مچھلی کے پیٹ میں

پیارے مدنی منّو اور مدنی منّیو!ہزاروں سال پہلے عِراق کے مشہور شہر ”مَوْصِل“ (Mosul) کے عَلاقے نِیْنَوٰ ی (Nineveh) میں ایک بُت پَرَست قوم آباد تھی، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اُن کی ہِدایت کے لئے حضرتِ سیِّدُنا یونس علٰی نَبِیِّنَاوعلیہ الصَّلٰوۃ وَالسَّلام کو بھیجا، آپ 40 سال تک اُنہیں ایمان کی دعوت دیتے رہے، لیکن وہ لوگ آپ پر ایمان نہ لائے، لہٰذا آپ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے حکم سے اُنہیں تین دن بعد عذاب آنے کی خبردیدی۔ لوگوں کو پتا تھا کہ آپ علیہ السَّلام کبھی جھوٹ نہیں بولتے، اُنہوں نے آپس میں کہا: اگر یہ رات یہیں ٹھہرتے ہیں تب تو عذاب کا اندیشہ نہیں لیکن اگر تشریف لے جاتے ہیں تو ضرور عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی تو آپ علیہ السَّلام وہاں سے تشریف لے گئے۔ صبح ہوئی تو عذاب کی نشانیاں نظر آنے لگیں، آسمان پر خوفناک کالا بادل آگیا، اور بہت سارا دُھواں جمع ہوکر پورے شہر پر چھا گیا۔ لوگوں کو یقین ہوگیا کہ عذاب آنے والا ہے، لہٰذا سب لوگ اپنے گھر والوں اور جانوروں سمیت جنگل کی طرف نکل گئے، رورو کر بارگاہِ اِلٰہی میں کفر سے توبہ کی اور ایمان لے آئے۔ اُن کی سچّی توبہ اور اِخلاص کی بدولت اللہ عَزَّوَجَلَّ  نے اُن پر رَحْم فرمایا اور اُن سے عذاب اُٹھالیا۔ اُدھرآپ علیہ السَّلام ایک کشتی میں سوار کہیں جارہے تھے کہ  لوگوں نےغلط فہمی کی بنیاد پر آپ علیہ السَّلام کو دریا میں ڈال دیا۔ اِتنے میں ایک بڑی مچھلی (Fish)نُمودار ہوئی اور آپ کو نگل گئی۔حضرتِ سیِّدُنا یونس علٰی نَبِیِّنَاوعلیہ الصَّلٰوۃ وَالسَّلام کو کئی اندھیروں کا سامنا تھا، رات کا اندھیرا، دریا کا اندھیرا، مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا، اِن اندھیروں میں آپ نے یہ دعائیہ کلمات پڑھے: (لَا اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ ﳓ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ(۸۷)) (پ17، الانبیاء:87) (ترجمہ: تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو ہر عیب سے پاک ہے، بے شک مجھ سے بے جا ہوا)۔(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  اس آیتِ کریمہ کی بدولت اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کو عاشُورا یعنی 10 مُحَرَّمُ الْحَرَام کو کئی دن مچھلی کے پیٹ میں رکھنے کے بعد آزادی عطا فرمائی۔ مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے آپ  علیہ السَّلام کو ”ذُوْالنُّوْن“بھی کہا جاتا ہے۔

حدیث شریف میں ہے:جو مسلمان اِن کلمات کے ذریعے  دعا مانگے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس کی دعا قبول فرمائے گا۔ اِن دُعائیہ کلمات کو ”آیتِ کریمہ“ بھی کہا جاتاہے۔کچھ اُس مچھلی کے بارے میں: ٭اُس مچھلی کا نام ”نَجْم“تھا۔ ٭وہ مچھلی بڑے سَر والی اور پوری کشتی کو نگلنے کی صلاحیت رکھنےوالی تھی۔ ٭ایک نبی علیہ السَّلام کی چند روز کی صحبتِ بابرکت  کی وجہ سے وہ مچھلی جنت میں جائے گی۔ ٭عُلَما فرماتے ہیں: اُس مچھلی کا پیٹ چند دن ایک نبی علیہ السَّلام کی تجلّیات کا مرکز رہنے کی وجہ سےعرشِ اعظم سے افضل ہے۔ کَدُّو کا درخت:مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے آپ علیہ السَّلام بہت زیادہ کمزور ہوگئے تھے، جسم کی کھال بہت نرم ہوگئی تھی، اور بدن پر کوئی بال باقی نہیں بچا تھا، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے لئے کَدُّو (Gourd) کا درخت اُگایا تاکہ آپ اُس کے پتّوں کے سائے میں آرام کریں اور مکھیوں سے بھی حفاظت ہو، یہ آپ علیہ السَّلام کا معجزہ تھا کہ کَدُّو جس کی بیل زمین پر ہوتی ہے آپ کے لئے سایہ دار درخت بن گیا۔ صبح و شام ایک بکری آتی اور آپ اُس کا دودھ پیا کرتے، یوں آپ علیہ السَّلام کے جسم کی کھال مضبوط ہوگئی، بال جمنا شروع ہوگئے اور کمزوری دور ہوگئی۔ اِس کے بعد آپ علیہ السَّلام دوبارہ اپنی قوم کے پاس تشریف لے آئے، ایک لاکھ سے زیادہ لوگ آپ پرایمان لائے۔([1])

حکایت سے حاصل ہونے والے مدنی پھول: پیارے مَدَنی مُنّو اور مَدَنی مُنِّیُو!٭ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے پیاروں کی بات ماننے میں ہی بھلائی ہے ٭آفتوں، مصیبتوں اور بلاؤں سے بچنے کے لئے توبہ و اِستِغْفار بہترین عمل ہے، جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا یونس علیہ السَّلام  کی قوم نے توبہ کی تو عذاب ٹَل گیا ٭اِخلاص سے  کی گئی دُعا قُبول ہوتی ہے ٭آزمائشوں پر صبْر کرنا چاہئے ، جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا یونس علیہ السَّلام  نے کیا ٭ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل و رحمت سے آیتِ کریمہ کا وِرْد کرنے والے کی پریشانیاں دور ہوجاتی ہیں۔



([1])۔۔(ماخوذ از صراط الجنان،ج 4،ص379 ملخصاً۔ج 6،ص365،ملخصاً ۔ج8،ص345 ۔ 347 ۔ 349۔ 352ملخصاً ۔ الغنیۃ  ج 2،ص91۔ مراٰۃ المناجیح، ج3،ص334ملخصاً۔ ترمذی، ج5،ص302، حدیث:3516۔ در منثور،ج7،ص125۔ قرطبی،8ج،ص92۔ روحُ البیان،ج5،ص226مفہوماً۔ خزائن العرفان ، ص 835ملخصاً)

Share

مچھلی کے پیٹ میں

ایک پرندہ درخت کی شاخ پر بیٹھاتھا،اچانک اس کی نظر زمین پربکھرے ہوئے دانوں پر پڑی جو دراصل ایک شکاری نے اُسے پکڑنے کے لئے پھیلائے تھے، دانوں کے لالچ نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور وہ بغیرسوچے سمجھے زمین پر اُترا اور مزے سے دانےچُگنے لگا، ابھی اس نے چند دانے ہی کھا ئے  تھے کہ ایک جال اُس پر گِرا اور وہ پرندہ اُس میں پھنس گیا۔ شکاری نے اسے پکڑا، ذَبح کیا اور بھون کرکھاگیا۔ اس کے بعد شکاری نے دوسرے پرندے کو پکڑنے کے لئےایک اور جگہ دانے ڈالے مگروہ پرندہ لالچ میں نہ آیااورخطرے کو بھانپ (یعنی سمجھ)گیا ، اُس نے جنگل کی راہ لی ،یوں وہ شکاری کے جال میں پھنسنے سے بچ گیا۔(مثنوی مولانا روم، ص293ملخصاً وملتقطاً)

پیارے پیارے مَدَنی مُنّو اور مَدَنی مُنِّیُو!دیکھا آپ نے کہ شکاری نے دانہ دونوں پرندوں کے لئے ڈالا مگر پہلا پرندہ لالَچ میں آگیا اوربغیرسوچے سمجھے اسےکھانے کے لئے اُترااور شکاری کا شکار ہوگیا،اس سے یہ مدنی پھول سیکھنے کو ملا کہ ہمیں کوئی بھی کام بغیرسوچے سمجھے نہیں کرنا چاہئے بلکہ وہ کام کرنے سے پہلے اچّھی طرح غور کرلینا چاہئے کہ جو کام ہم کر نے جارہے ہیں کہیں اس میں ہمارا نقصان تونہیں؟مثلاً گلی محلے  یا سفر وغیرہ میں اپنے ماں باپ کی اجازت کے بغیرکسی اجنبی شخص (یعنی جسے آپ نہ جانتے ہوں) سے کوئی ٹافی وغیرہ لے کر نہ کھائیں ہوسکتا ہے کہ اس میں بے ہوشی کی دوا (Medicine) ملی ہو جسے کھا کر آپ بے ہوش ہو جائیں اور وہ اجنبی آپ کو اغوا کرکے لے جائے۔اسی طرح یہ بھی دیکھ لینا چاہئے کہ جو کام ہم کرنے لگے ہیں وہ گناہ کا کام تو نہیں؟کہیں ایسا نہ ہو کہ کچھ دیر کے مزے کی خاطر ہم شیطان کے جال میں پھنس کر اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو ناراض کردیں،جیسے کسی کا مذاق اُڑانے، نام بگاڑنے اور کسی کی چیز زبردستی کھاجانے  میں مزا تو بہت آتا ہے لیکن ایسا کرنے سے دوسروں کی دل آزاری ہوتی ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ بھی ناراض ہوتاہے ۔

Share

Articles

Gallery

Comments


Security Code