رجب المرجب میں وصال فرمانے والے بزرگان دین

رَجَب المُرَجَّب اسلامی سال کا ساتواں مہینا ہے۔ اس میں جن صحابۂ کرام، عُلَمائے اسلام اور اَولیائے عِظام کا یومِ وِصال یا یومِ عُرْس ہے، ان میں سے 18 کا مختصر ذِکْر 4 عُنوانات کے تحت پیشِ خدمت ہے۔

صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان

(1)نبیِّ کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کے چچا جان حضرتِ سَیِّدُنا ابوالْفَضْل عبّاس ہاشِمی قُرَشِی مکّی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ عامُ الِفیل سے 3 سال قبل مَکَّۂ مُکَرَّمہ میں پیدا ہوئے اور 14 رجب 32ھ کو مدینۂ منوّرہ میں وِصال فرمایا، تدفین جَنّتُ الْبَقِیع میں ہوئی۔(تاریخِ مدینہ دمشق،ج 26، ص273،379) (2)سلمانُ الْخَیْر حضرت سَیِّدُنا سَلمان فارِسی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا تذکرہ اسی رسالے کے صفحہ17 پر مُلاحظہ فرمائیے۔

اولیائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام

(3)حضرت سَیِّدُنا ابوالحَسَن امام مُوسیٰ کاظِم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم، امامِ کَبِیر، صاحِبِ سخاوت و تقویٰ اور حُسْنِ اَخلاق کے پَیکر تھے، 128ھ کو اَبْوَاء حِجازِ مُقدَّس میں پیدا ہوئے اور 25 رجب 183ھ کو بغدادِمُعَلّٰی میں وِصال فرمایا۔ آپ کا مزار دعاؤں کی قَبُولِیَّت کا مقام ہے۔(تہذيب التہذیب،ج10، ص302، میزان الاعتدال،ج4، ص202)(4)امامُ الطّائِفہ حضرت سیِّدُنا ابوالقاسِم جنید بغدادی شافِعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِیْ عالِمِ باعمل،صُوفیِ باصفا اور سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ کے شیخِ طریقت ہیں۔ تیسری صدی ہِجری کے شروع میں پیدا ہوئے اور 27رجب 297ھ میں وِصال فرمایا۔ مزار شریف بغداد شریف کے عَلاقے شُوْنِیْزِیّہ میں مَرْجَعِ خلائِق ہے۔(تاریخِ بغداد،ج8، ص168، مرآۃ الاسرار،ص 349) (5)حضرت سیِّدُنا سالار مسعود غازی عَلَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی، مُجاہدِ اسلام، ولیِّ کامل اور عارِف باللہ تھے۔ اَجمیر (راجِسْتھان) میں 405ھ میں پیدا ہوئے اور 10 رجب 424ھ میں جامِ شہادت نوش فرمایا، مزار مُبارَک غازی نگر بہرائچ (یوپی) ہِند میں مرکزِ فیض ہے۔(مرآۃ الاسرار، ص 439تا 451، دائرہ معارف اسلامیہ،ج 10، ص762) (6)حضرت سیِّدُنا سخی سرور سیِّد احمد سُلطان چشتی سُہروَرْدی قادِری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی عالِمِ باعمل اورمشہور صُوفی بزرگ ہیں، سَروَرکوٹ میں 524ھ میں پیدا ہوئے اور 22 رجب 577ھ میں وِصال فرمایا، آپ کا مزار بستی سخی سرور (ضلع ڈیرہ غازی خان، پنجاب پاکستان) میں زیارت گاہِ خاص و عام ہے۔(تذکرہ اولیائے پاکستان، ص131،دائرہ معارفِ اسلامیہ،ج10، ص762)

خاندان و اَحبابِ اعلیٰ حضرتعَلَیْہِمُ الرَّحْمَۃ

(7)سِراجُ العَارِفِین حضرت مولانا سیّد ابوالْحُسَین احمد نُوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی عالِمِ دین،شیخِ طریقت اورصاحِبِ تصانیف ہیں۔1255ھ میں پیدا ہوئے اور 11رجب 1324ھ میں وِصال فرمایا۔ مزارِ پُراَنوار مارہرہ مُطَہَّرہ (ضلع ایٹہ یو پی) ہِند میں  ہے۔ ”سِرَاجُ الْعَوَارِفِ فِیْ الْوَصَایَا وَالْمَعَارِفِ“ آپ کی اہم کتاب ہے۔(تذکرۂ نوری، ص 146،275،218)(8)شَبِیْہِ غوثِ اَعظم، مُجدِّدِ سلسلۂ اَشرفیہ حضرت مولانا سیِّد علی حُسین اَشرفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی عالِمِ دین، شیخِ طریقت، مَرْجَعِ عُلَما اور اَکابِرِینِ اَہلِ سنّت سے تھے۔ 1266ھ کَچھوچَھہ شریف میں پیدا ہوئے اور 11 رجب 1335ھ  میں وِصال فرمایا۔ مزارشریف کچھوچھہ شریف میں ہے۔(تذکرہ علمائے اَہْلِ سنّت، 188تا190) (9)صَدْر العُلَما مفتی محمد تحسین رضا خان رَضَوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی، عالِمِ باعمل، مفتیِ اسلام، اُستاذُالْعُلَما اور مُحدِّث تھے۔ 1348ھ میں پیدا ہوئے اور 18رجب 1428ھ میں وِصال فرمایا، مزار مُبارَک محلّہ کانکر ٹولہ، علامہ تحسین رضا روڈ، پرانا شہر بریلی شریف (یوپی) ہِند میں ہے۔(سالنامہ تجلیاتِ رضا، شمارہ6، ص46، 82)

خُلَفا وتَلامِذۂ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِمُ الرَّحْمَۃ

(10)شیخِ طریقت، حضرت صاحِبزادہ مولانا محمد عبدالحکیم خان شاہجہانپوری قادِری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی عالِمِ باعمل، صُوفی، مُصَنِّف اور یادگارِ اَسلاف تھے۔ مَوضَع کرلان نزد شاہجہانپور ضلع میرٹھ میں پیدا ہوئے اور یکم رجب 1388ھ کو الٰہ آباد (یو پی) ہِند میں وِصال فرمایا۔(تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص188تا194، تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص11) (11)اُستاذُالعُلَما مولانا اَحمد بخش صادِق تونْسَوِی رَضَوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیْ عالِمِ باعمل، شاعِر، صاحِبِ تصنیف، مُدرِّس و مُہْتَمِمْ مدرسہ محمودیہ تونسہ شریف اور بانیِ جامِع مسجد احمد بخش (بلاک12،  ڈیرہ غازی خان پنجاب) تھے۔1262ھ میں پیدا ہوئے اور 2 رجب 1364ھ میں وِصال فرمایا۔ مزار مذکورہ جامِع مسجد سے مُتّصِل ہے۔(تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص124) (12)تِلْمیذِ اعلیٰ حضرت، مفتی تَقدُّس علی خان رَضَوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی، عالِمِ باعمل، شیخُ الحدیث اور اُستاذُ العُلَما ہیں۔ 1325ھ میں بریلی شریف میں پیدا ہوئے اور 3 رجب 1408ھ میں پیرجو گوٹھ  ضلع خیرپور میرس بابُ الاِسلام سندھ میں وِصال فرمایا، مزار یہاں کے قبرستان میں ہے۔(مفتیِ اعظم اور ان کے خلفاء، ص 268، 273) (13)تِلْمیذِ اعلیٰ حضرت، شیخِ طریقت حضرت مولانا سیِّد علی اَصْغَر شاہ جماعتی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی، عالِمِ باعمل، شاعِر اور مُبَلِّغِ اسلام تھے۔ پیدائش 1321ھ میں ہوئی اور وِصال 3رجب 1411ھ میں ہوا، مزارِ پُراَنوار آستانہ عالیہ نقشبندیّہ لاثانیہ علی پور سیداں ضلع نارووال پنجاب (پاکستان) میں ہے۔(تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 126، تذکرہ مشائخِ قادریہ، ص 264) (14)سیِّدُ السادات حضرت مولانا پیر سیِّد فتح علی شاہ  نقوی قادِری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی، عالِمِ دین، واعِظ، شاعِر اور صاحِبِ تصنیف تھے، 1296ھ میں پیدا ہوئے اور 9رجب 1377ھ کو وِصال فرمایا، آپ کا مزار جامِع مسجد سیِّد فتح علی شاہ سے مُتَّصِل محلّہ کھراسیاں جیرامپور کھروٹہ سیداں ضلع ضیاکوٹ (سیالکوٹ، پنجاب پاکستان) میں ہے۔(تذکرہ اکابرینِ اَہْلِ سنّت، ص 367 ) (15)عالِمِ ربّانی حضرت مولانا ابوالفَخْر محمد نور قادِری رَضَوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی، عالِمِ باعمل، شاعِر، مُصَنِّف، اُردو اور عربی زبان کے ماہر تھے۔ 13رَجَبُ الْمُرَجَّب1307ھ میں پیدا ہوئے اور 1333ھ میں وِصال ہوا۔ آپ کا مزار پنجاب (پاکستان) کے شہر چکوال سے مُتّصِل مَوْضَع اوڈھروال کے قبرستان میں ہے، آپ نے 15 کُتُب تالیف فرمائیں۔ آپ کا یومِ عُرْس 13رجب ہے۔ (تذکرہ علمائے اَہْلِ سنّت ضلع چکوال، ص 45،47،118) (16)مُحدِّثِ اَعظم ہِند حضرت مولانا سیِّد محمد کچھوچھوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی، عالِمِ کامل، مُفسِّرِ قراٰن، واعِظِ  دِلنشین، صاحِبِ دِیوان شاعِر اور اَکابرینِ اَہلِ سنّت سے تھے۔1311ھ میں پیدا ہوئے اور 16رجب 1381ھ میں وِصال فرمایا۔ مزارمُبارَک کچھوچھہ شریف (ضلع امبیڈکر نگر، یوپی) ہِند ہے۔25 تصانیف میں سے ترجمۂ قراٰن ”مَعارِفُ القراٰن“ کو سب سے زیادہ شُہرت حاصل ہوئی۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،ص 219تا224)(17)امامُ الْمُحدِّثین حضرت مولانا سیِّد محمد دِیدار علی  شاہ مَشْہدی نقشبندی قادِری مُحدِّث اَلْوَری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیْ، جَیِّد عالِم، اُستاذُالعُلَما، مفتیِ اسلام تھے۔ آپ اَکابِرِینِ اَہلِ سنّت سے تھے۔ 1273ھ کو اَلْوَر (راجِسْتھان) ہِند میں پیدا ہوئے اور مَرکزُالاولیا لاہور میں 22رجب 1345ھ میں  وِصال فرمایا۔ دارُالعُلُوم حِزْبُ الْاَحْناف اور فتاویٰ دِیداریہ آپ کی یادگار ہیں۔ آپ کا مزار مُبارَک اَندرونِ دہلی  گیٹ محمدی محلّہ مَرکزُالاولیا لاہور میں ہے۔(فتاویٰ دیداریہ، ص2)(18)تاجُ الْفُیُوض حضرت مولانا احمد حسین امروہی نقشبندی قادِری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیْ، عالِمِ باعمل، شیخِ طریقت، شاعِر، کئی کُتُب کے مُصَنِّف اور مُتَرْجِم تھے۔ 1289ھ میں پیدا ہوئے اور 27رجب 1361ھ میں وِصال فرمایا۔ تدفین والِدِ گِرامی کے پہلو اَمروہہ ضلع مُرادآباد (یوپی) ہند میں ہوئی۔(تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت،ص126،تذکرہ مشائخِ قادریہ، ص264)

Share

Articles