مدنی قافلہ(قسط:1)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے نَفْسا نفسی کے اس دَور میں عاشقانِ رسول کی مَدَنی تحریک دعوتِ اسلامی کو مَدَنی مقصد ہی یہ عطا فرمایا کہ’’ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے‘‘ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ۔ اپنی اصلاح کےلئے مَدَنی اِنعامات پر عمل اور دوسروں کی اِصلاح کیلئے مَدَنی قافلوں میں سفر کرنا ہے۔ مدنی قافلہ دعوتِ اسلامی کے بارہ مدنی کاموں میں سے ایک اَہَم ترین مدنی کام ہے، جس سے مُرادسات یاسات سے زیادہ اسلامی بھائیوں کا باہَم مل کر 3 دن، 12 دن، ایک ماہ، 63 دن،92دن یا 12ماہ کیلئے راہِ خدا  کا مسافِر  بننا ہے۔

مدنی قافلے مُسلمانوں کی اِصلاح، مَساجد کی آبادکاری، ساری دُنیا میں سُنتوں کی دھوم مچانے،نیکی کی دعوت عام کرنے اور ہر اسلامی بھائی کی مدنی تربیت کا بہترین ذریعہ ہیں،نیز یہ مدنی قافلے دعوتِ اسلامی کےلئے ریڑھ کی ہڈّی کی حَیثیّت رکھتے  ہیں اور  شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا فرمان بھی ہے: دعوتِ اسلامی کی بَقامدنی قافلوں میں ہے۔(مدنی مذاکرہ، یکم جنوری 2015ء) لہٰذا جب مَدَنی قافلوں میں سفر کریں، تو نِیّت یہ ہونی چاہئے کہ اپنی اِصلاح اور عِلْمِ دین سیکھنے کیلئے سفر کر رہا ہوں، ضمنا ًَعلاقے والوں کو نیکی کی دعوت بھی دوں گا۔

دُنیا کے مختلف خطوں میں موجود صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان کے مَزارات، اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ نیکی کی دعوت عام کرنے کیلئے انہوں نے مدینہ طَیّبہ کی سرزمین سے سینکڑوں، ہزاروں میل دُور دراز کے مَشقّت بھرے سفر اِختیار فرمائے۔ یہی اَنداز ہمارے دِیگر اَسلاف کا بھی رہا کہ انہوں نے بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ ورسول  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رضا کے حُصول کیلئے اپنی ذات کی اِصلاح پر ہی توجہ نہ دی بلکہ دوسروں کی اِصلاح کیلئے راہِ خُدا میں سفر کرنے سے بھی کبھی دَریغ(انکار) نہ فرمایا۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مدنی قافلوں میں سفر عِلْم دین کے حُصُول اور اسکی فَضیّلت پانے  کا بہترین ذَریعہ ہے کہ جس کے فضائل کَثیر رِوایات میں مَروی  ہیں، جیسا کہ روایت میں ہے: جو علم کی تلاش میں  نکلتا ہے وہ واپس لوٹنے تک راہِ خُدا  میں ہوتا ہے۔ (ترمذی،ج 4،ص295، حدیث:2656)اور ایک روایت میں ہے: عِلْم حاصل کرو! کہ ہر خشک و تَرحتی کہ مچھلیاں،حَشرات،چرند، پرند،آسمان اور اسکے ستارے علم سیکھنے والے کےلئے مَغفرت کا سوال کرتے ہیں، عِلْم دلوں کو اَندھے پَن اور آنکھوں کو اَندھیرے سے نجات دیتا اور نیک لوگوں کی منازِل اور بلند درجات تک پہنچاتا ہے، اسی کے ذریعے اِطاعت و عِبادتِ الٰہی  کی جاتی، خوفِ خُدا ملتا، پرہیزگاری و  صِلَہ رحمی کا جذبہ ملتا  اور حلال وحرام کی پہچان ہوتی ہے،عِلْم امام ہے اور عمل اسکے تابِع۔ عِلْم خوش نصیبوں کو عَطا ہوتا ہے جبکہ بدبخت اس سے محروم رہتے ہیں۔(جامع بیان العلم وفضلہ،ج1،ص239، حدیث:268 ملتقطاً)

عِلْم حاصِل  کرو، جَہْل زائل کرو           پاؤ گے راحتیں، قافِلے میں چلو

(وسائل بخشش(مرمّم)،ص669)

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!           صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

(بقیہ آئندہ شمارے میں)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…شعبہ فیضانِ صحابیات،المدینۃالمدینہ،(سردارآباد فیصل آباد)

Share

Articles

Gallery

Comments


Security Code