محبّت کے نام پر بربادی (ویلنٹائن ڈے)

فی زمانہ ترقی اور روشن خیالی کے نام پر بے حیائی اور اخلاقی برائیوں   کو خوب فروغ  دیا جارہا ہے۔ محبت کے عالمی دن کے نام پر ہر سال 14 فروری کو منایا جانے والا ویلنٹائن ڈے (Valentine Day) بھی اسی سلسلے کی ایک کَڑی ہے، جو دَرحقیقت مَحبت کے نام پر بربادی کا دن ہے ۔ ویلنٹائن نامی غیر مسلم کی یاد میں منائے جانے والے اس دن کو غیر اَخلاقی حرکات اور اَحکامِ شریعت کی کھلم کھلاخلاف ورزی کا مجموعہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی چند نافرمانیاں اور ان پر ملنے والے عذاب مُلاحظہ کیجئےاور اس دن کی نحوست سے خود کو دور رکھئے۔ بے حیائی کا سیلاب اس دن بالخصوص مخلوط تعلیمی اداروں  میں بے پردگی و بے حیائی کے ساتھ اَجنبی مَردوں اور عورتوں کا میل مِلاپ ہوتا ہے، حالانکہ حدیثِ پاک میں  اس کی مَذمّت یوں بیان کی گئی ہے کہ کسی کے سَر میں  لوہے کی سُوئی گھونپ دی جائے یہ اجنبی عورت کو چھونے سے بہتر ہے۔(معجم کبیر،ج 20،ص211، حدیث :486) ہاتھ اور پاؤں کا  بَد کاری کرنا لڑکے لڑکیاں  تحائف اور پھول خرید کر  نامحرموں کو پیش کرتے ہیں اور اپنی ناجائز محبت کا اظہار کرتے ہیں،حدیث پاک میں ہے: ہاتھ اور پاؤں  بھی بَدکاری کرتے ہیں  اور ان کا بَدکاری (حَرام) پکڑنا اور (حَرام کی طرف)  چل کرجانا ہے۔ (مسلم،ص1095، حدیث: 6754) شَراب نوشی کو فَروغ ملنااس دن رَنگ رَلیاں مَنانےکیلئے شراب اور نَشہ آور چیزوں کا بے تَحاشہ(بہت زیادہ) اِستعمال کیا جاتاہے، جبکہ حدیث پاک میں ہے کہ جو شخص شَراب کا ایک گُھونٹ بھی پئے  گا، اُسے اس کی مِثل جہنَّم کا کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا۔ (معجم ِکبیر،ج8،ص197، حدیث: 7803) گانے باجے کا اِہتمام اس دن کو مَنانے کیلئے جہاں چھوٹے پیمانے پر گانے باجے،مُوسیقی بجائی جاتی ہے، وہیں بڑے پیمانے پرمیوزیکل پروگرامز اور فنکشنز (Functions)  کا بھی اِہتمام کیا جاتا ہے، جبکہ روایت میں ہے کہ جو شخص کسی گانے والی کے پاس بیٹھ کر گانا  سُنتا ہے قیامت کے دن اس کے کانوں میں پِگھلا ہوا سِیسہ اُنڈیلا جائے گا۔ (جمع الجوامع،ج7،ص254، حدیث:22843) مُہلِک بیماری کا سبب:اس دن  بَدکاری کو فَروغ مِلتا ہے، جس کی وجہ سے ایڈز (AIDS) نامی مُہلک مرض پھیلتا جارہا ہے، ڈاکٹرز کے مُطابق’’ایڈز‘‘ جیسی خطرناک بیماری اِسی بَدکاری کا نَتیجہ ہے۔قُراٰنِ پاک میں بَد کاری تو دُور، اس فعلِ بَد کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا گیا ہے۔ چُنانچہ اِرشادِ خُداوندی ہے:(  وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةًؕ-وَ سَآءَ سَبِیْلًا) تَرجَمَۂ کَنزُ الاِیمَان:اور بَد کاری کے پاس نہ جاؤ بے شک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی بُری راہ۔(پ15، بنی  اسرائیل:32)افسوس ’’ویلنٹائن ڈے‘‘کے موقع پر لوگ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے پیارے  رَسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی نافرمانی کے کاموں پر خوشی کا اِظہار کرتے ہیں۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہمیں غیرمُسلموں کے ہر انداز و طریقۂ کار کو چھوڑ کر، اِسلامی شِعار (طریقہ ) و عادات کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم 

مزید جاننے کیلئے مکتبۃ المدینہ کا رسالہویلنٹائن ڈے“پڑھئے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…شعبہ بیانات دعوت اسلامی، المدینۃالمدینہ،باب المدینہ کراچی

Share

محبّت کے نام پر بربادی (ویلنٹائن ڈے)

دشمن کے حملے کی اَفواہ پھیل گئی: ایک مرتبہ مدینہ مُنوّرہ زاد ہَااللہ شرفاً وَّ تعظیماًمیں دہشت پھیل گئی (یعنی یہ افواہ پھیل گئی کہ دشمن کا لشکر یا ڈاکو حملہ آور ہو گئے اس پر شور مچ گیا) تو نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےحضرت سیِّدنا ابو طلحہ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) سے مَندُوب نامی گھوڑا طلب فرمایا،اس پر سوار ہو کر(تحقیقِ حال کے لئے اکیلے) باہر تشریف لے گئے اور واپسی پر فرمایا:ہم نے کوئی خوف کی بات نہیں دیکھی(یعنی وہاں حملہ وغیرہ کچھ نہیں ہوا، یونہی وہم تھا)اور بیشک ہم نے اس گھوڑے کو دریا کی طرح تیز رفتارپایا۔(بخاری،ج4،ص183،حدیث:2627،مراٰة المناجيح،ج4،ص317)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اَفواہ (Rumor)آج کے دور کی پیداوار نہیں بلکہ اس کا چَلَن بہت پُرانا ہےمثلاً جنگِ اُحد میں تاجدارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شہادت کی اَفواہ پھیلی۔ حُدیبیہ کے موقع پر حضرتِ سیِّدنا عثمان غنیرضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت کی اَفواہ پھیل گئی۔افواہ کسے کہتے ہیں؟ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ  الرَّحمٰن لکھتے ہیں:صَدہا (سینکڑوں) خبریں خُصوصاً آج کل ایسی اُڑتی (یعنی عام ہوتی)ہیں جن کاتمام شہر میں چرچا ہوتا ہے، پھر تجربہ گواہ ہے کہ بعدتنقیح(یعنی چھان بین Investigationکے بعد) محض بےاصل (بے بنیاد Baseless) نکلتی ہیں انہیں ’’اَفواہ‘‘ کہتے ہیں۔(فتاویٰ رضویہ،ج 10،ص433) شیطان بھی اَفواہیں پھیلاتا ہے: حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں: شیطان آدَمی کی صورت اختیار کر کے لوگوں کے پاس آتا ہے اورانہیں کسی جھوٹی بات کی خبر دیتا ہے۔  لوگ پھیل جاتے ہیں تو اُن میں سے کوئی کہتا ہے کہ میں نے ایک شخص کوسُنا جس کی صورت پہچانتا ہوں (مگر)یہ نہیں جانتا کہ اُس کا نام کیا ہے؟وہ یہ کہتا ہے۔ (مسلم، ص18، حدیث:17) اَفواہ کی رفتار(Speed):پرانے دور میں ذَرائع اِبلاغ(Means of Communications)اتنے تیز نہیں تھے چنانچہ خبروں اور اَفواہوں کے پھیلنے کی رفتار بھی سُست(Slow) ہوتی تھی اور یہ مَحدودعلاقے (Limited Areas) تک پہنچتی تھیں لیکن آج کےدورمیں جدید ٹیکنالوجی، موبائل، انٹرنیٹ، الیکٹرانک میڈیا،پرنٹ میڈیا اورسوشل میڈیاکی وجہ سے خبریں پھیلنے کی رفتاراتنی تیزہوگئی کہ ٹچ اِسکرین پر انگلی رکھتے ہی خبر(جھوٹی ہویا سچی)دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ سکتی ہے ۔اَفواہوں کے  نَتائج:اَفواہیں کل بھی پریشان کُن تھیں آج بھی مُعاشرے میں بے چینی ،گھبراہٹ ،خوف وہِراس ، جھگڑا، فَساد،ٹینشن ،غلط فہمیاں اوربَدگمانیاں اَفواہوں کی وجہ سے عام ہوتی ہیں۔کبھی کسی مشہور شخص کے اِنتقال (Death)کی اَفواہ پھیلتی ہے توکبھی اس کے شدید بیمار ہونے کی!کبھی کسی حادثے (Accident) کی توکبھی بم دھماکے(Bomb Blast) کی ! کبھی بڑے پیمانے پر قتل وغارت کی توکبھی جلاؤ گھیراؤ،فائرنگ اور حالات کی خرابی کی! کبھی کسی کے اپنے عُہدے سےاِستعفا  دینےکی  توکبھی اَہم شَخصیات میں اِختلافات اور جھگڑے کی  جھوٹی خبریں چلا کر لوگوں کو پریشان کیا جاتا ہے ۔یہ اَفواہیں شیطان صفت لوگ پھیلاتے ہیں جس میں نادان لوگ ان سے تعاون کرتے ہیں ۔تَوبہ کر لیں:اَفواہیں پھیلانے والوں کواپنے گناہوں بالخُصوص جھوٹی خبریں گھڑنے سے فوراً توبہ کرلینی چاہئے کہ جھوٹ بولنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے، فرمانِ مُصطَفٰے صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے:خواب میں  ایک شخص میرے پاس آیا اور بولا:چلئے!میں  اس کے ساتھ چل دیا، میں  نے دوآدمی دیکھے،ان میں  ایک کھڑا اور دوسرا بیٹھا تھا، کھڑے ہوئے شخص کے ہاتھ میں  لوہے کا زَنبُورتھا (لوہے کی سلاخ جس کا ایک طرف کا سِرا مُڑا ہوا ہوتا ہے)جسے وہ بیٹھے شخص کے ایک جبڑے میں  ڈال کر اُسے گدی تک چِیر دیتا پھر زَنبُور نکال کر دوسرے جبڑے میں  ڈال کر چِیرتا، اتنے میں  پہلے والاجَبڑا اپنی اصلی حالت پرلوٹ آتا، میں  نے لانے والے شخص سے پوچھا: یہ کیا ہے؟اس نے کہا: یہ جھوٹا شخص ہے اسے قِیامت تک قبر میں  یہی عذاب دیا جا تا رہے گا۔(مساوی الاخلاق للخرائطی، ص76،حديث:131) جبکہ ایک  روایت میں ہے کہ  ”یہ جھوٹا شخص ہے  جو جھوٹی خبریں دیتا تھا اور لوگ اسے لے اُڑتے تھے  یہاں تک کہ  وہ جھوٹ  ساری دنیا میں پھیل جاتا ، اس کے ساتھ قیامت تک یونہی ہوتا رہے گا۔“ (بخاری،ج1،ص467، حدیث:1386 ملتقطاً)

 کچھ ذمہ داری ہماری بھی ہے آج سوشل میڈیا  وغیرہ پر لوگ ہر پیغام اور خبر کو بغیر سوچے سمجھے شیئر (Share) کرتے رہتے ہیں،یوں اَفواہیں پھیلانے والوں کیلئے سہولت کار (Facilitators) ثابت ہوتے ہیں۔ ہم میں سے  ہر ایک کو اس حُکمِ قراٰنی پر عمل کرنا چاہئے یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ(۶) ( پ26،الحجرات:6) ترجمۂ کنزالایمان :اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو([1])  کہ کہیں کسی قوم کو بے جانے ایذا نہ دے بیٹھو پھر اپنے کئے پر پچھتاتےرہ جاؤ۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہر خبر بالخُصوص جو مَذہبی، مُعاشرتی، اَخلاقی یا کسی اور پہلو سے زیادہ اہمیت کی حامل ہو،اس کو تحقیق ہونے کے بعد ہی ضرورتاً  آگے بڑھانا چاہئے جبکہ کوئی شرعی رُکاوٹ نہ ہو مثلاً کسی کے عیب کھُولے گئے ہوں تو ایسی خبر سچی بھی ہوآگے نہیں بڑھانی چاہئے،لیکن ہماری اَکثریت کا اندازِ فکر (Mind-set) یہ ہے کہ سب سے پہلے میں اس خبر کو دوسروں تک پہنچاؤں،چنانچہ وہ سُنی سُنائی باتوں کو بلاجھجھک فارورڈ(Forward)کردیتے ہیں۔یاد رکھئے سُنی سنائی بات کو آگے  پھیلانابھی جھوٹ کی ہی ایک قسم ہے۔فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: ”کسی انسان کے جھوٹا ہونے کے لئے اِتنا کافی ہے کہ وہ ہر سُنی سُنائی بات بیان کر دے“۔(مسلم، ص17، حدیث:7)

اللہ پاک ہمیں اَفواہوں کو پھیلانے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…مدیر(Chief Editor)ماہنامہ فیضانِ مدینہ،باب المدینہ کراچی

 

”المدینۃ العلمیۃ“کی کاوشیں

 اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ عاشقانِ رسول کی مدنی تحریک  دعوتِ اسلامی  کا شعبہ ”المدینۃ العلمیۃ“دینی کُتُب و رسائل کی تصنيف و تاليف میں مصروفِ عمل ہے۔ اکتوبر،نومبر2017ء میں یہ 6 کُتُب و رسائل اِشاعت کیلئے بھیجے گئے: (1)آئیے قراٰن سمجھتے ہیں (حصہ:2) (2)الرشیدیۃمع الفریدیۃ(3)حافظہ کمزور ہونے کی وجوہات (فیضانِ مدَنی مذاکرہ، قسط:28) (4)صلح کروانے کے فضائل (ایضاً، قسط:29) (5)دل جیتنے کے نسخے (ایضاً، قسط:30) (6)جنّت میں مَردوں کو حوریں ملیں گی تو عورتوں کو کیا ملے گا؟(ایضاً،قسط:31)



[1] ۔۔۔۔ کہ صحیح ہے یا غلط۔(خزائن العرفان)

Share