نہ مجھ کو خدا مال و زر چاہئے/ہیں صف آرا سب حور و ملک/خواجۂ ہند وہ دربار

حمد/ مناجات

نہ مجھ کو خدامال و زر چاہیے

نہ مجھ کو خدامال و زر چاہیے

نہ یاقُوت و لعل و گوہر چاہیے

زمانہ کی خوبی زمانے کو دے

مجھے صرف دردِ جگر چاہیے

رہے جس میں عشقِ حبیبِ خدا

وہ دل وہ جگر اور وہ سر چاہیے

کوئی راج چاہے کوئی تخت و تاج

مجھے تیرے پیارے کا دَر چاہیے

بنے جس میں تقدیر بگڑی ہوئی

الٰہی مجھے وہ ہنر چاہیے

ہیں دنیا میں لاکھوں بشر پر وہاں

خبر کے لئے بے خبر چاہیے

خزانےسےرب کے جو چاہو سو لو

نبی کی غلامی مگر چاہیے

دعائیں تو ساؔلک بہت ہیں مگر

اثر کے لئے چشمِ تر چاہیے

دیوانِ سالک از مفتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ ص،40

Share

نہ مجھ کو خدا مال و زر چاہئے/ہیں صف آرا سب حور و ملک/خواجۂ ہند وہ دربار

نعت/ اِستِغَاثَہ

ہیں صَف آرا سب حُور وملک اور غِلماں خُلد سجاتے ہیں

ہیں صَف آرا سب حُور و ملک اور غِلماں خُلد سجاتے ہیں

اِک دھوم ہے عرشِ اعظم پرمِہمان خُدا کے آتے ہیں

ہے آج فلک روشن روشن، ہیں تارے بھی جگمگ جگمگ

محبوب خُدا کے آتے ہیں محبوب خُدا کے آتے ہیں

جِبریل امین بُراق لئے جنّت سے زمیں پر آپہنچے

بارات فِرِشتوں کی آئی مِعراج کو دولہا جاتے ہیں

دیوانو! تصوُّر میں دیکھو! اَسرٰی کے دولہا کا جلوہ

جُھرمُٹ میں ملائک لےکرانہیں مِعراج کا دولہا بناتے ہیں

اقصٰی میں سُواری جب پہنچی جِبریل نے بڑھ کے کہی تکبیر

نبیوں کی امامت اب بڑھ کرسلطانِ جہاں فرماتے ہیں

وہ کیسا حسیں منظر ہوگا جب دولہا بنا سروَر ہوگا

عُشّاق تصوُّرکر کر کے بس روتے ہی رہ جاتے ہیں

یہ شاہ نے پائی سعادت ہے خالِق نے عطاکی زیارت ہے

جب ایک تجلّی پڑتی ہے موسیٰ تو غش کھاجاتے ہیں

مِعراج کی شب تو یاد رکھا پھر حشر میں کیسے بھولیں گے

عطارؔ اِسی اُمّید پہ ہم دن اپنے گزارے جاتے ہیں

وسائلِ بخشش،از امیر اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  ،ص286

 

Share

نہ مجھ کو خدا مال و زر چاہئے/ہیں صف آرا سب حور و ملک/خواجۂ ہند وہ دربار

مَنْقَبَت

خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا

خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا

کبھی محروم نہیں مانگنے والا تیرا

خفتگانِ شبِ غفلت کو جگا دیتا ہے

سالہا سال وہ راتوں کا نہ سونا تیرا

ہے تری ذات عجب بحرِ حقیقت پیارے

کسی تیراک نے پایا نہ کنارا تیرا

تیرے ذرّہ پہ معاصی کی گھٹا چھائی ہے

اس طرف بھی کبھی اے مہر ہو جلوہ تیرا!

پھر مجھے اپنا درِ پاک دکھادے پیارے

آنکھیں پُرنور ہوں پھر دیکھ کے جلوہ تیرا

تجھ کو بغداد سے حاصل ہوئی وہ شانِ رفیع

دنگ رہ جاتے ہیں سب دیکھ کے رتبہ تیرا

جب سے تُونے قدمِ غوث لیا ہے سر پر

اولیاء سر پہ قدم لیتے ہیں شاہا تیرا

محی دیں غوث ہیں اور خواجہ معین الدین ہے

اے حسؔن کیوں نہ ہو محفوظ عقیدہ تیرا

ذوقِ نعت، ازبرادرِ اعلیٰ حضرت مولانا حسن رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن،ص12

 

Share

Articles

Comments


Security Code