مدنی درس

اِبتدائے اِسْلام ہی سے مساجِد میں نَماز اور دیگر عبادات کے ساتھ ساتھ عقائد و اعمال کی  اِصلاح  کے لئے دَرْس کا اِہتِمام بھی ہوتا تھا بلکہ سیرتِ مصطفےٰ پر نَظَر ڈالی جائے تو یہ بات بھی ملے گی کہ جب سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان کو کچھ وَعْظ و  نصیحت فرمانی ہوتی تو صحابۂ کِرام علیہمُ الرِّضوان کو اکثر مَسْجِدِ نبوی شریف زاد ہَااللہ شرفاً وَّ تعظیماً میں جَمْع فرماتے۔ پھر صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان نے بھی اپنے مہربان و کریم آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اس ادا پر بخوبی عمل کیا اور آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے جو کچھ سیکھا اسے دوسروں کو سکھانے میں مصروف رہے۔ پھر اس عظیم کام کو بعد میں آنے والے بُزرگانِ دین رحمہم اللہ المُبِین نے بھی بڑے اَچّھے اَنداز سے جاری رکھا، مگر افسوس! آہِستہ آہِستہ یہ سلسلہ ماضی کی داستان بننے لگااوردنیاوی  ترقی میں مصروف ہو کر مسلمان مَسْجِد سے ہی دُور ہوتا چلا گیا اور یوں مَسْجِد و درس کا باہمی ساتھ ہی نہ چھوٹا بلکہ مَسَاجِد کی ویرانی بھی بڑھنے لگی۔

مَسَاجد کی آبادکاری بھی دعوتِ اسلامی کے مَدَنی مَقْصَد میں شامِل ہے، چنانچہ دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ نے علمِ دین سیکھنے سکھانے اور سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پیاری پیاری سنّتو ں پر عمل پَیرا ہونے کیلئے جو 12 مَدَنی کام عَطا فرمائے ہیں، ان میں ایک مَدَنی کام ”مَدنی دَرْس“ بھی ہے۔ شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَا                                                                                                                    تُہُمُ الْعَالِیَہ کی کُتُب و رَسَائِل بِالْخُصُوص ”فیضانِ سنّت“ سے مَسْجِد (چوک ، بازار ، مارکیٹ ، دکان دفتر ، گھر وغیرہ)میں دَرْس دینے کو تنظیمی اِصطلاح میں مَدنی دَرْس“([1]) کہتے ہیں۔مدنی دَرْس بھی حقیقت میں فروغِ علمِ دین کی ہی ایک کڑی ہے۔مدنی درس کے بے شمار دینی و دنیاوی  فوائد ہیں۔

مَدنی  دَرْس کے فوائد:٭ضَروری علمِ دین، ایمانیات اور فرائض و واجبات  کےبارے میں معلومات کے ساتھ ساتھ  پیارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پیاری پیاری سنّتیں سیکھنے سکھانے کا موقَع ملتا ہے۔ ٭دَرْس کےاِخْتِتامِ پر سلام و مصافحہ کی سنّت پر عمل کیا جاتا ہے جس سے باہم مَحبَّت میں بھی اضافہ ہوتا ہے ٭جن مَسَاجِد میں مَدَنی دَرْس کی ترکیب مَضْبوط ہے وہاں نَمازیوں کی تعداد میں بھی اِضافہ ہوتا جاتا ہے ٭مدنی درس دینے سننے والوں کو نمازِ باجماعت میں استِقامت پانے کی بھی سعادت ملتی ہے ٭دعوتِ اِسلامی کے چاہنے والوں کی تعداد میں خاطِر خواہ اِضافہ ہوتا ہے ٭نئے اسلامی بھائیوں سے رابطے ہوتے ہیں یوں انہیں مدنی درس کےساتھ ساتھ دیگر مَدَنی کاموں کیلئے بھی تیّار کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

                                



1...توجہ فرمائیے:دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کی طرف سے شیخِ طریقت، امیر اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی کُتُب و رَسَائِل  سے ہی  درس دینے کی ترغیب و تاکید ہے۔

Share

Articles

Comments


Security Code