”شادی“مشکل کیوں؟

ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ساری دنیا کیلئےرسول بن کر تشریف لائے۔ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے زندگی و موت کے تمام معاملات میں ہماری رہنمائی فرمائی ہے۔ انسانی ضَروریات میں سے ایک اہم ضَرورت نِکاح بھی ہے۔ اسلام نے نکاح اور اِزْدِواجی زندگی کے احکام بھی بیان فرمائے ہیں بلکہ اسے عبادت اور ایمان کی حفاظت کا ایک بہترین ذریعہ بھی قرار دیا ہے۔ اسلامی زندگی میں شادی کا تصور بہت آسان ہے، نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم، صحابَۂ کرام علیہمُ الرِّضوان اور اولیا و علما رحمہم اللہ الکبریاء نے اس فریضے کو سادگی سے انجام دے کر ہمارے لئے بہترین نمونہ پیش فرمایا۔نکاح کردو نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم تو ہمیں اس بات کا دَرْس دیتےہیں کہ جب کوئی ایسا شخص تمہیں نکاح کا پیغام دے جس کا دین اور اَخلاق تمہیں پسند ہو تو اس سے (اپنی لڑکی کا) نکاح کردو۔ اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ پیدا ہوگا اور بہت بڑا فساد برپا ہوگا۔ (ترمذی،ج2،ص344،حدیث:1086) مَشہُور مُفَسِّر، حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یارخان علیہ رحمۃ الحنَّان اس کے تحت فرماتے ہیں: جب تمہاری لڑکی کے لئے دیندار عادات و اَطْوار کا درست لڑکا مل جائے تو محض مال کی ہَوَس میں اور لکھ پتی کے انتظار میں جوان لڑکی کے نکاح میں دیر نہ کرو، اگر مالدار کے انتظار میں لڑکیوں کے نکاح نہ کئے گئے تو ادھر تو لڑکیاں بہت کنواری بیٹھی رہیں گی اور ادھر لڑکے بہت سے بے شادی رہیں گے جس سے زنا پھیلے گا اور زنا کی وجہ سے لڑکی والوں کو عار و ننگ ہوگی،نتیجہ یہ ہوگا کہ خاندان آپس میں لڑیں گے قتل و غارت ہوں گے جس کا آج کل ظُہُور ہونے لگا ہے۔ ( مراٰۃ المناجیح،ج5،ص8ملتقطاً)

صد افسوس! موجودہ زمانہ میں ہم نے خود ہی نکاح جیسی سنّت کو حرام رسم و رَواج،  ناجائز پابندیوں اور فضول خرچیوں سے مشکل بنا دیا ہے، جس سے ہمارے معاشرے میں سُودی قرضے، لڑائی جھگڑے اور نفرت و انتقام کی آگ کے ساتھ ساتھ رشوت جیسی بُرائیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔  شادی کو مشکل بنانے والے کچھ رسم و رَواج اور اسباب ملاحظہ فرمائیے: منگنی ہمارے معاشرے میں منگنی کے نام پر نمودو نمائش اور پُرتَکَلُّف دعوتوں پرلاکھوں لاکھ کے اَخْراجات کر دئیے جاتے ہیں۔ اگر منگنی سالہا سال رہے تو عید پر عیدی کے نام سے اور دیگر تہواروں پر اُن کی مناسبت سے کچھ نہ کچھ کپڑے جوتے وغیرہ کا تَبادَلہ ضروری ہوتا ہے۔ فریقین میں سے کوئی ایک اگر اس خودساختہ معیار پر پورا نہیں اُترتا تو اُسے برادری اور رشتہ داروں کے طعنے برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ منگنی توڑ دینے کی دھمکیاں بھی سننا پڑتی ہیں۔دن تاریخ مقرر کرنا اب تو منگنی کے بعد دن تاریخ مقرر کرنے پر لوگوں کے مجمع اور قورمہ وبریانی وغیرہ سے دعوت لازمی سمجھی جانے لگی ہے۔ بعض خاندانوں میں تو صرف دن تاریخ مقرر کرنے کے لئے چار پانچ سو افراد جمع ہوتے ہیں جنہیں بغیر کھانا کھلائے بھیجنا ناک کٹوانے کے مُتَرادِف ہوتا ہے۔ ان دعوتوں میں بھی فریقین کھانے کی ڈِشز (Dishes)اور سجاوٹ (Decoration) میں ایک دوسرے سے نمبر لے جانے کی تگ و دَو(کوشش) میں لگے رہتے ہیں۔مہنگے شادی کارڈز موجودہ زمانے میں شادی کارڈ کے نام پر ایک دوسرے سے بڑھ جانے کا مقابلہ ہوتا رہتا ہے۔ شادی کارڈ بنانے والوں کا کہنا ہے کہ ”وہ زمانے گئے جب ہزار،پانچ سو روپے میں ایک سو کارڈ چھپا کرتے تھے اب تو چھ، سات سو روپے میں ایک کارڈ بھی ڈیمانڈ میں ہے۔“ حالانکہ یہ کام زبانی دعوت یا موبائل کے ذریعے بھی ہوسکتا ہے جس میں وقت اور پیسے دونوں کی بچت ہے اور شادی کارڈ شایانِ شان طریقے سے نہ ملنے پر ہونے والے لڑائی جھگڑوں سے بھی بچا جا سکتا ہے۔شادی ہالز اسی طرح شادی ہال (Marriage Hall) سے لوگ بینکوئیٹ ہال (Banquet Hall) کی طرف تیزی سے منتقل ہورہے ہیں جس نے اخراجات میں اِضافہ کر دیا ہے۔مہنگے مَلبوسات فی زمانہ مُتَوَسِّط طبقے میں ہونے والی شادیوں میں بھی دولہا کے لئے ہزاروں کی شیروانی اور دلہن کا ہزاروں  کا لباس اور بیوٹی پارلر کا خرچ دونوں خاندانوں کو کس طرح مَقروض بنا رہا ہے یہ کسی سے ڈھکی چُھپی بات نہیں۔ بارہا  شادی اور ولیمے کے لئے تیار کردہ ہزاروں کی مالیت کا لباس ایک بار پہن لینے کے بعد الماری ہی کی زینت بنا  رہ جاتا ہے۔باراتیوں کی تعداد: عام طور پر شادی کے موقع پر ہزار، پانچ سو سے لے کر دودو، چار چار ہزار افراد فریقین کی جانب سے شریک ہوتے ہیں کچھ لوگ دُلہن والوں کی حیثیت نہ ہونے کے باوجود بڑی بارات لانے کے مُطالَبہ پر اَڑ جاتے ہیں انہیں اس روایت پر غور کرنا چاہئے چنانچہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت سیّدنا عبدالرحمٰن بن عوفرضی اللہ تعالٰی عنہ پر زرد رنگ کا اثر دیکھ کر فرمایا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کی: میں نے نکاح کیا ہے۔ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اﷲ پاک تمہیں برکت عطا فرمائے،  اب ولیمہ کرو، چاہے ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔ (بخاری، ج2،ص4، حدیث:2048) اس روایت سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ صحابَۂ کرام علیہمُ الرِّضوان میں شادی کس قدر سادگی سے کی جاتی تھی جبکہ ہمارے ہاں جہیز کے نام پر مطالبات کی لمبی فہرست بارہا دلہن والوں کو لاکھوں کا مقروض بنا دیتی ہے۔ دیگر رسومات اب تو ولیمے کے دن دولہا دلہن کے ہال میں داخل ہوتے ہی ایک رسم کی جانے لگی ہے جسے دولہا دلہن کی انٹری کہا جاتا ہے ایک مُتَوَسِّط گھرانے کی شادی میں صرف آدھے گھنٹے کے اس فنکشن کے  ہزاروں روپے ادا کئے گئے۔ اسی طرح مایوں، مہندی، اُبٹن جیسی رسموں کے نام پر جس طرح پیسا بہایا جاتا ہے اس سے بھلا کون واقف نہیں! اب تو یہ رسمیں بھی شادی ہالوں میں ہونے لگی ہیں، جن میں حلوہ پوری، کچوریاں، کباب پراٹھے، قیمہ،کشمیری چائےاور کافی يا کولڈ ڈرنکس وغیرہ سے آنے والوں کی خاطِر تَواضُع کرنا ضروری سمجھا جانے لگا ہے۔ جیب صفائی مختلف خاندانوں اور برادریوں میں شادی کے موقع پر ہونے  والی سہرا بندھائی،دودھ پِلائی، راستہ رُکوائی، منہ دکھائی،  سُرمہ لگائی، گھٹناپکڑوائی اور جوتا چھپائی جیسی بیہودہ رُسُومات میں ”مہذب ڈاکو “ جس طرح زور زبردستی سے دولہا کی جیب صفائی کرتے ہیں یہ حقیقت بھی کسی سےپوشیدہ نہیں۔ان رسموں میں فضول اَخراجات کے ساتھ ساتھ جس طرح شرم و حیا اور غیرت کا خون کیا جاتا ہے وہ دین کا درد رکھنے والوں کو آٹھ آٹھ آنسو رُلاتا ہے۔غور کیا جائے تو ان رُسُومات کے اَخرجات پورا نہ ہونے کے باعِث مُتَوَسِّط اور غریب لوگ احساسِ کمتری کا شکار ہو کر ذہنی اور اعصابی دباؤ کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ اکثر رسمیں تو بہت سے حرام کاموں کا مجموعہ ہیں لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ شریعت پر عمل کرتے ہوئے تمام فضول اور ناجائزو حرام رسم و رَواج کو چھوڑ کر سنّتِ مصطفٰے صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مطابق شادی کو رَواج دیں اِنْ شآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی برکت سے شادی خانہ آبادی کا ذریعہ بنے گی۔

شادی کا اسلامی طریقہ اور اس کے ضروری اَخراجات جاننے کیلئے جنوری 2018 کے شمارے میں شائع شدہ مضمون ”شادی آسان ہے“ اور مکتبۃ المدینہ کی کتاب ”اسلامی زندگی“  کا مطالعہ بے حد مفید ہے۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*۔۔۔  شعبہ فیضان صحابہ و اہلِ بیت،  المدینۃ العلمیہ  باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code