاندی کی ایک ہی انگوٹھی پہنئے۔ ایک سے زیادہ نہ پہنئے اور اُس ایک انگوٹھی میں بھی نگینہ ایک ہی ہو، ایک سے زیادہ نگینے نہ ہوں، بِغیر نگینے کی بھی مت پہنئے۔ نگینے کے وَزن کی کوئی قید نہیں۔ چاند ی کا چَھلّہ یا چاندی کے بیان کردہ وَزن وغیرہ کے علاوہ کسی بھی دھات کی انگوٹھی یا چھلّہ مرد نہیں پہن سکتا۔(نماز کے احکام، ص 444تا 445)


Share