گھر میں برکت کیسے آئے؟

نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنےجس طرح بہت سے ایسے اَعمال ارشاد فرمائے ہیں جن پر عمل کرکے ہم کم وقت میں زیادہ نیکیاں کما سکتے ہیں اسی طرح ایسے اَعمال بھی بیان فرمائے ہیں جن پرعمل کر کے ہم ثواب کمانے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر اور رِزق کو بابَرَکت بنا سکتے ہیں۔ چند احادیثِ مُبارکہ مُلاحظہ فرمائیے: مُفلِسی سے بچنے کا بہترین نسخہ ایک شخص نے حُضُورِ اَقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمتِ با بَرَکت میں حاضِر ہوکر اپنی مُفلِسی اورتنگ دَستی  کی شکایت کی تو آپ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جب تم گھر میں داخل ہو اور گھر میں کوئی ہو تو اسے  سلام کرو اور اگر کوئی نہ ہوتو مجھ پر سلام عرض کرو اور ایک بار قُلْ ھُوَ اﷲپڑھو۔ اس شخص نے ایسا ہی کیا، اللہ تعالیٰ نے اسے اتنا مالا مال کردیا کہ اس نے اپنے ہمسایوں کی بھی خدمت کی۔ (تفسیر قرطبی، جز:  20 ،ج  10،ص183) خیرو بَرَکت کا حُصول فرمانِ مصطفٰے صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: جو یہ پسند کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کے گھر میں خیر زیادہ کرے تو جب کھانا حاضر کیا جائے، وُضو کرے اور جب اٹھایاجائے تواس وقت بھی وُضو کرے۔ (ابن ماجہ،ج 4،ص9، حدیث: 3260) کھانے کے وُضو سے مُراد دونوں ہاتھ  گِٹّوں تک اور منہ کا اگلا حصّہ دھونا اور کُلّی کرنا ہے۔ (فیضانِ سنت ، ص186 ملتقطاً) مِل کر کھانے میں بَرکت ہے سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ  واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے: اکٹھے کھاؤ، الگ الگ نہ کھاؤ کہ بَرَکت جماعت کے ساتھ ہے۔ (ابن ماجہ،ج 4،ص21، حدیث: 3287) اس حدیثِ پاک کے  تحت حکیمُ الامّت، مُفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنَّان فرماتے ہیں: ساتھ کھانے میں تھوڑا کھانا بہت کو کافی ہوجاتا ہے، آپس میں مَحبّت بڑھتی ہے، نماز، جہاد، حج،کھانا غرضیکہ عبادات و عادات میں مسلمانوں کی جماعت بڑی اعلیٰ نعمت ہے۔ (مراٰۃ المناجیح،ج 6،ص67) رزق میں وُسْعَت کا نسخہ سرکارِ مدینہ   صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ مُشکبار ہے: جوشخص دسترخوان سے کھانے کے گِرے ہوئے ٹکڑوں کو اُٹھا کر کھائےوہ فَراخی کی زندگی گزارتا ہے اور اس کی اولاد میں عافیت رہتی ہے۔(عيون الاخبار، جز:3،ج 2،ص243) رزق اور عُمر میں برکت کیسے ملے؟ رزق میں برکت کا ایک سبب رشتہ داروں سے حُسنِ سُلوک کرنا بھی ہے،نبیِّ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا: جسے عُمر میں اضافہ اور رِزْق میں زیادتی ہونا پسند ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور صِلۂ رِحمی کرے۔ (شعب الایمان،ج 6،ص219، حدیث: 7947) سال بھر  رزقِ حلال ملےگا فرمانِ مصطفٰے صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے:بھُوکا اور حاجت مند اگر اپنی حاجت لوگوں سے چھپائے، خدائے تعالیٰ رزق ِ حلال سال بھر تک اسے عِنایت کرےگا۔ (شعب الایمان،ج 7،ص215، حدیث: 10054) رزق میں برکت کےلئے 3فرامینِ مصطفٰے صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم (1)جو  شخص ہر رات میں سورۂ واقعہ پڑھے گا اس کو کبھی فاقہ نہ ہو گا۔ (مشکاۃ المصابیح، ج1،ص409، حدیث: 2181) (2)جس نے اِستغفار  کو اپنے اوپر لازِم کرلیا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی ہر پریشانی دور فرمائے گا اور ہر تنگی سے اسے راحت عطا فرمائے گااور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اسے گُمان بھی نہ ہوگا۔ (ابن ماجہ، ج4،ص257، حدیث :3819) (3)کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جو تمہیں تمہارے دشمن سے نَجات دے اور تمہارے رزق وَسیع کر دے، رات دن اللہ تعالیٰ سے دُعا مانگتے رہو کہ دُعا مومِن کا ہتھیار ہے۔(مسند ابی یعلیٰ، ج2 ،ص201،  حدیث: 1806) مدینہ رزق میں خیر و برکت کےحُصول کی مزید معلومات  اور تنگ دستی کی وُجوہات جاننے کے لئے  شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا رسالہ’’ چڑیا اور اندھا سانپ‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) اور المدینۃ العلمیہ کا رِسالہ” تنگ دستی کے اَسباب اور ان کا حل‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)  پڑھئے ۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*۔۔۔ شعبہ فیضان صحابہ و اہل بیت، المدینۃ العلمیہ، باب المدینہ کراچی

Share