اَحمد رضا کا تازہ گلستاں ہے آج بھی / دنیا میں سب سے اچھی چیز/حساب آخرت میں آسانی/اعمال کا آئینہ / علم و حکمت کے مدنی پھول

اَحمد رضا کا تازہ گلستاں ہے آج بھی

ماہنامہ رجب المرجب 1438

اعلی حضرت ، مجدد دین و ملت مولانا شاہ امام احمد رضا خان  عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن  نے  اپنی تحریر و تقریر سے برعظیم(پاک و ہند) کے مسلمانوں کے عقیدہ و عمل کی اصلاح فرمائی ، آپ کے ملفوظات جس طرح ایک صدی پہلے راہنما تھے ، آج بھی مشعل راہ ہیں ، دورحاضر میں ان پر عمل کی ضرورت  مزید بڑھ چکی ہے۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان  عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن  فرماتے ہیں :

(1)نمازِ پَنْجگَانہ اللہ  عَزَّوَجَلَّ  کی وہ نعمتِ عُظمٰی ہے کہ اس نے اپنے کرمِ عظیم سے خاص ہم کو عطا فرمائی ہم سے پہلے کسی اُمّت کو نہ ملی۔   (فتاویٰ رضویہ ، 5 / 43)

(2)حرام وہ ہے جسے خُدا اور رسول( عَزَّ  وَجَلَّ   و   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ ) نے حرام فرمایا اور واجب وہ ہے جسے خدا اور رسول ( عَزَّ  وَجَلَّ   و   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ ) نے واجب کہا ، حکم دیا ، لیکن وہ چیزیں جن کا خدا اور رسول ( عَزَّ  وَجَلَّ   و   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ ) نے حکم دیا نہ منع کیا ، وہ سب جائز ہیں انہیں حرام کہنے والا خدا اور رسول پر اِفْتِراء کرتا (یعنی بُہتان باندھتا) ہے۔                      (فتاویٰ رضویہ ، 9 / 135)

(3)اَہلِ سنّت کے عقیدہ میں تمام صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  کی تعظیم فرض ہے اور ان میں سے کسی پر طَعن حرام (ہے)۔                            (فتاویٰ رضویہ ، 29 / 227ملخصاً)

(4)مَحبوبانِ  خُدا کی یادگاری کے لئے دن مُقَرَّر کرنا بیشک جائز ہے۔   (فتاویٰ رضویہ ، 29 / 202)

(5)حضور سیدِ عالم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم  کو نِدا کرنے (یعنی لفظِ یَا وغیرہ کے ساتھ پُکارنے) کے عُمدہ دلائل سے “ اَلتَّحِیَّات “ ہے جسے ہر نمازی ہر نماز کی دو رکعت پر پڑھتا ہے اور اپنے نبیِّ کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم سے عرض کرتا ہے “ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اﷲِ وَبَرَکَاتُہٗ “ سلام حضور پر اے نبی اور اﷲ کی رَحمت اور اس کی برکتیں۔ اگر نِدا (یعنی لفظِ یَا وغیرہ کے ساتھ پُکارنا) مَعَاذَ اﷲ شرک ہے  تو یہ عجب شرک ہے کہ عین نماز میں شریک و داخل ہے۔    (فتاویٰ رضویہ ، 29 / 566)

(6)مسلمان مَيّت کو جو ثواب پہنچايا جائے اُسے پہنچتا ہے اور اس (یعنی ثواب پہنچانے) سے زيادہ خوش ہوتا ہے جيسے حيات ميں تحفہ بھيجنے سے (اور) اسے (یعنی ميّت کو) معلوم ہوتا ہے کہ ميرے فلاں عزيز يا دوست يا مسلمان نے بھيجا ہے۔    (فتاویٰ رضویہ ، 9 / 600)

(7)عورت پر مرد کا حق خاص اُمور مُتعلِّقہ زَوْجِیَت (یعنی میاں بیوی کے ساتھ تعلق رکھنے والے معاملات) میں اﷲ و رسول ( عَزَّوَجَلَّ   و   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ )کے بعد تمام حُقُوق حتی کہ ماں باپ کے حق سے زائد ہے ان اُمور میں اس کے احکام کی اِطاعت اور اس کے نَامُوس (یعنی عزت) کی نِگہداشت (یعنی حفاظت) عورت پر فرضِ اَہم ہے۔    (فتاویٰ رضویہ ، 24 / 380)

(8)(باپ بچوں کو)حضور پُرنور  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم  کے آل واَصحاب واَولیاء وعُلماء کی مَحبّت وعَظَمت تعلیم کرے(یعنی سکھائے) کہ اصلِ سنّت وزیورِ ایمان بلکہ باعثِ بَقائے ایمان (یعنی ایمان باقی رہنے کا سبب) ہے۔   (فتاویٰ رضویہ ، 24 / 454)

کس طرح اتنے علم کے دریا بہا دئیے

علمائے حق کی عقل تو حیراں ہے آج بھی

(مناقب رضا ، ص66)

 

Share

اَحمد رضا کا تازہ گلستاں ہے آج بھی / دنیا میں سب سے اچھی چیز/حساب آخرت میں آسانی/اعمال کا آئینہ / علم و حکمت کے مدنی پھول

(1)ارشادِ مولامشکل کُشا علیُّ المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْم: دنیا میں تمہارے لئے سب سے اچھی چیز وہ ہے جس کے ذریعے تم اپنی آخرت سنوارو۔(احیاء العلوم،ج5، ص135)

(2)ارشادِ سَیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تعالٰی عَنْہُ: زبان سے بڑھ کر کوئی شےایسی نہیں جو طویل قید کی حق دار ہو۔(معجم کبیر،ج9، ص149، حدیث: 8747)

 (3)ارشادِ سَیِّدُنا ابودَرداء رَضِیَ اللہ تعالٰی عَنْہُ:مومن کے جسم میں کوئی عضو ایسا نہیں جو اللہ تعالٰی کو زبان سے زیادہ محبوب ہو اور مومن اسی کے سبب جنّت میں داخل ہوگا اور کافر کے جسم میں کوئی عضو ایسا نہیں جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کو زبان سے زیادہ ناپسند ہو اور کافر اسی کے سبب جہنّم میں جائے گا۔(حلیۃ الاولیاء،ج1، ص280)

(4) ارشادِ سَیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی:مومن اپنے نفس پر حاکم ہے، وہ رضائے الٰہی کی خاطر اس کا مُحاسَبہ کرتا رہتا ہے اور دنیا میں نفس کا مُحاسَبہ کرنے والوں کا حساب آخرت میں آسان ہوگا جبکہ مُحاسَبہ نہ کرنے والوں کا حساب بروزِ قیامت سخت ہوگا۔(احیاء العلوم،ج 5، ص138)

 (5)ارشادِ سَیِّدُنا ابو عبدالرحمٰن حُبُلٰی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعُلٰی: اپنے بھائی کو حکمت کی بات بیان کرنے سے بہتر کوئی تحفہ نہیں۔(سنن دارمی،ج1، ص112، رقم:351 )

(6)ارشادِ سَیِّدُنا محمد بن علی باقر رَحْمَۃُ اللہ تعالٰی عَلَیْہ: ایک عالِم کی موت شیطان لعین کو 70 عابدوں کی موت سے زیادہ پسند ہے۔(حلیۃ الاولیاء،ج3، ص214)

(7)ارشادِ سَیِّدُنا فُضَیْل بن عِیَاض رَحْمَۃُ اللہ تعالٰی عَلَیْہ: غورو فکر ایک ایسا آئینہ ہے جو تجھے تیری نیکیاں اور بُرائیاں دِکھاتا  ہے۔(احیاء العلوم،ج5، ص162)

(8)ارشادِ سَیِّدُنا بِشر حافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافی:اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فرمانبردار کے لئے قبر بہت اچھا ٹِھکانا ہے۔(موسوعہ ابن ابی الدنیا،کتاب القبور،ج6، ص87 ،حدیث:142)

(9)ارشادِ سَیِّدُناذُوالنُّون مِصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی: (آپ سے  پوچھا گیا: لوگوں میں سب سے زیادہ غم زدہ شخص کون ہے؟ فرمایا:) جو سب سے زیادہ بَد اَخلاق ہے۔(رسالہ قشیریہ، ص276)

(10)ارشادِ سَیِّدُنا یحییٰ بن مُعاذ رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی: شیطان فارغ ہے اور تو مشغول ہے، وہ تجھے دیکھتا ہے مگر تو اسے نہیں دیکھتا، تو نے اسے نظر انداز کیا ہوا ہے مگر اس نے تجھے نظر انداز نہیں کیااور تیرے اندر بھی شیطان کے کئی یار و مددگار ہیں۔ اس لئے اُس سے جنگ اور اس کو مَغْلُوب کرنا(شکست دینا)  بہت ضروری ہے ورنہ تو اس کی شرارتوں اور ہلاکتوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ (منہاج العابدين، ص46)

(11) ارشادِ سَیِّدُنا بايزيد بَسْطامی قُدِّ سّ سِرُّ ہُ السَّامِی: میں نے اپنے دل، زبان اور نفس کی اِصلاح کے لئے دس دس سال صَرف کئے،ان میں مجھے سب سے زيادہ مشکل دِل کی اِصلاح معلوم ہوئی۔ (منہاج العابدين، ص98)

(12)ارشادِ سَیِّدُنا احمد بن حَرْب رَحْمَۃُ اللہ تعالٰی عَلَیْہ: مجھے اس شخص پر تَعَجُّب ہے جسے معلوم ہے کہ اُس کے آگے سجی ہوئی جنت اور پیچھے بھڑکی ہوئی جہنم ہے پھر بھی اُسے نیند آجائے۔(احیاء العلوم،ج5، ص146)

Share

اَحمد رضا کا تازہ گلستاں ہے آج بھی / دنیا میں سب سے اچھی چیز/حساب آخرت میں آسانی/اعمال کا آئینہ / علم و حکمت کے مدنی پھول

علم و حکمت کے مدنی پھول

ماہنامہ رجب المرجب 1438

شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں :

(1)عُلَما کی خِدْمت ہمارے لئے سعادت ہے۔        (مَدَنی مذاکرہ ، 6 ذوالحجۃ الحرام 1435)

(2)درازیٔ عُمر کے ساتھ عافیت کی دُعا مانگیں (یعنی یوں عرض کریں : یاالٰہی! مجھے عافیت والی لمبی عمر عطا فرما) وَرنہ بارہا بُڑھاپا بستر پر ڈال دیتا ہے اور بندہ کسی کام کانہیں رہتا۔      (مَدَنی مذاکرہ ، 20 شوال المکرم 1435)

(3)مُنْجِیَات و مُہْلِکات (منجیات یعنی نجات دِلانے والے اعمال ، مہلکات یعنی ہلاکت میں ڈالنے والے اعمال) کا عِلم سیکھیں گے تو شیطان کا بھرپور مُقابَلہ ہو سکے گا۔       (مَدَنی مذاکرہ ، 6 شوال المکرم 1435)

(4) خاموش رہنے والے کا رُعب (و دَبدبہ) ہوتا ہے۔            (مَدَنی مذاکرہ ، 27 شوال المکرم 1435)

(5)خوفِ خدا رکھنے والا مسلمان تو گناہ کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا!

(6)سرمایۂ عشق پانے کیلئے عشقِ  اِلٰہی اور عشقِ رسول پر مبنی حکایات و مضامین پڑھنے چاہئیں۔

(مَدَنی مذاکرہ ، 4 ذوالقعدۃ الحرام 1435)

(7)زبان کی حفاظت کے ساتھ ساتھ آنکھوں کی بھی حفاظت کی حاجت ہے۔ جہاں تک ممکن ہو آنکھیں نیچی رکھنے کی کوشش کیا کریں تا کہ بدنگاہی سے بچ سکیں۔     (مَدَنی مذاکرہ ، 9 شوال المکرم 1435)

(8)جس مُرید میں دِینی خوبیاں جتنی زیادہ ہوں گی ، پیر اپنے اُس مُرید سے زیادہ محبت کرے گا۔

(مَدَنی مذاکرہ ، 18 ذوالقعدۃ الحرام 1435)

(9)دعوتِ اسلامی ایمان کے تحفظ اور اعما ل کے اصلاح کی تحریک ہے۔ (مَدَنی مذاکرہ ، 10 شوال المکرم 1435)

(10)دل کا سکون چاہتے ہیں تو صدقہ و خیرات کیجئے۔               (مَدَنی مذاکرہ ، 30 ذوالقعدۃ الحرام 1435)

(11)(ایک)مسلمان دوسرے مسلمان کا مُحافِظ اور غمخوار ہوتا ہے ، آپس میں لڑنا جھگڑنا یہ مسلمان کا شیوَہ نہیں۔       (ظلم کا انجام ، ص 25 ، ملخصاً)

(12)رضائے الٰہی کے لئے کم کھانا چاہئے ، البتہ اتنا کم نہ کھائیں کہ عبادت میں مشکل (پیدا)ہوجائے۔

(مَدَنی مذاکرہ ، یکم ذوالحجۃ الحرام 1435)

(13)عقلمند بولتا ہے تو لوگوں کے دل میں اُتر جاتا ہے جبکہ بے وُقُوف بولتا ہے تو لوگوں کے دلوں سے اُتر جاتا ہے۔                (یکم محرم الحرام 1437 کی تحریر سے لیا گیا)

(14)وہ لوگ بڑے خو ش نصیب ہیں جو اِینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے بجائے ظلم کرنے والوں کو مُعاف کر دیتے اور بُرائی کو بھلائی سے ٹالتے ہیں۔ (جنتی محل کا سودا ، ص 35)

(15)(کسی نے کتنی پیاری بات کہی ہے کہ)طوطا مرچی کھا کر بھی میٹھے بول سُناتا ہے مگر نادان انسان میٹھی چیزیں کھا کر بھی کڑوی بات کرتا ہے۔ (یکم محرم الحرام 1437 کی تحریر سے لیا گیا)

Share

Articles

Comments


Security Code