حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

صحابیِّ رسول، کاتبِ وحی، خالُ المؤمنین و خلیفۃُ المسلمین حضرتِ سَیِّدُنا امیر ِمُعاوِیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ (جو کہ اوّل ملوکِ اسلام(پہلے سلطانِ اسلام) بھی ہیں)بعثتِ نبوی سے پانچ سال قبل پیدا ہوئے۔ (دلائل النبوۃللبیھقی،ج6، ص243، ملتقطاً۔ تاریخ ابن عساکر،ج3، ص208۔ الاصابۃ،ج6، ص120، بہارشریعت،ج1، ص258)آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ صحابی رسول حضرت ابوسفیان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بیٹے اور اُمّ المومنین حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ حبیبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے بھائی ہیں۔آپ کی شان میں کئی احادیث مروی ہیں۔ حضور نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ کے بارے میں یوں دعا فرمائی:اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! انہیں(امیر معاویہ کو) ہدایت دینے والا،ہدایت یافتہ بنا اور اِن کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دے۔(ترمذی،ج5، ص455، حدیث: 3868) آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ چالیس سال تک حکومتی مَنْصَب پر جلوہ اَفروز رہے۔(فیضان امیر معاویہ، ص 103)جن میں 10سال امیر المومنین حضرتِ سَیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ جیسے عادل و نَقَّاد خلیفہ کا سنہری دور بھی شامل ہے۔ حضرتِ سَیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرمایا کرتے: تم قیصر و کِسریٰ اور ان کی عقل و دانائی کا تذکرہ کرتے ہو جبکہ معاویہ بن ابوسفیان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ موجود ہیں۔(تاریخ طبری،ج3، ص264) حضرت سَیِّدُناامیرمعاویہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے زمانَۂ خلافت میں اِسلامی سلطنت  خُراسان سے مغرب میں واقع افریقی شہروں اور قُبْرُص سے یَمَن تک پھیل چکی تھی۔ (فیضان امیر معاویہ، ص 110)

آپ کے چند انقلابی کارنامے پیش کئے جاتے  ہیں: ٭اسلامی شہروں سازشوں کے ذریعے فتنہ پھیلانے والے  خَوارِج کی سرکوبی فرمائی، یہاں تک کہ  فتنہ مکمل طور پر ختم ہوگیا۔(فیضان امیر معاویہ، ص 128) ٭آپ کے حکم سے تاریخ کی پہلی کتاب کتابُ المُلُوك وَ اَخبَارُ الْمَاضِین لکھی گئی۔(التراتیب الاداریہ،ج2،ص322) ٭28ہجری میں اسلام کی سب سے پہلی بحری فوج کی قیادت فرمائی اور قُبْرُص کو فتح کیا۔(شرح ابن بطال ،ج5، ص11، تحت الحدیث: 2924) ٭بحری جہاز بنانے کے لئے 49ہجری  میں کارخانے قائم فرمائے اور ساحل پر ہی تمام کاریگروں کی رہائش وغیر ہ کا انتظام کردیا تاکہ  بحری جہاز بنانے کے اہم  کام میں  خَلل واقع  نہ ہو۔(فتوح البلدان،ص161) ٭مکتوبات پر مہر لگانے کا طریقہ  رائج فرمایا جس کا سبب یہ بنا کہ آپ نے ایک شخص  کیلئے بَیْتُ المال سے ایک لاکھ درہم  دینے کا حکم تحریر فرمایا لیکن اس نے تَصَرُّف کرکے اسے ایک کے بجائے دو لاکھ کردیا،آپ کو جب اس خیانت کا عِلْم ہوا تو  اُس کا مُحاسَبَہ فرمایا اور اس کے بعد  خُطوط پر مہر لگانے کا نِظام نافِذ فرما دیا۔(تاریخ الخلفا، ص160) ٭سرکاری خُطوط کی نقل محفوظ رکھنے کا نظام بنایا۔(تاریخ یعقوبی،ج2، ص145) ٭سب سے پہلے کعبہ شریف میں منبر کی ترکیب بنائی۔ (تاریخ یعقوبی،ج2، ص131) اور سب سے پہلے خانہ کعبہ پر دِیبا  و حَرِیر (یعنی ریشم) کا قیمتی غلاف چڑھایا اور خدمت کے لیے مُتَعَدِّد غلام مُقَرَّر کیے۔(تاریخ یعقوبی، ج2، ص150) ٭ عوام کی خیرخواہی کیلئے شام اور روم کے درمیان میں واقع ایک  مَرْعَش نامی غیر آباد علاقے میں فوجی چھاؤنی قائم فرمائی۔(فتوح البلدان، ص265) ٭اَنْطَرطُوس، مَرَقِیَّہ جیسے غیر آباد علاقے بھی دوبارہ آباد فرمائے۔(فتوح البلدان، ص182) ٭نئے آباد ہونے والے علاقوں میں جن جن چیزوں کی ضرورت تھی،اُن کا انتظام فرمایا مثلاً لوگوں کو پانی فراہم کرنے کے لئے نہری نظام قائم فرمایا۔(فتوح البلدان، ص499) ٭رعایاکی ضرورتوں کو پوراکرنے کے لئے محکمہ بنایا جس کے تحت ہر علاقے میں ایک ایک افسرمقررتھاتاکہ وہ لوگوں کی معمولی ضرورتیں خودپوری کرے اوربڑی ضرورتوں سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو آگاہ کرے نیزان کوکسی بھی گھر میں آنے والے مہمان یا بچے کی ولادت کے بارے میں معلومات رکھنے کا حکم دیا تاکہ ان کے وظائف کی ترکیب بنا سکیں۔(البدایہ و النہایہ،ج8،ص134،مراٰۃ المناجیح،ج5،ص374 )

Share