شرح اربعین نوویہ(اردو)

حضرت سیِّدُنا ابو عمرو یا ابوعمرہ سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم ! مجھے اسلام کے بارے میں ایسی بات بتائیے کہ میں اس کے بارے میں آپ کے علاوہ کسی سے نہ پوچھوں۔ تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’کہو میں اللہ پاک پر ایمان لایا پھر اس پر ثابت قدم رہو۔‘‘
(مسلم، كتاب الايمان، باب جامع اوصاف الاسلام، ص۴۸، حدیث: ۱۵۹)

عَنِ اَبِيْ عَمْرٍو وَقِيْلَ اَبِيْ عَمْرَةَ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِيِّ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ يَارَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! قُلْ لِيْ فِي الْاِسْلَامِ قَوْلًا لَا اَسْاَلُ عَنْهُ اَحَدًا غَيْرَكَ. قَالَ: ’’قُلْ اٰمَنْتُ باللهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ.‘‘ (رَوَاہُ مُسْلِم)

شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 21

حضرت سیِّدُنا ابو عبداللہ جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسولِ اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں عرض کی: مجھے بتائیے کہ جب میں فرض نمازیں اداکروں، رمضان کے روزے رکھوں، حلال کوحلال اور حرام کو حرام جانوں اور ان کاموں پر کچھ زیادہ نہ کروں تو کیا میں جنت میں چلا جاؤں گا؟ آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’ہاں۔‘‘ (مسلم، كتاب الايمان، باب الايمان الذی يدخل بہ الجنة...الخ، ص۳۷، حدیث:۱۱۰)
حضرت سیِّدُنا امام نووی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حرام کو حرام سمجھوں کا معنیٰ یہ ہےکہ حرام سے بچوں اور حلال کو حلال جاننے کا معنیٰ یہ ہےکہ اس کے حلال ہونے کا اعتقاد رکھتے ہوئے اس پر عمل کروں۔

عَنْ اَبِيْ عَبْدِ اللهِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْاَنْصَارِيِّ رَضِيِ اللهُ عَنْهُمَا اَنَّ رَجُلًا سَاَلَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اَرَاَيْتَ اِذَا صَلَّيْتُ الْمَكْتُوْبَاتِ وَصُمْتُ رَمَضَانَ وَاَحْلَلْتُ الْحَلَالَ وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ وَلَمْ اَزِدْ عَلٰى ذٰلِكَ شَيْئًا اَاَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: ’’نَعَمْ.‘‘ (رَوَاہُ مُسْلِم)وَمَعْنٰی: حَرَّمْتُ الْحَرَام اِجْتَـنَبْتُہٗ. وَمَعْنٰی: اَحْلَلْتُ الْحَلَالَ فَعَلْتُہٗ مُعْتَقِدًا حِلَّہٗ.

شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 22

حضرت سیِّدُنا ابومالک حارث بن عاصم اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’پاکیزگی (صفائی ستھرائی) آدھا ایمان ہے اور ’’اَلْحَمْدُلِلّٰہ“ ترازو کو بھر دیتا ہے اور ’’سُبْحٰنَ اللہ“ اور ” اَلْحَمْدُلِلّٰہ“ آسمان اور زمین کے درمیان کو بھر دیتے ہیں، نماز نور ہے،صدقہ دلیل ہے، صبر روشنی ہے اور قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف دلیل ہے۔ ہر شخص اس حال میں صبح کرتا ہے کہ وہ خود کو بیچنے والاہوتا ہے، لہٰذا وہ اپنے آپ کوآزاد کرتایا ہلاک کرتا ہے۔‘‘ ( مسلم، كتاب الطهارة، باب فضل الوضوء، ص۱۱۵، حدیث:۵۳۴)

عَنْ اَبِيْ مَالِكِ الْحَارِثِ بْنِ عَاصِمِ الْاَشْعَرِيِّ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’اَلطُّهُوْرُ شَطْرُ الْاِيْمَانِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ تَمْلَاُ الْمِيْزَانَ وَسُبْحٰنَ اللهِ والْحَمْدُ لِلّٰهِ تَمْلَاٰنِ اَوْ تَمْلَاُ مَا بَيْنَ السَّمٰوَاتِ والْاَرْضِ وَالصَّلَاةُ نُوْرٌ وَّالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ وَّالصَّبْرُ ضِيَآءٌ وَّالْقُرْاٰنُ حُجَّةٌ لَّكَ اَوْ عَلَيْكَ كُلُّ النَّاسِ يَغْدُوْ فَبَآئِعٌ نَفْسَهٗ فَمُعْتِقُهَا اَوْ مُوْبِقُهَا.‘‘ (رَوَاہُ مُسْلِم)

شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 23

حضرت سیِّدُنا ابوذر رضی اللہ عنہ حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے ایک حدیث قدسی روایت کرتے ہیں کہ اللہ پاک نےارشاد فرمایا:
اےمیرے بندو! میں نے ظلم کو اپنےآپ پر حرام کیا ہے اور تمہارے آپس میں بھی ظلم کو حرام فرمادیا، لہٰذاایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔
اے میرے بندو! تم سب راستےسے بھٹکے ہوئے ہو، سوائے اس کے جس کو میں ہدایت دوں، لہٰذا مجھ سے ہدایت مانگو، میں تمہیں ہدایت دوں گا۔
اےمیرے بندو! تم سب کے سب بھوکے ہو، سوائے اس کے جسے میں کھلاؤں، لہٰذا مجھ سے کھانا مانگو، میں تمہیں کھلاؤں گا۔
اےمیرے بندو! تم سب کے سب برہنہ ہو، سوائے اس کے جس کو میں لباس پہناؤں، لہٰذا مجھ سے لباس مانگو میں تمہیں لباس دوں گا۔
اےمیرے بندو! تم دن رات گناہ کرتے ہو اور میں ہی سب کے سب گناہ معاف کرتا ہوں، لہٰذا مجھ سےبخشش مانگو میں تمہیں بخش دوں گا۔
اے میرے بندو! تم میرے نقصان کو نہیں پہنچ سکتے کہ مجھے نقصان پہنچادو اور نہ میرے نفع تک تمہاری رسائی ہے کہ مجھے نفع دو۔
اےمیرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان اور جن تمہارے سب سےبڑے پرہیزگارشخص کے دل جیسے ہو جائیں تب بھی میری بادشاہت میں کچھ بڑھا نہیں سکتے۔
اےمیرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان اور جن تم میں سے سب سے بڑے بدکار کے دل جیسے ہو جائیں تو بھی میری بادشاہت میں کچھ کمی نہیں کر سکتے۔
اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان اور جن ایک میدان میں کھڑے ہوکر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر انسان کا سوال پورا کردوں تو بھی میرے خزانوں میں کچھ کمی نہ ہوگی مگر اتنا ہی جتنا سوئی کو سمندر میں ڈال کر نکالا جائے (یعنی کچھ بھی کم نہ ہو گا)۔
اے میرے بندو! تمہارے اعمال میرے شمار میں ہیں، میں تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا لہٰذا جوبھلائی پائے وہ اللہ پاک کا شکر ادا کرےاور جو اس کے علاوہ پائے تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔
( مسلم، كتاب البر والصلة والاداب، باب تحريم الظلم، ص۱۰۶۸، حدیث:۶۵۷۲)

عَنْ اَبِيْ ذَرٍّ رَضيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْمَا رَوٰی عَنِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ اَنَّهٗ قَالَ: ’’يَا عِبَادِيْ اِنِّيْ حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلٰى نَفْسِيْ وَجَعَلْتُهٗ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا فَلَا تَظَالَمُوْا. يَا عِبَادِيْ كُلُّكُمْ ضَالٌّ اِلَّا مَنْ هَدَيْتُهٗ فَاسْتَهْدُوْنِيْ اَهْدِكُمْ. يَا عِبَادِيْ كُلُّكُمْ جَآئِعٌ اِلَّامَنْ اَطْعَمْتُهٗ فَاسْتَطْعِمُوْنِيْ اُطْعِمْكُمْ. يَا عِبَادِيْ كُلُّكُمْ عَارٍ اِلَّا مَنْ كَسَوْتُهٗ فَاسْتَكْسُوْنِيْ اَكْسُكُمْ. يَا عِبَادِيْ اِنَّكُمْ تُخْطِئُوْنَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَاَنَا اَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا فَاسْتَغْفِرُوْنِيْ اَغْفِرْ لَكُمْ. يَا عِبَادِيْ اِنَّكُمْ لَنْ تَبْلُغُوْا ضُرِّيْ فَتَضُرُّوْنِيْ وَلَنْ تَبْلُغُوْا نَفْعِيْ فَتَنْفَعُوْنِيْ. يَا عِبَادِيْ لَوْ اَنَّ اَوَّلَكُمْ وَاٰخِرَكُمْ وَاِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوْا عَلٰى اَتْقَى قَلْبِ رَجُلٍ وَّاحِدٍ مِّنْكُمْ مَا زَادَ ذٰلِكَ فِيْ مُلْكِيْ شَيْئًا. يَا عِبَادِيْ لَوْ اَنَّ اَوَّلَكُمْ وَاٰخِرَكُمْ وَاِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوْا عَلٰى اَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَّاحِدٍ مِّنْكُمْ مَا نَقَصَ ذٰلِكَ مِنْ مُلْكِيْ شَيْئًا. يَا عِبَادِيْ لَوْ انَّ اَوَّلَكُمْ وَاٰخِرَكُمْ وَاِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ قَامُوْا فِيْ صَعِيْدٍ وَّاحِدٍ فَسَاَلُوْنِيْ فَاَعْطَيْتُ كُلّ اِنْسَانٍ مَّسْاَلَتَهٗ مَا نَقَصَ ذٰلِكَ مِمَّا عِنْدِيْ اِلَّاكَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ اِذَا اُدْخِلَ الْبَحْرَ. يَا عِبَادِيْ اِنَّمَا هِيَ اَعْمَالُكُمْ اُحْصِيْهَا لَكُمْ ثُمَّ اُوَفِّيْكُمْ اِيَّاهَا فَمَنْ وَّجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللهَ وَمَنْ وَّجَدَ غَيْرَ ذٰلِكَ فَلَا يَلُوْمَنَّ اِلَّا نَفْسَهٗ.‘‘(رَوَاہُ مُسْلِم)

شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 24

حضرت سیِّدُنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ بعض صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ! مال دار لوگ اجر و ثواب میں بڑھ گئے، وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں، ہماری طرح روزے رکھتے ہیں اور اپنے زائد مال سے صدقہ دیتے ہیں (جبکہ ہمارے پاس ضرورت سے زائد مال نہیں ہے جس سے ہم صدقہ کریں)۔ اللہ پاک کے آخری نبی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’کیا اللہ پاک نے تمہارے لئے وہ اعمال نہیں بنائے جن کے ذریعے تم صدقہ کرو؟ بے شک ہر تسبیح (سُبْحٰنَ اللہ کہنا) صدقہ ہے، ہر تکبیر (اللہ اَکْبَر کہنا) صدقہ ہے، ہر تحمید (اَلْحَمْدُلِلّٰہ کہنا) صدقہ ہے، ہر تہلیل (لَااِلٰہَ اِلَّااللہ کہنا) صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے، بُرائی سے منع کرنا صدقہ ہے اور تمہاری شرم گاہ میں بھی صدقہ ہے۔‘‘ صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان نے عرض کی: یارسول اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ! ہم میں سے کوئی شخص اپنی خواہش پوری کرے تو کیا اس میں بھی اس کے لئے اجر ہے؟ ارشاد فرمایا: ’’مجھے بتاؤ کہ اگر وہ حرام جگہ اپنی خواہش پوری کرتا تو اس پر گناہ نہ ملتا؟ اسی طرح جب وہ حلال جگہ خواہش پوری کرے گا تو اس کے لئے ثواب ہوگا۔‘‘( مسلم، كتاب الزكاة، باب بيان ان اسم الصدقة يقع على كل نوع من المعروف، ص۳۹۰، حدیث:۲۳۲۹)

عَنْ اَبِيْ ذَرٍّ رَضيَ اللهُ عَنْهُ اَيْضًا اَنَّ نَاسًا مِّنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوْا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُوْلَ اللهِ! ذَهَبَ اَهْلُ الدُّثُـوْرِ بِالْاُجُوْرِ يُصَلُّوْنَ كَمَا نُصَلِّیْ وَيَصُوْمُوْنَ كَمَا نَصُوْمُ وَيَتَصَدَّقُوْنَ بفُضُوْلِ اَمْوَالِهِمْ. قَالَ: ’’ اَوَ لَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللهُ لَكُمْ مَا تَصَّدَّقُوْنَ؟ اِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيْحَةٍ صَدَقَةً وَّكُلِّ تَكْبِيْرَةٍ صَدَقَةً وَّكُلِّ تَحْمِيْدَةٍ صَدَقَةً وَّكُلِّ تَهْلِيْلَةٍ صَدَقَةً وَّاَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ صَدَقَةٌ وَّنَهْيٌ عَنْ مُّنْكَرٍ صَدَقَةٌ وَّفِيْ بُضْعِ اَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ.‘‘ قَالُوا: يَا رَسُوْلَ اللهِ! اَ يَاْتِيْ اَحَدُنَا شَهْوَتَهٗ وَيَكُوْنُ لَهٗ فِيْهَا اَجْرٌ؟ قَالَ: ’’ اَرَاَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِيْ حَرَامٍ اَكَانَ عَلَيْهِ وِزْرٌ؟ فَكَذٰلِكَ اِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلالِ كَانَ لَهٗ اَجْرٌ.‘‘ (رَوَاہُ مُسْلِم)

شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 25

حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسُوْلُ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’ہر وہ دن جس میں سورج طلوع ہو(یعنی روزانہ) انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ ہے،دو آدمیوں کے درمیان انصاف کرنا صدقہ ہے، آدمی کو اس کی سواری پر سوار کرانے یا اس کا سامان رکھوانے پر مدد کرنا صدقہ ہے، اچھی گفتگو صدقہ ہے، نماز کی طرف اٹھنےوالا ہر قدم صدقہ ہے اور راستے سے تکلیف دہ چیز دور کرنا صدقہ ہے۔‘‘
(مسلم، كتاب الزکاة، باب بیان ان اسم الصدقة یقع...الخ، ص۳۹۱، حدیث:۲۳۳۵۔ بخاری، کتاب الجھاد، باب فضل من حمل متاع صاحبہ فی السفر، ۲/ ۲۷۹، حدیث:۲۸۹۱، بتغیر قلیل)

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’كُلُّ سَلَامٰى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيْهِ الشَّمْسُ یَعْدِلُ بَيْنَ اثْنَيْنِ صَدَقَةٌ وَّیُعِيْنُ الرَّجُلَ فِيْ دَابَّتِهٖ فَیَحْمِلُهٗ عَلَيْهَا اَوْ یَرْفَعُ لَهٗ عَلَيْهَا مَتَاعَهٗ صَدَقَةٌ وَّالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ وَّبِكُلِّ خُطْوَةٍ یَّمْشِيْهَا اِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ وَّیُمِيْطُ الْاَذٰى عَنِ الطَّرِيْقِ صَدَقَةٌ.‘‘(رَوَاهُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ)

شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 26

حضرت سیِّدُنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’نیکی حسن اخلاق کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تجھے اس پر لوگوں کا مطلع ہونا (اِطلاع پانا) ناپسند ہو۔‘‘
( مسلم، كتاب البر والصلة والاداب، باب تفسير البر والاثم، ص۱۰۶۱، حدیث:۶۵۱۷)
حضرت سیِّدُنا وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ میں بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا تو آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا:’’تم نیکی کے بارے میں پوچھنے آئے ہو؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ ارشاد فرمایا: اپنے دل سے پوچھو، نیکی وہ ہے جس پر تمہارا نفس مطمئن ہو اور اطمینان قلبی حاصل ہو اور گناہ وہ ہے جو تمہارے نفس میں کھٹکے اور دل میں شک پیدا کرے ، اگرچہ لوگ تمہیں کچھ بھی فتویٰ دیں، اگرچہ لوگ تمہیں فتویٰ دیں ۔‘‘ (مسند احمد، مسند الشامیین، حدیث وابصة بن معبد اسدی، ۶/ ۲۹۲، حدیث:۱۸۹۲۳، بتغیر قلیل۔ دارمی، کتاب البیوع، باب دع مایریبک الی ما لا یریبک، ۲/ ۳۲۰، حدیث:۲۵۳۳)
(یہ حدیث حسن ہے۔ اسے حضرت سیِّدُنا امام حمد بن محمد بن حنبل اور حضرت سیِّدُنا حافظ ابو محمد عبد اللہ بن عبدالرحمٰن بن فضل بن بہرام دارمی رحمۃ اللہ علیہما نے اپنی اپنی مسند (مسند احمد اور سنن دارمی) میں حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔)

عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ رَضيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’اَلْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالْاِثْمُ مَا حَاكَ فِيْ نَفْسِكَ وَكَرِهْتَ اَنْ يَّطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ.‘‘ (رَوَاهُ مُسْلِم)
وَعَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍرَضِىَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: اَتَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ’’جِئْتَ تَسْاَلُ عَنِ الْبِرِّ؟‘‘ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: ’’اِسْتَفْتِ قَلْبَكَ، اَلْبِرُّ مَا اطْمَاَنَّتْ اِلَيْهِ النَّفْسُ وَاطْمَاَنَّ اِلَيْهِ الْقَلْبُ وَالْاِثْمُ مَا حَاكَ فِيْ النَّفْسِ وَتَرَدَّدَ فِيْ الصَّدْرِ وَاِنْ اَفْتَاكَ النَّاسُ وَافْتَوْكَ.‘‘ (حَدِيْثٌ حَسَنٌ، رَوَيْنَاهٗ فِیْ مُسْنَدَیَ الْاِمَامَيْنِ اَحْمَدَ ابْنِ حَنْبَلٍ وَّالدَّارَمِیِّ رَحِمَھُمَا اللّٰہ تعالٰی بِاِسْنَادٍ حَسَنٍ)

شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 27

ترجمہ:حضرت سیِّدُنا ابونجیح عِرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ہمیں ایک ایسی نصیحت فرمائی جس سے دل دہل گئے اور آنسو بہنے لگے۔ ہم نے عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ! ایسا لگ رہا ہے کہ یہ الوداعی نصیحت ہے، لہٰذا ہمیں کچھ وصیت فرمادیں۔ ارشاد فرمایا: ’’میں تمہیں اللہ پاک سے ڈرنے، حاکم کی بات سننے اور فرماں برداری کرنے کی نصیحت کرتا ہوں اگرچہ کوئی غلام ہی تم پر حاکم ہو کیونکہ تم میں سے جو زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت اختلافات دیکھے گا۔ لہٰذا تم پر میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کا طریقہ اختیار کرنا لازم ہے، اسے مضبوطی سے تھام لو اور نئے کاموں سے بچو کہ ہربدعت گمراہی ہے۔‘‘(ترمذی، کتاب العلم، باب ماجاء فی الاخذ فی السنة...الخ، ۴/ ۳۰۸، حدیث:۲۶۸۵، بتغیر قلیل ۔ ابوداود، كتاب السنة، باب فی لزوم السنة، ۴/ ۲۶۷، حدیث:۴۶۰۷)
(اس حدیث کو حضرت سیِّدُنا امام ابو داود سلیمان بن اشعث ازدی سجستانی اور حضرت سیِّدُنا امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہما نے (سنن ابو داود اور جامع ترمذی میں) روایت کیا ہے اور حضرت سیِّدُنا امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)

عَنْ اَبِيْ نَجِيْحِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وَعَظَنَا رَسُوْلُ اللهِ صلّی اللهِ علیہ وسلّم مَوْعِظَةً وَّجِلَتْ مِنهَا الْقُلُوْبُ وَذَرَفَتْ مِنهَا الْعُيُوْنُ. فَقُلْنَا: يَا رَسُوْلَ اللهِ صلّی اللهِ علیہ وسلّم ! كَاَنَّهَا مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَاَوْصِنَا. قَالَ: ’’اُوْصِيْكُمْ بِتَقْوَى اللهِ وَالسَّمعِ وَالطَّاعَةِ وَاِنْ تَاَمَّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ، فَاِنَّهٗ مَنْ يَّـعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرٰى اِخْتِلَافًا كَثِيْرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِيْ وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِيْنَ الْمَهْدِيِّـيْنَ عَضُّوْا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ وَاِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْاُمُوْرِ فَاِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ.‘‘
(رَوَاهُ اَبُوْ دَاؤُدَ وَالتِّرْمَذِیُّ وَقَالَ: حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ)

شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 28

حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ! مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کردے اور آگ (جہنم) سے دور کردے۔ اللہ پاک کے آخری نبی صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم نے ارشاد فرمایا:’’تم نے بہت بڑی بات کے بارے میں پوچھا ہے بےشک وہ اسی پر آسان ہے جس کے لئے اللہ پاک آسان فرمادے۔ (وہ یہ ہے)تم اللہ پاک کی عبادت اس طرح کرو کہ کسی کو بھی اس کا شریک نہ ٹھہراؤ ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور بَیْتُ اللہ کا حج کرو۔‘‘ پھر ارشاد فرمایا: ’’کیا میں بھلائی کے دروازوں کی طرف تمہاری راہ نمائی نہ کروں؟ روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں کو ایسے مٹادیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے اور بندے کا رات کے درمیانی حصہ میں نماز پڑھنا۔‘‘ پھر آپ صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم نے یہ آیات مبارکہ تلاوت فرمائیں:تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا٘-وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ(۱۶)فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۷)(پ ۲۱، السجدة:۱۶، ۱۷)
ترجمہ کنزالایمان: ان کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خواب گاہوں سے اور اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اور امید کرتے اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے کچھ خیرات کرتے ہیں تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لئے چھپا رکھی ہے صلہ اُن کے کاموں کا۔
پھر ارشاد فرمایا: ’’کیا میں تمہیں معاملے (یعنی دین)کی اصل، اس کے ستون اور اس کی بلندی کے بارے میں نہ بتاؤں؟‘‘ میں نے عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم! کیوں نہیں (ضرور بتائیے)۔ ارشادفرمایا: ’’معاملے کی اصل اسلام، اس کا ستون نماز اور اس کی بلندی جہاد ہے۔‘‘ پھر ارشاد فرمایا: ’’کیا میں تمہیں ان سب کی اصل کے بارے میں نہ بتاؤں؟‘‘ میں نے عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم! کیوں نہیں۔ آپ نے اپنی زبان مبارک پکڑ کر ارشاد فرمایا: ’’اسے قابو میں رکھو۔‘‘ میں نے عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم! کیا گفتگو پر بھی ہماری پکڑ ہوگی؟ ارشاد فرمایا: ’’اے معاذ! تیری ماں تجھے روئے! لوگوں کو ان کے منہ کے بل یا فرمایا ان کے نتھنوں کے بل ان کی زبانوں کی کھیتی ہی جہنم میں گرائے گی۔‘‘ (ترمذی، كتاب الايمان عن رسول الله ، باب ما جاء فی حرمة الصلاة، ۴/۲۸۰، حدیث: ۲۶۲۵)
(اس حدیث کو حضرت سیِّدُنا امام محمد بن عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہنے (جامع ترمذی میں) روایت کیا اور فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ صلّی اللہ علیہ وسلّم ! اَخْبِرْنِيْ بِعَمَلٍ يُّدْخِلُنِيَ الْجَنَّةَ وَيُبَاعِدُنِيْ مِنَ النَّارِ. قَالَ: ’’لَقَدْ سَاَلْتَ عَنْ عَظِيْـمٍ وَّاِنَّهٗ لَيَسِيْرٌ عَلٰى مَنْ يَسَّرَهُ اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ؛ تَعْبُدُ اللهَ لَا تُشْرِكُ بِهٖ شَيْئًا وَّتُقِيْمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَصُوْمُ رَمَضَانَ وَتَحُجُّ الْبَـيْتَ.‘‘ ثُمَّ قَالَ: ’’اَلَااَدُلُّكَ عَلٰى اَبْوَابِ الْخَيْرِ؛ اَلصَّوْمُ جُنَّةٌ وَّالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيْئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَآءُ النَّارَ وَصَلَاةُ الرَّجُلِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ.‘‘ ثُمَّ تَلَا: ’’ تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ ‘‘ حَتّٰی بَلَغَ ’’ یَعْمَلُوْنَ ‘‘. ثُمَّ قَالَ: ’’اَلَا اُخْبِرُكَ بِرَاْسِ الْاَمْرِ وَعَمُوْدِهٖ وَذِرْوَةِ سَنَامِهٖ؟‘‘ قُلْتُ: بَلٰى يَا رَسُوْلَ اللهِ صلّی اللہ علیہ وسلّم ! قَالَ: ’’رَاْسُ الْاَمْرِ اَلْاِسْلَامُ وَعَمُوْدُهٗ اَلصَّلَاةُ وَذِرْوَةُ سَنَامِهٖ اَلْجِهَادُ.‘‘ ثُمَّ قَالَ: ’’اَلَا اُخْبِرُكَ بِمِلَاكِ ذٰلِكَ كُلِّهٖ؟‘‘ قُلْتُ:بَلٰى يَا رَسُوْلَ اللهِ صلّی اللہ علیہ وسلّم !. فَاَخَذَ بِلِسَانِهٖ. ثُمَّ قَالَ: ’’ كُفَّ عَلَيْكَ هٰذَا.‘‘ قُلْتُ :يَا نَبِيَّ اللهِ! وَاِنَّا لَمُؤَاخَذُوْنَ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهٖ؟ فَقَالَ: ’’ثَكِلَتْكَ اُمُّكَ؛ وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِيْ النَّارِ عَلٰى وُجُوهِهِمْ. اَوْ قَالَ: عَلٰى مَنَاخِرِهِمْ اِلَّا حَصَائِدُ اَلْسِنَتِهِمْ.‘‘
(رَوَاهُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ: حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ)

شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 29

حضرت سیِّدُنا ابوثعلبہ خشنی جُرثوم بن ناشر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’بےشک اللہ پاک نےکچھ چیزیں فرض فرمائی ہیں انہیں ضائع نہ کرو، کچھ حدود مقرر کی ہیں ان سے آگے نہ بڑھو، بعض چیزوں کو حرام کیا ہے ان کی حرمت کو پامال نہ کرو اور کچھ چیزوں کے بارے میں بغیر بھولے محض تم پر رحمت کرتے ہوئےخاموشی برتی ہے، لہٰذا ان کے بارے میں بحث نہ کرو۔‘‘ (دارقطنی، كتاب الرضاع، ۴/ ۲۱۷، حدیث:۴۳۵۰)
(یہ حدیث حسن صحیح ہے اسے حضرت سیِّدُنا امام علی بن عمر دار قطنی رحمۃ اللہ علیہاور دیگر محدثین نے روایت کیا ہے۔)

عَنْ اَبِيْ ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ جُرْثُوْمِ بْنِ نَاشِرٍ رَضيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’اِنَّ اللهَ فَرَضَ فَرَائِضَ فَلَا تُضَيِّعُوْهَا وَحَدَّ حُدُوْدًا فَلَا تَعْتَدُوْهَا وَحَرَّمَ اَشْيَآءَ فَلا تَنْتَهِكُوْهَا وَسَكَتَ عَنْ اَشْيَاءَ رَحْمَةً لَّكُمْ غَيْرَ نِسْيَانٍ فَلَا تَبْحَثُوْا عَنْهَا.‘‘ (حَدِيْثٌ حَسَنٌ رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِیُّ وَغَيْرُہٗ)

شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 30

حضرت سیِّدُنا ابوالعباس سہل بن سعد ساعِدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ! مجھے ایسا عمل بتائیے کہ جب میں اسے کروں تو اللہ پاک مجھ سے محبت فرمائے اور لوگ بھی مجھ سے محبت کرنے لگیں۔ ارشاد فرمایا: ’’دنیا سے بےرغبت ہوجاؤاللہ پاک تم سے محبت فرمائے گا اور لوگوں کے پاس جو کچھ ہےاس سے کنارہ کشی اختیار کر لو تو لوگ بھی تم سے محبت کریں گے۔‘‘
(ابن ماجہ، كتاب الزهد، باب الزهد فی الدنيا، ۴/ ۴۲۲، حدیث:۴۱۰۲)
(یہ حدیث حسن ہے اسے حضرت سیِّدُنا امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید بن ماجہ رحمۃ اللہ علیہاور دیگر محدثین نے حسن سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے۔)

عَنْ اَبِی الْعَبَّاسِ سَهْلِ بْنِ سَعْدِ السَّاعِدِیِّ رَضِیَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَآءَ رَجُلٌ اِلَى النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ! دُلَّنِیْ عَلٰى عَمَلٍ اِذَا عَمَلْتُهٗ اَحَبَّنِیَ اللهُ وَاَحَبَّنِیَ النَّاسُ؟ فَقَالَ: ’’اِزْهَدْ فِي الدُّنْيَا يُحِبُّكَ اللهُ وَازْهَدْ فِيْمَا عِنْدَ النَّاسِ يُحِبُّكَ النَّاسُ.‘‘ (حَدِيْثٌ حَسَنٌ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَة وَغَيْرُهٗ بِاَسَانِيْدَ حَسَنَةً)

شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 31

حضرت سیِّدُنا ابوسعید سعد بن مالک بن سنان خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’نہ خود نقصان اٹھاؤ اور نہ ہی (دوسروں کو) نقصان پہنچاؤ۔‘‘
(ابن ماجہ، كتاب الاحكام، باب من بنى فی حقہ ما يضر بجاره، ۳/ ۱۰۶، حدیث:۲۳۴۰ ۔ دار قطنی، کتاب الاقضیة والاحکام، ۴/ ۲۶۹، حدیث:۴۴۹۵)
(یہ حدیث حسن ہے اسے حضرت سیِّدُنا امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید بن ماجہ اور حضرت سیِّدُنا امام علی بن عمر دار قطنی رحمۃ اللہ علیہما اور دیگر محدثین نے سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ جبکہ حضرت سیِّدُنا امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے موطا میں حضرت سیِّدُنا عمرو بن یحییٰ سے، انہوں نے اپنے والد حضرت سیِّدُنا یحییٰ رحمۃ اللہ علیہما کی سند سے حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم سے (آخری روای کو ذکر کئے بغیر) مرسلاً روایت کیا ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کو ذکر نہیں کیا۔ اس روایت کی اور بھی سندیں ہیں جو ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں۔)

عَنْ اَبِيْ سَعِيْدٍ سَعْدِ بْنِ مَالِكِ بْنِ سِنَانِ الْخُدَرِيِّ رَضيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’لَاضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ.‘‘
(حَدِيْثٌ حَسَنٌ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه، وَالدَّارُقُطْنِیُّ وَغَيْرُهُمَا مُسْنَدًا وَرَوَاهُ مَالِكٌ رَحِمَہُمُ اللّٰہ تعالٰی فِی الْمُوَطَّا عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيٰى عَنْ اَبِيْهٖ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا فَاَسْقَطَ اَبَا سَعِيْدٍ وَّلَهٗ طُرُقٌ يُّقَوِّیْ بَعْضُهَا بَعْضًا)

شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 32

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’اگر لوگوں کو ان کے دعوے کے مطابق دے دیا جائے تو لوگ دوسروں کی جان و مال کا دعویٰ کرنے لگیں گے، لیکن دعویٰ کرنے والے کے ذمہ گواہ ہے اور قسم انکار کرنے والے پر ہے۔‘‘
(سنن الکبری للبيهقی، كتاب الدعوى والبينات، باب البينة على المدعی...الخ، ۱۰/۴۲۷، حدیث: ۲۱۲۰۱ ۔ ابن ماجة، کتاب الاحکام، باب البینة علی المدعی...الخ، ۳/ ۹۶، حدیث:۲۳۲۱ ۔ بخاری، تفسیر سورة ال عمران، باب قولہ تعالی: ان الذین یشترون بعھداللّٰہ، ۴/ ۱۹۰، حدیث: ۴۵۵۲ ۔ مسلم، کتاب الاقضیة، باب الیمین علی مدعی علیہ، ص۹۴۱، حدیث:۱۷۱۱)
(یہ حدیث حسن ہے اسے حضرت سیِّدُنا امام ابو بکر احمد بن حسین بن علی بیہقی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر محدثین نے اسی طرح روایت کیا ہے۔ اس کا کچھ حصہ بخاری ومسلم میں بھی ہے۔)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضیَ اللهُ عَنْہُمَا مَا اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ لَادَّعٰى رِجَالٌ اَمْوَالَ قَومٍ وَدِمَآءَهُمْ لٰكِنِ الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِيْ وَالْيَمِيْنُ عَلٰى مَنْ اَنكَرَ.‘‘ (حَدِيْثٌ حَسَنٌ رَوَاهُ الْبَيْهَقِیُّ وَغَيْرُهٗ هٰكَذَا وَبَعْضُهٗ فِی الصَّحِيْحَيْن)

شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 33

حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو ارشاد فرماتے سنا: ’’تم میں سے جو کوئی برا کام دیکھے تو اسے چاہیے کہ اپنےہاتھ سے روک دے، اگر اس کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے، اگر اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا تو دل سے (بُرا جانے) اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔‘‘
( مسلم، كتاب الايمان، باب بيان کون النھی عن المنكر من الايمان…الخ، ص۴۹، حدیث:۱۷۷)

عَنْ اَبِيْ سَعِيْدِ الْخُدَرِيِّ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: ’’مَنْ رَاٰى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهٖ فَاِنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهٖ فَاِنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهٖ وَذٰلِكَ اَضْعَفُ الْاِيْمَانِ.‘‘ (رَوَاهُ مُسْلِمٌ)

شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 34

حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، صرف قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ لگاؤ، آپس میں بغض نہ رکھو، قطع تعلقی نہ کرو، تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے، اللہ کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے کہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے رسواکرتا ہے، نہ اس سے جھوٹ بولتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر جانتا ہے۔آپ نے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ ارشاد فرمایا:تقوی یہاں ہے،کسی شخص کے برا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔
(مسلم، كتاب البر والصلة والاٰداب، باب تحريم ظلم المسلم وخذلہ واحتقاره...الخ، ص۱۰۶۴، حدیث:۶۵۴۱)

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’لَاتَحَاسَدُوْا وَلَاتَنَاجَشُوْا وَلَاتَبَاغَضُوْا وَلَاتَدَابَرُوْا وَلَايَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَيْعِ بَعْضٍ وَكُوْنُوْا عِبَادَ اللهِ اِخْوَانًا، اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِـمِ، لَايَظْلِمُهٗ وَلَايَخْذُلُهٗ وَلَايَكْذِبُهٗ وَلَايَحْقِرُهٗ، اَلتَّقْوٰى هٰهُنَا.‘‘ وَيُشِيْرُ اِلٰى صَدْرِهٖ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. ’’بِحَسْبِ امْرِئٍ مِّنَ الشَّرِ اَن يَّحْقِرَ اَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِـمِ عَلَى الْمُسْلِـمِ حَرَامٌ دَمُهٗ وَمَالُهٗ وَعِرْضُهٗ.‘‘(رَوَاهُ مُسْلِم)

شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 35

حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے کسی مومن سے دنیا کی کوئی پریشانی دور کی تو اللہ پاک قیامت کے دن کی پریشانیوں میں سےاس کی ایک پریشانی دور فرمائے گااورجس نے کسی تنگ دست پر آسانی کی تو اللہ پاک اس پردنیا و آخرت میں آسانی فرمائے گا اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی تو اللہ پاک دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ اللہ پاک اپنے بندے کی مدد فرماتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے اور جو شخص علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلتا ہے تو اللہ پاک اس کے سبب اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرمادیتا ہے اور جو لوگ اللہ پاک کے گھروں میں سے کسی گھر (یعنی مسجد)میں جمع ہو کر قرآنِ پاک کی تلاوت کرتے اور پڑھتے پڑھاتے ہیں تو ان پر سکینہ نازل ہوتا ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے انہیں گھیرلیتے ہیں اور اللہ پاک اپنی بارگاہ میں موجود فرشتوں کے سامنے ان کا تذکرہ فرماتا ہےاور جس کا عمل اسے پیچھے کردے تو اُس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکتا۔‘‘
( مسلم، كتاب الذكر والدعاء والتوبة...الخ، باب فضل الاجتماع على تلاوة القراٰن وعلى الذكر، ص۱۱۱۰، حدیث:۶۸۵۳)

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُّؤمِنٍ كُرْبَةً مِّنْ كُرَبِ الدُّنيَا نَفَّسَ اللهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِّنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ يَّسَّرَ عَلٰى مُعْسَرٍ يَّسَّرَ اللهُ عَلَيهِ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَمَنْ سَتَـرَ مُسلِمًا سَتَـرَهُ اللهُ فِيْ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاللهُ فِيْ عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِيْ عَوْنِ اَخِيْهِ وَمَنْ سَلَكَ طَرِيْقًا يَّلْتَمِسُ فِيْهٖ عِلْمًا سَهَّلَ اللهُ لَهٗ بِهٖ طَرِيْقًا اِلَى الْجَنَّةِ وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِيْ بَيْتٍ مِّنْ بُيُوْتِ اللهِ يَتْلُوْنَ كِتَابَ اللهِ وَيَتَدَارَسُوْنَهٗ بَيْنَهُمْ اِلَّا نَـزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِيْنَةُ وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَتْهُمُ الْمَلَآئِكَةُ وَذَكَرَهُمُ اللهُ فِيْمَنْ عِنْدَهٗ وَمَنْ بَطَّاَ بِهٖ عَمَلُهٗ لَمْ يُسْرِعْ بِهٖ نَسَبُهٗ.‘‘(رَوَاهُ مُسْلِمٌ بِهٰذَا اللّفْظ)

شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 36

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے روایت کرتے ہیں اور یہ ان روایات میں سےہے جو آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم اپنے رب سے روایت کرتے ہیں (یعنی حدیث قدسی ہے)، ارشاد فرمایا: ’’بے شک اللہ پاک نے اچھائیاں اور برائیاں لکھ دیں اور انہیں واضح فرما دیا، لہٰذا جو شخص کسی بھلائی کا ارادہ کرے لیکن عمل نہ کر پائے تو اللہ پاک اس کے لئے اپنے پاس ایک کامل نیکی کا ثواب لکھ دیتا ہے اور اگروہ کسی نیکی کاارادہ کرے اور عمل بھی کر لے تو اللہ کریم اپنے پاس اس نیکی کا ثواب 10سے 700 گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ تک لکھ دیتا ہے اور اگر بندہ کسی گناہ کا ارادہ کرے مگر گناہ نہ کرے تو اللہ پاک اس کےلئے اپنے پاس ایک کامل نیکی کاثواب لکھ دیتا ہےاور اگر وہ گناہ کا ارادہ کر کے اسے کر گزرے تو اللہ پاک اس کے لئے صرف ایک گناہ لکھتا ہے۔‘‘(بخاری، كتاب الرقاق، باب من همّ بحسنة او بسيئة، ۴/ ۲۴۴، حدیث:۶۴۹۱۔ مسلم، کتاب الایمان، باب اذا ھم العبد بحسنة کتبت...الخ، ۷۴، حدیث:۳۳۸)
(اس حدیث کو حضرت سیِّدُنا امام ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری اور حضرت سیِّدُنا ابوحسین امام مسلم بن حجاج رحمۃ اللہ علیہما نے اپنی اپنی صحیح (بخاری ومسلم) میں انہی الفاظ میں روایت کیا ہے۔)

عَن ابْنِ عَبَّاسٍ رَضیَ اللهُ عَنْہُمَا مَا عَنِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْمَا يَرْوِيْهِ عَنْ رَبِّهٖ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى قَالَ:’’اِنَّ اللهَ كَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ ثُمَّ بَيَّنَ ذٰلِكَ؛ فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَـبَهَا اللهُ عِنْدَهٗ حَسَنَةً كَامِلَةً وَّاِنْ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَـبَهَا اللهُ عِنْدَهٗ عَشْرَ حَسَنَاتٍ اِلٰى سَبْعِمائَةِ ضِعْفٍ اِلٰى اَضْعَافٍ كَثِيْرَةٍ وَاِنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَـبَهَا اللهُ عِنْدَهٗ حَسَنَةً كَامِلَةً وَّاِنْ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَـبَهَا اللهُ سَيِّئَةً وَّاحِدَةً.‘‘ (رَوَاهُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِیْ صَحِيْحَيْهِمَا بِهٰذِهِ الحُرُوْف)

شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 37

حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ پاک کا فرمان ہے: ’’جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی تو میں اس کے ساتھ جنگ کا اعلان کرتا ہوں۔ میرا بندہ جن چیزوں سے میرا قُرب حاصل کرتا ہے ان میں فرائض مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں اور نوافل کے ذریعہ بندہ میرے قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہوں تو جب میں اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہوں تو اس کے کان ہو جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ ہو جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے، اس کے ہاتھ ہو جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے، اس کے پاؤں ہو جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے، اگروہ مجھ سے مانگے تو ضرور اسے دوں گا اور اگر وہ مجھ سے پناہ طلب کرے تو میں ضرور اسے پناہ دوں گا۔‘‘ ( بخاری، كتاب الرقاق، باب التواضع، ۴/ ۲۴۸، حدیث:۶۵۰۲)

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اِنَّ اللهَ تَعَالٰى قَالَ: ’’مَنْ عَادَى لِيْ وَلِيًّا فَقَدْ اٰذَنْتُهٗ بِالْحَرْبِ. وَمَا تَقَرَّبَ اِلَيَّ عَبْدِيْ بِشَيْءٍ اَحَبَّ اِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ. وَمَا يَزَالُ عَبْدِيْ يَتَقَرَّبُ اِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰى اُحِبَّهٗ، فَاِذَا اَحْبَبْتُهٗ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِيْ يَسْمَعُ بِهٖ وَبَصَرَهُ الَّذِيْ يُبْصِرُ بِهٖ وَيَدَهُ الَّتِيْ يَبْطِشُ بِهَا وَرِجْلَهُ الَّتِيْ يَمْشِيْ بِهَا. وَاِنْ سَاَلَنِيْ اَعْطَیْتُہٗ وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِيْ لَاُعِيْذَنَّهٗ.‘‘ (رَوَاهُ الْبُخَارِیُّ)

شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 38

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے آخری نبی، محمد عربی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ پاک نے میری وجہ سے میری امت کی غلطی، بھول اور جس پر وہ مجبور کئے جائیں ان گناہوں کو معاف فرمادیا ہے۔‘‘(ابن ماجہ، كتاب الطلاق، باب طلاق المكره والناسی، ۲/ ۵۱۳، حدیث:۲۰۴۵۔ سنن الکبری للبیھقی، کتاب الخلع والطلاق، باب ماجاء فی طلاق المکرہ...الخ، ۷/ ۵۸۴، حدیث:۱۵۰۹۶،’’∞ان اللّٰہ تجاوز لی‘‘∞ بدلہ’’∞وضع اللّٰہ‘‘∞)
(یہ حدیث حسن ہے اسے حضرت سیِّدُنا امام ابن ماجہ، حضرت سیِّدُنا امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہما اور دیگر محدثین نے روایت کیا ہے۔)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضيَ اللهُ عَنْهُ مَا اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال: ’’اِنَّ اللهَ تَجَاوَزَ لِيْ عَنْ اُمَّتِيْ اَلْخَطَاَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اسْتُكْرِهُوْا عَلَيْهِ.‘‘ (حَدِيْثٌ حَسَنٌ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه والْبَيْهَقِیُّ وَغَيْرُهُمَا)

شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 39

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عُمَر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے میرے دونوں کاندھوں کو ہاتھوں میں لے کر ارشاد فرمایا: ’’دنیا میں پر دیسی یا راہ گزر (یعنی آبائی وطن سے دور رہنے والے یامسافر)کی طرح رہو۔‘‘ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عُمَر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: جب تم شام کرو تو صبح کا انتظار مت کرو اور جب صبح کرو تو شام کا انتظار مت کرو، اپنی تندرستی میں بیماری کا حصہ لے لو اور اپنی زندگی میں موت کی تیاری کر لو۔
( بخاری، كتاب الرقاق، باب قول النبی: كن فی الدنيا كانك غريب...الخ، ۴/ ۲۲۳، حدیث:۶۴۱۶)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضيَ اللهُ عَنْهُ مَا قَالَ: اَخَذَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمنْكَبيَّ. فَقَالَ: ’’ كُنْ فِي الدُّنْيَا كَاَنَّكَ غَرِيْبٌ اَوْ عَابِرُ سَبِيْلٍ.‘‘ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضيَ اللهُ عَنْهُ مَا يَقُوْلُ: اِذَا اَمْسَيْتَ فَلَاتَنْتَظِرِ الصَّبَاحَ وَاِذَا اَصْبَحْتَ فَلَاتَنْتَظِرِ الْمَسَاءَ. وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ لِمَرَضِكَ وَمِنْ حَيَاتِكَ لِمَوْتِكَ. (رَوَاهُ الْبُخَارِیُّ)

شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 40