مجھے بخش دے بے سبب یا الٰہی/ تمہیں نے تو کیا ہم کو مسلماں یارسولَ اللہ/ بہتری جس پہ کرے فخر وہ بہتر صدیق

حمد/مناجات

مجھے بخش دے بے سبب یا الٰہی

مجھے بخش دے بے سبب یاالٰہی

نہ کرنا کبھی بھی غضب یاالٰہی

پئے شاہِ بَطْحا  مِری چھوٹ جائیں

بُری عادتیں سب کی سب یاالٰہی

میں مکے میں آؤں مدینے میں آؤں

بنا کوئی ایسا سبَب یاالٰہی

دکھا دے بہارِ مدینہ دکھادے

پئے تاجدارِ عرب یاالٰہی

حُسین ابنِ حیدر کے صَدْقے میں مولیٰ

ٹَلیں آفتیں میری سب یاالٰہی

نظر میں محمد کے جلوے بسے ہوں

چلوں اس جہاں سے میں جب یاالٰہی

گناہوں سے عطّار کو دے مُعافی

کرم کر، نہ کرنا غضب یاالٰہی

وسائلِ بخشش مرمم،ص107

از شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ

Share

مجھے بخش دے بے سبب یا الٰہی/ تمہیں نے تو کیا ہم کو مسلماں یارسولَ اللہ/ بہتری جس پہ کرے فخر وہ بہتر صدیق

نعت/استغاثہ

تمہیں نے تو کیا ہم کو مسلماں یارسولَ اللہ

تُمہیں نے تو کیا ہم کو مسلماں یارسولَ اللہ

تمہیں تو ہو ہمارا دین و ایماں یارسولَ اللہ

نہ بھولے اور نہ بھولے گے قیامت تک غلاموں کو

نہ کیوں ہوں اہلسنت تم پہ قرباں یارسولَ اللہ

فقط یہ آرزو ہے نَزْع میں مَرْقَد میں محشر میں

کہیں ہم سےنہ چُھوٹےتیراداماں یارسولَ اللہ

مریضانِ جہاں کو تم شفا دیتے ہو دم بھر میں

خُدارا  درد  کا  ہو  میرے  دَرْماں  یارسولَ اللہ

بنایا ہے خدا نے دونوں عالم کا تجھے حاکم

سروں پر لیتے ہیں سب تیرا فرماں یارسولَ اللہ

خدا کے بعد افضل جاننا تم کو دو عالم سے

یہی تو ہے ہمارا دین و ایماں یارسولَ اللہ

جمیلِ قادری کی دو جہاں میں لاج رکھ لینا

طفیلِ حضرت احمد رضا خاں یارسولَ اللہ

قبالۂ بخشش،ص127

از مداح الحبیب مولانا جمیل الرحمن قادری رضوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی

Share

مجھے بخش دے بے سبب یا الٰہی/ تمہیں نے تو کیا ہم کو مسلماں یارسولَ اللہ/ بہتری جس پہ کرے فخر وہ بہتر صدیق

منبقت

بہتری جس پہ کرے فخر وہ بہتر صدیق

بہتری جس پہ کرے فَخْر وہ بہتر صدّیق

سَرْوَرِی جس پہ کرے ناز و سرور صدّیق

سارے اصحابِ نبی تارے ہیں امّت کے لئے

ان ستاروں میں بنے مَہْرِ مُنَوّر صدّیق

ان کے مدّاح نبی ان کا ثنا گَو اللہ

حَقْ اَبُوالْفَضْل کہے اور پیغمبر صدّیق

بال بچوں کے لئے گھر میں خدا کو چھوڑیں

مصطفےٰ  پر کریں گھر بار نِچھاور صدّیق

ایک گھر بار تو کیا غار میں جاں بھی دیدیں

سانپ ڈستا رہے لیکن نہ ہوں مُضْطرْ صدّیق

کہیں گِرتوں کو سنبھالیں کہیں رُوٹھوں کو منائیں

کھودیں اِلْحاد کی جَڑْ بعدِ پیغمبر  صدّیق

تو ہے آزاد سَقَر([1]) سے ترے بندے آزاد

ہے یہ سالک بھی ترا بندۂ([2]) بے زَرْ صدّیق

دیوانِ سالک، ص26

ازمفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الرحمن



[1]۔۔۔ دوزخ

[2] ۔۔۔ غلام

Share

Articles

Comments


Security Code