پانی اور صحت

(اس مضمون کی تیاری میں مدنی چینل کے سلسلے ’’ مدنی کلینک ‘‘ سے بھی مدد لی جاتی ہے)

قُراٰنِ پاک میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کا فرمانِ عالیشان ہے:

(وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّؕ-)  ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی۔(پ17،الانبیاء:30)(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) یعنی پانی کو جانداروں کی حیات کا سبب کیا۔(خزائن العرفان)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!پانی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کی عظیم نعمت اور انسانی زندگی کا ایک ایسا جزو ہے جس کے بغیر زندگی کا تصور ناممکن  ہے۔جسمِ انسانی میں پانی کی مقدار:انسانی جسم میں تقریباً 65 سے 70 فیصدپانی ہوتاہے، انسانی دماغ کا 85 فیصدحصّہ پانی پر مشتمل ہے جبکہ خون میں بھی تقریباً 90فیصد پانی اور 10فیصد ٹھوس اجزا ہوتے ہیں۔پانی کتنا پیا جائے؟: ہرشخص کو روزانہ کم اَزْکم 12گلاس پانی پینا چاہئے،اس کا فائدہ یہ ہے کہ جسم میں موجود فاضل مادّوں کے اِخراج میں آسانی ہوتی ہے۔ پیشاب زیادہ آنے کے خوف سے پانی پینے میں کمی نہ کریں کہ پانی کم پینے کی بدولت ہونے والی تکالیف بار بار استنجاخانے جانے کی زحمت سے کہیں زیادہ ہیں۔پانی اُبال کر استعمال کیجئے: سادہ اور صاف ستھرا پانی اُبال کر پینے کی عادت بنائیے، یا پھرکسی اچّھی کمپنی کاMineral Water استعمال فرمائیے۔ پہاڑی علاقوں کے چشموں میں پایا جانے والا پانی جسم کے مطلوبہ مَعدِنِیات (Minerals)سے مالا مال ہوتا ہے،ممکنہ صورت میں اُس کا استعمال فرمائیں۔جسم میں پانی کی کمی کے نقصانات:جسم میں پانی کی مقدار کا کم ہوجانا (Dehydration) مُتعدَّداَمراض اورطبّی پیچیدگیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے، اس سے خون پر بھی منفی (Negative) اثر پڑتا ہے اور خون جمنے کی کیفیت پیدا ہوسکتی ہےنیزمنہ سے بدبو آنے کا ایک سبب پانی کم پینا بھی ہے۔جسم میں پانی کی کمی کی علامات:زبان کا رنگ بدل جانایا پیشاب کا رنگ تبدیل ہوجانا وغیرہ۔پانی کی کمی چیک کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اپنے جسم کی کھال کو پکڑ کر تھوڑا سا کھینچ کر چھوڑیں،اگر وہ فوری طور پر اپنی جگہ چلی جائے تو پانی کی کمی نہیں  جبکہ پانی کی کمی کی صورت میں کھال بہت آہستَہ اپنی حالت پر جاتی ہے۔ٹھنڈے پانی کا استعمال:سادہ پانی کا استعمال صحت کے لئے بہتر ہےجبکہ بہت زیادہ ٹھنڈا پانی پینا نقصان دہ ہے، ایسا پانی مِعْدے پر اثر کرتا ہے۔ اس کے جسم میں جانے سے رَگیں اور شِریانیں سُکڑ جاتی ہیں نیز ہاضمےکےلئےکام کرنے والے مادے(Enzymes) کام کرنا بند کر دیتے ہیں اوردل کی دھڑکن میں کمی آجاتی ہے۔ دوا بھی ٹھنڈے پانی کے ساتھ استعمال نہ کی جائے ورنہ دوا کی افادیت کم ہوسکتی ہے۔  مٹکے(بڑے گھڑے) کا ٹھنڈا پانی نقصان دہ نہیں۔ کیا ٹھنڈی بوتلیں پانی کا متبادل ہو سکتی ہیں؟: Cold Drinks،Soft Drinks،Energy Drinks اور Juicesوغیرہ پانی کا مُتَبادِل نہیں ہوسکتے، ان میں مختلف کیمیکلز شامل ہوتے ہیں جن کے نقصانات بہت زیادہ ہیں۔اِن مشروبات میں شوگر کی بہت زیادہ مقدار شامل ہوتی ہے لہٰذا ان کے پیٹ میں جاتے ہی اِنسولین کا لیول بڑھ جاتا ہے جو کہ ذیابیطس(شوگر) کے مرض کا سبب بن سکتا ہے۔ 250ملی لیٹر کی ایک بوتل میں  تقریباً سات چمچ چینی (SUGAR) ہوتی ہے۔ چینی والی کولڈ ڈرنک پینے سے دانتوں  اور ہَڈّیوں  کو نقصان پہنچنے، خون میں  شوگر کی مقدار بڑھنے، دل (Heart)اور جِلد (Skin) کے اَمراض پیدا ہونے کے اِمکانات بڑھتے ہیں  نیز اِس سے موٹاپا بھی آتا ہے۔ (فیضانِ سنت، ج 1،ص1712) مدنی مشورہ: بازاری مشروبات کے بجائے گھر میں تربوز، فالسے وغیرہ کا جوس یا آم، کیلے وغیرہ کا Milk Shakeبنا کر استعمال فرمائیں، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  طبّی فوائد کے ساتھ ساتھ اسے لذیذ اور فرحت بخش بھی پائیں گے۔فالسے کا شربت بنانے کا طریقہ: فالسہ: 100گرام، چینی:1چمچ، پانی:2گلاس، نمک: حسبِِ ذائقہ۔فالسے کو پانی میں ڈال کر اچّھی طرح بلینڈ (Blend) کرکے چھان لیں اور پھر اس میں نمک و چینی شامل کرلیں، شربتِ فالسہ تیار ہے۔ فوائد: شربتِ فالسہ دھوپ کی وجہ سے جسم میں ہونے والی پانی کی کمی کو پورا کرتا ،پیاس کی  شدت کو کم کرتا اور بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کے مریضوں کے لئے بھی مفید ہے۔ نوٹ:بلڈ پریشر اور شوگر کے مریض نمک چینی اپنے طبیب کے مشورے سے استعمال فرمائیں۔ کھانے کےبعدپانی پینا کیسا؟: کھانے سے پہلے اور کھانے کے درمیان پانی پینا صحت کے لئے نہایت مفید ہے، کھانے سے پہلے پانی پینے والا اپنے مِعدے کا کچھ حصّہ  پانی سے بھر لیتا ہے۔ عُموماً بھوک اس وقت لگتی ہے جب مِعْدہ تقریباً خالی ہوتا ہے، اس حالت میں پانی پینے سے تیزابیت میں کمی آتی ہے اور پیٹ کی دیواریں بھی صاف ہوجاتی ہیں۔ بِالْخصوص اَلْسَر اور بدہضمی کے شکار افراد کے لئے کھانے کے درمیان پانی پینا زیادہ فائدہ مند ہے۔کھانے کے آخر میں پانی پینے والوں کا ہاضمہ متاثر ہوتا ہے۔یاد رکھئے ! کھانے کے بعد پانی پینے سے بدن پھولتا ،وزن بڑھتا اورموٹاپا آتا ہے۔ لہٰذا کھانے کے بعد کم سے کم پانی پئیں  ہاں کھانے کے دوران تھوڑا تھوڑا پانی پیتے رہنا مفید ہے۔ کھانے کے بعد خوب پانی غٹ غٹانے کے عادی کا بدن اگر پھول جائے تو اِس کا علاج وہ دوا سے کرنے کے بجائے اپنی عادت کی اصلاح سے کریگاتو ہی ہوسکے گا۔(فیضانِ سنّت ،ص470)

کھانےبِالْخصوص مُرَغَّن اورتلی ہوئی چیزیں کھانےکے بعد ٹھنڈا پانی یا ٹھنڈی بوتلیں(Cold Drinks) پینے کے نقصانات عام حالات سے زیادہ ہوتے ہیں،اس سے پِتّے کی پَتھری بھی ہوسکتی ہے۔فرنچ فرائز (French Fries)کھانے کے بعد کولڈ ڈرنک پی جائے تو ایک تحقیق کے مطابق نظامِ ہاضمہ کی نارمل رفتار کے مطابق اسے ہضم ہونے میں دو ہفتے لگ سکتے ہیں۔

شدّتِ پیاس سے  حفاظت کا وظیفہ:یَامَجِیْدُ جو گرمیوں  میں پڑھے گا  اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پیاس سے مامون رہے گا۔(مدنی  پنج سورہ،ص253)

مدنی مشورہ:سنّت کے مطابق پانی پینے کا طریقہ جاننے کے لئے رسالہ”163مدنی پھول(ص2) ملاحظہ فرمائیے۔

Share

پانی اور صحت

بعض لوگوں کا کسی بیماری یا مختلف وجوہات کے سبب سَر چکراتا ہے، ایسی صورت میں ہر چیز گھومتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ سَرچکرانے کے سبب بندہ گِربھی سکتاہے جو معمولی اور شدید  دونوں طرح کی چوٹ کا سبب بن سکتاہے۔ چکر آنے کے چند اَسباب اور اِحتیاطی تدابیر بیان کی جارہی ہیں جن پر عمل کرنا فائدہ مند ہے:چکر آنے کے اسباب:(1)بہت زیادہ تھکاوٹ (2) ذِہنی پریشانی (3)بے خوابی(یعنی نیند کا پورا نہ ہونا) (4)بلڈپریشر میں کمی (5)سَردَرْد (6)نزلہ و زُکام (7)مِعدے میں خرابی یا گیس کی شکایت (8)خون کی کمی (9)کسی دوائی کے مُضِر اَثَرات وغیرہ۔کانوں میں آوازیں آنا: سر چکرانے کے ساتھ ساتھ  کانوں میں شاں شاں کی آوازکا آنا عموماً کان کے اندرونی حصے میں خرابی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ علاج:سرچکرانے کے اسباب کو دور کرنے سے چکر آنا ختم ہوجاتے ہیں یعنی سَردرد، نزلہ و زکام  اور معدہ وغیرہ کا علاج کیا جائے اور نیند و آرام کی کمی پوری کی جائے۔اگر سَرچکرانے کا سبب خون کی کمی  ہو تو ایسے مریضوں کے تمام ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں مثلاً بلڈ پریشر،شوگر، ایکسرے اور ایم آر آئی(M.R.I) وغیرہ۔ اگر ٹیسٹ میں کوئی بیماری سامنے نہیں  آتی  تو انہیں عام  چکر قرار دیا جاتا ہے جو کہ دو سے تین ہفتوں میں خود ہی ختم ہوجاتے ہیں۔ احتیاطیں:سر چکرانے کے مریض دوائی کے ساتھ ساتھ چند احتیاطی تدابیر لازمی اپنائیں: (1)بستر سے جَھٹکے یا تیزی سے نہ اُٹھیں (2)سیڑھیاں آہستہ چڑھیں اور اُتریں (3)اکیلے باہر نہ جائیں (4)سَڑَک(Road) پار کرنے کے لئے کسی کا ہاتھ تھام لیں (5)گاڑی وغیرہ میں سُوار ہوں تو آہستہ چڑھیں یا اُتریں (6)ڈرائیونگ نہ کریں (7)اور بہت زیادہ جسمانی سرگرمیوں سے اِجْتِناب کریں۔

 

Share

Articles

Comments


Security Code