موت کی تمنا کرنا کیسا؟

رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: لَا یَتَمَنَّیَنَّ اَحَدٌ مِّنْکُمُ الْمَوْتَ اِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّہٗ اَنْ یَّزْدَادَخَیْرًاوَاِمَّا مُسِیْئًا فَلَعَلَّہٗ اَنْ یَّسْتَعْتِبَ یعنی تم میں سے کوئی موت کی تمنّا ہرگز نہ کرے (کیونکہ) یا تو وہ نیکوکارہوگا تو شاید وہ نیکیاں بڑھائے یا وہ گنہگار ہوگا تو شاید وہ توبہ کرلے۔(نسائی، ص 311، حدیث: 1815)

مؤمن کے لئے دُنیاوی زندگی اللّٰہ تعالٰی کی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے کیونکہ اسی دنیا میں وہ اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کو راضی کرنے والے کام کرسکتا ہے اور اپنی آخرت کو بہتر بنا سکتا ہے۔ اور اگر اس سے گُناہ سَرزَد ہوئے ہیں تو یہاں اس کو توبہ کی مُہلت بھی ملی ہوئی ہے۔ اس لئے موت کی تمنّا نہیں کرنی چاہئے۔

مُفَسِّرِ قراٰن،حکیمُ الاُمّت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں: مؤمن کی زندگی بہرحال اچھی ہے کیونکہ اعمال اسی میں ہوسکتے ہیں۔ مزید فرماتے ہیں: زندگی کا زمانہ تُخْم(بیج) بونے کا زمانہ ہے جو بوئے گا، آگے چَل کر کاٹے گا، بدکار اگر توبہ کرے گا تو اسی زندگی میں، نیک کار نیکیاں بڑھائے گا تو اسی زندگی میں۔(مراٰۃ المناجیح، ج2،ص436،ملتقطاً )

مؤمن کا طویل عُمر پانا اور اس میں نیک عمل کرنا باعثِ سعادت ہےچنانچہ مسندِاحمد کی حدیث میں ہے:وَاِنَّ مِنَ السَّعَادَةِ اَنْ يَطُوْلَ عُمْرُ الْعَبْدِ وَيَرْزُقَہُ اللہ الْاِنَابَةَ یعنی نیک بختی میں سےیہ ہےکہ بندےکی عُمر طویل ہواور اللّٰہ تعالٰیاسے(اپنی طرف) رجوع کرنا نصیب کرے۔(مسنداحمد،ج5،ص87، حدیث: 14570)

حافظ ابنِ حَجر ہَیْتَمِیرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: یعنی اللّٰہ تعالٰی کے احکام کی بَجاآوَرِی، اس کی منع کردہ باتوں سے بَچ کر اور سچی توبہ اوراِخلاص کے ساتھ اسے اللّٰہ تعالٰی کی طرف رجوع کرنا نصیب ہوجائے(تو یہ سعادت کی بات ہے نیز موت کی تمنّا کرنا اس لئے منع ہے کہ) انسان اپنے ربّ کی عبادت اور اُخْرَوِی کامیابی کو حاصل کرنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور اس کی زندگی اس کا رَأسُ المال ہے (یعنی اسی کے ذریعے وہ یہ سعادَت حاصل کرتا ہے) تو اس زندگی کا ختم ہوجانا اس فائدے کے ختم ہونے کو لازم ہے اور یہ بہت بڑا نقصان ہے۔(فتح الالہ فی شرح المشکاۃ،ج 6،ص20، تحت الحدیث: 1613)

یہ یاد رہے موت کی تمنّا اس صورت میں ممنوع وناجائز ہے جبکہ یہ دُنیاوی مصیبت کی وجہ سے ہو، اگر یہ تمنّا اللّٰہ تعالٰی سے ملاقات، سیّدُنَا وَحَبِیْبُنَا آقائے کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زیارت وملاقات یا نیک صالح بزرگوں سے ملاقات کے لئے ہو یا جب اس کے دِین میں نقصان ہو رہا ہو تو  موت کی تمنّا کرنا جائز ہے۔ جیساکہ رئیس اُلمتکلمین حضرت علامہ مولانا نقی علی خان علیہ رحمۃ  الرَّحمٰن فرماتے ہیں: یہ دعا (یعنی مرنے کی دعا) بسببِ شوقِ وَصْلِِ الٰہی(اللہ تعالٰیکی بارگاہ میں حاضری کے شوق) و اِشْتِیاقِ لِقائے صالحین (نیکوں سے ملاقات کی تمنّا کی وجہ سے)  دُرست ہے۔ اسی طرح جب دین میں فتنہ دیکھے تو اپنے مرنے کی دعا جائز ہے۔(فضائلِ دعا، ص 182)

امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ  الرَّحمٰن فرماتے ہیں: خلاصہ یہ کہ دُنْیَوی مَضَرَّتوں(نقصانات) سے بچنے کے لئے موت کی تمنّا ناجائز ہے اور دینی مَضَرَّت (دینی نقصان) کے خوف سے جائز کَمَا فِی الدُّرِّالْمُخْتَار وَالْخُلَاصَۃِ وَغَیرِہِمَا(جیسا کہ در مختار،  خلاصہ اور دیگر کتب میں ہے )۔(ملخص اَز فضائلِ دعا، ص 183)

Share

Articles

Comments


Security Code