عورت اور قربانی

اسلام اور عورت

عورت اور قربانی

* اُمِّ میلاد عطّاریہ

دینِ اسلام کے کئی احکام ایسے ہیں جن میں مردو عورت دونوں کو ایک ہی طرح مُکلّف (پابند)کیا گیا ہے ان احکامِ شرعیہ میں قربانی بھی شامل ہے۔ جن شرائط کے پائے جانے پر قربانی واجب ہوتی ہے وہ شرائط مرد میں پائی جائیں یا عورت میں دونوں کےلئے بلاتخصیص قربانی کا وجوب عین سعادت ہے۔ یاد رکھئے! خاص دنوں میں ، مخصوص جانوروں کو بہ نیّت تَقَرُّب(یعنی ثواب کی نیت سے) ذبح کرنا قربانی کہلاتا ہے۔ [1]

آیئے ترغیب کے لئے قربانی کی فضیلت و اہمیت ملاحظہ کیجئے ، فرمانِ مصطفےٰ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم : دس(10) ذوالحجہ میں ابنِ آدم کا کوئی عمل خدا کے نزدیک خون بہانے (یعنی قربانی کرنے)سے زیادہ پیارا نہیں اور وہ جانوربروزِ قیامت اپنے سینگوں ، بالوں اور کُھروں کے ساتھ آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل اللہ  پاک کے ہاں قبول ہوجاتا ہے لہٰذا اسے خوش دلی سے کرو۔ [2]

مفتی احمد یار خان نعیمی  رحمۃُ اللہِ علیہ  فرماتے ہیں : اور اعمال توکرنے کے بعد قبول ہوتے ہیں اورقربانی کرنے سے پہلے ہی ، لہٰذا قربانی کو بیکارجان کر یاتنگ دلی سے نہ کرو ہر جگہ عقلی گھوڑے نہ دوڑاؤ۔ [3]

قربانی کس پر واجب ہے؟

قربانی کا نصاب ىہ ہے کہ ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندى ہو ىا ساڑھے باون تولہ چاندى کے برابر رَقم ہو ىا تجارت کا اتنا سامان ہو جو ساڑھے باون تولہ چاندى کى رَقم کو پہنچ جائے ىا گھر مىں ضَرورت کے علاوہ اتنا سامان رکھا ہے جو ساڑھے باون تولہ چاندى کى رَقم کو پہنچ جاتا ہے ىا ىہ سب ملا کر ساڑھے باون تولہ چاند ى کى رَقم کو پہنچ جائیں تو اس صورت میں قربانى واجب ہو جائے گى۔ [4] قربانی کے نصاب کیلئے مالِ نامى یعنی بڑھنے والا مال ، مالِ تجارت ہونا شرط نہىں ہے۔ [5] بعض اوقات گھر میں ایسی کتابوں کا ڈھىر ہوتا ہے جو کام مىں نہىں آتیں اور ویسے ہی رکھی ہوتی ہیں ، اِسى طرح ضَرورت سے زىادہ کپڑوں کے جوڑے ، جوتے ، گھڑیاں اور چشمے رکھے ہوتے ہىں جو اِستعمال مىں نہىں آتے تو اگر ان سب کو ملا کر ان کی رَقم بنائى جائے اور وہ ساڑھے باون تولہ چاندى کى رقم کے برابر ہو ىا اس سے زىادہ ہو جائے اورقرض سے بھی فارغ ہو  پھر قربانى کا وقت بھی پایا گیا تو قربانی واجب ہو جائے گی۔

بہت سی عورتیں قربانی واجب ہونے کے باوجود قربانی کرنے کے معاملے میں سستی کا مظاہرہ کرتی ہیں یا ٹال مٹول سے کام لیتی ہیں اور یوں باتیں کرتی ہیں کہ ہم کماتی تھوڑی ہیں ، ہمارا کوئی ذریعۂ آمدنی نہیں ہے ، ہم کیسے قربانی کریں گی؟ کہاں سے پیسے لائیں گی؟ ایسی عورتوں کو اللہ  پاک کا خوف دل میں رکھنا چاہئے ، جہنم کے عذاب سے ڈرنا چاہئے نیز اس وجوب کو سعادت سمجھ کر ادا کرنا چاہئے۔ جب اللہ پاک نے آپ کو زیورات کی صورت میں قربانی کی استطاعت دی ہے تو پھر قربانی کرنی ہی ہوگی ویسے بھی ہمارا مال مہنگے کپڑوں اور طرح طرح کی اشیاء کی خریداری میں خرچ ہوتا رہتا ہے تو صرف اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں ہی ہمیں کیوں اس طرح کے خیالات آتے ہیں؟ یاد رکھئے! شیطان آپ کو روکنے کی خوب کوشش کرے گا لیکن اس کے مکر و فریب میں نہیں آنا ہے اِن شآءَ اللہ قربانی کرنے سے مال میں کمی نہیں ہوگی بلکہ اللہ پاک آپ کے مال کو مزید بڑھادے گا۔ اسی طرح کبھی کبھی کئی افراد پر قربانی ہونے کے باوجودگھر کا ایک فرد صرف بکرا قربان کردیتا ہے اور دیگر حضرات قربانی کا وجوب ادا نہیں کرتے یا پھر صرف گھر کے مَردوں کی طرف سے قربانی کردی جاتی ہے ، ایسا کرنا بھی کافی نہیں ہے ، بلکہ جس جس فردپر قربانی واجب ہو وہ سب اپنی الگ الگ قربانی کریں گےنیز ضروری نہیں کہ ہر شخص الگ سے پورا جانور قربان کرے اگر زیادہ استطاعت نہیں تو قربانی کے بڑے جانور میں حصہ ڈالنے سے بھی قربانی کا وجوب ادا ہوجائے گا۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ* نگران عالمی مجلس مشاورت (دعوتِ اسلامی ) اسلامی بہن



[1] بہار شریعت ، 3 / 327

[2] ترمذی ، 3 / 162 ، حدیث : 1498

[3] مراٰۃالمناجیح ، 2 / 375

[4] فتاویٰ ہندیہ ، 5 / 292ملخصاً

[5] فتاویٰ رضویہ ، 10 / 294


Share

Articles

Comments


Security Code