شرح اربعین نوویہ(اردو)
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوحفص عُمَر بن خَطّاب رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسولُ الله صلّی اللّٰہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو ارشاد فرماتے سنا: ”بےشک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی پس جس کی ہجرت الله پاک اور اس کے رسول صلّی الله علیہ واٰلہٖ وسلّم کی طرف ہو تو اس کی ہجرت الله ورسول ہی کی طرف ہے اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنےیا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہو تو اس کی ہجرت اسی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔“(بخاری، كتاب الايمان، باب ما جاء ان الاعمال بالنیة والحسبة...الخ، ۱/ ۳۴، حدیث:۵۴۔ مسلم، کتاب الامارة، باب انما الاعمال بالنيات، ص۸۱۳، حدیث:۴۹۲۷، ’’ینکحھا‘‘ بدلہ ’’یتزوجھا‘‘)
عَنْ اَمِیْرِ الْمُؤمِنِیْن اَبِيْ حَفْصٍ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ الله عَنْہ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: ’’اِنَّـمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَ اِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَّا نَوٰى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهٗ اِلَی اللهِ وَرَسُوْلِهٖ فَهِجْرَتُهٗ اِلَى اللهِ وَرَسُوْلِهٖ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهٗ لِدُنْـيَا يُصِيْبُهَا اَوِ امْرَأَةٍ يَّنْكِحُهَا فَهِجْرَتُهٗ اِلٰى مَا هَاجَرَ اِلَيْهِ. ‘‘ (رَوَاهُ اِمَامَا الْمُحَدِّثِيْنَ اَبُوْعَبْدِاللهِ مُحَمَّدُ بْنُ اِسْمَاعِيْلَ بْنِ اِبْرَاهِيْمَ بْنِ الْمُغِيْرَةِ بْنِ بَرْدِزْبَہُ الْبُخَارِیُّ وَاَبُوْ الْحُسَيْنِ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ بْنِ مُسْلِمِ ﹰ الْقُشَیْریُّ النَّيْسَابُوْرِیُّ فِیْ صَحِيْحَيْهِمَا اللَّذَيْنِ هُمَا اَصَحُّ الْكُتُبِ الْمُصَنَّفَةِ)
شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 1
حضرت سیِّدُنا عُمَر بن خطاب رضی الله عنہ سے ہی روایت ہے، آپ فرماتے ہیں: ایک دن ہم بارگاہِ رسالت میں حاضر تھے کہ اچانک نہایت سفید لباس اور انتہائی سیاہ بالوں والا ایک شخص حاضر خدمت ہوا، اس پر نہ تو سفر کے آثار دکھائی دے رہے تھے اور نہ ہی ہم میں سے کوئی اسے پہنچانتا تھا۔ وہ حضور نبی کریم صلّی الله علیہ واٰلہٖ وسلّم کے اتنا قریب ہو کر بیٹھ گیا کہ اس نے اپنے گھٹنے آپ کے مبارک گھٹنوں سے ملا دئیے اور اپنے ہاتھ زانوں پر رکھ کر عرض کی: یا رسولَ الله صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے؟ تو حضور نبی کریم صلّی الله علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’اِسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو الله پاک کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلّی الله علیہ واٰلہٖ وسلّم الله پاک کے رسول ہیں اور نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور استطاعت ہو تو بیْتُ الله کا حج کرو۔‘‘ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔ ہمیں تعجب ہوا کہ سوال بھی کر رہا ہے اور تصدیق بھی ۔ پھر عرض کی: مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے؟ ارشاد فرمایا: ’’ایمان یہ ہے کہ تم الله پاک، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں ،اس کے رسولوں، آخرت اور اچھی وبُری تقدیر پر ایمان لاؤ۔‘‘ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔ پھر عرض کی:مجھے احسان کے بارے میں بتائیے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ’’تم الله پاک کی عبادت اس طرح کرو گویا اسے دیکھ رہے ہو اگر تم اسے نہیں دیکھ سکتے تو بےشک وہ تو تمہیں دیکھ ہی رہا ہے ۔‘‘ پھر اس نے عرض کی: مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے؟ ارشاد فرمایا: ’’جس سے قیا مت کے بارے میں پوچھا گیا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔‘‘ عرض کی: پھر قیامت کی نشانیاں ہی بتا دیجئے۔ ارشاد فرمایا: ’’باندی (غلام عورت) اپنے مالک کو جنے گی اور تم دیکھو گے کہ ننگے پاؤں ،برہنہ جسم،مفلس، بکریاں چَرانے والے بلند و بالا عمارتوں کی تعمیرات میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے ۔‘‘ (حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رضی الله عنہ فرماتے ہیں:)پھر وہ شخص چلاگیا، میں کچھ دیر ٹھہرا رہا۔ پھر آپ صلّی الله علیہ واٰلہٖ وسلّم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ’’اے عمر! جانتے ہو وہ سائل کون تھا؟‘‘ میں نے عرض کی: الله پاک اور اس کے رسول صلّی الله علیہ واٰلہٖ وسلّم بہتر جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: ’’وہ جبرائیل علیہ السَّلام تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔‘‘ (مسلم، كتاب الايمان، باب بيان الايمان والاسلام والاحسان...الخ،ص۳۳، حدیث:۹۳)
عَنْ عُمَرَ رَضيَ اللهُ عَنْهُ اَيْضًا قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوْسٌ عِنْدَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ اِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيْدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ شَدِيْدُ سَوَادِ الشَّعْرِ لَا يُرٰى عَلَيْهِ اَثَرُ السَّفَرِ وَلَا يَعْرِفُهٗ مِنَّا اَحَدٌ حَتّٰى جَلَسَ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاَسْنَدَ رُكْبَتَـيْهِ اِلٰى رُكْبَتَـيْهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلٰى فَخِذَيْهِ وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ اَخْبِرْنِيْ عَنِ الْاِسْلَامِ. فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :’’اَلْاِسْلَامُ اَنْ تَشْهَدَ اَنْ لَّااِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللهِ وَتُقِيْمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكٰوةَ، وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَـيْتَ اِنِ اسْتَطَعْتَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا. ‘‘ قَالَ: صَدَقْتَ. فَعَجِبْنَا لَهٗ يَسْاَلُهٗ وَيُصَدِّقُهٗ. قَالَ: فَاَخْبِرْنِيْ عَنِ الْاِيْمَانِ. قَالَ: ’’اَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ وَمَلَآئِكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهٖ وَشَرِّهٖ.‘‘ قَالَ: صَدَقْتَ. قَالَ: فَاَخْبِرْنِيْ عَنِ الْاِحْسَانِ. قَالَ: ’’اَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَاَنَّكَ تَرَاهُ فَاِنْ لَّمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَاِنَّهٗ يَرَاكَ. ‘‘ قَالَ: فَاَخْبِرْنِيْ عَنِ السَّاعَةِ. قَالَ: ’’مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْهَا بِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ. ‘‘ قَالَ: فَاَخْبِرْنِيْ عَنْ اَمَارَاتِهَا. قَالَ: ’’اَنْ تَلِدَ الْاَمَةُ رَبَّتَهَا وَاَنْ تَـرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُوْنَ فِي الْبُنْيَانِ. ‘‘ ثُمَّ انْـطَلَقَ فَلَبِثْتُ مَلِيًّا ثُمَّ قَالَ: ’’يَا عُمَرُ! اَتَدْرِيْ مَنِ السَّائِلُ؟‘‘ قُلْتُ: اَللهُ وَرَسُوْلُهٗ اَعْلَمُ. قَالَ: ’’فَاِنَّهٗ جِبْرِيْلُ اَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِيْنَكُمْ.‘‘ (رَوَاهُ مُسْلِم)
شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 2
حضرت سیِّدُنا ابو عبد الرحمٰن عبد اللہ بن عُمَر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:میں نے رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو ارشاد فرماتے سنا کہ ”اِسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ پاک کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور بےشک حضرت محمد صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم اللہ کے بندے اور رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، بیْتُ اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“( بخاری، كتاب الايمان، باب دعائكم ايمانكم، ۱/ ۱۴، حدیث:۸۔ مسلم، کتاب الایمان، باب ارکان الاسلام...الخ، ص ۳۷، حدیث:۱۱۳، بدون’’∞سمعت‘‘∞)
عَنْ اَبِيْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: ’’بُنِيَ الْاِسْلَامُ عَلٰى خَمْسٍ: شَهَادَةِ اَنْ لَّااِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ وَ اِقَامِ الصَّلَاةِ وَاِيْتَاءِ الزَّكَاةِ وَحَجِّ الْبَـيْتِ وَصَوْمِ رَمَضَانَ.‘‘ (رَوَاهُ الْبُخَارِي وَمُسْلِم)
شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 3
ترجمہ:حضرت سیِّدُنا ابو عبدالرحمٰن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صادق ومصدوق(یعنی سچے اور تصدیق کئے ہوئے) نبی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ہم سے بیان فرمایا: ’’تمہاری پیدائش (کے مادہ یعنی نطفہ) کو ماں کے پیٹ میں 40 دن تک جمع کیا جاتا ہے، پھر 40 دن جما ہوا خون، پھر40 دن تک مُضْغَہ (گوشت کے لوتھڑے) کی صورت میں رہتا ہے، پھر اللہ پاک اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجتا ہے، وہ اس میں روح پھونکتا ہےاور اسے چارچیزیں لکھنے کا حکم دیتا ہے:اس کا عمل، اس کی موت کا وقت، اس کا رزق اور وہ نیک ہے یا بدبخت۔ پس اس کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! بےشک تم میں سے کوئی جنتیوں جیسے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جنت اور اس کے درمیان ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے پس تقدیراس پر غالب آ جاتی ہے تو وہ جہنمیوں جیسے عمل کر کے جہنم میں داخل ہو جاتا ہے اور بےشک تم میں کوئی جہنمیوں جیسے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے پس تقدیر اس پرغالب آ جاتی ہے اور وہ جنتیوں جیسے عمل کرکے جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔‘‘
(بخاری، کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکة، ۲/ ۳۸، حدیث:۳۲۰۸، بتغیر قلیل۔مسلم، كتاب القدر، باب کیفیة الخلق الادمی، ص ۱۰۹۰، حدیث:۶۷۲۳)
عَنْ اَبِيْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوْقُ: ’’اِنَّ اَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهٗ فِيْ بَطْنِ اُمِّهٖ اَرْبَعِيْنَ يَوْمًا ثُمَّ يَكُوْنُ عَلَقَةً مِّثْلَ ذٰلِكَ ثُمَّ يَكُوْنُ مُضْغَةً مِّثْلَ ذٰلِكَ ثُمَّ يُرْسَلُ الْمَلَكُ فَيَنْفُخُ فِيْهِ الرُّوْحَ وَيُؤْمَرُ بِاَرْبَعِ كَلِمَاتٍ: بِكَتْبِ رِزْقِهٖ وَاَجَلِهٖ وَعَمَلِهٖ وَشَقِيٌّ اَوْ سَعِيْدٌ. فَوَالَّذِيْ لَا اِلٰهَ غَيْرُهٗ اِنَّ اَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ اَهْلِ الْجَنَّةِ حَتّٰى مَا يَكُوْنُ بَيْنَهٗ وَبَيْنَهَا اِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ اَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا وَاِنَّ اَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ اَهْلِ النَّارِ حَتّٰى مَا يَكُونُ بَيْنَهٗ وَبَيْنَهَا اِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ اَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا.‘‘ (رَوَاهُ الْبُخَارِی وَمُسْلِمٌ)
شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 4
اُمِّ عبداللہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسولِ اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اِرشاد فرمایا: ’’ جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی چیز ایجادکی جو ہمارے دین سے نہیں تو وہ مردود ہے۔ ‘‘
(بخاری، کتاب الصلح، باب اذا اصطلحوا علی صلح جور...الخ، ۲/ ۲۱۱، حدیث:۲۶۹۷،’’∞منہ‘‘∞ بدلہ’’∞فیہ‘‘∞ ۔ مسلم، كتاب الاقضية، باب نقض الاحكام الباطلة...الخ،ص۷۳۱، حدیث:۴۴۹۲)
مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے: ”جس نے کوئی ایسا عمل کیا جوہمارے دین سے نہیں تو اس کا وہ عمل مردود ہے۔‘‘
(مسلم، كتاب الاقضية، باب نقض الاحكام الباطلة...الخ،ص ۷۳۱، حدیث: ۴۴۹۳)
عَنْ اُمِّ الْمُؤمِنِيْنَ اُمِّ عَبْدِ اللهِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ: ’’مَنْ اَحْدَثَ فِيْ اَمْرِنَا هٰذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ. ‘‘ (رَوَاهُ الْبُخَارِی وَمُسْلِمٌ) وَفِيْ رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: ’’مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ اَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ.‘‘
شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 5
حضرت سیِّدُنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو ارشاد فرماتے سناکہ ’’ بے شک حلال ظاہر ہے اورحرام بھی ظاہرہےاوراُن کے درمیا ن مشکوک چیزیں ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے ۔تو جو ان مشکوک چیزوں سے بچا اس نے اپنا دِین اور اپنی عزت محفوظ کرلی اور جوان مشکوک چیزوں میں پڑ ا وہ حرام میں پڑ گیا ۔جیسے وہ چرواہا جو ممنوعہ چراہ گا ہ کے قریب بکریاں چَراتاہو توقریب ہے کہ وہ جانورا س چراہ گاہ میں بھی چرنے لگیں۔ خبردار! ہر بادشا ہ کی ممنوعہ چراہ گاہ ہوتی ہے اور اللہ پاک کی ممنوعہ چراہ گاہ اس کی حرام کردہ اَشیاء ہیں۔خبرادر!جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑاہے جب وہ ٹھیک ہوجائے تو سارا جسم ٹھیک ہوجاتا ہے اور اگر وہ خراب ہوجائے تو سا را جسم خراب ہو جاتاہے۔ سنو! وہ ٹکڑا دل ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب الایمان، باب فضل من استبرأ لدینہ، ۱/ ۳۳، حدیث:۵۲، بتغیر قلیل ۔ مسلم، كتاب المساقاة، باب اخذ الحلال وترك الشبهات،ص ۶۶۳، حدیث:۴۰۹۴)
عَنْ اَبِيْ عَبْدِ اللهِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:’’ اِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَّاِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ وَّبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَّا يَعْلَمُهُنَّ كَثِيْرٌ مِّنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اِسْتَبْرَاَ لِدِيْـنِهٖ وعِرْضِهٖ وَمَنْ وَّقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ كَالرَّاعِيْ يَرْعٰى حَوْلَ الْحِمٰى يُوشِكُ اَنْ يَرْتَعَ فِيْهِ اَلَا وَاِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى. اَلَا وَاِنَّ حِمَى اللهِ مَحَارِمُهٗ اَلَا وَاِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً اِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهٗ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهٗ اَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ.‘‘ (رَوَاهُ الْبُخَارِی وَمُسْلِمٌ)
شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 6
حضرت سیِّدُنا ابو رقیہ تمیم بن اوس داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’دین خیر خواہی ہے۔‘‘ ہم نے عرض کی: کس کے لئے؟ ارشاد فرمایا: ’’اللہ پاک کےلئے، اس کی کتاب کے لئے، اس کے رسول کے لئے، مسلمانوں کے ائمہ اور عام مسلمانوں کے لئے۔‘‘
(مسلم، كتاب الایمان، باب بیان ان الدین النصیحة، ص ۵۱، حدیث:۱۹۶)
عَنْ اَبِيْ رُقَيَّةَ تَمِيْمِ بْنِ اَوْسٍ الدَّارِيِّ رَضيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’اَلدِّيْنُ النَّصِيْحَةُ.‘‘ قُلْنَا: لِمَنْ؟ قَالَ: ’’لِلّٰهِ وَلِكِتَابِهٖ وَلِرَسُوْلِهٖ وَلِاَئِمَّةِ الْمُسْلِمِيْنَ وَعَامَّتِهِمْ.‘‘ (رَوَاہُ مُسْلِم)
شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 7
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد کروں یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ پاک کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور یہ کہ محمد ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) اللہ پاک کے رسول ہیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ پس جب انہوں نے یہ کام کرلیا تو انہوں نے مجھ سے اپنا خون اور مال بچالیا سوائے اسلام کے حق کے اور ان کا حساب اللہ پاک کے ذمَّۂ کرم پر ہے۔‘‘(بخاری، كتاب الایمان، باب فان تابوا واقاموا الصلاة، ۱/ ۲۰، حدیث:۲۵۔ مسلم، کتاب الایمان، باب الامر بقتال الناس حتی یقولوا...الخ، ص۴۰، حدیث:۱۲۹)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضيَ اللهُ عَنْهُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صلّی اللہ علیہ وسلّم قَالَ: ’’اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰى يَشْهَدُوْا اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللهِ وَيُقِيْمُوْا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوْا الزَّكَاةَ فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِكَ عَصَمُوْا مِنِّيْ دِمَآءَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ اِلَّا بِحَقِّ الْاِسْلَامِ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ تَعَالٰى.‘‘(رَوَاہُ الْبُخَارِی وَمُسْلِم)
شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 8
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ عبد الرحمٰن بن صخر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو ارشاد فرماتے سنا: ’’جس چیز سے میں تمہیں منع کردوں تو اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا میں تمہیں حکم دوں تو اپنی استطاعت کے مطابق اس پر عمل کرو کیونکہ تم سے پہلوں کو زیادہ سوال کرنےاور اپنے انبیا کی مخالفت نے ہلاک کردیا۔‘‘(بخاری، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنة، باب الاقتداء بسنن رسول، ۴/ ۵۰۲، حدیث: ۷۲۸۸ ، بتغیر قلیل ۔ مسلم، کتاب الحج، باب فی الحج مرة فی العمر،ص۵۳۶، حدیث:۳۲۵۷، بتغیر)
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ صَخْرٍ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: ’’ مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَاجْتَنِبُوْهُ وَمَا اَمَرْتُكُمْ بِهٖ فَافْعَلُوْا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ فَاِنَّمَا اَهْلَكَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَثْرَةُ مَسَآئِلِہِمْ وَاخْتِلَافُهُمْ عَلٰى اَنْبِيَآئِهِمْ.‘‘( رَوَاهُ الْبُخَارِی وَمُسْلِم )
شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 9
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’بےشک اللہ پاک طیب ہے اور وہ پاک ہی کو قبول کرتا ہے اور بے شک اللہ پاک نے مؤمنوں کو بھی اسی چیز کا حکم دیا ہے جس چیز کا رسولوں علیہمُ السّلام کو حکم دیا ہے۔ چنانچہ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:يَٰٓأَيُّهَا ٱلرُّسُلُ كُلُواْ مِنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَٱعۡمَلُواْ صَٰلِحًاۖ(پ ۱۸، المؤمنون:۵۱)
ترجمہ کنزالایمان: اے پیغمبرو پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھا کام کرو۔
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُلُواْ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقۡنَٰكُمۡ(پ ۲، البقرة:۱۷۲)
ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو کھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں ۔
پھر آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ایک شخص کا تذکرہ کیا جو طویل سفر کرتا ہے، گرد آلود پراگندا بالوں والا ہے، وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلا کر کہتا ہے:اے میرے رب ! اے میرے رب! حالانکہ اسکا کھانا حرام، پینا حرام اور اس کی غذا حرام سے ہے تو اس کی دعا کیسے قبول ہو سکتی ہے۔‘‘(مسلم، كتاب الزکاة، باب قبول الصدقة من الکسب...الخ، ص۳۹۳، حدیث:۲۳۴۶)
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’اِنَّ اللهَ تَعَالٰی طَيِّبٌ لَّا يَقْبَلُ اِلَّا طَيِّبًا وَّاِنَّ اللهَ اَمَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ بِمَا اَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِيْنَ فَقَالَ تَعَالٰی: ’’ یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًاؕ-... الاٰیة (پ۱۸، المؤمنون:۵۱)‘‘ وَقَالَ تَعَالَى: ’’ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُلُواْ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقۡنَٰكُمۡ... الاٰیة (پ۲، البقرة:۱۷۲)‘‘. ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُـطِيْلُ السَّفَرَ اَشْعَثَ اَغْبَرَ يَمُدُّ يَدَيْهِ اِلَى السَّمَآءِ يَا رَبِّ يَا رَبِّ! وَمَطْعَمُهٗ حَرَامٌ وَّمَشْرَ بُہٗ حَرَامٌ وَّغُذِيَ بِالْحَرَامِ فَاَنّٰى يُسْتَجَابُ لِذٰلِكَ.‘‘ (رَوَاهُ مُسْلِم)
شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 10
خوشبوئے مصطفٰے، جگر گوشَۂ رسول حضرت سیِّدُنا ابو محمد حسن بن علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم سے (سن کر)یہ بات یاد کی کہ ’’جو چیز تجھے شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر وہ اختیار کر جو تجھے شک میں نہ ڈالے۔‘‘
(ترمذی، كتاب صفة القیامة والرقائق والورع، ۴/ ۲۳۲، حدیث:۲۵۲۶ ۔ نسائی، کتاب الاشربة، باب الحث علی ترک الشبھات، ص۹۰۰، حدیث:۵۷۲۲)
(اس حدیث کو حضرت سیِّدُنا امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی اور حضرت سیِّدُنا امام ابو عبدالرحمٰن احمد بن شعیب بن علی خراسانی نسائی رحمۃ اللہ علیہما نے (ترمذی ونسائی میں) روایت کیا ہے اور حضرت سیِّدُنا امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: (اصولِ حدیث کی رو سے) یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)
عَنْ اَبِيْ مُحَمَّدِنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ سِبْطِ رَسُوْلِ اللہ وَرَیْحَانَتِہٖ رَضيَ اللهُ عَنْهُ مَا قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَّسُوْلِ اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’دَعْ مَا یَرِیْبُکَ اِلٰی مَا لَا یَرِیْبُکَ.‘‘(رَوَاهُ التِّرْمِذِیُّ وَالنِّسَائِیُّ. وَقَالَ التِّرْمِذِیُّ حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ)
شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 11
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’ آدمی کے اسلام کی خوبی میں سے یہ بھی ہے کہ وہ بے فائدہ کاموں کو چھوڑ دے ۔‘‘
(ترمذی، كتاب الزھد، باب ماجاء من تکلم بالکلمة لیضحک الناس، ۴/ ۱۴۲، حدیث:۲۳۲۴)
(یہ حدیث حسن ہے اسے حضرت سیِّدُنا امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر محدثین نے اسی طرح روایت کیا ہے۔)
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهٗ مَا لَا يَعْنِيْهِ.‘‘
( حَدِيْثٌ حَسَنٌ، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَغَيْرُهٗ ھٰکَذَا)
شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 12
خادِمِ رسول ابو حمزہ حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی اس وقت تک (کامل) ایمان والا نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنے (مسلمان)بھائی کے لئے بھی وہی چیز پسند نہ کرے جووہ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔(بخاری، كتاب الايمان، باب من الايمان ان یحب لاخیہ...الخ، ۱/ ۱۶، حدیث:۱۳ ۔ مسلم، کتاب الایمان، باب الدلیل علی ان من خصال الایمان...الخ، ص۴۷، حدیث: ۱۷۰)
عَنْ اَبِيْ حَمْزَةَ اَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضيَ اللهُ عَنْهُ خَادِمِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’لَا يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ حَتّٰى يُحِبَّ لِاَخِيْهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهٖ.‘‘(رَوَاہُ الْبُخَارِی وَمُسْلِم)
شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 13
حضرت سیِّدُنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’کسی مسلمان شخص کا خون حلال نہیں سوائے یہ کہ تین میں سے کوئی ایک وجہ پائی جائے: (1)…شادی شدہ زانی، (2)… جان کے بدلے جان (قصاص) اور (3)… اپنے دین کوچھوڑ کرجماعت سے الگ ہونے والا۔‘‘ (بخاری، كتاب الديات، باب قول اللّٰہ تعالٰى: ان النفس بالنفس...الخ، ۴/ ۳۶۱، حدیث:۶۸۷۸ ۔ مسلم، کتاب القسامة، باب ما یباح بہ دم المسلم، ص۷۱۰، حدیث:۴۳۷۵)
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ سُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’لَا یَحِلُّ دَمُ امْرِیٍٔ مُّسْلِـمٍ اِلَّا بِاِحْدٰی ثَلَاثٍ اَلثَّیِّبِ الزَّانِی وَالنَّفْسِ بِالنَّفْسِ وَالتَّارِکِ لِدِیْنِہِ الْمُفَارِقِ لِلْجَمَاعَۃ. ‘‘(رَوَاہُ الْبُخَارِی وَمُسْلِم)
شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 14
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص اللہ پاک اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہےاور جو شخص اللہ پاک اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے اور جو شخص اللہ پاک اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہےاسے چاہئے کہ اپنےمہمان کا احترام کرے۔‘‘(بخاری، كتاب الادب، باب من كان يؤمن باللّٰہ ...الخ، ۴/ ۱۰۵،حدیث:۶۰۱۸ ۔ مسلم، کتاب الایمان، باب الحث علی اکرام الجار...الخ، ص۴۸، حدیث:۱۷۳)
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا اَوْ لِيَصْمُتْ وَمَنْ كَانَ يُؤمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهٗ ومَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ والْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهٗ. ‘‘
(رَوَاہُ الْبُخَارِی وَمُسْلِم)
شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 15
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی خدمت میں عرض کی: مجھے نصیحت کیجئے۔ آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’غصہ نہ کیا کرو۔‘‘ اس نے کئی بار یہی عرض کی تو آپ نے (وہی)ارشاد فرمایا کہ ’’غصہ نہ کیا کرو۔‘‘ (بخاری، كتاب الادب، باب الحذر من الغضب، ۴/ ۱۳۱، حدیث:۶۱۱۶)
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَوْصِنِيْ. قَالَ: ’’لَاتَغْضَبْ.‘‘ فَرَدَّدَ مِرَارًا. قَالَ: ’’لَاتَغْضَبْ.‘‘
(رَوَاہُ الْبُخَارِی)
شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 16
حضرت سیِّدُنا ابویعلی شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’بےشک اللہ پاک نے ہر چیز کے ساتھ بھلائی کرنا فرض کیا ہے، لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، تم اپنی چھری کو تیز کرو اور ذبح ہونے والے جانور کو آرام پہنچاؤ۔‘‘
( مسلم، كتاب الصيد والذبائح...الخ، باب الامر باحسان الذبح والقتل وتحديد الشفرة، ص۸۳۲، حدیث:۵۰۵۵)
عَنْ اَبِيْ يَعْلٰى شَدَّادِ بْنِ اَوْسٍ رَضِیَ اللهُ عَنْہُ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’اِنَّ اللهَ كَتَبَ الْاِحْسَانَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ. فَاِذَا قَتَلْتُمْ فَاَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ وَاِذَا ذَبَحْتُمْ فَاَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ وَلْيُحِدَّ اَحَدُكُمْ شَفْرَتَهٗ وَلْيُرِحْ ذَبِيْحَتَهٗ.‘‘ (رَوَاہُ مُسْلِم)
شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 17
حضرت سیِّدُنا ابو ذر جُندُب بن جُنادہ اورحضرت سیِّدُنا ابو عبد الرحمٰن معاذبن جبل رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جہاں بھی ہو اللہ پاک سے ڈرتے رہو اور گناہ ہوجائے تو اس کے بعد نیکی کر لیا کرو کہ نیکی گناہ کو مٹا دے گی اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے ملو۔‘‘
(ترمذی، كتاب البرّ والصلة، باب ما جاء فی معاشرة الناس، ۳/ ۳۹۷، حدیث:۱۹۹۴)
(اس حدیث کو حضرت سیِّدُنا امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا اور فرمایا: یہ حدیث حسن ہے۔ جبکہ بعض نسخوں میں ہے: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)
عَنْ اَبِيْ ذَرٍّ جُنْدُبِ بْنِ جُنَادَةَ وَاَبِيْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضيَ اللهُ عَنْهُ مَا عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’اِتَّقِ اللهَ حَيْثُمَا كُنْتَ وَاتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا وَخَالِـقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ. (رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ: حَدِیْثٌ حَسَنٌ وَفِیْ بَعْضِ النُّسَخِ: حَسَنٌ صَحِیْحٌ)
شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 18
حضرت سیِّد نا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں ایک دن حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے پیچھے (سواری پر سوار) تھا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: ’’اے لڑکے! میں تجھے چند کلمات سکھاتا ہوں ، اللہ پاک کے احکام کی پابندی کر، اللہ پاک تیری حفاظت فرمائے گا، اللہ پاک کے حق کی رعایت کرتو اُسے اپنے سامنے پائے گا، جب مانگے تو اللہ پاک سے ہی مانگ اور جب مدد طلب کرے تو اللہ پاک سے ہی مددطلب کر اور جان لے کہ اگر ساری امت بھی تجھے نفع پہنچانے پر جمع ہو جائے تو صرف اتنا ہی نفع دے گی جتنا اللہ پاک نے تیرے لئے لکھ دیا ہے اور اگر سب مل کر تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں تو صرف اتنا ہی پہنچا سکیں گے جتنا اللہ پاک نے تیرے لئے لکھ دیا ہے۔ قلم اُٹھا دئیے گئے اور صحیفے خشک ہوگئے۔‘‘(ترمذی، كتاب صفة القيامة والرقائق والورع، ۴/ ۲۳۱، حدیث:۲۵۲۴)
ترمذی شریف کے علاوہ دیگر کتب میں یوں ہے: ’’اللہ پاک کے حقوق کی حفاظت کر! تو اُسے اپنے قریب پائے گا، خوشحالی میں اللہ پاک کو یاد رکھ وہ تنگدستی میں تجھ پر خاص توجہ فرمائے گا اور جان لے کہ جو تجھے نہیں ملا وہ ملنے والا ہی نہ تھا اور جو مل گیا وہ ٹلنے والا ہی نہ تھا۔جان لے!مدد صبر کے ساتھ اور کُشادگی رَنج وغم کے ساتھ ہے اور تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘
(مستدرك، كتاب معرفة الصحابة، باب تعليم النبی ابن عباس، ۴/ ۶۹۹، حدیث: ۶۳۵۸، بتقدم وتاخر)
عَنْ اَبِي الْعَبَّاسِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضيَ اللهُ عَنْهُ مَا قَالَ: كُنْتُ خَلْفَ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ: ’’يَا غُلاَمُ اِنِّيْ اُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ اِحْفَظِ اللهَ يَحْفَظْكَ، اِحْفَظِ اللهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ، اِذَا سَاَلْتَ فَاسْاَلِ اللهَ وَاِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللهِ وَاعْلَمْ اَنَّ الْاُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلٰى اَنْ يَّنْفَعُوْكَ بِشَيْءٍ لَّمْ يَنْفَعُوْكَ اِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَـبَهُ اللهُ لَكَ واِنِ اجْتَمَعُوْا عَلٰى اَنْ يَّضُرُّوْكَ بِشَيْءٍ لَّمْ يَضُرُّوْكَ اِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللهُ عَلَيْكَ، رُفِعَتِ الْاَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ.‘‘ (رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ: حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ) وَفِيْ رِوَايَةِ غَيْرِ التِّرْمِذِيِّ: ’’اِحْفَظِ اللهَ تَجِدْهُ اَمَامَكَ، تَعَرَّفْ اِلَى اللهِ فِي الرَّخَآءِ يَعرِفْكَ فِي الشِّدَّةِ وَاعْلَمْ اَنَّ مَا اَخْطَاَكَ لَمْ يَكُنْ لِّيُصِيْبَكَ وَمَا اَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِّيُخْطِئَكَ وَاعْلَمْ اَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ وَاَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ وَاَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا.‘‘
شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 19
بدری صحابی حضرت سیِّدُنا ابومسعود عقبہ بن عَمْرو انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ پاک کے آخری نبی، محمد عربی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا:’’بےشک گزشتہ انبیائے کرام علیہمُ السّلام کے کلام میں سے لوگوں نے یہ بھی پایا ہےکہ جب تمہیں حیا نہ ہو تو جو چاہو کرو۔‘‘ (بخاری كتاب الادب، باب اذا لم تستح فاصنع ما شئت، ۴/ ۱۳۱، حدیث:۶۱۲۰)
عَنْ اَبِيْ مَسْعُوْدٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرِو الْاَنْصَارِيِّ الْبَدْرِيِّ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’اِنَّ مِمَّا اَدرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الْاُوْلٰى اِذَا لَمْ تَستَحِيْ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ.‘‘ (رَوَاہُ البُخَارِی)
شرح اربعین نوویہ(اردو) ، حدیث نمبر: 20