اصحاب کہف(دوسری و آخری قسط)/ باز اور بطخ/بچو!ان سے بچو

دیوار گِرنے کے بعد اَصحَابِ کَہْف بیدار ہوگئے، حالت ایسی تھی جیسے ایک رات سوئے ہوں، چہرے تروتازہ اور کپڑے بالکل صاف ستھرے تھے، نیز اُن کا کُتّا غار کے کنارے کلائیاں پھیلائے لیٹا تھا۔(1) اَصحَابِ کَہْف صبح کے وقت سوئے تھے اور جب اٹھے تو سورج ڈوبنے میں کچھ وقت باقی تھا۔(2) انہوں نے نماز ادا کی اور اپنے ساتھی یَمْلِیْخا کو کھانا لانے کے لئے بھیجا۔ یَمْلِیْخا ایک تندوروالے  کی دُکان پر گئے اور کھانا خریدنے کے لئے دَقْیانُوسی دور کا سِکّہ دیا، صدیوں پُرانا سِکّہ دیکھ کر بازار والے سمجھے کہ اِن کے ہاتھ کوئی پُرانا خزانہ آ گیا ہے، وہ یَمْلِیْخا کو حاکم کے پاس لے گئے، اُس نے پوچھا: خزانہ کہاں ہے؟ یَمْلِیْخا بولے: یہ خزانہ نہیں ہمارا اپنا پیسا ہے، حاکم کہنے لگا: یہ کیسے ممکن ہے! یہ سِکّہ 300 سال پُرانا ہے، ہم نے تو کبھی یہ سِکّہ نہیں دیکھا، یَمْلِیْخا بولے: دَقیانُوس بادشاہ کا کیا حال ہے؟ حاکم بولا: آج کل اِس نام کا کوئی بادشاہ نہیں ہے، سینکڑوں سال پہلے اِس نام کا ایک کافر بادشاہ گزرا ہے، یَمْلِیْخا نے کہا: کل ہی تو ہم دَقْیانُوس سے اپنی جان بچا کر غار میں چھپے تھے، آئیے! میں آپ کو اپنے ساتھیوں سے ملواتا ہوں۔ حاکم اور کئی لوگ غار کی طرف چل پڑے، غار میں موجود اصحاب نے جب لوگوں کی آواز سنی تو سمجھے کہ یَمْلِیْخا پکڑے گئے ہیں اور دقیانوسی فوج اِنہیں بھی پکڑنے آ رہی ہے، یَمْلِیْخا نے غار میں پہنچ کر ساتھیوں کو سارا ماجرا بتایا، حاکم نے غار کے کنارے صندوق دیکھا تو اُسے کھلوایا، اندر سے تختی ملی جس پر اَصحَابِ کَہْف کا حال لکھا تھا، حاکم نے یہ خبر بادشاہ بَیدَرُوس تک پہنچائی، وہ بھی آ گیا اور اُس نے اَصحَابِ کَہْف کا حال دیکھ کر سجدۂ شکر کیا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مرنے کے بعد زندہ ہونے اور قیامت کا یقین دلانے کے لئے نشانی عطا فرمائی۔ رُوح قبض کرلی گئی اِس کے بعد اَصحَابِ کَہْف غار میں آ کر سوگئے اور اُن کی روح قبض کر لی گئی، بَیدَرُوس نے لکڑی کے صندوقوں میں اُن کے مبارک جسم رکھے، غار کے قریب مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا اور لوگوں کے لئے دن مقرر کر دیا کہ ہر سال عید کی طرح وہاں آیا کریں۔(3) تعداد اور نام ایک قول کے مطابق اَصحَابِ کَہْف کی تعداد 7تھی جن کے نام یہ ہیں:

(1)مَکْسِلْمِیْنَا (2)یَمْلِیْخَا (3)مَرْطُوْنَسْ (4)بَیْنُوْنُسْ (5)سَارِیْنُوْنُسْ (6)ذُوْ نَوَانِسْ (7)کَشْفَیْطَطْنُوْ نَسْ اور کُتّے  کا نام قِطْمِیْر تھا۔(4)

حکایت سے حاصل ہونے والے مدنی پھول

پیارے مَدَنی مُنّو اور مَدَنی مُنّیو!٭مرنے کے بعد دوبارہ ضرور زندہ کیا جائے گا ٭بُزُرگوں کا عُرس منانا قدیم زمانے سے چلا آرہا ہے ٭مزاروں کے پاس مسجد تعمیر کرنا اور اس میں عبادت کرنا بہت پُرانا طریقہ ہے ٭اَصحَابِ کَہْف کا بغیر کھائے اِتنی مدّت زندہ رہنا اِن کی کَرامت ہے ٭ولی سے کرامت سوتے میں بھی ہو سکتی ہے اور موت کے بعد بھی۔

(1)صراط الجنان،ج 5،ص542۔ آثار البلاد واخبار العباد،ص500 (2)آثار البلاد و اخبار العباد،ص 500 (3)صراط الجنان،ج 5،ص542 (4) ایضاً،ج 5،ص541

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*...ذمّہ دارشعبہ فیضان امیرِ اہلِ سنت،المدینۃ العلمیہ، باب المدینہ کراچی

Share

اصحاب کہف(دوسری و آخری قسط)/ باز اور بطخ/بچو!ان سے بچو

ایک بطخ (Duck) پانی پر تَیر رہی تھی کہ ایک باز (Falcon) نے اسے اپنے پنجوں میں دَبوچنا چاہا مگر بطخ فوراً پانی میں چلی گئی ۔ جب بطخ دوبارہ پانی کے اوپر آئی تو باز نے اُسے لالچ دیتے ہوئے کہا: اےبطخ! تم اپنی زندگی پانی میں گزار رہی ہو، جنگل میں آکر دیکھو! وہاں سَرسَبز درخت ہیں، گھاس ہے، طرح طرح کے پرندے ہیں، تم جنگل میں آکر اِس پانی کو بھول جاؤ گی۔ بطخ سمجھ گئی کہ باز جنگل کا لالچ دے کر اُسے پکڑنا چاہتا ہے، بطخ نے باز کو جواب دیا: اے باز دھوکے باز! دور ہوجا، جنگل کی رونقیں تجھے  مبارَک ہوں، میرے لئے توپانی ہی سکون کی جگہ ہے، میں جنگل میں نہیں آتی۔ (مثنوی کی حکایات،ص357،ملخصاً)

پیارے مَدَنی مُنّواور مَدَنی مُنّیو! اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہےکہ ہمیں ایسے لوگوں سے دور رہنا  چاہئے جو ہمیں بُری جگہوں اور بُرے کاموں (جیسےموبائل و سوشل میڈیا (Social Media)کے غلط اِستعمال (Misuse) ، ویڈیو گیمز کی دکان،بُرے دوستوں کی صحبت وغیرہ) کی طرف اُن کی بُرائی کو اچھّا بتا کر لے جاتے ہیں اور پھر ہمیں بھی اُن بُرے کاموں میں لگاکر اچھّائی سے دور کر دیتے ہیں، ہمیں تو  اپنا وقت پڑھائی،اچھے کاموں اورنیک  دوستوں میں گزارنا چاہئے۔ اللہ پاک ہمیں  اچھّائی کی توفیق عطا فرمائے اور بُرائی سے محفوظ فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم 

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*... ماہنامہ فیضانِ مدینہ،باب المدینہ کراچی

Share

اصحاب کہف(دوسری و آخری قسط)/ باز اور بطخ/بچو!ان سے بچو

پیارے مَدَنی مُنّو اور پیاری مَدَنی مُنّیو! ہمارا پیارا دین ”اسلام“ ہمیں اچھے کام کرنے کا حکم دیتا ہے اور بُرے کاموں سے منع کرتا ہے، لہٰذا ہمیں چاہئے کہ اچھے اچھے کام کریں اور بُرے اور گندے کاموں سے بچیں: (1)اجنبی آدمی کے ساتھ مت جائیے : اسکول آتے جاتے یا گلی محلے میں کھیلتے ہوئے کوئی اَجنبی  شخص آپ کو کھانے کی چیز، ٹافی یا بسکِٹ وغیرہ  دے تو اُسے ہرگز مت کھائیے ،ہوسکتا ہے کہ اُس میں بے ہوشی کی دوا ملی ہو اورآپ اُسے کھالیں تو وہ آپ کو اٹھا کر لے جائے ۔اِسی طرح اگر کوئی اجنبی آدمی آپ کو یہ کہے کہ آپ کے بھائی  یا والد صاحب آپ کو دوسری جگہ بلارہے ہیں تو اس کے ساتھ ہرگز مت جائیے ۔ (2) کپڑوں سے پسینہ صاف کرنا:کھیل کود کے دوران یا گرمی کی وجہ سے پسینہ آتاہے تو بعض بچے اپنے کپڑوں کی آستین وغیرہ سے پسینہ صاف کرلیتے ہیں آپ ایسا ہرگز نہ کیجئےگا کیونکہ اس سے کپڑے میلے ہوجاتے ہیں اور اُن سے گندی بُو آنے لگتی ہے،بہتر یہ ہے کہ ایک رومال اپنے ساتھ رکھیں  اور اس سے پسینہ صاف کریں۔ (3)راستے میں پڑی ہوئی چیزوں اور پتھروں کو لات مارنا:گھر میں یا باہر گلی میں پڑے ہوئے پتھر، گیند، کھلونے اور دوسری چیزوں کو چلتے چلتے لات(ٹانگ) مار دینا بہت بُری عادت ہے۔اس سے کبھی پاؤں میں چوٹ بھی لگ جاتی ہے  اور کبھی وہ چیز دوسرے کو جالگتی ہے۔ ہمیں ایسے کام سے بچنا چاہئے۔

Share

Articles

Gallery

Comments


Security Code