فالسہ اور پالک

فالسہ(GREWIA ASIATICA)اور اُس کے فوائد

فالسہموسم گرما کا ایک مفید پھل ہے،اِسے نمک یا مصالَحہ وغیرہ لگا کر ویسے بھی کھایا جاتا ہے اور اِس کا جوس بنا کر بھی پیا جاتا ہے۔ فالسے کے کثیرفوائد ہیں۔چندفوائدمُلاحَظہ کیجئے:

٭فالسہ گرمی کی شدّت سے محفوظ رہنے اور پیاس بجھانے کا اَہَم ذریعہ ہے، خُصوصاً لُو(Heat Stroke)لگنےکی صورت میں بہت مفید ہے۔ ٭فالسہ معدہ وجگرکو تقویت دیتا اور جسم سے گرمی کا اِخراج کرتا ہے۔٭ معدے کی گرمی، سینے کی جَلن، مسوڑھوں سے خون آنے کے مرض میں بھی مفید ہے۔ ٭فالسہ دَست (Motion)، قے(Vomiting) اور ہچکی (Hiccup) دُور کرتا ہے۔ ٭فالسے کا شربت دِل و دِماغ کو فرحت بخشتا ہے۔٭فالسہ خون ودِل کے اَمراض دُور کرنے کی بھی تاثیر رکھتا ہے۔ ٭پیشاب کی سوزش ختْم کرتا ہے۔٭گرمی کے بخار میں مفید ہے۔ ٭پھوڑے پھنسیوں پر فالسے کے پَتّے رگڑ کر لگانا مفید ہے۔ (مختلف ویب سائٹس سے ماخوذ) ٭ فالسے کے پھول بلڈپریشر(Blood pressure)سے حفاظت، دل(Heart)، مِعدہ (Mode)، جگر (Liver)  کو طاقت دینے، جلن، سوزاک کو دُور کرنے، دل ودماغ کو فرحت بخشنے، دَست اور قے کو روکنے، ہچکی اور تپ  دِق (Tuberculosis) کو دُور کرنے، پیشاب کو صاف کرنے میں مفید ہیں۔

(پھلوں، پھولوں اورسبزیوں سے علاج، ص126)

اِحتیاط: کچّے اورتُرش فالسے کا اِستِعمال گلے وغیرہ کیلئے نقصان دہ ہے، لہٰذا ہمیشہ پکا ہوا اور میٹھا فالسہ کھانا چاہئے۔

پالک(Spinach)اور اُس کے فوائد

ماہِرین کے مطابق پالک سب سے پہلے عَربوں نےفصل کے طور پر کاشت کی، پھر یہ تمام دنیا میں پھیل گئی۔پالک کا مزاج سَرْدتر ہے،سَرْدعلاقوں میں خوب پھلتی پھولتی ہے۔ اِسے بطورِسالن آلوپالک، پالک گوشت وغیرہ کے طورپر پکایا جاتا اورپکوڑوں سموسوں میں بھی ڈالا جاتا ہے،بعض حکما کے نزدیک کشتۂ فولاد اِتنی طاقت فراہم نہیں کرتا جتنا کہ پالک کا مسلسل استعمال فراہم کرتاہے۔پالک میں نمکیات،تانبا، فولاد، وٹامنز A ،B،C،H، P بکثرت ہوتے ہیں۔ (سبزیوں سے علاج، ص69-70) چند فوائد مُلاحَظہ کیجئے:

٭پالک ایک قبض کُشا سبزی ہے۔ ٭پیاس میں مفید ہے۔ ٭پیشاب آور ہے، جگرکی کمزوری  دور کرتی ہے۔ ٭حامِلہ عورتوں کیلئے بہت مفید ہے۔ ٭قوّتِ بینائی کو بھی تیز کرتی ہے۔ ٭پٹھوں (Muscles) کو ناکارہ ہونے سے بچاتی ہے۔(علاج بالغذا،ص184)٭جگرکی گرمی، جسم میں دَرْد، خُصوصاً ہڈّیوں میں دَرْد، یاچوٹ کی وجہ سے درد ہوتوپالک کا سوپ وقفے وقفے سے پینا مفید ہے۔(سبزیوں سے علاج، ص70)

 اِحتیاط: گٹھیا، پتھری ،یورِک ایسڈ(Uric Acid)اور جگر کی بیماریوں میں مبتلا افراد پالک سے پرہیزکریں۔

(علاج بالغذا ، ص185، آداب طعام، ص626)

نوٹ: تمام دوائیں اپنے طبیب(ڈاکٹر)کے مشورے سے ہی استعمال کریں۔

Share

Articles

Comments


Security Code