تقدیر کیا ہے؟(قسط:1)

تقدیر کیا ہے؟: دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اور بندے جو کچھ کرتے ہیں نیکی ،بَدی وہ سب اللہ تعالیٰ کے علمِ ازلی([1])کے مطابق ہوتا ہے۔ جو کچھ ہونے والا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور اس کے پاس لکھا ہوا ہے۔(کتاب العقائد،ص24)

تقدیر کا ثبوت: تقدیرکا ثبوت قراٰن وحدیث میں موجود ہے جیساکہ اس آیتِ مبارکہ میں ہے: (اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ(۴۹)) ترجمۂ  کنزالایمان:بیشک ہم نے ہر چیز ایک اندازہ سے پیدا فرمائی۔(پ27،القمر:49) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

حضورِ اکرم، سیّدِ دوعالَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِیمان کےمتعلق پوچھنے والےکےجواب میں چھ چیزیں اِرشاد فرمائیں:

(1)اللہ(عَزَّوَجَلَّ)(2)فرشتوں(3)اللہ(عَزَّوَجَلَّ)کی نازل کردہ کتابوں (4)رسولوں (5)قیامت کے دن اور (6)اچھی یا بُری تقدیر کا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہونے پر ایمان لانا۔(مسلم ، ص 33،حدیث:93)

تقدیر کے انکارکا حکم: تقدیر کا انکار کفرہے(منح الروض الازہر، ص69) حضوراکرمصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنےتقدیرکاانکار کرنے والوں کواس”اُمّت کا مجوس“قرار دیاہے۔(ابو داؤد، ج 4،ص294،حدیث:4691)

تقدیر کے متعلق بحث کرنا منع ہے: یاد رہے کہ عقیدۂ تقدیر، اسلامی عقائد میں نہایت نازُک اورپیچیدہ ہے۔ اس کے بارے میں بحث کرنے، کیوں؟ اور کیسے؟ کی طرح کے سوالات کرنے سے منع کیا گیاہے جیساکہ ترمذی شریف میں ہے: حضرت سیّدناابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہنےفرمایا کہ حضورِاکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہمارے پاس تشریف لائے حالانکہ ہم مسئلۂ تقدیر پر بحث کررہے تھے تو آپ   صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  ناراض ہوئے حتّٰی کہ چہرہ ٔ انور سُرخ ہوگیا گویا کہ رُخساروں میں انار نچوڑ دیئے گئے ہیں  اور فرمایا کیا تمہیں اس کا حکم دیا گیا ہے؟ یا میں اسی کے ساتھ تمہاری طرف بھیجا گیاہوں؟ تم سے پہلے لوگوں نے جب اس مسئلہ میں جھگڑے کئے تو ہلاک ہی ہوگئے  میں تم پر لازم کرتا ہوں کہ اس مسئلہ میں نہ جھگڑو۔ (ترمذی،ج 4،ص51، حدیث:2140)

تقدیر پرایمان کے فوائد: (1)مصائب وبیماریوں میں صبر کرنا اور خود کشی جیسےحرام کام سے محفوظ رہنا، کیونکہ ان کاآنا تقدیر کے مطابق اورآزمائش ہے۔(2) اللہ عَزَّوَجَلَّ کی تقسیم اور مشیئت پر راضی رہنا۔(3)انسان ماضی کی محرومیوں پَر پُرملال، حال کے حالات  میں پریشان اورمستقبل سے خوف زدہ نہیں رہتا۔ (4) تقدیر پر ایمان لانے والا مخلوق کے بجائے خالق سے لَو لگاتاہے۔ (5) تقدیر پر ایمان”حسد“ کا بہترین علاج ہے۔

اللہ عَزَّوَجَل سے دعا ہے کہ ہمیں زندگی بھر اہلِ سنّت و جماعت کے عقائدِ حَقَّہ اختیار کرنے کی توفیق اور ان ہی پر موت عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم



([1]) خدا کا قدیم علم جو ہمیشہ سے ہے۔

Share

Articles

Comments


Security Code