کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب

فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم:اولادِ آدم مختلف طَبقات پر پیدا کی گئی، ان میں سے بعض مؤمن پیدا ہوئے، حالتِ ایمان پر زندہ رہے اور مؤمن ہی مریں گے، بعض کافر پیدا ہوئے، حالتِ کُفر پر زندہ رہے اور کافِر ہی مریں گے جبکہ بعض مؤمِن پیدا ہوئے مؤمِنانہ زندگی گزاری اور حالتِ کُفر پر مریں گے، بعض کافِر پیدا ہوئے، کافِر زندہ رہے اور مؤمِن ہو کر رخصت ہوں گے۔(ترمذی،ج4،ص81،حدیث:2198) میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ایمان اَنمول دولت ہے، دنیا میں جیتے جی مؤمِن ہونا یقیناً باعثِ سعادت ہے مگر یہ سعادت اس وقت مکمل ہوگی جب دنیا سے رخصت ہوتے وَقت بھی ایمان سلامت رہے۔ ہر ایک کو اپنے بارے میں یہ خوف رکھنا چاہئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھ سے کوئی ایسا قَول یا فِعل صادِر ہوجائے جس کے سبب مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّایمان برباد ہوجائے اور کیا کرایا سب اَکارت جائے، کُفر ہی پر خاتمہ ہوکر  ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جہنّم مقدَّر ہوجائے۔

آج کل فلموں ڈِراموں، گانوں باجوں، اخباری مضمونوں، جِنسی و رُومانی ناوِلوں، ڈائجسٹوں اور مزاحِیہ چُٹکُلوں کی کیسٹوں وغیرہ کے ذَرِیعے کُفرِیّہ کلمات عام ہوتے جارہے ہیں۔ عُلَما کی صحبتوں سے محروم، اسلامی ماحول سے دُور، غیر سنجیدہ  اور بَڑ بَڑ کرنے والوں کی فُضُول بیٹھکوں میں علمِ دین سے دُوری کے باعث بسا اوقات کُفرِیَّہ کلمات بھی بک دیئے جاتے ہیں حالانکہ کفریہ کلمات سے متعلق علمِ دین حاصل کرنا فرض ہے جیسا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہِ رحمۃُ الرَّحمٰن فتاویٰ شامی کے حوالے سے فرماتے ہیں:حرام الفاظ اور کُفرِیَّہ کلمات کے مُتَعَلِّق عِلْم سیکھنا فرض ہے، اِس زمانے میں یہ سب سے ضَروری اُمُور ہیں۔(فتاویٰ رضویہ ،ج23،ص626۔رد المحتار،ج1،ص107)

اَلْحَمْدُللّٰہ عَزَّوَجَلَّ شیخِ طریقت، اَمیرِ اَہلِ سنّت حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اصلاحِ اُمّت کے مُقَدَّس جذبے کے تحت جہاں دیگر موضوعات پر کتابیں تحریر فرمائیں وہیں اس موضوع پر بھی 692 صفحات کی ایک ضخیم اور عظیم کتاب بنام کُفریّہ کلمات کے بارے میں سوال جواب بھی تالیف فرمائی جس میں کئی سو کُفریّہ اقوال اور ان کے احکام بیان کئے گئے ہیں۔ پیچیدہ اور اَہم موضوع کو آسان بنانے کے لئے حتی الامکان مشکل الفاظ سے بچتے ہوئے سوال و جواب کا انداز اختیار فرمایا ہے۔ کتاب 41 مختلف ابواب پر مشتمل ہے۔ ٭ابتدا میں ایمان کی اہمیت و افادیت، سلبِ ایمان کا خوف اور ایمان کی حفاظت و سلامتی کا احساس بیدار کیا گیا ہے۔ ٭اَہم اصطلاحات مثلاً ایمان، کُفر، ضَروریاتِ دین، توحید، شرک، نفاق وغیرہ کو آسان فہم انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد مختلف ابواب میں ٭ اللہ  عَزَّوَجَلَّ، ٭قراٰنِ پاک، ٭انبیائے کرام، ٭فرشتوں، ٭علمِ دین، ٭علمائے کرام، ٭شریعت، ٭نماز، ٭رمضان اور ٭اذان وغیرہ دینی شعائر کا مذاق اڑانے اور بے ادبی و توہین کرنے کا حکمِ شرعی بیان کیا گیا ہے نیز ٭گانوں اور ٭اشعار کی صورت میں  اللہ  عَزَّوَجَلَّ کی ناشکری، ٭ذاتِ باری تعالیٰ پر ہونے والے اعتراضات اور ٭فوتگی ومصیبت کے موقع پر بولے جانے والے کُفریات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ آخر میں ٭تجدیدِ ایمان اور ٭تجدیدِ نکاح کا طریقہ اور ٭کتاب کے متعلق متوقع وَسوسے اور ان کا علاج پیش کرتے ہوئے ٭ایمان کی حفاظت کا وظیفہ ذکر فرمایا ہے۔ اس کتاب میں گویا ”سمندر کو کوزے میں بند کردیا گیا ہے“

پاک و ہند کے کئی جیّد علمائے دین و مفتیانِ شرع متین کی تصدیقات بھی ابتدائی صفحات میں شامل ہیں۔ بلامبالغہ اردو زبان میں ایمانیات اور کُفریات کے موضوع پر اس سے زیادہ جامع، مفید اور اَہم کتاب آج تک دیکھنے میں نہیں آئی۔ ایمان کی حفاظت کے بارے میں ضَروری معلومات جاننے کے لئے اس کتاب کا مطالعہ بہت ضروری ہے، یہ کتاب مکتبۃ المدینہ سے ہدیۃً حاصل کی جاسکتی ہے نیز اسے نیچے دیئے گئے لنک سے ڈاؤن لوڈ بھی کیا جاسکتا ہے۔(https://www.dawateislami.net/bookslibrary/707)

Share

Articles

Comments


Security Code