DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Qasas Ayat 61 Translation Tafseer

رکوعاتہا 9
سورۃ ﳙ
اٰیاتہا 88

Tarteeb e Nuzool:(49) Tarteeb e Tilawat:(28) Mushtamil e Para:(20) Total Aayaat:(88)
Total Ruku:(9) Total Words:(1585) Total Letters:(5847)
61

اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِیْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ثُمَّ هُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ(۶۱)
ترجمہ: کنزالعرفان
تو وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہوا ہے پھر وہ اس (وعدے) سے ملنے والا (بھی) ہے کیا وہ اس شخص جیسا ہے جسے ہم نے (صرف) دنیوی زندگی کا سازوسامان فائدہ اٹھانے کو دیا ہو پھر وہ قیامت کے دن گرفتار کرکے حاضر کئے جانے والوں میں سے ہو۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا: تو وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہوا ہے۔} ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! تم اس بات پر غور کرو کہ وہ شخص جس سے ہم نے ا س کے ایمان اور طاعت پر جنت کے ثواب کا اچھا وعدہ کیا ہوا ہے، پھر وہ اس وعدے کو پانے والا بھی ہے ،کیا وہ اس شخص جیسا ہے جسے ہم نے صرف دُنْیَوی زندگی کا سازوسامان فائدہ اٹھانے کو دیا ہو اور یہ ساز و سامان عنقریب زائل ہوجانے والا ہو، پھر وہ قیامت کے دن گرفتار کرکے حاضر کئے جانے والوں  میں  سے ہو!یہ دونوں  ہرگز برابر نہیں  ہو سکتے۔ مفسرین فرماتے ہیں  کہ جسے اچھا وعدہ دیا گیا اس سے مراد مومن ہے اور دوسرے شخص سے کافر مراد ہے۔( روح البیان، القصص، تحت الآیۃ: ۶۱، ۶ / ۴۲۰، جلالین، القصص، تحت الآیۃ: ۶۱، ص۳۳۲، ملتقطاً)

دنیا کا طلبگار اور آخرت کا خواہش مند برابر نہیں :

            اس سے معلوم ہواکہ جو شخص صرف دنیا کا طلبگار اور آخرت سے بے پرواہ ہے وہ ا س شخص جیسا نہیں  جودنیا کی زندگی اور ا س کے عیش و عشرت پر قناعت کرنے کی بجائے آخرت کی اچھی زندگی کا خواہش مند اور وہاں  کی عظیم الشّان دائمی نعمتیں  حاصل کرنے کی کوشش میں  لگا ہوا ہے۔نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ دنیا کا وہ عیش و عشرت جس کے بعد بندہ عذاب میں  مبتلا ہو جائے، کسی طرح بھی اس قابل نہیں  کہ اسے آخرت پر ترجیح دی جائے اور نہ ہی کوئی عقل مند انسان ایسا کر سکتا ہے۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links