مسلمان کی دلجوئی کیجئے

کسی مسلمان کی جائز طریقے سے دل جوئی کرنا باعثِ اجرو ثواب اورجنت میں لے جانے والا کام ہے۔احادیثِ مبارکہ میں اس کے بہت فضائل بیان کئے گئے ہیں،چنانچہ نبیِّ اكرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےفرمایا:اللہ عَزَّوَجَلَّکےنزدیک  فرائض کی ادائیگی کے بعدسب سے افضل عمل مسلمان کے دل میں خوشی داخل کرنا ہے۔(معجم کبیر،ج11،ص59،حدیث:11079)

ایک اور حدیثِ پاک میں ہے:بے شک مغفرت کو واجب کر دینے  والی چیزوں میں سے تیرا اپنے مسلمان بھائی کا دل خوش کرنابھی ہے۔(معجمِ اوسط،ج6،ص129،حدیث:8245) حضرت سیِدنا بِشرحافی علیہ رحمۃ اللہ الکافیکاقول ہے:کسی مسلمان کا دل خوش کرنا100 (نفلی) حج سےبہترہے۔(کیمیائے سعادت،ج2،ص751)

دل میں خوشی داخل کرنے کے چند طریقے(1)مسلمان بھائی کو تکیہ پیش کیجئے:جب کوئی مسلمان بھائی کسی کے پاس آئے تو اسے چاہئے کہ خندہ پیشانی سے اس کا اِستِقبال کرے، اچھی جگہ بٹھائے اورموقع کی مناسبت سے تکیہ وغیرہ بھی پیش کرے، حضورِاکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےفرمایا:کوئی مسلمان اپنے بھائی کے پاس جائے اوروہ اس کی تکریم کرتے ہوئے اپنا تکیہ اُسے پیش کر دے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی مغفرت فرما دیتا ہے۔ (مستدرک،ج4،ص783،حدیث:6601) (2)مریض کی عیادت کیجئے: کوئی مسلمان بھائی بیمار ہو جائے تو اُس کی عیادت کیلئےجانا چاہئے کہ اس سے اس کا دل خوش ہوتا ہے اور مسلمان کی عیادت کرنا بےشمار اجرو ثواب کا باعث بھی ہے، چُنانچہفرمان مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے:جومریض کی عیادت کرتا ہےوہ  جنت کے باغات میں بیٹھتا ہے یہاں تک کہ جب وہ کھڑا ہوتاہے تو 70 ہزار فرشتے رات تک اس کیلئے دعا کرتے ہیں۔(شعب الايمان،ج6،ص530، حديث:9171) (3) غم خواری کیجئے: جب کبھی کسی اسلامی بھائی کے ساتھ کوئی سانحہ پیش آجائے مثلاًکسی عزیز کی وفات ہو جائے یا اس کا کوئی مالی نقصان ہوجائے اس کی غم خواری کریں کہ اس سے بھی دلجوئی ہوتی ہے اور احادیثِ مُبارَکہ میں اس کے کثیر فضائل بیان کئے گئے چنانچہ نبیِّ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو کسی غمزَدہ شخص سےتعزیَت(اظہارِہمدردی) کرےگا اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے تقویٰ کا لباس پہنائےگا اورجوکسی مصیبت زَدہ سے تعزیَت کرے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ  اسے جنت کے جوڑوں میں سے دو ایسے جوڑے عطا کرے گا جن کی قیمت ساری دنیا بھی نہیں ہو سکتی۔(معجمِ اوسط،ج6،ص429، حدیث:9292ملتقطاً) (4)جنازے میں شرکت کیجئے: رِضائے الٰہی کے لئے مسلمان کے جنازے اور تدفین میں شرکت کرنے سے بھی میِّت کے وُرَثا  کی دلجوئی ہوتی ہے اور اس پر بھی  اَجَر و ثواب کی بِشارت ہے چنانچہ سرکارِ نامدار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:جس نے کسی جنازے میں شرکت کی تو اس کیلئے ایک قِیراط اَجَرہےاور اگروہ تدفین میں بھی شریک ہوا تو اس کے لئے دوقیراط اجر ہے اورقیراط  اُحد پہاڑ جتنا ہے۔(مسلم، ص367،حديث: 2196)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭شعبہ فیضان صحابہ و اہل بیت،المدینۃ العلمیہ، باب المدینہ کراچی

Share