DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Qasas Ayat 78 Translation Tafseer

رکوعاتہا 9
سورۃ ﳙ
اٰیاتہا 88

Tarteeb e Nuzool:(49) Tarteeb e Tilawat:(28) Mushtamil e Para:(20) Total Aayaat:(88)
Total Ruku:(9) Total Words:(1585) Total Letters:(5847)
78

قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِیْؕ-اَوَ لَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّ اَكْثَرُ جَمْعًاؕ-وَ لَا یُسْــٴَـلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ(۷۸)
ترجمہ: کنزالعرفان
۔ (قارون نے) کہا: یہ تو مجھے ایک علم کی بنا پرملا ہے جو میرے پاس ہے اور کیا اسے یہ نہیں معلوم کہ الله نے اس سے پہلے وہ قومیں ہلاک فرمادیں جو زیادہ طاقتوراور زیادہ مال جمع کرنے والی تھیں اور مجرموں سے ان کے گناہوں کی پوچھ گچھ نہیں کی جاتی ۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِیْ:کہا :یہ تو مجھے ایک علم کی بنا پرملا ہے جو میرے پاس ہے۔} قارون نے نصیحت کرنے والوں  کو جواب دیتے ہوئے کہا: یہ مال تو مجھے ایک علم کی بنا پرملا ہے جو میرے پاس ہے۔ اس علم سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں  مفسرین کا ایک قول یہ ہے کہ اس سے توریت کا علم مرادہے ۔ایک قول یہ ہے کہ اس سے علم ِکیمیا مراد ہے جو قارون نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے حاصل کیا تھا اور اس کے ذریعے سے وہ (ایک نرم دھات) رانگ کو چاندی اور تانبے کو سونا بنالیتا تھا ۔ایک قول یہ ہے کہ اس سے تجارت ، زراعت اور پیشوں کا علم مراد ہے۔( روح البیان، القصص، تحت الآیۃ: ۷۸، ۶ / ۴۳۱-۴۳۲، خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۷۸، ۳ / ۴۴۱، ملتقطاً)

خود پسندی کی حقیقت اور اس کی مذمت:

            قارون کے ان جملوں  میں  خود پسندی کا عُنْصر بالکل واضح ہے۔خود پسندی کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ اس بات کا اظہار کرے کہ اسے نیک عمل کی توفیق یا نعمت اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی چیز مثلاً نفس یا مخلوق سے حاصل ہوئی ہے۔خود پسندی کی ضد احسان ہے اور احسان کا مطلب یہ ہے کہ بندہ ا س بات کا اظہار کرے کہ اسے نیک عمل کی توفیق یا نعمت اللہ تعالیٰ کی توفیق اور تائید سے حاصل ہوئی ہے۔( منہاج العابدین، العقبۃ السادسۃ، القادح الثانی: العجب، ص۱۷۹)

            یاد رہے کہ خود پسندی ایک ایسی باطنی بیماری ہے جس کی وجہ سے بندہ اللہ تعالیٰ کی توفیق اور تائید سے محروم ہو جاتا ہے اور جب بندہ اللہ تعالیٰ کی توفیق اور تائید سے محروم ہو جائے تو بہت جلد ہلاک و برباد ہو جاتا ہے ۔اس کی مذمت کے حوالے سے یہاں  4اَحادیث اور بزرگانِ دین کے2 اَقوال ملاحظہ ہوں ۔

(1)…حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تین چیزیں  ہلاکت میں  ڈالنے والی ہیں ۔(1)بخل جس کی پیروی کی جائے۔(2)نفسانی خواہشات جن کی اتباع کی جائے۔ (3) آدمی کا اپنے آپ کو اچھا سمجھنا۔( شعب الایمان، الحادی عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۱ / ۴۷۱، الحدیث: ۷۴۵)

(2)… حضرت ابو درداء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ کے بندوں  میں  سے کوئی بندہ آسمان و زمین والوں  کے عمل کے برابر نیکی اور تقویٰ لے کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  حاضر ہو اور اس میں  یہ تین برائیاں  ہوں (1)خود پسندی۔ (2)مومنوں  کو ایذا دینا۔ (3) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا۔ تو ا س کے اعمال کا وزن ایک ذرے کے برابر بھی نہ ہو گا۔( مسند الفردوس، باب العین، ۳ / ۳۶۴، الحدیث: ۵۱۰۲)

(3)…حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’خود پسندی اگر کسی مرد کی صورت میں  ہوتی تو وہ انتہائی بدصورت مرد ہوتا۔( مسند الفردوس، باب العین، ۳ / ۳۴۰، الحدیث: ۵۰۲۶)

(4)…حضرت حسن بن علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،رسول اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ خود پسندی ستّر سال کے اعمال برباد کر کے رکھ دیتی ہے۔( کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، حرف العین، العجب، ۲ / ۲۰۵، الحدیث: ۷۶۶۶، الجزء الثالث)

(5)…حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَاللہ تَعَالٰیوَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں : ’’توفیق بہترین قائد ہے،حسنِ اخلاق بہترین دوست ہے، عقل بہترین ساتھی ہے،ادب بہترین میراث ہے اور خود پسندی سے زیادہ شدید کوئی وحشت نہیں ۔( شعب الایمان، الثالث والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی فضل العقل، ۴ / ۱۶۱، الحدیث: ۴۶۶۱)

(6)…حضرت یحیٰ بن معاذ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’تم خود پسندی سے بچو کیونکہ یہ خود پسندی کرنے والے کو ہلاک کر دیتی ہے اور بے شک خود پسندی نیکیوں  کو اس طرح کھا جاتی جیسے آگ لکڑیوں  کو کھا جاتی ہے۔( شعب الایمان، السابع والاربعون من شعب الایمان۔۔۔الخ،فصل فی الطبع علی القلب،۵ / ۴۵۲،روایت نمبر: ۷۲۴۸)

             اللہ تعالیٰ ہمیں  اس ہلاکت خیز باطنی مرض سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔خود پسندی کے بارے میں  تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے امام غزالی کی مشہور تصنیف ’’احیاء العلوم‘‘ کی تیسری جلد اور’’ منہاج العابدین‘‘ سے ’’عجب کا بیان‘‘ مطالعہ فرمائیں ۔ ([1])

{اَوَ لَمْ یَعْلَمْ: اور کیا اسے نہیں  معلوم۔} قارون کا خیال تھا کہ چونکہ میرے پاس علم، زر، زور ،جتھا، جماعت بہت کافی ہے اس لئے مجھے کوئی نقصان نہیں  پہنچا سکتا اور نہ مجھ پر عذابِ الٰہی آسکتا ہے ۔ اس کے اس خیال کی تردید اس آیت میں  فرمائی گئی،کہ تجھ سے پہلے کے کفار تجھ سے زیادہ طاقتور،مالدار، ہنر مند اورجتھے والے تھے۔ مگر نبی کی مخالفت کی وجہ سے جو عذاب آیا تو اسے کوئی دورنہ کرسکا تو تو کیوں  اپنی قوت اور مال کی کثرت پر غرور کرتا ہے؟ کیا تو جانتا نہیں  کہ اس کاانجام ہلاکت ہے؟

{وَ لَا یُسْــٴَـلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ: اور مجرموں  سے ان کے گناہوں  کی پوچھ گچھ نہیں  کی جاتی۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ مجرموں  کو سزا دیتا ہے تو اسے ان کے گناہ دریافت کرنے کی حاجت نہیں  کیونکہ وہ ان کا حال جانتا ہے۔ لہٰذا دوسرے وقت میں  ان سے جو پوچھاجائے گا وہ معلومات کیلئے نہیں  بلکہ ڈانٹ ڈپٹ کے لئے ہوگا۔( تفسیرکبیر، القصص، تحت الآیۃ: ۷۸، ۹ / ۱۶، روح البیان، القصص، تحت الآیۃ: ۷۸، ۶ / ۴۳۳، ملتقطاً)


[1] ۔۔۔ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ سے بھی یہ دونوں کتابیں شائع ہو چکی ہیں، وہاں سے بھی خرید کر مطالعہ کر سکتے ہیں۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links