DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Qasas Ayat 86 Translation Tafseer

رکوعاتہا 9
سورۃ ﳙ
اٰیاتہا 88

Tarteeb e Nuzool:(49) Tarteeb e Tilawat:(28) Mushtamil e Para:(20) Total Aayaat:(88)
Total Ruku:(9) Total Words:(1585) Total Letters:(5847)
86

وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّلْقٰۤى اِلَیْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِیْرًا لِّلْكٰفِرِیْنَ٘(۸۶)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور تم امید نہ رکھتے تھے کہ تمہاری طرف کوئی کتاب بھیجی جائے گی لیکن تمہارے رب کی طرف سے رحمت ہے تو تم ہرگز کافروں کا مددگار نہ ہونا۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّلْقٰۤى اِلَیْكَ الْكِتٰبُ: اور تم امید نہ رکھتے تھے کہ تمہاری طرف کوئی کتاب بھیجی جائے گی۔}ممکن ہے کہ اس آیت کا ظاہری معنی مراد ہو،اس صورت میں  آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ اے حبیب ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے علاوہ کسی اور سبب سے قرآن مجید ملنے کی امید نہ رکھتے تھے، اور جب اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے آپ کی طرف قرآن مجید نازل فرمایا ہے تو آپ پہلے کی طرح اب بھی کافروں  کے مددگار نہ ہونے پر قائم رہیں ۔

          یہ بھی ممکن ہے کہ یہاں  بظاہر خطاب حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ہو اور مراد آپ کی امت ہو، یعنی نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت کو یہ توقّع نہ تھی کہ انہیں  یہ کتاب عطا کی جائے گی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صدقے ان پر رحمت فرمائی اور ان کی طرف قرآن مجید جیسی عظیم الشّان کتاب بھیجی، تواے بندے!جب تمہیں  ایسی عظیم نعمت ملی ہے تو تم ہر گز کافروں  کے مددگار نہ ہونا بلکہ ان سے جدا رہنا اور ان کی مخالفت کرتے رہنا۔

حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو وحی نازل ہونے سے پہلے اپنی نبوت کی خبر تھی:

            یاد رہے کہ اس آیت سے یہ ہر گز ثابت نہیں  ہوتا کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وحی نازل ہونے سے پہلے اپنی نبوت سے خبردار نہیں  تھے کیونکہ یہاں  ظاہری اَسباب کے لحاظ سے وحی نازل ہونے کی امید کی نفی ہے اور کثیر دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ وحی نازل ہونے سے پہلے بھی آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنی نبوت کی خبر رکھتے تھے ،جیسے بحیرا راہب نے بچپن ہی میں  آپ کی نبوت کی خبر دے دی تھی،نسطورا راہب نے جوانی میں  آپ کی نبوت کی خبر دی اور حضرت جابر بن سمرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’میں  مکہ میں  ایک پتھر کو پہچانتا ہوں  جو میری بِعثَت (اعلانِ نبوت) سے پہلے مجھ پر سلام عرض کیا کرتا تھا اور میں  اب بھی اسے پہچانتا ہوں ۔( مسلم، کتاب الفضائل، باب فضل نسب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔۔۔ الخ، ص۱۲۴۹، الحدیث: ۲(۲۲۷۷))

            حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  :صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کے لئے نبوت کب واجب ہوئی؟ارشاد فرمایا: ’’جس وقت حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام روح اور جسم کے درمیان تھے۔( ترمذی ، کتاب المناقب عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، باب ما جاء فی فضل النبیصلی اللّٰہ علیہ وسلم ، ۵ / ۳۵۱ ، الحدیث: ۳۶۲۹)

            ان تمام اَحادیث میں  اس بات کی مضبوط دلیل ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو وحی نازل ہونے سے پہلے اپنے نبی ہونے کا علم تھا،لہٰذا یہ نظرِیّہ ہر گز درست نہیں  کہ حضورِ انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو وحی نازل ہونے کے بعد اپنے نبی ہونے کا علم ہو اتھا۔

 

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links