امام جلال الدین سیوطی اور خدمتِ حدیث/ اچھی صحبت  کے 5 فائدے

امام جلال الدین سیوطی اور خدمتِ حدیث

دسویں صدی کے مجدّد،ایک ہزار سے زائد کتب کی تصنیفات  کا شرف پانے والے، دو لاکھ احادیث کے حافظ، امام جلال الدین عبدالرحمٰن بنابو بکر سیوطی علیہ رحمۃ اللہ القَوینے اپنی تمام تَر زندگی تحصیل علم اور اشاعتِ علم میں صرف کی، جس میں علمِ حدیث بھی شامل ہے۔ علمائے کرام  نے خدمت ِ علمِ حدیث کے تین طریقے بیان کئے ہیں: (1)اِملاء (2)تدریس (3) تصنیف۔ امام جلال الدین سیوطی علیہ رحمۃ اللہ القَوی نے تینوں طریقوں سے خدمت کا شرف پایا چنانچہ  اِملاءِ حدیث آپ نے اوّلاً  872ھ میں مصر میں املاء ِ حدیث کروانا شروع کیا، املاءکی یہ مجلس ہر جمعہ کو نمازِ جمعہ کے بعد ہوتی جس میں ہر خاص و عام کو شرکت کی اجازت تھی اور یہ اِملاء کی مجلس مصر میں حافظ ابنِ حجر عسقلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے بعد 20 سال سے موقوف تھی،  جسے امام سیوطی علیہ رحمۃ اللہ القَوی نے اسے دوبارہ شروع کیا۔ تدریس ِ احادیث آپ نے 877ھ میں مسند شافعی  پر درسِ حدیث دینا شروع کیا، کیونکہ آپ حضرت سیدنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی  کے مُقلِّد تھے ۔آخر میں آپ نے ان دُروس کو کتاب بنام ”اَلشَّافِی الْعَیّ عَلٰی مُسْنَدِ الشَّافِعِی“میں جمع کیا۔ (الامام الحافظ  جلال الدین السیوطی وجھودہ فی علم الحدیث وعلومہ ،ص229) تصنیفِ حدیث آپ نے حدیث کے تقریبا تمام فنون میں کتابیں لکھیں ، جن کا مجموعہ تین سو سے  زائد بنتا ہے، جن میں سے  کچھ  یہ ہیں:اَسْبَابُ الْحَدِ یْث ، اَلْفِیَّۃٌ  فِیْ مُصْطَلَحِ الْحَدِیْث، تَدْرِیْبُ الرَّاوِیْ شَرْحُ تَقْرِیْبِ النَّوَوِی۔ (ایضاً،ص239)شاہ زیب عطاری(دورہ حدیث ،مرکزی جامعۃ المدینہ ،فیضانِ مدینہ، باب المدینہ( کراچی))

 اچھی صحبت  کے پانچ فائدے

اچھی صحبت بہت ہی مفید اور سرمایہ سرمدی ہے ،اگرچہ مختصر ہی کیوں نہ ہو مگر پھر بھی بے فائدہ  و بیکا ر نہیں۔ اچھی صحبت سے وابستہ ہونے والے افراد جہاں قابلِ تعریف ہوتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ باعثِ منفعت (فائدے مند) ہوتے ہیں، اچھی صحبت کے بے شمار فوائد میں سے 5 زینتِ تحریر ہیں:(1)کردار کی اِصلاح: علامہ جلال الدین محمد رومیقُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِیفرماتے ہیں:’’صحبتِ صالح تُرا صالح کُند، صحبتِ طالح تُرا طالح کُند‘‘ یعنی اچھی صحبت بندے کونیک بنادیتی ہے اوربُری صحبت بُرا۔ (2) عمل میں اِضافہ و حصولِ فکرِ آخرت: حدیث شریف میں ہے:اچھا ہم نشین وہ ہے کہ اسے دیکھنے سے تمہیں خدا یاد آئے اور اس کی گفتگو سے تمہارے عمل میں زیادتی ہو اور اس کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلائے۔ (جامع صغیر،ص 247، حدیث: 4063) (3)سببِ حیاتِ قلب: حضرت لقمان رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے  فرمایا:عُلَما کے ساتھ لازمی طور پر بیٹھا کرو اور حکمت والوں  کا کلام سنا کرو کیونکہ اللّٰہ تعالٰی حکمت کے نور سے مُردہ دل کو اسی طرح زندہ کرتا ہے جس طرح مُردہ زمین کو بارش کے قطروں  سے۔ (معجم کبیر،ج 8،ص199، حدیث:7810) (4)رنج و غم سے دوری: منقول  ہے کہ تین چیزیں رنج وغم کو دور کر دیتی ہیں (1)اللہ عزوجل  کا ذکر (2)اللہ عزوجل  کے دوستوں کی ملاقات (3)دانا حضرات کی گفتگو۔ (منبّہات ابن حجر، ص 13) (5)مصیبت سے حفاظت: حدیث شریف میں ہے:بے شک اللہتعالیٰ نیک مسلمان کی وجہ سے اس کے پڑوسیوں  سے  100 گھر  والوں کی بلا  و مصیبت سے حفاظت فرماتا ہے۔(معجم اوسط،ج3،ص129،حدیث: 4080)بنتِ شہاب الدین ( ناظمہ جامعۃ المدینہ للبنات، باب المدینہ کراچی)

دونوں مؤلفین کو (فی کس)1200 روپے مدنی چیک پیش کردیا گیا۔

 

Share

Articles

Comments


Security Code