منتخب حدیثیں

حضرت عبداللّٰہبن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُماسے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جب کسی قوم میں خیانت ظاہر اور کھلم کھلا ہونے لگتی ہے تواللّٰہ تعالیٰاس قوم کے دل میں اس کے دشمنوں کا خوف اور ڈر ڈال دیتا ہے اور جب کسی قوم میں زِنا کاری پھیل جاتی ہے تو اس قوم میں بکثرت موتیں ہونے لگتیں ہیں اور جو قوم ناپ تو ل میں کمی کرنے لگتی ہے اُس قوم کی روزی کاٹ دی جاتی ہے اور جوقوم ناحق فیصلہ کرنے لگتی ہے اس قوم میں خون ریزی پھیل جاتی ہے اور جو قوم عہد شکنی اور بد عہدی کرنے لگتی ہے اس قوم پر اس کے دشمن کو غالب و مسلط کردیا جاتا ہے۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا ظَھَرَ الْغُلُوْلُ فِیْ قَوْمٍ اِلَّا اَلْقَی اللّٰہ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الرُّعْبَ وَلَا فَشَا الزِّنَا فِیْ قَوْمٍ اِلَّا کَثُرَ فِیْھِمُ الْمُوْتُ وَلَا نَقَصَ قَوْمٌ الْمِکْیَالَ وَالْمِیْزَانَ اِلَّا قُطِعَ عَنْھُمُ الرِّزْقُ وَلَا حَکَمَ قَوْمٌ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّا فَشَا فِیْھِمُ الدَّمُ وَلَا خَتَرَ قَوْمٌ بِالْعَھْدِ اِلَّاسُلِّطَ عَلَیْھِِمُ العَدُوُّ (مشکاۃ المصابیح،کتاب الرقاق،باب تغیرالناس، الحدیث:۵۳۷۰، ج۲، ص۲۷۶)

منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 21

حضرت عَمْرو بن اَخْطَب اَنصاریرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ایک دن ہم لوگوں کو رسولاللّٰہ عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فجر کی نماز پڑھائی اور منبر پر چڑھ گئے اور ظہر کی نماز تک خطبہ پڑھتے رہے پھر اُترے اور نماز پڑھ کر پھرمنبر پر چڑھ گئے اور خطبہ دیتے رہے یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت آگیا پھر اُترے اور نماز پڑھی پھرمنبر پر چڑھ گئے اور سورج ڈوبنے تک خطبہ پڑھتے رہے تو (اس دن بھر کے خطبہ میں ) ہم لوگوں کو حضور نے تمام ان چیزوں اور باتوں کی خبر دے دی جو قیامت تک ہونے والی ہیں تو ہم صحابہ میں سب سے بڑا عالم وہی ہے جس نے سب سے زیادہ اس خطبہ کو یاد رکھاہے۔

عَنْ عَمْرِو بْنِ اَخْطَبَ الْاَ نْصَارِیِّ قَالَ: صَلَّی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمًا الْفَجْرَ وَصَعِدَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَخَطَبَنَا حَتّٰی حَضَرَتِ الظُّھْرُ فَنَزَلَ فَصَلَّی ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتّٰی حَضَرَتِ الْعَصْرُ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّی ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ حَتّٰی غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَاَخْبَرَنَا بِمَا ھُوَ کَائِنٌ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ قَالَ: فَاَعْلَمُنَا اَحْفَظُنَا ( مشکاۃ المصابیح،کتاب احوال القیامۃ وبدء الخلق،باب فی المعجزات، الحدیث:۵۹۳۶، ج۲،ص۳۹۷)

منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 22

حضرت بی بی عائشہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہاسے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسولاللّٰہ عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرت حسَّان کے لیے مسجد نبوی میں منبر رکھتے تھے اور حضرت حسَّان اس پر چڑھ کر کھڑے کھڑے رسولاللّٰہ عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شان کے بارے میں فخریہ اَشعار پڑھتے یا حضور کی طرف سے مشرکین کی ہجو کا جواب دیتے تھے اور حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرماتے تھے کہ جب تک حسان میری طرف سے مدافعانہ جواب دیتے یامیرے بارے میں فخریہ اَشعار پڑھتے رہتے ہیں حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَامان کی مدد فرماتے رہتے ہیں ۔

عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَضَعُ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِی الْمَسْجِدِ یَقُوْمُ عَلَیْہَا قَائِمًا یُّفَاخِرُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَوْ یُنَافِحُ وَیَقُوْلُ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّ اللّٰہ یُؤَیِّدُ حَسَّانَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ مَا نَافَحَ اَوْ فَاخَرَ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِی ( مشکاۃ المصابیح،کتاب الآداب،باب البیان والشعر، الحدیث: ۴۸۰۵،ج۲، ص۱۸۸)

منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 23

حضرت عبداللّٰہبن مسعودرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے کہ رسولاللّٰہعَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک چٹائی پر سو کر جب اُٹھے تو آپ کے جسم مبارک پر چٹائی کا نشان پڑگیا تھا تو عبداللّٰہبن مسعودرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے عرض کیا کہ یارسولاللّٰہ!عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاش! آپ ہم لوگوں کو حکم فرماتے کہ ہم لوگ آپ کے لیے بچھونا بچھا دیتے اور آپ کی راحت کا سامان کردیتے تو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا کہ مجھے دنیا سے کیا مطلب میری اور دنیا کی مثال تو ایسی ہے جیسے کوئی سوار کسی درخت کے سایہ میں (کچھ دیر )بیٹھ جاتا ہے پھر اُس درخت کو چھوڑ کر چل دیتا ہے۔

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَامَ عَلٰی حَصِیْرٍ فَقَامَ وَقَدْ اَثَّرَ فِیْ جَسَدِہٖ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ: یَارَسُوْلَ اللّٰہ! لَوْ اَمَرْتَنَا اَنْ نَبْسُطَ لَکَ وَنَعْمَلَ فَقَالَ: مَا لِیْ وَلِلدُّنْیَا وَمَا اَنَا وَالدُّنْیَا اِلَّا کَرَاکِبٍ اِسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرۃٍ ثُمَّ رَاحَ وَ تَرَکَہَا۔(مشکاۃ المصابیح،کتاب الرقاق،الفصل الثانی، الحدیث:۵۱۸۸، ج۲،ص ۲۴۷)

منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 24

حضرت عُبادہ بن صامترضی اللّٰہ تعالیٰ عنہروایت کرتے ہیں کہ نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ تم لو گ اپنی طرف سے میرے لیے چھ چیزوں کی ذمہ داری قبول کرلو تو میں تمہارے لیے جنت کی ذمہ داری لیتا ہوں ۔{۱}جب بات کرو تو سچ بولو{۲}جب کوئی وعدہ کرو اس کو پورا کرو{۳}جب کوئی امانت تم کو سونپی جائے تو اس امانت کو ادا کرو{۴}اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو{۵}اپنی نگاہوں کو نیچی رکھو{۶}اپنے ہاتھوں کو (ہر ظلم و مَعْصِیَت سے ) روکے رکھو۔

عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِضْمَنُوْا لِیْ سِتًّا مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَضْمَنْ لَکُمُ الْجَنَّۃَ اُصْدُقُوْا اِذَا حَدَّثْتُمْ وَاَوْفُوْا اِذَا وَعَدْتُمْ وَاَدُّوْا اِذَا ائْتُمِنْتُمْ وَاحْفَظُوْا فُرُوْجَکُمْ وَغُضُّوْا اَبْصَارَکُمْ وَکُفُّوْا اَیْدِیْکُمْ۔ (مشکاۃ المصابیح،کتاب الآداب،باب حفظ اللسان۔۔۔الخ، الحدیث:۴۸۷۰،ج۲،ص۱۹۷)

منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 25

حضرت ابو سعید خدریرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہراوی ہیں کہ حضور نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ تم لوگ راستوں پر بیٹھنے سے بچو،تو صحابہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمنے کہا کہ یارسولاللّٰہ!عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمراستوں میں بیٹھنے سے تو ہم لوگوں کو چارہ ہی نہیں ہے کیونکہ ان ہی جگہوں میں تو ہم لوگ بیٹھ کر بات چیت کرتے ہیں ،تو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ اگر تم لوگ راستوں میں بیٹھنے سے باز نہیں رہ سکتے تو بیٹھو لیکن راستے کا حق دیتے رہو۔صحابہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمنے عرض کیا کہ یارسولاللّٰہ!عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمراستہ کا کیا حق ہے؟ تو ارشاد فرمایا کہ{۱}نیچی نگاہ رکھنا{۲}کسی کو ایذا نہ دینا{۳}لوگوں کے سلام کا جواب دینا{۴}اچھی باتوں کا حکم دینا{۵}بُری باتوں سے منع کرنا۔

عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِیَّاکُمْ وَالْجُلُوْسَ بِالطُّرُقَاتِ فَقَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہ مَا لَنَا مِنْ مَّجَالِسِنَا بُدٌّ نَتَحَدَّثُ فِیْھَا فَقَالَ: فَاِذَا اَبَیْتُمْ اِلَّا الْمَجْلِسَ فَاَعْطُوْا الطَّرِیْقَ حَقَّہٗ قَالُوْا:وَمَا حَقُّ الطَّرِیْقِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ؟ قَالَ: غَضُّ الْبَصَرِ وَکَفُّ الْاَذیٰ وَرَدُّ السّلَامِ وَالْاَمْرُ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّھْیُ عَنِ الْمُنْکَرِ (صحیح البخاری،کتاب الاستئذان،الحدیث:۶۲۲۹،ج۴،ص۱۶۵)

منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 26

حضرت ابو ہریرہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہروایت کرتے ہیں کہ حضورنبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ زمین کا جو حصّہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان میں ہے وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَا بَیْنَ بَیْتِیْ وَمِنْبَرِیْ رَوْضَۃٌ مِّنْ رِیَاضِالْجَنَّۃِ وَمِنْبَرِیْ عَلٰی حَوْضِیْ (صحیح البخاری،کتاب فضل الصلاۃ فی مسجد مکۃ و المدینۃ، باب فضل مابین القبر والمنبر،الحدیث:۱۱۹۶،ج۱،ص۴۰۳)

منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 27

حضرت انس بن مالکرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب امیر المؤمنینرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ،جب لوگ قحط سالی میں مبتلا ہوتے تھے تو حضرت عباس بن عبد المطلب کے وسیلہ سے بارش کی دُعا مانگا کرتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ یااللّٰہ!عَزَّوَجَلَّہم تیری بارگاہ میں اپنے نبی کو وسیلہ بنایا کرتے تھے اس وقت تو ہم کو بارش سے سیراب فرماتا تھا اور اب ہم اپنے نبی کے چچا کوتیری بارگاہ میں وسیلہ بناتے ہیں لہٰذا تو ہم کو سیراب فرما دے تو لوگ سیراب کردئیے جاتے تھے۔(یعنی بارش ہوجاتی تھی)۔

عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ کَانَ اِذَا قُحِطُوْا اِسْتَسْقٰی بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ فَقَالَ:اَللّٰھُمَّ اِنَّا کُنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَیْکَ بِنَبِیِّنَا فَتَسْقِیْنَا وَاِنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَیْکَ بِعَمِّ نَبِیِّنَا فَاسْقِنَا قَالَ: فَیُسْقَوْنَ (صحیح البخاری،کتاب الاستسقاء،باب سؤال الناس الامام۔۔۔الخ،الحدیث:۱۰۱۰، ج۱،ص۳۴۶)

منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 28

ابو بُردہ سے روایت ہے،انہوں نے کہا کہ میں مدینہ آیا تو مجھ سے حضرت عبداللّٰہبن سلامرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے ملاقات کی پھر فرمایا کہ تم گھرچلو میں تم کو اس پیالے میں کچھ پلاؤں گا جس پیالے میں رسولاللّٰہ عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پیا تھا اور تم اُس مسجد میں نماز پڑھوگے جس میں نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نماز پڑھی تھی۔ چنانچہ میں ان کے ساتھ گیا تو انہوں نے مجھ کو (اُس پیالہ میں ) ستوپلایااور کھجورکھلائی اور میں نے ان کی مسجد میں نماز پڑھی۔

عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِیْنَۃَ فَلَقِیَنِیْ عَبْدُ اللّٰہ بْنُ سَلَامٍ فَقَالَ لِیْ: اِنْطَلِقْ اِلَی الْمَنْزِلِ فَاَسْقِیْکَ فِیْ قَدَحٍ شَرِبَ فِیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَتُصَلِّیْ فِیْ مَسْجِدٍ صَلّٰی فِیْہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقْتُ مَعَہٗ فَسَقَّانِیْ سَوِیْقًا وَاَطْعَمَنِیْ تَمْرًا وَصَلَّیْتُ فِیْ مَسْجِدِہٖ (صحیح البخاری،کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،باب ما ذکر النبیصلی اللّٰہ علیہ وسلم ∞وحض علی اتفاق۔۔۔الخ، الحدیث:۷۳۴۱،ج۴،ص۵۱۸)

منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 29

سعید بن ابی الحسن راوی ہیں انہوں نے کہا کہ میں حضرت ابن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُماکے پاس تھا کہ ناگہاں ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا کہ اے ابن عباس! میں ایسا آدمی ہوں کہ میری روزی میرے ہاتھ کی کاریگری سے چلتی ہے اور میں ان تصویروں کو بناتا ہوں ، تو ابن عباس نے فرمایا کہ تم سے وہی حدیث بیان کرتا ہوں جس کو میں نے خود رسولاللّٰہ عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سُنا ہے ۔میں نے حضور کو یہ فرماتے ہوئے سُنا ہے کہ جو شخص تصویر بنائے گااللّٰہ تعالیٰاس کو اس وقت تک عذاب دے گا جب تک کہ وہ اس تصویر میں روح نہ پھونک دے اور وہ اس تصویر میں کبھی بھی روح نہیں پھونک سکے گا تو اس آدمی نے لمبا سانس کھینچا اور (خوف سے )پیلا پڑگیا۔ پھر ابن عباس نے فرمایا کہ تیرا ناس ہو اگر تو اس کے بنانے سے بازنہیں رہ سکتا تو ان درختوں اور بے جان والی چیزوں کی تصویر بنایا کر۔

عَنْ سَعِیْدِ بْنِ اَبِی الْحَسَنِ قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ اِذْ جَائَ ہٗ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا اِبْنَ عَبَّاسٍ اِنِّیْ رَجُلٌ اِنَّمَا مَعِیْشَتِیْ مِنْ صَنْعَۃِ یَدِیْ وَاِنِّیْ اَصْنَعُ ھٰذِہِ التَّصَاوِیْرَ فَقَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ لَا اُحَدِّثُکَ اِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُہٗ یَقُوْلُ: مَنْ صَوَّرَ صُوْرَۃً فَاِنَّ اللّٰہ مُعَذِّبُہٗ حَتّٰی یَنْفُخَ فِیْہِ الرُّوْحَ وَلَیْسَ بِنَافِخٍ فِیْھَا اَبَدًا فَرَبَا الرَّجُلُ رَبْوَۃً شَدِیْدَۃً وَاصْفَرَّ وَجَھُہٗ فَقَالَ: وَیْحَکَ اِنْ اَبَیْتَ اِلَّا اَنْ تَصْنَعَ فَعَلَیْکَ بِھٰذا الشَّجَرِ وَکُلِّ شَیْیٍٔ لَیْسَ فَیْہِ رُوْحٌ (مشکاۃ المصابیح،کتاب اللباس،باب التصاویر، الحدیث:۴۵۰۷، ج۲،ص ۱۴۰)

منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 30

حضرت عُقبہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک دن گھر سے باہر تشریف لے گئے اور’’شہداء ِاُحُد‘‘کی قبروں پر اس طرح نماز پڑھی جیسے میت پر نماز پڑھی جاتی ہے پھر پلٹ کر منبر پر رونق اَفروز ہوئے اور ارشاد فرمایا کہ میں تمہارا پیش رو اور تمہارا گواہ ہوں اور میں خدا کی قسم! اپنے حوض کو اس وقت دیکھ رہا ہوں اور بے شک مجھ کو زمین کے خزانوں کی کنجیاں دے دی گئی ہیں اور میں بخدا یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ مجھ کو تم لوگوں کے بارے میں ذرا بھی یہ ڈر نہیں ہے کہ تم لوگ میرے بعد مشرک ہوجاؤ گے لیکن مجھے یہ خوف ہے کہ تم لوگ دنیا میں رغبت اور ایک دوسرے پر حسد کروگے۔

عَنْ عُقْبَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَرَجَ یَوْمًا فَصَلّٰی عَلٰی اَھْلِ اُحُدٍ صَلَا تَہٗ عَلَی الْمَیِّتِ ثُمَّ انْصَرَفَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ : اِنِّیْ فَرَطٌ لَکُمْ وَاَنَا شَہِیْدٌ عَلَیْکُمْ وَاِنِّیْ وَاللّٰہِ لَاَنْظُرُ اِلٰی حَوْضِیْ الْآنَ وَاِنِّیْ اُعْطِیْتُ مَفَاتِیْحَ خَزَاءنِ الْاَرْضِ اَوْمَفَاتِیْحَ الْاَرْضِ وَاِنّیْ وَاللّٰہِ مَا اَخَافُ عَلَیْکُمْ اَنْ تُشْرِکُوْا بَعْدِیْ وَلٰکِنْ اَخَافُ عَلَیْکُمْ اَنْ َتنَافَسُوْ فِیْھَا (بخاری، کتاب الحوض، ج۲، ص۹۷۵)

منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 31

حضرت زارِع جو قبیلہ عبد الْقَیْس کے نمائندوں میں شامل تھے فرماتے ہیں کہ جب ہم مدینہ میں آئے توہم لوگ جلدی جلدی اپنی سواریوں سے اتر پڑے اور ہم حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہاتھ اور پاؤں کو بوسہ دینے لگے۔

عَنْ زَارِعٍ وَکَانَ فِیْ وَفْدِ عَبْدِ الْقَیْسِ قَالَ: لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِیْنَۃَ فَجَعَلْنَا نَتَبَادَرُ مِنْ رَّوَاحِلِنَا فَنُقَبِّلُ یَدَ رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَہٗ۔ ( مشکاۃ المصابیح،کتاب الآداب، باب المصافحۃ والمعانقۃ، الحدیث: ۴۶۸۸، ج۲،ص۱۷۱)

منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 32

حضرت ابو ہریرہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہراوی ہیں کہ رسو لاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ تین(خصلتیں )نجات دلانے والی اور تین(خصلتیں )ہلاکت میں ڈالنے والی ہیں ۔نجات دلانے والی (خصلتیں )یہ ہیں :{۱}ظاہر و باطن میںاللّٰہسے ڈرنا{۲}خوشی و ناراضگی میں حق بولنا{۳}مالداری اور فقیری میں درمیانی چال چلنا، اور ہلاکت میں ڈالنے والی (خصلتیں )یہ ہیں :{۱}نفسانی خواہشوں کی پیروی کرنا{۲}بخیلی کی اطاعت کرنا{۳}اپنی ذات پر َگھمنڈ کرنا اور یہ ان تینوں میں سب سے زیادہ سخت ہے۔

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثَلٰثٌ مُنْجِیَاتٌ وَثَلٰثٌ مُھْلِکَاتٌ فَاَمَّا الْمُنْجِیَاتُ فَتَقْوَی اللّٰہ فِی السِّرِّ وَالْعَلَانِیَۃِ وَالْقَوْلُ بِالْحَقِّ فِی الرِّضٰی وَالسَّخَطِ وَالْقَصْدُ فِی الْغِنٰی وَالْفَقْرِ وَاَمَّا الْمُہْلِکَاتُ فَھَوًی مُتَّبَعٌ وَشُحٌ مُطَاعٌ وَاِعْجَابُ الْمَرْئِ بِنَفْسِہٖ وَھِیَ اَشَدُّھُنَّ ( مشکاۃ المصابیح،کتاب الآداب،باب الغضب والکبر، الحدیث: ۵۱۲۲، ج۲،ص۲۳۵)

منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 33

حضرت ابو سعید و حضرت جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُماسے مروی ہے کہ رسولاللّٰہ عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ غیبت زنا سے زیادہ سخت (گناہ) ہے تو صحابہ نے کہا کہ یارسولاللّٰہ!عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمغیبت زنا سے زیادہ سخت (گناہ) کس طرح ہے؟ تو حضور نے فرمایا کہ آدمی زنا کرتا ہے پھر توبہ کرلیتا ہے تواللّٰہ تعالیٰاس کی توبہ قبول فرما کر اس کو بخش دیتا ہے لیکن غیبت کرنے والے کو خداوند تعالیٰ اس وقت تک نہیں بخشے گا جب تک اس کو وہ شخص معاف نہ کردے جس کی اس نے غیبت کی ہے۔

عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ وَجَابِرٍ قَالَا: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَلْغِیْبَۃُ اَشَدُّ مِنَ الزِّنَا قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہ وَکَیْفَ الْغِیْبَۃُ اَشَدُّ مِنَ الزِّنَا؟ قَالَ: اِنَّ الرَّجُلَ لَیَزْنِیْ فَیَتُوْبُ فَیَتُوْبُ اللّٰہ عَلَیْہِ وَفِیْ رِوَایَۃٍ فَیَتُوْبُ فَیَغْفِرُ اللّٰہ لَہٗ وَاِنَّ صَاحِبَ الْغِیْبَۃِ لَا یُغْفَرُ لَہٗ حَتّٰی یَغْفِرَھَا لَہٗ صَاحِبُہٗ ( مشکاۃ المصابیح،کتاب الآداب،باب حفظ اللسان۔۔۔الخ، الحدیث:۴۸۷۴۔۴۸۷۵، ج۲،ص۱۹۸)

منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 34

حضرت ابو ہریر ہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہراوی ہیں کہ رسولاللّٰہ عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرما یا کہ لوگوں کو پچھاڑ دینے والا پہلوان نہیں ہے پہلوان تو وہی ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس کا مالک ہے۔

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَیْسَ الشَّدِیْدُ بِالصُّرَعَۃِ اِنَّمَا الشَّدِیْدُ الَّذِیْ یَمْلِکَ نَفَسَہٗ عِنْدَ الْغَضَبِ (صحیح مسلم،کتاب البر۔۔۔الخ،باب فضل من یملک نفسہ۔۔۔الخ،الحدیث:۲۶۰۸،ص۱۴۰۶)

منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 35

حضرت انس بن مالکرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسولاللّٰہ عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سُنا ہے کہ جس شخص کو یہ اچھا لگے کہ اس کی روزی میں فراخی اور اس کی عمر میں درازی ہو تو اس کو چاہئے کہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرے۔

عَنْ اَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ اَحَبَّ اَنْ یُّبْسَطَ لَہٗ فِیْ رِزْقِہٖ وَیُنْسَاَ لَہٗ فِیْ اَثَرِہٖ فَلْیَصِلْ رَحِمَہٗ ( مشکاۃ المصابیح،کتاب الآداب،باب البر والصلۃ، الحدیث: ۴۹۱۸،ج۲، ص۲۰۵)

منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 36

حضرت ابو ہریر ہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے کہا کہ رسولاللّٰہ عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا ہے کہ جب انسا ن مرجاتا ہے تو اس سے اس کے عمل کا ثواب کٹ جاتا ہے مگر تین عمل سے (کہ ان کا ثواب مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے ){۱}صدقہ جاریہ کا ثواب{۲}یا اس علم کاثواب جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں{۳}یانیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے۔

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِذَا مَاتَ الْاِنْسَانُ اِنْقَطَعَ عَنْہُ عَمَلُہٗ اِلَّا مِنْ ثَلٰثَۃٍ اِلَّا مِنْ صَدَقَۃٍ جَارِیَۃٍ اَوْعِلْمٍ یُّنْتَفَعُ بِہٖ اَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ یَدْعُوْ لَہٗ۔ رَوَاہ مُسْلِم۔ ( مشکاۃ المصابیح،کتاب العلم،الفصل الاوّل، الحدیث:۲۰۳، ج۱،ص۶۰)

منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 37

حضور نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زو جہ مبارکہ حضرت بی بی عائشہ صدیقہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہانے فرمایا کہ میرے پاس ایک عورت اپنی دولڑکیوں کے ساتھ آئی اور مجھ سے کچھ مانگا تو میرے پاس اس نے ایک کھجور کے سوا کچھ نہیں پایا میں نے وہی کھجور اس کو دیدی تو اس نے اس کھجور کو اپنی دونوں لڑکیوں کے درمیان تقسیم کردیا اور خود اس میں سے کچھ بھی نہیں کھایاپھر وہ اُٹھی اور اپنی دونوں لڑکیوں کے ساتھ باہر چلی گئی۔ پھر جب میرے پاس نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لائے تو میں نے حضور سے اس عورت کی بات بیان کردی تو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا جو شخص بیٹیوں کے ساتھ مبتلا کیا گیا اور انکے ساتھ اچھا سلوک کیا تو یہ بیٹیاں اسکے لیے جہنم سے پردہ بن جائیں گی۔

اَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: جَائَ تْنِیْ اِمْرَأَۃٌ وَمَعَھَا اِبْنَتَانِ لَھَا فَسَئَلَتْنِیْ فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِیْ شَیْئًا غَیْرَ تَمْرَۃٍ وَاحِدَۃٍ فَاَعْطَیْتُھَا اِیَّاھَا فَاَخَذَتْھَا فَقَسَمَتْھَا بَیْنَ اِبْنَتَیْھَا وَلَمْ تَأْکُلْ مِنْہَا شَیْئًا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ وَابْنَتَاہَا فَدَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُہٗ حَدِیْثَھَا فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنِ ابْتُلِیَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَیْئٍ فَاَحْسَنَ اِلَیْھِنَّ کُنَّ لَہ سِتْرًا مِّنَ النَّارِ ( صحیح مسلم،کتاب البر والصلۃ۔۔۔الخ،باب فضل الاحسان الی البنات، الحدیث:۲۶۲۹، ص۱۴۱۴)

منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 38

زیاد بن عَلاقہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت جریر بن عبداللّٰہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے سُناجس دن مُغِیْرہ بن شُعْبہ (حاکم کوفہ) کا وِصال ہوا تو وہ (خطبہ کے لیے) کھڑے ہوئے اوراللّٰہکی حمد و ثناء کی اور فرمایا کہ تم لوگوں پر لازم ہے کہاللّٰہسے ڈرو جووَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗہے اور وقار و سکون کو لازم پکڑو یہاں تک کہ تمہارا دوسرا حاکم آجائے اور وہ اب آتا ہی ہے پھر کہا کہ اپنے سابق حاکم کے لیے مغفرت کی دعا کرو اس لیے کہ وہ بھی عفو ودر گزر کو پسند کرتے تھے ۔پھر فرمایا کہ جب میں حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں (بیعت کے لیے) حاضر ہوا اور میں نے عرض کیاکہ میں اسلام پر بیعت کرتا ہوں تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسلام کے ساتھ یہ شرط لگاکر کہ ہر مسلمان کی ’’خیر خواہی‘‘ کرنا مجھے بیعت فرمایاتو میں نے اس شرط پر آپ سے بیعت کرلی۔ مجھے اس مسجد کے رب کی قسم ہے کہ (اے کوفہ والو!) میں تمہارا خیرخواہ ہوں ۔پھر آپ نے مغفرت کی دعا مانگی اور منبر پر سے اُترگئے۔

عَنْ زِیَادِ بْنِ عَلَاقَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ جَرِیْرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہ یَقُوْلُ یَوْمَ مَاتَ الْمُغِیْرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ قَامَ فَحَمِدَ اللّٰہ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ وَقَالَ: عَلَیْکُمْ بِاتِّقَائِ اللّٰہ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَالْوَقَارِ وَالسَّکِیْنَۃِ حَتّٰی یَاْتِیَکُمْ اَمِیْرٌ فَاِنَّمَا یَاْتِیْکُمْ الْآنَ ثُمَّ قَالَ: اِسْتَعْفُوْا لِاَمِیْرِکُمْ فَاِنَّہٗ کَانَ یُحِبُّ الْعَفْوَ ثُمَّ قَالَ: اَمَّا بَعْدُ فَاِنِّیْ اَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: اُبَایِعُکَ عَلَی الْاِسْلَامِ فَشَرَطَ عَلَیَّ وَالنَّصْحِ لِکُلِّ مُسْلِمٍ فَبَایَعْتُہٗ عَلٰی ھٰذَا وَرَبِّ ھٰذَا الْمَسْجِدِ اِنِّیْ لَنَاصِحٌ لَکُمْ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَنَزَلَ (صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب قول النبیصلی اللّٰہ علیہ وسلم: الدین النصیحۃ۔۔۔الخ، الحدیث:۵۸،ج۱،ص۳۵)

منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 39

حضرت ابو ہریر ہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہراوی ہیں انہوں نے کہا کہ نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا ہے کہ دو کلمے رحمن کو بہت زیادہ محبوب ہیں یہ زبان پر بہت ہی ہلکے اور میزانِ عمل میں بہت ہی بھاری ہیں (وہ دو کلمے یہ ہیں )’’سُبْحَانَ اللّٰہ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہ الْعَظِیْمِ‘‘

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہٗ قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: کَلِمَتَانِ حَبِیْبَتَانِ اِلَی الرَّحْمٰنِ خَفِیْفَتَانِ عَلَی اللِّسَانِ ثَقِیْلَتَانِ فِی الْمِیْزَانِ سُبْحَانَ اللّٰہ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہ الْعَظِیْمِ (صحیح البخاری،کتاب التوحید،باب قول اللّٰہ عالٰی:ونضع الموازین القسط۔۔۔الخ، الحدیث:۷۵۶۳،ج۴،ص۶۰۰)

منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 40