دنیا میں سب سے اچھی چیز/حساب آخرت میں آسانی/اعمال کا آئینہ

(1)ارشادِ مولامشکل کُشا علیُّ المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْم: دنیا میں تمہارے لئے سب سے اچھی چیز وہ ہے جس کے ذریعے تم اپنی آخرت سنوارو۔(احیاء العلوم،ج5، ص135)

(2)ارشادِ سَیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تعالٰی عَنْہُ: زبان سے بڑھ کر کوئی شےایسی نہیں جو طویل قید کی حق دار ہو۔(معجم کبیر،ج9، ص149، حدیث: 8747)

 (3)ارشادِ سَیِّدُنا ابودَرداء رَضِیَ اللہ تعالٰی عَنْہُ:مومن کے جسم میں کوئی عضو ایسا نہیں جو اللہ تعالٰی کو زبان سے زیادہ محبوب ہو اور مومن اسی کے سبب جنّت میں داخل ہوگا اور کافر کے جسم میں کوئی عضو ایسا نہیں جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کو زبان سے زیادہ ناپسند ہو اور کافر اسی کے سبب جہنّم میں جائے گا۔(حلیۃ الاولیاء،ج1، ص280)

(4) ارشادِ سَیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی:مومن اپنے نفس پر حاکم ہے، وہ رضائے الٰہی کی خاطر اس کا مُحاسَبہ کرتا رہتا ہے اور دنیا میں نفس کا مُحاسَبہ کرنے والوں کا حساب آخرت میں آسان ہوگا جبکہ مُحاسَبہ نہ کرنے والوں کا حساب بروزِ قیامت سخت ہوگا۔(احیاء العلوم،ج 5، ص138)

 (5)ارشادِ سَیِّدُنا ابو عبدالرحمٰن حُبُلٰی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعُلٰی: اپنے بھائی کو حکمت کی بات بیان کرنے سے بہتر کوئی تحفہ نہیں۔(سنن دارمی،ج1، ص112، رقم:351 )

(6)ارشادِ سَیِّدُنا محمد بن علی باقر رَحْمَۃُ اللہ تعالٰی عَلَیْہ: ایک عالِم کی موت شیطان لعین کو 70 عابدوں کی موت سے زیادہ پسند ہے۔(حلیۃ الاولیاء،ج3، ص214)

(7)ارشادِ سَیِّدُنا فُضَیْل بن عِیَاض رَحْمَۃُ اللہ تعالٰی عَلَیْہ: غورو فکر ایک ایسا آئینہ ہے جو تجھے تیری نیکیاں اور بُرائیاں دِکھاتا  ہے۔(احیاء العلوم،ج5، ص162)

(8)ارشادِ سَیِّدُنا بِشر حافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافی:اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فرمانبردار کے لئے قبر بہت اچھا ٹِھکانا ہے۔(موسوعہ ابن ابی الدنیا،کتاب القبور،ج6، ص87 ،حدیث:142)

(9)ارشادِ سَیِّدُناذُوالنُّون مِصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی: (آپ سے  پوچھا گیا: لوگوں میں سب سے زیادہ غم زدہ شخص کون ہے؟ فرمایا:) جو سب سے زیادہ بَد اَخلاق ہے۔(رسالہ قشیریہ، ص276)

(10)ارشادِ سَیِّدُنا یحییٰ بن مُعاذ رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی: شیطان فارغ ہے اور تو مشغول ہے، وہ تجھے دیکھتا ہے مگر تو اسے نہیں دیکھتا، تو نے اسے نظر انداز کیا ہوا ہے مگر اس نے تجھے نظر انداز نہیں کیااور تیرے اندر بھی شیطان کے کئی یار و مددگار ہیں۔ اس لئے اُس سے جنگ اور اس کو مَغْلُوب کرنا(شکست دینا)  بہت ضروری ہے ورنہ تو اس کی شرارتوں اور ہلاکتوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ (منہاج العابدين، ص46)

(11) ارشادِ سَیِّدُنا بايزيد بَسْطامی قُدِّ سّ سِرُّ ہُ السَّامِی: میں نے اپنے دل، زبان اور نفس کی اِصلاح کے لئے دس دس سال صَرف کئے،ان میں مجھے سب سے زيادہ مشکل دِل کی اِصلاح معلوم ہوئی۔ (منہاج العابدين، ص98)

(12)ارشادِ سَیِّدُنا احمد بن حَرْب رَحْمَۃُ اللہ تعالٰی عَلَیْہ: مجھے اس شخص پر تَعَجُّب ہے جسے معلوم ہے کہ اُس کے آگے سجی ہوئی جنت اور پیچھے بھڑکی ہوئی جہنم ہے پھر بھی اُسے نیند آجائے۔(احیاء العلوم،ج5، ص146)

Share