بلڈ پریشر

بلڈ پریشر (Blood Pressure) سے کیا مراد ہے؟انسانی جسم میں دماغ سے لےکر پاؤں کے انگوٹھے تک خون کی چھوٹی بڑی شریانوں کا ایک جال سا بچھا ہوا ہے ،جن میں ہر  وقت ایک خاص رفتار کے ساتھ خون گردش کرتا رہتا ہے، اگر خون کا بہاؤ معمول کے مطابق جاری رہے تو جسم کے تمام اَعْضاء کو خون کے ساتھ  آکسیجن بھی  ملتی رہتی ہے  اور انسان صحت مند رہتا ہے لیکن اگر خون کی روانی میں تیزی یا سُستی آجائے تو فشارِ خون کا مرض ہوسکتا ہے۔ انسانی جسم میں گَردِش کے دوران خون کا جو دباؤ ہماری رگوں پر پڑتا ہے اسے بلڈ پریشر کہتے ہیں۔ بلڈ پریشر کی دو قسمیں ہیں: (1)ہائی بلڈپریشر (2)لوبلڈپریشر۔ ٭بلڈ پریشر ناپنے کے آلے پر اوپر کا بلڈپریشر 100سے 139جبکہ نیچےکا 60 سے 89 تک ہو تو نارمل ہے۔ ٭اوپر کا بلڈپریشر139سے جبکہ نیچے کا 89 سے زیادہ ہو تو ہائی بلڈ پریشر ہے٭ اوپر کا بلڈ پریشر90سے جبکہ  نیچے کا50 سے کم  ہونے کی صورت میں لو بلڈ پریشر ہے۔اوپر اور نیچے کا بلڈ پریشر مخصوص اِصْطِلاحات ہیں جنہیں ڈاکٹر حضرات جانتے ہیں۔   ہائی بلڈ پریشر(High Blood Pressure):ہائی بلڈ پریشر ایک مُوذی (تکلیف دہ) اور جان لیوا بیماری ہے۔ کسی زمانے میں اسے صرف بوڑھے افراد یا امیروں  کے ساتھ خاص سمجھا جاتا تھا اب حالت یہ ہے کہ چھ سال کے بچے میں بھی ہائی بلڈ پریشر کی اِطِّلاعات موجود ہیں۔ بَسا اوقات ہائی بلڈ پریشر  کے مریض کو بھی کئی سال تک اس مرض میں مبتلا ہونے کا علم نہیں ہوتا، اسی وجہ سے اسے خاموش قاتل (Silent Killer)بھی کہا جاتا ہے۔  30 سے 40 سال کی عمر میں ہونے والی اَمْوات کی  وجوہات میں  ہائی بلڈ پریشر سرِفہرست ہے۔ ہائی بلڈ پریشر دل کے دورے (Heart Attack)، برین ہیمبریج(دماغ کی شریانیں پھٹنے) اور گُردے فیل ہونے وغیرہ  کا سبب بن سکتا ہے۔ پاکستان میں ہائی بلڈپریشر کے مریضوں میں دن بدن تیزی سے  اضافہ ہو تا جا رہاہے۔ ہائی بلڈ پریشر کےاسباب: ٭نمک کا زیادہ استعمال ٭مُرَغَّن غذائیں کھانے کی عادت ٭موٹاپا ٭جسمانی ورزش نہ کرنا ٭ذہنی دباؤ ٭شوگر ٭خون میں کولیسٹرول کا بڑھ جانا اور خون کے مختلف اَمراض وغیرہ ہائی بلڈ پریشر کا سبب بن  سکتے ہیں۔ علامات: ہائی بلڈ پریشر  کی کوئی مخصوص علامات نہیں ہیں البتہ سرچکرانا اورکانوں کے پیچھے سَنْسَناہَٹ محسوس ہونا وغیرہ اس کی علامت ہوسکتے ہیں۔ ہائی بلڈ پریشر کے مریض کے لئے احتیاطیں: نمک کے بغیر کھانا پکائیں اور کھانے کے دوران ذائقہ کی بہتری کے لئے تھوڑا سا نمک ڈال لیں ٭پتوں والی تازہ سبزیاں، دالیں اور موسم کےتازہ پھل استعمال کریں ٭مچھلی اور مرغی اِعْتِدال کے ساتھ کھائیں ٭سرخ گوشت (Red Meat) مثلاً گائے اور بکری کا گوشت نیز چٹنی، اچار، مَغْز،کلیجی، گُردے، تمام تَلی ہوئی اشیاء اور بیکری کی بنی ہوئی چیزوں سے پرہیز کریں ٭دودھ اوردہی بغیر بالائی (Cream) کے استعمال کریں ٭گھی، انڈے اور مکّھن کم  سے کم کھائیں ٭کھانا پکانے کیلئے کارن آئل (Corn Oil)، سورج مُکھی (Sun Flowerسویابین (Soya Been) یا زیتون کا تیل (Olive Oil) استعمال فرمائیں۔ ہائی بلڈپریشرسے بچنے کے نسخے: میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر آپ ہائی بلڈ پریشر سمیت مختلف اَمْراض سے بچنا چاہتے ہیں تو اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ پیٹ کا قفلِ مدینہ لگائیں یعنی  بھوک سے کم کھائیں ٭اپنا وزن نہ بڑھنےدیں ٭روزانہ  کم اَز کم آدھا گھنٹہ پیدل چلنے کا معمول بنائیں اور ٹینشن لینے سے بچیں۔ بلڈ پریشر میں چاول مُفید ہیں: ہائی بلڈ پریشر، دل کے مَرَض اور مِعدے کی خرابی کے دو ہزار مریضوں پر ڈاکٹروں نے دس سال تک تَجْرِبات کرنے کے بعد یہ رائے قائم کی ہے کہ ان اَمراض میں”چاول کی غذا“ بہترین علاج ہے، بِالخصوص بلڈ پریشر کے مرض کے آغاز میں چاول زِیادہ مفید ہیں۔ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول(Cholesterol)کے مریض کےلئے اِنْجِیر بھی فائدہ مند ہے۔ (گھریلو علاج،ص54،113 بتغیرٍ قلیل) مُتَفَرِّق مَدَنی پھول: فریج(Fridge) میں رکھے کھانے میں سوڈیم (نمک)کی مِقدار بڑھ جاتی ہے لہٰذا ہائی بلڈ پریشر کے مریض حتَّی الاِمْکان تازہ کھانا کھائیں ٭ہائی بلڈ پریشر کے مریض کو جلد غصّہ آجاتا اور وہ ٹینشن لے لیتا ہے لہٰذا  اس کے سامنے غصّہ دلانے والی باتوں سے بچنا چاہئے ٭ ہرصحت مند انسان کوگاہے بگاہے اپنا بلڈ پریشر ضرور چیک کروانا چاہئے۔ اس کے لئے وقت کی کوئی قید نہیں، کسی بھی وقت چیک کرواسکتے ہیں ٭ایک بار بلڈ پریشر کی دوا کا استعمال شروع کردیا جائے تو پھر اسے عمر بھر کے لئے معمولات کا حصّہ بنانا پڑتا ہے  ٭ ڈاکٹر سے مشورہ کئے بغیر دوا کی مقدار (Dose)  میں کمی بیشی ہر گز نہ کی جائے۔لو بلڈ پریشر: لو بلڈ پریشربذاتِ خود کوئی بیماری نہیں بلکہ کسی مخصوص بیماری کی علامت ہوتی ہے ٭عموماً موٹاپے کے شکار افراد، نشہ کرنے والوں اور ایتھلیٹس (Athletesدوڑ کے مقابلوں میں حصّہ لینے والوں) کا بلڈ پریشر لو ہوتا ہے  ٭مختلف  بیماریوں میں دیجانے والی بعض اَدْوِیات بھی لو بلڈ پریشر  کا باعث بنتی ہیں۔ علامات: جسم میں سُستی اور کمزوری محسوس ہونا ٭مَتلی اور بےچینی ٭تھکاوٹ اور گھبراہٹ کا احساس ٭ہلکا سَردرد اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جانا وغیرہ۔لو بلڈ پریشر  والوں کیلئے مدنی پھول:  لوبلڈپریشر والوں کو چاہئے کہ  دن میں کم ا ز کم 8  سے 10 گلاس پانی  پئیں ٭ہر چار پانچ گھنٹے کے بعد کچھ نہ کچھ ہلکی پُھلکی غذا کھائیں ٭خُشک میوہ جات(Dry Fruit) مثلاً بادام،پستہ وغیرہ  کا استعمال کریں ٭ایک جگہ زیادہ دیر کھڑے نہ رہیں  ٭سوکر  اُٹھنے پر ایک دَم سے کھڑے نہ ہوں بلکہ کچھ دیر رُک کر آرام سے اُٹھیں ٭اگر ہائی بلڈ پریشر کا مسئلہ نہ ہو تو نمک کا استعمال فرمائیں ٭لو بلڈ پریشر کاآسان اور بہترین حل یہ ہے کہ سادہ پانی زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ پانی میں اگر تھوڑ ا سا نمک ڈال لیا جائے تو مزید  بہتر نتائج حاصل ہوسکتے ہیں۔ ہائی بلڈ پریشر کا دیسی علاج: چارعدد کڑھی پتّےایک کپ پانی میں رات بھر پڑے رہنے دیجئے،صُبْح نَہار مُنہ اُن چار میں سے دو پتّے چبا کر کھالیجئے اور اوپر سے وُہی پانی پی لیجئے (بقیہ دو کڑھی پتے ضائع نہ کیجئے بلکہ سالن وغیرہ میں استعمال کرلیجئے)۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ صرف ایک ہفتے میں بلڈپریشر نارمل ہوجائے گا بلکہ ایک ہی دن میں فرق محسوس ہوگا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اس علاج سے بلڈ پریشر کے مریض کے چہرے پر بھی رونق آجاتی ہے۔(بیمارعابد،ص44)مَدَنی مشورہ: بلڈ پریشر چیک کرنے کے مختلف آلات بازار میں دستیاب ہیں۔ گھر کا کوئی فرد بلڈ پریشر چیک کرنے کا طریقہ سیکھ لے اور وقتاً فَوَقتاً   گھرکے افراد کا بلڈ پریشر چیک کرتا رہے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ فائدہ ہو گا۔ پریشانی کی طرف سے توجہ ہٹادیجئے:بلڈ پریشر سمیت مختلف  دنیوی پریشانیوں سے بچنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اپنی پریشانیوں کے متعلق سوچنا ترک کردیجئے۔اگر ہر وقت ان کے بارے میں سوچتے رہیں گے تو اس سے پریشانی اور ذہنی دباؤ میں مزید اضافہ ہوگااور آپ اندر ہی اندر گُھلتے چلے جائیں گے۔فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ ہے:مَنْ کَثُرَ ھَمُّہٗ سَقِمَ بَدَنُہٗ یعنی جس کی فکریں زیادہ ہوجاتی ہیں اس کا بدن بیمار ہوجاتا ہے۔ (شعب الایمان،ج6،ص342،حدیث:8439)

دل کو سُکوں چمن میں ہے نہ لالہ زار میں

سوز و گداز تو ہے فقط کُوئے یار میں

(اس مضمون کی طبی تفتیش مجلس طبی علاج (دعوتِ اسلامی) کے ڈاکٹر محمد کامران اسحاق عطاری نے فرمائی ہے ۔تمام علاج اپنے طبیب(ڈاکٹر) کے مشورے سے ہی کیجئے)

 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭ماہنامہ فیضان مدینہ، باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Gallery

Comments


Security Code