- ہوم
- کتابیں
- شرح اربعین نوویہ(اردو)
- مقدمہ
مقدمہ - شرح اربعین نوویہ(اردو)
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا رَسُولَ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا حَبِیْبَ اللہ
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا نَبِیَّ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا نُوْرَ اللہ
پہلے اسے پڑھ لیجئے!آج کے اس پرفتن دور میں ہر انسان کامیابی کے پیچھے دوڑ رہا ہے اور اس کے حصول کے لئے سر توڑ کوشش کر رہا ہے... ہر شخص کامیابی کا اپنا ایک معیار بنائے بیٹھا ہے، مثلاً: ...کوئی مال ودولت کے حصول اور کثرت کو کامیابی کا نام دے رہا ہے...کوئی منصب اور عہدہ مل جانے کو کامیابی کہہ رہا ہے ... کوئی دنیاوی جاہ ومرتبے کے حصول کو کامیابی بتا رہا ہے... اور دنیا کی اس عارضی اور وقتی کامیابی کو پانے کے لئے جائز ناجائز ہر طریقہ اختیار کرنے کو تیار ہے، اپنی زندگی جو کہ اصل سرمایہ اور پونچی ہے اس میں لگا رہا ہے ... لیکن اس کے باوجود آزمائشوں اور پریشانیوں کا شکار ہے۔
یاد رکھیئے! اتنا کچھ کرنے کے باوجود عارضی اور وقتی کامیابی نہ ملنے کا واضح سبب یہ ہے کہ انسان قرآن وحدیث اور شریعت کے احکامات کو پس پشت ڈال کر اس کے حصول میں لگا ہوا ہے... پھر یہ کہ حقیقی کامیابی یہ نہیں کہ بندہ دنیا میں کامیاب ہو جائے اور آخرت کی بالکل پروا نہ ہو بلکہ حقیقی کامیابی تو آخرت میں کامیاب ہونا ہے۔ دنیاوی کامیابی کی بےثباتی اور اخروی کامیابی کی حقیقت کو قرآنِ مجید میں یوں بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَؕ- وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤاِلَّامَتَاعُ الْغُرُوْرِ(۱۸۵)(پ۴، اٰل عمرٰن:۱۸۵)
∞ترجمہ کنزالایمان: جو آگ سے بچا کرجنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچا اور دنیا کی زندگی تو یہی دھوکے کا مال ہے۔کامیاب لوگوں کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا گیا۔ چنانچہ ارشاد ہوا:قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ(۱)(پ۱۸، المؤمنون:۱)ترجمہ کنزالایمان: بےشک مراد کو پہنچے ایمان والے۔الغرض: حقیقی کامیابی اللہ پاک، اس کے پیارے رسول صلّی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی اطاعت اور شریعت کے احکامات کی بجا آوری میں ہی ہے جبکہ ان کی مخالفت و نافرمانی میں سرا سر خسارہ و نقصان ہے۔ اس خسارے ونقصان اور کامیابی کو قرآنِ کریم میں ایک مقام پر اس انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَ الْعَصْرِۙ(۱) اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ(۲) اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ﳔ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠(۳)(پ۳۰، العصر:۱تا ۳)
∞ترجمہ کنزالایمان:اس زمانَۂ محبوب کی قسم بےشک آدمی ضرور نقصان میں ہے مگر جو ایمان لائے اورا چھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہِ علیہ نے اس سورۂ مبارکہ کی تفسیر میں کسی بزرگ کا ایک قول نقل کیا ہے: وہ فرماتے ہیں کہ میں نے سورۂ عصر کا معنیٰ ومفہوم ایک برف بیچنے والے سے سمجھا جو آواز لگا رہا تھا کہ اس شخص پر رحم کرو جس کا سرمایہ پگھل رہا ہے! اس شخص پر رحم کرو جس کا سرمایہ پگھل رہا ہے! تو میں نے کہا: ’’انسان ضرور نقصان میں ہے‘‘ اس کا یہ ہی معنیٰ ہے کہ اس کی عمر گزر رہی ہے اور وہ کوئی عمل نہیں کر رہا یہی ہے وہ جو خسارے ونقصان میں ہے۔(تفسیر کبیر، پ ۳۰، سورةالعصر، الجزء الثانی والثلاثون، ۱۱/ ۲۷۸)∞
حضرت سہل بن عبد اللہ تستری رحمۃ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: علم سارے کا سارا دنیا ہے اور اس پر عمل آخرت ہے اور اخلاص کے بغیر تمام اعمال بےکار ہیں۔(قوت القلوب ، الفصل الحادی والثلاثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ۱/ ۲۷۱، بتغیرٍ قلیلٍ)
∞ حضرت ذو النون مصری رحمۃ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: تمام لوگ مردہ ہیں سوائے علما کے اور علما سب سو رہے ہیں سوائے عمل کرنے والوں کے اور عمل کرنے والے سب دھوکے میں ہیں سوائے اخلاص والوں کے اور جو مخلص ہیں وہ بھی بڑے خطرے سے دوچار ہیں(کہ نہ معلوم خاتمہ کیسا ہو)۔(شعب الایمان للبیھقی، باب فی اخلاص العمل…الخ، ۵/ ۳۴۵، حدیث:۶۸۶۸)∞
لہٰذا اگر عمر یوں ہی ضائع کی یا غلط کاموں میں صرف کی اور اچھے اعمال نہ کئے تو سوائے خسارے اور نقصان کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ نیز سورۂ عصر میں یہ بیان ہوا کہ انسان بڑے خسارے میں ہے اور اس خسارے سے صرف وہی لوگ بچے ہوئے ہیں جن میں چار صفات پائی جائیں: (1∞)...ایمان، (2∞)...نیک عمل، (3∞)... ایک دوسرے کو حق وسچ کی تاکید کرنا اور(4∞)...ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کرنا۔ لہٰذا اگر خسارے سے بچنا اور کامیاب ہونا ہے تو یہ اور ان جیسی دیگر اچھی صفات کو اختیار کر کے ان پر عمل پیرا ہونا پڑے گا۔
زیرِ نظر کتاب : ابو زکریا محی الدین یحییٰ بن شرف المعروف امام نووی رحمۃ اللہِ علیہ کی مشہورِ زمانہ اور مقبولِ عام تصنیف ’’اربعین‘‘ کے اردو ترجمے اور مختصر شرح پر مشتمل ہے اور یہ احادیث نبویہ کا وہ مجموعہ ہے جس میں اسلام کی بنیادی باتوں اور دین متین کے چند متفقہ اصولوں کے ساتھ ساتھ اچھی صفات اور عمدہ اخلاق کو بڑے اَحسن انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ جن پر عمل پیرا ہو کر ہر انسان دنیا وآخرت کے خسارے سے بچ کر اور کامیابی کی راہ اختیار کر کے دونوں جہاں میں سرخروئی حاصل کر سکتا ہے۔
کتاب میں مذکور42 ∞مضامین میں سے چند یہ ہیں: ’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے... اسلام کی بنیاد...حدیث جبریل...بُری بدعات کا رد...حلال کی برکت اور حرام کی نحوست...حیا نہ ہو تو جو چاہو کرو... صدقے کی آسان اور مختلف صورتیں... اسلامی بھائی چارہ اور مسلمان کی صفات...اللہ پاک کے ولی کی شان...اتباعِ رسول میں ہی نجات ہے...وغیرہ۔ ان کے علاوہ بھی بےشمار آیات، احادیث، روایات، اقوال اور مدنی پھول اپنی خوشبوئیں لٹا رہے ہیں۔
اس کے ترجمہ اور شرح کے مختلف مراحل میں اول تا آخر ’’شعبہ ترجمہ کتب حدیث‘‘ کے تمام اسلامی بھائی ’’مولانا فیاض احمد مَدَنی، مولانا توقیر احمد عطّاری مَدَنی، مولانا حافظ محمد بلال عطّاری مَدَنی اور مولانا محمد اویس رضا عطّاری مَدَنی‘‘ شریک رہے، بالخصوص دو اسلامی بھائیوں نے خوب کوشش فرمائی: مولانا محمد عمران الٰہی عطّاری مَدَنی، مولانا محمد امجد خان تنولی عطّاری مَدَنی کَثَّرَہُمُ اللہ۔
اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں اپنے عقائد، عبادات، اعمال اور اخلاق کو سنوارنے کے لئے اسے پڑھ کر اس پرعمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ نیز ’’ہمیں اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش‘‘ کرنے کے لئے نیک اعمال پر عمل اور مدنی قافلوں میں عاشقانِ رسول کے ساتھ سفر کرنے کی توفیق دے۔ نیز دعوت اسلامی کی تمام مجالس کو دن پچیسویں اور رات چھبیسویں ترقی عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہِ النبیِّ الامین صلّی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلّم(شعبہ ترجمہ کُتُبِ حدیْث )
تعارُفِ مصنفکنیت، لقب اور نام ونسب:
اَبُوزَکَرِیَّا مُحی الدِّین یحییٰ بن شَرَف بن مُرِّی بن حسن بن حسین بن حِزام بن محمد بن جمعہ نَوَوِی شافعی رحمۃ اللہ ِعلیہ ۔
وِلادت وپرورش:
امام نوَوِی رحمۃ اللہِ علیہ کی ولادت باسعادت مُحَرَّمُ الحَرَام کے درمیانی عشرے میں631∞ہجری، دِمَشْق کے ایک علاقے حَوْرَان سے متصل ایک بستی نَوٰیمیں ہوئی۔ اسی وجہ سے آپ نَوَوِی کہلائے ۔
تعلیم وتربیت:
شیخ یاسین یوسف مَرَّاکُشِی رحمۃ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: میں نے ’’یحییٰ بن شرف نووی‘‘ کو پہلی مرتبہ اس وقت دیکھا جب وہ تقریباً10∞برس کے تھے۔ بچے انہیں اپنے ساتھ کھیلنے کے لئے بُلا رہے تھے لیکن وہ کھیلنے کو تیار نہ تھے۔ جب بچوں نے زبردستی کی تو وہ روتے ہوئے قرآن پاک پڑھنے لگے۔ میں نے یہ حالت دیکھی تو ان کے استاد صاحب سے ملاقات کی اور کہا: اس بچے پر خصوصی توجہ دیجئے! امید ہے کہ یہ اپنے زمانے کا سب سے بڑا عالِم وزاہدبنے گا اور لوگ اس سے فیض یاب ہوں گے۔ چنانچہ استاد صاحب نے امام نووی کے والد صاحب سے اس بارے میں بات کی تو انہوں نے اپنے فرزند کی تعلیم وتربیت پر خاص توجہ دی۔
آپ رحمۃ اللہِ علیہ19∞سال کے ہوئے تو والد صاحب آپ کو دِمشق لے آئے، یہاں شافعی مذہب کی کتاب ’’ تَنْبِیْہ‘‘ ساڑھے چار ماہ میں حفظ کی اور شافعی مذہب کے بقیہ مسائل کی کُتب اسی سال کے بقیہ حصہ میں پڑھیں۔ آپ دن رات میں مختلف علوم وفنون کے12∞ اسباق مختلف اساتذہ سے اچھی طرح سمجھ کر پڑھتے تھے۔
اَساتذہ اور تلامِذہ:
امام نووی رحمۃ اللہِ علیہ کے چند مشہور اساتذہ کے اسمائے گرامی: حضرت رضی بن برہان، حضرت عبد العزیز بن محمد انصاری، حضرت زین الدین بن عبد الدائم، حضرت عماد الدین عبدالکریم خرستانی، حضرت زین الدین خلف بن یوسف، حضرت تقی الدین بن ابو یسر، حضرت جمال الدین بن صیرفی، شمس الدین بن ابو عمر، حضرت ابن اسحاق ابراہیم بن عیسیٰ مرادی، حضرت شمس الدین عبد الرحمٰن بن نوح، شیخ احمد مصری وغیرہ۔ چند طلبا کے نام: حضرت خطیب صدر سلیمان جعفری، حضرت شہاب الدین احمد بن جعوان، حضرت شہاب الدین اربدی، حضرت علاء الدین بن عطار رحمۃ اللہِ علیہم۔
زُہد و تقوی:
آپ صرف ایک مرتبہ عشا کے بعد تھوڑا سا کھانا کھاتے اور سحری کے وقت صرف پانی پیتے ۔ برف کا ٹھنڈا پانی نہ پیتے حالانکہ وہاں کے لوگوں میں اس کا عام رواج تھا ۔آپ نے بالکل سادہ زندگی گزاری، بہت سادہ موٹا لباس پہنتے ۔ دمشق کے پھل کبھی نہ کھاتے ،جب وجہ پوچھی گئی توفرمایا کہ ’’یہاں کے اکثر باغات اوقاف اور ان اَملاک سے متعلق ہیں جن میں ہر کسی کو تصرف کی اجازت نہیں ہوتی اور یہ پھل شبہ سے خالی نہیں ہوتے پھر میرا دل کیسے گوارہ کر سکتا ہے کہ میں انہیں کھاؤں۔‘‘
تین عظیم خوبیاں:
امام نوَوِی رحمۃ اللہِ علیہ کو تین ایسی عظیم خوبیاں عطا ہوئیں کہ اگر اُن میں سے کوئی ایک بھی کسی میں پائی جائے تو وہ اس لائق ہو کہ دور دراز سے سفر کر کے اس کی زیارت کی جائے، وہ یہ ہیں: (1∞)...علم و عمل، (2∞)...زُہد وتقویٰ، (3∞)...نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا۔
عبادت وریاضت:
آپ حصولِ علم میں مشغولیت کے ساتھ ساتھ نوافل، مسلسل روزے، زُہد ووَرَع ،عبادت و ریاضت میں اپنے استاد صاحب کی پیروی کرتے تھے۔ نیز استاد صاحب کے وصال کے بعدعبادت وریاضت کا شوق مزید بڑھ گیا تھا۔
خوفِ خدا:
ابو عبد اللہ بن ابو الفتح حنبلی رحمۃ اللہِ علیہ فرماتے ہیں :ایک رات میں نے جامع مسجد دمشق میں امام نووی رحمۃ اللہِ علیہ کو ایک ستون کے پیچھے اندھیرے میں انتہائی خشوع سے نماز پڑھتے دیکھا آپ پرغَم وحُزن کی کیفت طاری تھی اور بار بار یہ آیتِ مقدسہ تلاوت فرما رہے تھے:وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْـُٔوْلُوْنَۙ(۲۴)(پ۲۳، الصّٰٓفّٰت:۲۴)ترجمہ کنزالایمان: اور انہیں ٹھہراؤ ان سے پوچھنا ہے۔ان کی درد بھری آواز میں قرآنِ مجید کی تلاوت سن کر مجھے ایسی روحانیت نصیب ہوئی کہ اللہ پاک ہی بہتر جانتا ہے۔
عاجِزی و اِنکساری:
آپ عاجزی واِنکساری کے پیکر اور حُبِّ جاہ سے خوب بچتے تھے، اسی وجہ سے اپنے شاگردوں سے کہہ رکھا تھا کہ سب ایک ساتھ مل کرمیرے پاس نہ آیا کرو کہیں طلبا کی کثرت کی وجہ سے میں حُبِّ جاہ میں مبتلا نہ ہوجاؤں کیونکہ نفس تو لوگوں کے ہجوم سے خوش ہوتا ہے۔
وقت کی قدر:
وقت کے قدر دان کبھی بھی اپنا وقت ضائع نہیں کرتے ۔امام نوَوِی رحمۃ اللہِ علیہ بھی اپنا وقت ضائع نہ کرتے تھے حتّٰی کہ راستے میں آتے جاتےبھی کسی کتاب کا مطالعہ یا تکرار جاری رکھتے۔ اس طرح آپ نے کئی سال تحصیل علم میں گزارے۔ آپ نے اوقات کی تقسیم بندی کی ہوئی تھی۔ تمام وقت خیر کے کاموں میں ہی صرف ہوتاتھا ۔ تصنیف وتالیف،تدریس ،نوافل، تلاوتِ قرآن، اُمور ِآخرت میں غور وفکروغیرہ کے لئے اپنے اوقات مقرر کر رکھے تھے۔
چند مشہور تصانیف:
امام نووی رحمۃ اللہِ علیہ نے مختلف موضوعات پر بےشمار کتب تصنیف فرمائیں، جن میں سے چند یہ ہیں:شرح صحیح مسلم،ریاض الصالحین،الاذکار،الاربعین،المبہمات،العمدۃ فی تصحیح التنبہ،الایضاح فی المناسک،التبیان فی اٰداب حملۃ القراٰن،شرح المہذب،الارشادفی علوم الحدیث،التقریبوغیرہ۔
متعلقین ومحبین کے لئے خوشخبری:
ایک مرتبہ امام نووی رحمۃ اللہِ علیہ کے ساتھیوں نے آپ سے عرض کی : بروزِقیامت ہمیں بھول نہ جائیے گا۔ تو آپ نے فرمایا: بخدا! اگر اللہ پاک نے مجھے وہاں کوئی مقام ومرتبہ عطا فرمایا تو میں اس وقت تک جنت میں نہ جاؤں گاجب تک اپنے جاننے والوں کو جنت میں داخل نہ کروالوں۔
وِصالِ پُر مَلال:
امام نووی رحمۃ اللہِ علیہ نے زندگی کے آخری ایام میں اپنے آبائی گاؤں نویٰ جانے سے پہلے دمشق میں مدفون اپنے تمام شیوخ واساتذہ کے مزارات پرحاضری دی اور اپنے متعلقین سے ملاقات کی۔ نویٰ جاکر آپ بیمار ہو گئے اور بدھ کی رات24∞رَجَبُ الْمُرَجَّب676∞ہجری میں یہ عظیم مُحدّث اس دنیا ئے فانی میں اپنی زندگی کے تقریباً44∞سال6∞ماہ گزار کر دائمی و اُخْرَوِی منزل کی جانب کوچ کر گئے اور آبائی گاؤں نویٰ میں ہی سپرد خاک کئے گئے۔(المنھاج السوی فی ترجمةالامام النووی للسیوطی، ملخصًا۔المنھل العذب الروی فی ترجم الامام النووی للسخاوی، ملخصًا)∞
اللہ پاک کی اُن پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بےحساب مغفرت ہو۔
اٰمین بجاہ النبی الامین صلّی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلّم