مالٹا اور کینو

اللہ پاک کا احسانِ عظیم ہے کہ اس نے ہمیں پھلوں جیسی نعمتیں عطا فرمائیں۔مالٹا،کینو،سنگترہ، چکوترا(Grapefruitمَوسَمبی اور مِٹّھا موسمِ سرما کے دلکش اور ذائقہ دارپھل ہیں۔ ان پھلوں کو’’ تُرشاوہ پھل‘‘ کہا جاتاہے۔ ’’ تُرشاوہ پھل‘‘ بیش بہا فوائد  کا مجموعہ ہیں۔ مالٹا اور کینو ذائقے اور فوائد میں قریب قریب ایک جیسے ہوتے ہیں لہٰذا ان کے چند مشترکہ فوائد پیش کئے جاتے ہیں:

مالٹا اورکینوکے فوائد

٭مالٹااورکینو وٹامن سی (Vitamin C) کا بہترین خزانہ ہیں۔ ٭دل کی بیماریوں اور بلڈ پریشر(Blood Pressure) سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔ ٭نظامِ انہضام کو بہتر بناتا اور معدے  کی بیماریوں میں بھی فائدہ مند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معدے کو طاقت دینے والی دواؤں  میں بھی ان کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ٭ بخار اور یرقان(Hepatitis) میں بھی ان کا استعمال مفید ہے۔ ٭دل و دماغ کو راحت بخشتا ہے۔ ٭جسم سے پانی کی کمی کو دور کرتا ہے۔٭ مالٹا اگر کالی مرچ(Black pepper) اور کالے نمک کے ساتھ کھائیں تو تلّی کے امراض میں مفید ہے۔ ٭نظر تیز کرتا ہے۔ ٭پھوڑے، پھنسیوں میں مالٹے کا رس بغیر نمک، مرچ پینا مفید ہوتا ہے۔ ٭دانت نکالنے والے بچوں کو اس کا جُوس پلایا جائے تو دانت نکالنے میں آسانی ہوتی ہے۔ ٭ مالٹا اگر دَکھنی مرچ اور کالے نمک کے ساتھ استعما ل کریں تو دماغ کے لئے بے حدمفید ہے۔

چھلکے کے فوائد

 مالٹے کا چھلکا عموماً پھینک دیا جاتا ہے حالانکہ یہ بھی  فوائد میں مالٹے سے کم نہیں ہے۔٭مالٹے کا چھلکا جلد (Skin) کے داغ دھبےاور کالے نشانات کا خاتمہ کرتا اور جِلد (Skin) میں قدرتی نکھار پیدا کرتا ہے۔٭ اگر مالٹے کے چھلکوں کو سکھا کر  ان کا پاؤڈر بنا لیا جائے اور اس پاوٴڈر کو دہی میں ملا  کر چہرے پر ہلکے ہاتھوں سے مساج کیا جائے، پھر پندرہ منٹ بعد دھو لیا جائے تو یہ رنگت نکھارتا،دانوں سے نجات دلاتا ، چہرےکو صاف شفاف بنا دیتا اور قدرتی بلیچ (Bleach) کا کام کرتا ہے۔ ٭اسی پاوٴڈر کو روزانہ دانتوں پر ملنے سے دانت سفید اور چمکدار ہو جائیں گے۔

مفید چورن

اندازاً مالٹے کا چھلکا 60 گرام، کالی مرچ 12 گرام ، کالا نمک 25 گرام  پیس کر رکھ لیجئے ۔ بچوں کو چٹکی بھر  اور  بڑوں کو آدھا آدھا چمچ صبح و شام  دیجئے،اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  قَے(اُلٹی)، متلی، صفرے کی زیادتی، گیس اور تیزابیت  وغیرہ میں بے حد مفید رہے گا ۔

احتیاط:مالٹا عام نزلہ اور کھانسی وغیرہ میں مفید ہے مگر سردی کی وجہ سے نمونیہ والی کیفیت میں اس  کا استعمال نقصان دہ ہے۔

نوٹ: تمام دوائیں  اپنے طبیب (ڈاکٹر) کے مشورےسے ہی استعمال  کیجئے۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭ ماہنامہ فیضان مدینہ، باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code