حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز کی 425 حکایات(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

صَدیاں گزر جانے کے بعد بھی یادرہنے والی، لائقِ اِتِّباع اور قابلِ رَشک اِسلامی  شخصیّات میں سے ایک ہَسْتی خلیفۂ راشد حضرت سیِّدُناابوحَفْص عُمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کی بھی ہے۔اِس میں کوئی دو رائے نہیں کہ آپ اِسلام کا فَخْر،عَدْل واِنصاف کی علامت اورتاجِ خِلافت کا ایساچمکدار و ضِیابار(روشن کرنے والا) نگینہ ہیں جس کی روشنی سے پوری اسلامی دنیامنوّروروشن  ہوئی ۔

بلاشبہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفَضْل وعظمت کے نشان، عَدْل و اِنصاف کے پَیکر،پاک دامَن، عبادت گزار،متّقی و پرہیزگار، خوف ووَرَع(پرہیزگاری) والے، دنیا سے بیزار، آخرت کے طلب گار،خواہشات کے تارِک،عُمدہ کِردار کے مالِک،رات رات بھر رونے والے،خُشوع وخُضوع سے بھرپور،رَعایا کے لئے اَمْن واَمان کاسائبان ، اَندازِ گفتگو عالمِانہ،اندازِتَفہیم حکیمانہ، ذِمّہ داری نِبھانے والے اور بَکثرت آخِرت کی یاد دِلانے والے اَلْغَرَض  محبوب وپسندیدہ کثیر خوبیوں سے مالا مال  تھے۔25 رَجَبُ الْمُرَجَّب101ہجری میں آپ کا وِصال ہوا۔

جن خوبیوں  اور کمالات کا آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی عظیم شخصیّت کے لئے دَعویٰ کیا گیا ہےوہ محض دعویٰ نہیں  بلکہ ایک تسلیم شُدہ حقیقت ہیں اور اِس کی دلیل دیکھنا ہو تو دعوتِ اِسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہکی مَطْبُوعہ 590صَفْحات پر مُشتمِل  کتاب”حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز کی 425 حکایات ‘‘  کا مُطالَعَہ فرمالیجئے۔

اس کتاب میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی زندگی کو دو بڑے حصّوں میں تقسیم کیا گیاہے:(۱)خِلافت سے پہلے کی زندگی (۲) خِلافت کے بعد والی زندگی۔اور ان دونوں حصّوں سے تعلّق رکھنے والی حِکایات کو ترتیب وار پیش کیا گیا ہے، کتاب میں شامل زیادہ ترحِکایات کا اَصْل مَاخَذحضرت  علّامہ عبدالرحمٰن بن جَوزِی اور حضرت علّامہ عبداللہ بن عبدُالْحَکَمْرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کی  دو کتابیں ہیں  اور دونوں کا نام ”سیرتِ عمربن عبدالعزیز“ہے، ان کےعلاوہ تاریخِ مدینہ دِمَشْق، حِلْیَۃُالاَولیاء،طَبَقاتِ اِبنِ سَعْد، تاریخِ طَبَری اور اِحْیاء ُالعُلُوم سے بھی مدد لی گئی ہے۔

سَلَف صالِحِین کی سیرتوں کا مُطالَعہ محض ذَوق اَفْزائی کے لئے نہیں بلکہ اپنی اِصلاح بھی مقصود ہونی چاہئے لہٰذاکتاب میں حِکایات سے حاصل ہونے والے مَدَنی پھول اور اِصلاحی دَرْس بھی لکھا گیاہے۔آئیے اِس کتاب کوخرید کر خودبھی پڑھیں اور اِسے عام بھی کریں ۔حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حَنْبَل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:جب تم حضرت عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز سے مَحبّت کرنے والے کسی شخص کو دیکھو کہ وہ آپ کی خوبیان بَیان کرتا اور انہیں عام کرتا ہے تو یقین رکھو کہ اِس کا نتیجہ خیر ہی خیرہے۔اِنْ شَآءَ اللہُ تَعَالٰی(سیرتِ اِبنِ جَوزِی،ص74)

Share

Articles

Comments


Security Code