بچوں کو ڈرانا کیسا؟/خانہ کعبہ پر پہلی نظر اور دعا/سلام میں اپنی مرضی کے الفاظ کا اضافہ

شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیِ  دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ مدنی مذاکروں میں عقائد، عبادات، اور معاملات کے متعلق کئے جانے والے سوالات کے جوابات عطا فرماتے ہیں، ان میں سے چند سوالات وجوابات ضروری ترمیم کے ساتھ یہاں درج کئے جا رہے ہیں۔

بچّوں کا اىک دوسرے کو ڈرانا کىسا؟

سوال:بچّے اىک دوسرے کو ڈراتے ہىں بِالخُصُوص جب لائٹ چلى جاتى ہے تَو کىا بچّوں کو اىسا کرنا چاہئے؟

جواب:بچّوں کو آپَس میں اىک دوسرے کو نہیں ڈرانا چاہئے کہ بعض اوقات ڈرانے کی وجہ سے کوئی بچّہ بىمار بھى ہو سکتا ہے اور کسی کوڈرانا (یعنی خوف زَدہ کرنا) شرعاً جائز بھی نہىں ہے چاہے بچّے اىک دوسرے کو خوف زدہ کرىں ىا بڑے۔ بچّوں کو ابھى سے ہی یہ ذہن دیا جائے کہ وہ اىک دوسرے کو خوف زَدہ نہ کرىں کیونکہ ىہ حُقُوقُ الْعِباد(بندوں کے حُقُوق) کا مُعامَلہ ہے اس پر ان کی بھی پکڑ ہے لہٰذا انہیں بھی ایک دوسرے کو خوف زَدہ کرنے سے بچنا چاہئے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبْ!                 صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

خانۂ کعبہ پر پہلى نظر

سوال:خانۂ کعبہ پر پہلی نظر پڑتے ہى جو دُعا مانگی جائے وہ قبول ہوتی ہے تو مىں خانۂ کعبہ کی زِیارت کرتے وقْت اىسى کون سى دُعا مانگوں کہ جس کی وجہ سے مىرى ساری دُعائىں قبول ہوں؟

جواب:خانۂ کعبہ پر جب پہلی نظر پڑے تو یہ دُعا مانگى جا سکتى ہے کہ ”یَا اللہ مىں جب بھى کوئی جائزدُعا مانگوں، قبول ہو۔“یہ دُعا کی قبولىّت کا مقام ہے تو اس مقام پر پىارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے دُعا مانگىں اور دُرُودِ پاک پڑھیں۔ اِنْ شَآءَ اللہعَزَّوَجَلَّ پىارےآقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صدْقے مىں ساری دُعائیں قبول ہوتى رہىں گى۔

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبْ!                 صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

رات کے وقْت ناخن کاٹنا کىسا؟

سوال:کىا رات کے وقت ناخن کاٹ سکتے ہىں؟

جواب:امامِ اَعْظَم ابوحَنِیْفَہرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بہت ہى چہىتے شاگرد امام ابو ىُوسُف رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جو اپنے وقْت کے بہت بڑے امام تھے۔ان سےعبّاسی خلیفہ ہارون رَشید نے رات مىں ناخن تراشنے (یعنی کاٹنے)کے بارے میں دَرْیافْت کیا تو آپ نے فرماىا: جائز ہے۔ ہارون رشید نے کہا: اس پر کیا دلیل ہے؟تو آپ نے فرمایا:حدیثِ پاک میں ہے:”اَلْخَيْرُ لَا يُؤَخَّرُیعنی بھلائى کے کام مىں تاخىر نہ کى جائے۔(فتاویٰ ھندیہ،ج5، ص358)

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبْ!                 صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

سلام مىں اپنى مَرضى کے اَلفاظ بڑھانا کىسا؟

سوال:بعض لوگ سلام یا جوابِ سلام مىں جَنَّتُ الْمَقَام وَدَوْزَخُ الْحَرَام کے الفاظ بڑھا دیتے ہیں،ان کا ایسا کرنا کیسا ہے؟

جواب:سلام یا جوابِِسلام مىں اس طرح کے اَلفاظ کا بڑھا دىنا غلط ہے۔عموماً مَذاق میں اس طرح کے اَلفاظ بولے جاتے ہیں بلکہ بعض منچلےتو مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ یہ بھی کہہ دیتے ہیں:”وَعَلَیْکُمُ السَّلَام وَجَنَّتُ الْمَقَام وَدَوْزَخُ الْحَرَام آپ کے بچے ہمارے غلام“ بہرحال اپنی طرف سے سلام وجوابِ سلام میں کچھ نہیں بڑھا سکتے۔ جیسا کہ اعلىٰ حضرت، امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں: کم اَز کم اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم اور اس سے بہتر وَرَحْمَةُ اللہ ملانا اور سب سے بہتر وَبَرَکَاتُہٗ شامل کرنا اور اس پر زِیادت نہیں۔ پھر سلام کرنے والے نے جتنے اَلفاظ میں سلام کیا ہے جواب میں اتنے کا اِعادہ تو ضرور ہے اور افضل یہ ہے کہ جواب میں زِیادہ کہے۔ اس نے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم کہا  تو یہ  وَعَلَیْکُمُ السَّلَام وَرَحْمَةُ اللہ کہےاور اگر اس نےاَلسَّلَامُ عَلَیْکُم وَرَحْمَةُ اللہ کہا تویہوَعَلَیْکُمُ السَّلَام وَرَحْمَةُ اللہ وَبَرَکَاتُہٗ کہے اور اگر اس نے وَبَرَکَاتُہٗ تک کہا تو یہ بھی اتنا ہی کہے کہ اس سے زِیادت نہیں۔(فتاویٰ رضویہ،ج 22، ص 409)

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبْ!                 صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

شراب پىنے کے انداز مىں پانى پىنا کىسا؟

سوال:کیا شراب پىنے کے انداز مىں پانی پی سکتے ہیں؟

جواب:اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفتاویٰ رَضَوِیّہ شریف جلد 6 صَفْحہ 594 پر فرماتے ہیں:”شراب کے دَور کى طرح پانى پىنا حرام ہے۔“جب شراب پینے والوں کی نَقَّالی کرنا حرام ہے تو شراب پینے کا کس قدْر وَبال ہوگا!

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبْ!                 صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

خاندان مىں شادى

سوال:اپنے خاندان مىں کوئى مَرَض وغیرہ ہو تو ڈاکٹرز خاندان میں شادی کرنے سے منع کرتے ہیں، کیا یہ شرعاً ناجائز ہے؟

جواب:خاندان مىں کوئى مَرَض وغیرہ ہو تو ڈاکٹرز اگرچہ خاندان میں شادی کرنے سے منع کرتے ہوں مگر شرعاً خاندان میں شادی کرنا جائز ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبْ!                 صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

دینی مَحافِل میں دل نہ لگنے کی وجہ

سوال:ہماراتعلّق شوبِز(Showbiz)سے ہے،ہم تھیٹر (Theater)یا شوبِز کے کسی شو میں تین تین  چار چار گھنٹے مسلسل  بیٹھے رہتے ہیں ہمیں کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا لیکن جب ہم محفلِ میلاد یا کسی دینی پروگرام میں شرکت کرتے ہیں تو آدھا پونا گھنٹہ بیٹھنے کے بعد ہماری عجیب سی کیفیّت ہونے لگتی ہے اور ہم اُٹھ کر چلے جاتے ہیں، ایسا کیوں ہوتا ہے؟

جواب:مرىض کا منہ جب کڑوا ہو جاتا ہے تو اسے کوئی بھی کھانے پینے کی چیز اچھّی نہیں لگتی، وہ ہر چیز میں کڑواہٹ ہی محسوس کرتا ہے۔ پھر جب اس کے مَرَض کا علاج ہو جاتا ہے تو اسے سب چیزیں اچھی محسوس ہونے لگتی ہیں اوروہ پہلے کی طرح کسی چیز میں کڑواہٹ محسوس نہیں کرتا۔ یہی حال نیکیوں سے دُور اور  گناہوں میں چُور(یعنی بدمست) رہنے والوں کا بھی ہے۔ عُمُوماً جو لوگ دینی مَحافِل وغیرہ سے دُور رہتے ہیں تو ان کا دل چونکہ ایسی مَحافِل میں بیٹھنے کا عادی نہیں ہوتا اس لئے انہیں بوریت محسوس ہونے لگتی ہے اور وہ اُٹھ کر چلے جاتے ہیں جبکہ  دینی مَحَافل میں شرکت کرنے والے بڑے ذوق وشوق کے ساتھ اِجتِماعِ ذِکْر و نعت اور مَدَنی مذاکرات وغیرہ میں اوّل تا آخر شرکت کرتے ہیں کیونکہ یہ دینی مَحافِل میں شرکت کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ اب اگر انہیں کوئی تھیٹر یا شوبِز میں کام کرنے کے لئے یا تھیٹر یا شوبِز کے صِرْف اسٹیج (Stage) پر بیٹھنے  کے بھی لاکھ روپے دے تو یہ پھر بھی جانے اور اپنی عزّت گَنوانے کے لئے تیّار نہیں ہوں گے۔ دینی مَحافِل وغیرہ میں دل لگانے کے لئے دین دار اور عاشقانِ رسول کی صُحبت  اختیار کرنی چاہئے کیونکہ اچھّی صُحبت اچھّا اور بُری صُحبت بُرا رنگ لاتی ہے، آپ نیک نمازی، سنّتوں کے عادی اسلامی بھائیوں کی صُحبت میں رہیں گے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ کا بھی نیکیوں اور دینی مَحافِل وغیرہ میں دل لگے گا اور آپ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے نیک بننے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبْ!                 صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

Share

Articles

Comments


Security Code