- ہوم
- کتابیں
- منتخب حدیثیں
- مقدمہ
مقدمہ - منتخب حدیثیں
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ اَمَّا بَعْدُ!
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
قرآن مجید فرقان حمید میںاللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے پیارے حبیب، حبیب لبیبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی اطاعت وفرمانبرداری اور اتباع وپیروی کا نہایت ہی وضاحت وصراحت کے ساتھ حکم دیا چنانچہ ارشاد ہوتا ہے :وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ(پ۲۸،الحشر: ۷)ترجمہ کنزالایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائییں وہ لو اور جس سے منع فرمائییں باز رہو۔
اس اعتبار سے رسولاللہ عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے ہر حکم کی اطاعت ہمارے لیے واجب ہے کیونکہ رسولاللہ عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا حکم بھی بالواسطہ خداعَزَّ وَجَلَّہی کا حکم ہے، ارشاد باریتَعَالٰیہے :وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ(۳) اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ(۴)(پ۲۷،النجم: ۳، ۴)ترجمہ کنزالایمان: اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں کی جاتی ہے۔
قرآن ظاہری وحی ہے اور حدیث خفی، قرآن مجید کی طرح حدیث رسولصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَبھی احکام شریعت کا بنیادی ماخذ ہے، حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے احکام و فرامین اور آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے اعمال و افعال، آیات قرآنی کی تشریحات ومرادات سے باخبر ہونے کا اہم ذریعہ ہیں کیونکہ حدیث کی رہنمائی کے بغیر احکام الٰہی کی تفصیلات جاننا اور آیات قرآنی کا منشاومراد سمجھنا ممکن نہیں ، بہت سے قرآنی احکام ایسے ہیں کہ ان کے اجمال کی تفسیر حدیث سے ہوتی ہے، مثلاً نماز، زکوٰۃ، اور حج وغیرہ بہت سارے امور ہیں جن کے احکام کی تفصیل حدیث میں مذکور ہے، حدیث سے استفادہ کیے بغیر ایسے امور کا علم اوران پر عمل متصور نہیں ، لہٰذا احکام قرآنیہ پر کما حقہ عمل کے لیے حدیث کی رہنمائی ناگزیر ہے۔
صحابہ کرامرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمنے حدیث کی تحصیل وتوثیق اور اشاعت کے لیے بڑی محنت اور احتیاط سے کام لیا، اسی طرح تابعین وتبع تابعین اور ائمہ و محدثینرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم اجمعیننے بھی حدیث کی اشاعت میں پوری دیانت داری اور احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھا اورتدوین حدیث کا شاندار کارنامہ سرانجام دیا، اسی کا ثمرہ ہے کہ احادیث رسولصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہمیں دستیاب ہے اور اس سے اکتساب علم کا سلسلہ جاری وساری ہے جواِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّتاقیامت رہے گا۔ہر دور کے محدثین وشارحینرحمہم اللہ المبیننے احادیث رسولصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو مختلف ترتیب کے ساتھ اپنی کتب میں جمع کیا بالخصوص چالیس احادیث جمع کرنے کا سلسلہ تو اس قدر عام ہوا کہ گزشتہ چند صدیوں میں اس پر بہت ساری کتب تالیف ہوئیں کیونکہ چالیس احادیث کی اشاعت سے متعلق سرکارِ مدینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمان رحمت نشان ہے : ’’جو شخص دینی معاملات کے متعلق چالیس حدیثیں یاد کرکے میری امت تک پہنچا دے گااللہ تَعَالٰی(قیامت کے دن) اس کو اس شان کے ساتھ اٹھائے گاکہ وہ فقیہ ہوگا اور میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا اور اسکے لئے گواہی دوں گا۔‘‘)مشکاۃ المصا بیح،کتاب العلم،الفصل الثالث،الحدیث۲۵۸،ج۱،ص۶۸،دارالکتب العلمیۃ بیروت(لہٰذا محدثینرحمہم اللہ المبیننے اس حدیث کی بنا پر نہ صرف چالیس حدیثیں ایک جگہ جمع کیں بلکہ ان کی شروحات بھی تحریر فر مائیں اور اس طرح امت کو ایک عظیم علمی خزانہ بھی مرحمت فرمادیااِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّامت اس سے نفع اٹھاتی رہے گی اور ان محدثین کو صدقہ جاریہ پہنچتا رہے گا۔
شیخالحدیثحضرت علامہ مولانا عبدالمصطفیٰ الاعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ القَوِینے بھی ’’ نوادرالحدیث‘‘ المعروف ’’ منتخب حدیثیں ‘‘کے نام سے چالیس احادیث کا ایک مجموعہ مرتب فرمایا جس میں آپرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِنے عمومی اوراہم موضوعات پر احادیث جمع فرمائییں اور ان کی تشریح میں ان باتوں کا اہتمام فرمایا : راوی کا مختصر تذکرہ، حدیث کی تشریح وخصوصیات، الفاظ کی توضیح، شرعی مسائل اور(موقع کی مناسبت سے) عقائد اہلسنت والجماعت کی وضاحت وغیرہ۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ!عَزَّ وَجَلَّتبلیغ ِقرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ’’دعوتِ اسلامی ‘‘ کی مجلس ’’المدینۃ العلمیۃ‘‘اَکابرین وبزرگانِ اہلسنت رحمہماللہ تَعَالٰیکی مایہ نازکتب کو حتَّی المقدور جدید انداز میں شائع کرنے کا عزم کیے ہوئے ہے، اشاعت علم دین کا یہ سلسلہ خوش اسلوبی کے ساتھ آگے بڑھتا چلا جارہا ہے اور کئی کتب زیور طباعت سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آچکی ہیں اور اب ’’ منتخب حدیثیں ‘‘آپ کے ہاتھوں میں ہے، حدیث پاک کی اشاعت سے متعلق سرکارِ مدینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمان فرحت نشان ہے : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے ہرا بھرا رکھے جو ہم سے کچھ سنے پھر جیسا سنے ویسا ہی پہنچادے۔‘‘)مشکاۃ المصا بیح،کتاب العلم،الفصل الثانی،الحدیث: ۲۳۰،ج۱،ص۶۵،دارالکتب العلمیۃ بیروت(لہٰذا مبلغین اس فضیلت کو پانے اور شیخ طریقت، امیر اہلسنت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضویدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے عطا کردہ مدنی انعامات میں سے، روزانہ بارہ منٹ کسی سنی عالم کی کتاب کا مطالعہ کرنے والے مدنی انعام پر عمل کی نیت سے ایک حدیث اور اسکی شرح کا مطالعہ کریں اور اپنے بیانات کے ذریعے دیگر اسلامی بھائیوں تک پہنچائییں ،اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّبے شمار برکتوں اور ثواب
کے حصول کا ذریعہ ہوگااللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں اخلاص عطا فرمائیے، آمین۔ اس کتاب پر مدنی علمائے کرام دامت فیوضہم کے کام کی تفصیل درج ذیل ہے :
(۱) کتاب پر کام شروع کرنے سے پہلے اس کتاب کے مختلف نسخوں میں حتی المقدور صحیح ترین نسخے کا انتخاب کرنے کی کوشش کی گئی(۲)جدید تقاضوں کے مطابق کمپیوٹر کمپوزنگ جس میں رموز ِاَوقاف (فُل اسٹاپ، کاماز، کالنز وغیرہ )کا مقدور بھر اہتمام کیا گیا ہے(۳)کمپوز شدہ مواد کا اصل سے تقابل تاکہ محذوفات ومکررات وغیرہ جیسی اغلاط نہ رہیں (۴)عربی عبارات، سن ِواقعات ا ور اَسمائے مقامات و مذکورات کی اصل مآخذ سے تطبیق(۵)آیاتِ قرآنیہ، اَحادیث وروایات وغیرہا کی اصل مآخذسے حتی المقدور تخریج وتطبیق(۶) حوالہ جات کی تفتیش تاکہ اغلاط کا امکان کم سے کم ہو(۷) اِرتباطِ متن وحواشی یعنی حو الہ جات وغیرہ کو متن سے جدا رکھتے ہوئے اسی صفحہ پر نیچے حاشیہ میں تحریر کیا گیاہے(۸)امام اہلسنت، مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃاللہالمنان کے شہرۂ آفاق ترجمہء قرآن ’’کنزالایمان ‘‘ کا ذوق رکھنے والوں کے لیے حاشیہ میں قرآنی آیات کا ترجمہ کنزالایمان سے دیا گیا ہے جبکہ متن میں مصنفعلیہ الرحمۃکے ترجمہ کو برقرار رکھا گیا ہے (۹) اورآخر میں مآخذ ومراجع کی فہرست مصنفین ومؤلفین کے ناموں، ان کے سن وفات اورمطابع کے ساتھ ذکر کردی گئی ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں اِ سْتِدْعا ہے کہ اس کتاب کو پیش کرنے میں علمائے کرام دامت فیوضہم نے جو محنت وکوشش کی اسے قبول فرماکر انہیں بہترین جزا دے اورانکے علم وعمل میں برکتیں عطافرمائیے اور دعوت ِاسلامی کی مجلس ’’المدینۃ العلمیۃ‘‘ اور دیگر مجالس کو دن گیارھویں رات بارھویں ترقی عطافرمائیے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمشعبۂ تخریج مجلس المدینۃ العلمیۃتعارفِ مصنفحضرت الحاج مولانا عبدالمصطفیٰ الاعظمیرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِذیقعدہ ۱۳۳۳ھ کو اپنے آبائی وطن گھوسی ضلع اعظم گڑھ میں پیداہوئے ۔شجرہ نسب یہ ہےمحمد عبدالمصطفیٰ بن شیخ حافظ عبدالرحیم بن شیخ حاجی عبدالوہاب بن شیخ چمن بن شیخ نور محمد بن شیخ مٹھوبابارحمہماللہ تَعَالٰی۔
آپ کے والد گرامی حضرت حافظ عبدالرحیم صاحب حافظ قرآن، اردو خواں، واقف مسائل دینیہ ، متقی، پرہیزگارتھے ۔ گاؤ ں کے مشہور بزرگ حافظ عبدالستار صاحب سے شرف تَلَمُّذ حاصل تھا جو حضرت اشرفی میاں کچھوچھویرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِکے بڑے بھائی حضرت شاہ سید اشرف حسین صاحب قبلہ کچھوچھویرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِکے مرید تھے چند سال ہوئے انتقال فرماگئے ۔تعلیمعلامہ اعظمی صاحب قرآن مجید اوراردو کی ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کر کے مدرسہ اسلامیہ گھوسی میں داخل ہوئے اوراردوفارسی کی مزید تعلیم پائی۔ چند ماہ مدرسہ ناصر العلوم گھوسی میں بھی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد مدرسہ معروفیہ معروف پورہ میں میزان سے شرح جامی تک پڑھا۔ پھر ۱۳۵۱ ھ میں مدرسہ محمدیہ حنفیہ امروہہ ضلع مرادآباد (یوپی) کا رخ کیا اوروہاں شیخ العلماء حضرت مولانا شاہ اویس حسن عرف غلام جیلانی اعظمیرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ(شیخالحدیثدارالعلوم فیض الرسول براؤ ں شریف متوفی ۱۳۹۷ھ)
اورحضرت مولانا حکمتاللہصاحب قبلہ امروہی اورحضرت مولانا سید محمد خلیل صاحب چشتی کاظمی امروہی کی خدمت میں ایک سال رہ کر اِکْتِسَابِ فیض کیا۔
اس کے بعد ۱۳۵۲ھ میں حضرت صدرالشریعہ مولانا حکیم محمد امجد علی صاحب اعظمیرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِکے ہمراہ بریلی شریف تشریف لے گئے اورمدرسہ منظر اسلام محلہ سوداگران بریلی میں داخل ہوکر تعلیمی سلسلہ شروع فرمایا ۔ ملا حسن، میبذی وغیرہ چند کتابیں حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سرداراحمد صاحب چشتی گورداسپوریرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِسے پڑھیں باقی کتابیں حضرت صدرالشریعہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِسے پڑھیں ۔
ا س دوران حُجَّۃ ُالاسلام حضرت مولانا شاہ حامدرضا خان صاحبرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ(خَلَف اکبرسرکاراعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ ) کی خدمت میں حاضری دی اور شرفیاب ہوئے۔موصوف آپ پر بڑا کرم فرمایا کرتے تھے۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہ کے برادرِ خُورد حضرت مولانا محمد رضا خان صاحب عرف ننھے میاںرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِسے فرائض کی مشق کی اورحضور مفتی اعظم ہند مولانا شاہ مصطفی رضا خان نوریرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ(زیب سجادہ عالیہ قادریہ رضویہ بریلی شریف، خلف اصغرحضور اعلیٰ حضرت قدس سرہ) کے دارالافتاء میں بھی حاضری دی۔
بریلی شریف میں دوران طالب علمی آپ کی اقتصادی حالت اچھی نہیں تھی ۔ مسجدکی امامت اورٹیوشن سے اخراجات پورے کرتے تھے۔ جب حضرت صدر الشریعہ مولانا امجد علی صاحبرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِبریلی سے رخصت ہوکر مدرسہ حافظیہ سعیدیہ دادوں ضلع علی گڑھ میں مَسْنَد تدریس پر جلوہ فرما ہوئے تو مولانا اعظمی صاحب بھی بریلی شریف نہ رہ سکے اور۱۰شوال ۱۳۵۵ ھ کو علی گڑھ حضرت صدرالشریعہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اورمدرسہ حافظیہ سعیدیہ میں داخلہ لیا اور امتحانات میں اچھی پوزیشن سے کامیاب ہوکر انعامات بھی حاصل کئے ۔
علی گڑھ کے دورانِ قیام حضر ت مولانا سید سلیمان اشرف بہاری پروفیسر دینیات مسلم یونیورسٹی علی گڑھ (خلیفہ اعلیٰ حضرت قدس سرہ) کی خدمت میں بھی حاضری دیتے اورعلمی اکتساب فرماتے رہے ۔
۱۳۵۶ھ میں مدرسہ حافظیہ سعیدیہ دادوں سے سند فراغ حاصل کیا۔ حضرت مولاناسید شاہ مصباح الحسن صاحب چشتیرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِنے سر پردستار فضیلت باندھی۔بیعت۱۷صفرالمظفر۱۳۵۳ھ میں حضرت قاضی ابن عباس صاحب عباسی نقشبندیرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِکے پہلے عرس میں حضرت الحاج حافظ شاہ ابرارحسن خان صاحب نقشبندی شاہ جہانپوری (جو قاضی صاحب موصوف کے پیر بھائی تھے ) سے مرید ہوئے ۔
۲ذیقعدہ ۱۳۷۰ھ کو حضر ت شاہ ابرار حسن صاحب نقشبندیرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِکا انتقال ہوگیا تو اس کے بعدآپ کے خلیفۂ برحق الحاج قاضی محبوب احمد صاحب عباسی نقشبندی سے بھی اکتساب فیض کیا۔
چونکہ شروع ہی سے موصوف کا رجحان سلسلۂ نقشبندیہ کی طرف زیادہ تھا اسی لیے اس سلسلے میں مرید ہوئے مگر دیگر سلاسل کے بزرگوں سے بھی اکتساب فیض وبرکات کا سلسلہ جاری رکھا۔
۲۵صفرالمظفر۱۳۵۸ھ میں عرس رضوی کے مبارک ومسعود موقع پر حضرت حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان صاحب (م۱۳۶۳ھ) نے سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کی خلافت واجازت سے سرفرازفرمایا۔سلسلۂ تدریسفارغ التحصیل ہونے کے بعد سب سے پہلے مدرسہ اسحاقیہ جودھ پور (راجھستان) میں مدرس ہوئے ۔درس نظامی کا افتتاح فرمایااورمدرسہ ترقی کی راہ پر چل نکلا تھا کہ اچانک جودھ پور میں ہندو مسلم فساد ہونے کی و جہ سے بہت سے بیرونی علماء کے ساتھ آپرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِکو گرفتار کیا گیا اوربعد میں اِشْتِعَال اَنگیز تقریر کرنے کا الزام لگا کر حکومت نے شہر بدرکردیا جس سے مدرسہ کوبھی نقصان ہوا اورمولانا موصوف کو بھی وہاں سے آنا پڑا۔
ستمبر ۱۹۳۹ء میں حضرت قاضی محبوب احمد صاحب کی دعوت پر امروہہ تشریف لے گئے اوروہاں مدرسہ محمدیہ حنفیہ میں تدریسی خدمات انجام دیں جس کا سلسلہ تین سال تک رہا۔ اس وقت وہاں پر مولانا سیدمحمد خلیل صاحب کاظمی امروہی صدر مدرس تھے اس دوران بھی موصوف سے استفادہ کیا۔ اس کے بعد ۱۹۴۲ء میں دارالعلوم اشرفیہ مبارکپور میں تدریسی خدمات کا آغاز فرمایا اور گیارہ سال تک یہاں بھی درس دیتے رہے اور اس کی تعمیر وترقی میں بھرپور حصہ لیا۔
۱۹۵۲ء میں آپ کا احمد آباد گجرات بسلسلۂ تقریردورہ ہوا۔ مُتَعَدَّد تَقَاریر کے سبب لوگ گرویدہ ہوئے اورجب وہاں پر ایک دارالعلوم کا قیام عمل میں آیا تو احمد آباد کے عمائد اہل سنت نے باصرار مبارک پورسے بلواکر دارالعلوم شاہ عالم میں مدرس رکھا۔ اس سلسلے میں حضرت مولانا ابراہیم رضا خاں صاحب نَبِیْرَئہ اعلیٰ حضرت اورحضورمفتی اعظم ہند مدظلہ الاقدس نے بھی دارالعلوم کے قیام اورترقی میں بھر پور حصہ لیا۔
مولانانے اس دارالعلوم کی ترقی اوربقا میں بھر پور اورجان توڑکر کوشش کی اور اس کو عُرُوج تک پہنچا کر دم لیا۔
بعض ناگفتہ بہ حالات اورارکان میں سے بعض کے درپے آزار ہونے کی وجہ سے استعفا دے کر ۱۷شعبان ۱۳۷۸ھ کو وہاں سے وطن آگئے ۔ اس کے بعد حج بیتاللہکو روانہ ہوئے ۔ واپسی پر دارالعلوم صمدیہ بھیونڈی (مہاراشٹر) کی طلبی پر مارچ ۱۹۶۰ء کو طلبہ کی ایک جماعت کے ساتھ مدرسہ مذکور میں تشریف لے گئے اورچار برس تک جم کر وہاں تدریسی خدمات کو انجام دیا اور مدرسہ مذکور کی تعمیر میں بھی بھرپورکوشش فرمائیی ، جس کے طفیل ایک شاندار عمارت آج بھی موجود وشاہد ہے ۔
مگر جب وہاں کے بھی بعض حضرات سے تعلقات معمول پر نہ رہے تو خاطر برداشتہ ہوکر ۱۹۶۴ء میں مستعفی ہوگئے۔ اس کے بعد فوراً دارالعلوم مسکینیہ دھوراجی گجرات سے طلبی آگئی اورمولانا حکیم علی محمد صاحب اشرفی کے اوردوسرے لوگوں کے اصرار پر وہاں مع جمعیۃ طلبہ تشریف لے گئے مگر وہاں بھی زیادہ دنوں قیام نہ کرسکے اور بالآخر دار العلوم منظر حق ٹانڈہ فیض آباد (یوپی) میں بَعُہْدَہ صدرالمدرسین وشیخالحدیثتشریف لے گئے جہاں تقریباًدس سال سے علوم و معارف کے گوہر لٹارہے ہیں ۔ خدا نے تفہیم کی خوب خوب صلاحیت بخشی ہے ۔ تمام مُتَدَاوَل کتابوں پر یکساں قدرت رکھتے ہیں اور پوری مہارت سے درس دیتے ہیں اورطلبہ خوب مانوس ہوتے ہیں ۔ تدریس کی اس طویل مدت میں طلبہ کی ایک تعدادتیار ہوگئی اور آج ملک وبیرون ملک آپ کے تلامذہ تدریس و تقریراور مناظرہ و تصنیف کی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔افتاءتدریس کے ساتھ ساتھ فتوی نویسی کا کا م بھی کرتے رہے ہیں ۔ تحریر کردہ فتووں کی نقلیں کم محفوظ ہیں پھر بھی چھ سوسے زیادہ فتاوے منقول ہیں جو کبھی شائع کیے جاسکتے ہیں ۔وعظمولیٰتَعَالٰینے وَعْظ ونصیحت کی بھی خوب صلاحیت بخشی ہے۔ملک کے گوشے گوشے میں آپ کے مواعظ حسنہ کی دھوم مچی ہوئی ہے اوربہت سے مواعظ تو مطبوعہ بھی ہیں جن سے عوام ہمیشہ فائدہ حاصل کرتے رہیں گے۔ذوقِ سخنزمانہ طالب علمی ہی سے شعر وشاعری کا ذوق ہے ۔ نعت شریف، قومی نظمیں اورغزل میں بھی طبع آزمائی فرمائیی ہے ۔ کوئی مجموعۂ کلام مطبوعہ نہیں ہے۔تصنیف وتالیفتدریس، افتاء، وعظ وغیرہ کے ساتھ آپ نے تصنیف وتالیف کا بھی بہت اچھا اورخوب ذوق پایا ہے اوراس کی طرف خاصی توجہ مبذول فرمائیی ہے ۔ مختلف موضوعات پر آپ کی مطبوعہ اردو تصانیف مندرجہ ذیل ہیں :
(۱)مَوسِم رحمت (سب سے پہلی تصنیف جومتبرک راتوںاورمبارک ایام کے فضائل پرمشتمل ہے)
(۲)معمولات الابراربمعانی الآثار(تصوف کے بیان میں )
(۳)اولیاء رجال الحدیث(اولیائے محدثین کی سوانح)
(۴)مشائخ نقشبندیہ(نقشبندی بزرگوں کا سلسلہ وارتذکرہ)
(۵)روحانی حکایات (دوحصے)
(۶)ایمانی تقریریں (۷)نورانی تقریریں
(۸)حقانی تقریریں (۹)عرفانی تقریریں
(۱۰)قرآنی تقریریں (۱۱)سیرۃ المصطفیٰ
(۱۲)نوادرالحدیث(چالیس حدیثوں کی عمدہ اورمفید شرح)
(۱۳)کرامات صحابہ (۱۴)جنتی زیور
(۱۵)قیامت کب آئے گی۔
تمام کتابیں متعدد بار طبع ہوکر اہل ذوق کے لیے تسکین کا سامان بن چکی ہیں اورخاص بات یہ ہے کہ اس وقت بھی آپ کی تمام کتابیں بآسانی مل جاتی ہیں ۔ کوئی بھی کتاب نایاب اورمشکل الحصول نہیں ، خود ہی اپنے اہتمام سے طبع کراتے اورشائع فرماتے ہیں ۔کتابت وطباعت کا معیار بھی عام کتابوں سے بہتر ہے جوکہ مقبولیت کی ایک خاص و جہ ہے ۔ آپ کی تقریروتصنیف میں مفید لطائف کی خاصی آمیزش ہوتی ہے جو عوامی دلچسپی کا باعث ہے۔حج وزیارت۱۳۷۸ھ مطابق ۱۹۵۹ء میں حج کعبہ وزیارت مدینہ طیبہ کا عزم کیا اورشاد کام ہوئے اورپوری صحت وتوانائی کے ساتھ تمام ارکان کی ادائیگی سے سرفراز ہوئے ۔ جدہ میں آپ کے برادرطریقت الحاج عبدالحمیدکے مکان پر محفل وعظ کا انعقاد ہوا جس میں آپ نے نہایت ہی رقت انگیز تقریر فرمائیی ۔
دونوں مقامات متبرکہ میں کثیر علماء ومشائخ سے ملاقات فرمائیی اوربہتوں نے آپ کو اپنے سلاسلِ طریقت، دلائل الخیرات، حزب البحراور اورادووظائف نیز حدیث کی سندیں واجازتیں مرحمت فرمائییں ۔ حضرت شیخ مفتی محمد سعداللہالمکی نے باوجود
ضعف پیری کے آپ کو خود لکھ کر سندیں عطاکیں اوردیگرتبرکات وآثار سے بھی نوازا مولانا الشیخ السید علوی عباس المکی مفتی المالکیہ ومدرسالحدیثبالحرم شریف سے بھی ملاقات کا شرف حاصل کیا۔
حج کو جاتے وقت مولانا موصوف نے حضور مفتی اعظم ہندرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِسے شیخ مذکور کے نام ایک تعارفی خط لکھوالیا تھا جس سے توجہات عالیہ کو مُنعطِف کرانے میں مدد ملی ۔ شیخ کی بارگاہ میں پہنچ کر جب آپ نے خط پیش کیا اورشیخ اس جملہ پر پہنچےہذا تلمیذ تلمیذ الشیخ مولانا احمد رضا خاں الہندی۔تو فرمایا : عبدالمصطفیٰ آپ ہی ہیں ؟آ پ نے عرض کیا : ہاں میں ہی ہوں !پھرتو بڑی ہی گرم جوشی سے معانقہ فرمایا اوردعائیں دیں اورکچھ دیر تک سرکار مرشدی حضور مفتی اعظم ہند دامت برکاتہم القدسیہ کا ذکر کرتے رہے اور سرکاراعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِکا تذکرہ فرمایا پھر اپنے گھر بلایا۔
جب آپ انکے گھر پہنچے تو وہ آپ کے ساتھ بہت ہی توجہ اورمہربانی سے پیش آئے اور اپنی تمام تصانیف کی ایک ایک جلد عنایت فرما کر صحاح ستہ کی سند حدیث عطافرمائیی۔
مولانا الشیخ محمد بن العربی الجزائری کے نام بھی سرکارمفتی اعظم ہندرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِکا خط لے کر حاضر ہوئے تو آپ کی مسرت کی انتہانہ رہی، بڑے تپاک سے ملے اور صحیح بخاری شریف اورموطاکی سند حدیث عطافرمائیی اورحضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلویرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِکا تذکرہ جمیل ان الفاظ میں فرمایا :
’’ہندوستان کا جب کوئی عالم ہم سے ملتا ہے تو ہم اس سے مولانا شیخ احمد رضا خاں ہندی کے بارے میں سوال کرتے ہیں اگر اس نے تعریف کی تو ہم سمجھ لیتے ہیں کہ یہ سنی ہے اوراگر اس نے مذمت کی تو ہم کو یقین ہوجاتا ہے کہ یہ شخص گمراہ اور بدعتی ہے ہمارے نزدیک یہی کسوٹی ہے ۔‘‘
مولانا الشیخ ضیاء الدین مہاجر مدنی خلیفہ اعلیٰ حضرت سے بھی ملاقات کا شرف حاصل کیا اورآپ کی صحبت سے فیض یاب ہوئے ۔ آپ ہی نے دیگر حضرات سے بھی ملاقات کرائی جن میں شیخ الدلائل حضرت سید یوسف بن محمد المدنی بھی ہیں ۔
ان متعدد شیوخ کی اَسناد کی نقلیں حضرت علامہ اعظمی صاحب نے اپنی کتاب ’’معمولات الابرار ‘‘میں نقل فرمائیی ہیں جو کئی صفحات پر پھیلی ہوئی ہیں ۔( )
محمد عبدالمبین نعمانی مصباحیسنت کی بہاریںاَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّتبلیغ قرآن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مدنی ماحول میں بکثرت سنتیں سیکھی اور سکھائی جاتی ہیں کہ ہر جمعرات کو فیضانِ مدینہ محلہ سودا گران پرانی سبزی منڈی میں مغرب کی نماز کے بعد ہونے والے سنتوں بھرے اجتماع میں ساری رات گزارنے کی مدنی التجاء ہے۔ عاشقان رسول کے مدنی قافلوں میں سنتوں کی تربیت کے لئے سفر اور روزانہ فکرِ مدینہ کے ذریعے مدنی انعامات کا کارڈپُر کر کے ہر مدنی ماہ کے ابتدائی دس دن کے اندر اندر اپنے یہاں کے ذمہ دار کو جمع کروانے کا معمول بنالیجئے۔اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس کی برکت سے پابندِ سنت بننے، گناہوں سے نفرت کرنے اور ایمان کی حفاظت کے لئے کڑھنے کا ذہن بنے گا ہر اسلامی بھائی اپنا یہ مدنی ذہن بنائے کہ ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔‘‘اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاپنی اصلاح کی کوشش کے لئے مدنی انعامات پر عمل اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کیلئے مدنی قافلوں میں سفر کرنا ہے۔احادیثِ دلبِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ سَرْمَدًا صَلِّ عَلٰی حَبِیْبِکَ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَبَدًانہ شبم ، نہ شب پرستم ، کہ حدیثِ خواب گویم چوں غلام آفتابم ہمہ از آفتاب گویم
آفتاب ِرسالت حضور اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی ایک بہت ہی ’’بشارت آمیز‘‘ حدیث ہے کہمَنْ حَفِظَ عَلٰی اُمَّتِیْ اَرْبَعِیْنَ حَدِیْثاً فِیْ اَمْرِ دِیْنِھَا بَعَثَہُ اللّٰہُ فَقِیْھاً وَّ کُنْتُ لَہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شَافِعاً وَّشَہِیْداً(مشکوۃ ،کتاب العلم، ص۳۶)ترجمہ: جو شخص دینی معاملات کے متعلق چالیس حدیثیں یاد کرکے میری امت تک پہنچا دے گااللہ تَعَالٰیاس کو( قیامت کے دن)اس شان کے ساتھ اٹھائے گاکہ وہ فقیہ ہوگا اور میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا اور اس کے لئے گواہی دوں گا۔
(۱)جب سے اس حدیث کے مُطالعہ سے نظر سرفراز ہوئی برابر دل میں یہ تڑپ اور قلب کی گہرائیوں میں یہ جذبہ موجزن رہا کہ کیوںنہ میں بھی دوسرے مُحَدِّثینِ کرام کی طرح چالیس حدیثوں کا ایک مجموعہ لکھ دوں اور امت ِ رسول کی بارگاہ میں پیش کرکے اس ’’بشارتِ عظمیٰ‘‘ کے امیدواروں کی مقدس فہرست میں اپنا نام بھی درج کرالوں شاید کہ میرا رب کریم اپنے فضل و کرم سے مجھ بے علم و بے عمل اورگناہگار انسان کو بھی اس مایہ ناز سعادت کے اعزاز سے سرفراز فرمادے !
چنانچہ اسی تمنا میں یہ چالیس حدیثوں کا ایک گلدستہ ترجمہ اور شرح کے ساتھ لکھ کر ’’نوادِرُالحدیث‘‘ کے نام سے امتِ رسولصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خدمت میں نذر کرتا ہوں اور خداوند رحمن ورحیم کی رحمت اور اس کے فضل عظیم سے امیدوار ہوں کہ وہ
میری اس حقیرخدمت کو قبول فرماکر قیامت کے دن ’’فُقہائے کِرام ‘‘ کی صفِ نعال میں مجھ کو جگہ عطا فرمادے اور رسولِ رحمت کی شفاعت کی کملی میں میرے جرموں کی پردہ پوشی فرمادے ۔وَمَا ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْزٍ وَّھُوَ حَسْبِیْ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ؎وہ اگرچاہے تو اک قطرہ کو دریا کردے اسکی قدرت ہے کہ اک ذرے کو صحرا کردے
اپنے الطافِ کریمانہ سے وہ چاہے اگر ایک ’’کن‘‘ کہہ کے وہ کونین کو پیدا کردے
(۲)میں نے یہ کتاب خاص طور پر مبتدی طلبہ، نئے مقررین اوراردو خواں عوام کے مطالعہ کے لئے تحریر کی ہے ۔ اس کتاب میں قصداً میں نے حدیثوں کی سندوں پر محدثانہ کلام نیز مسائل پر فقیہانہ بحثوں اور صَرف و نحو یا علم ِمعانی و بیان کے علمی نکات کو بیان کرنے سے گریز کیا ہے اور شوکت ِ الفاظ ، جدت تراکیب ، عبارت آرائی وغیرہ کے تکلفات سے بھی عمداً اجتناب کیا ہے اور نہایت ہی سادہ اور سَلیس زبان اور بالکل ہی عام فہم عبارت میں اپنے مفہوم کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ لہٰذا ناقدین ِفن اور علمی نِکات کے مُتلاشی احباب سے دست بستہ مُلتجی ہوں کہ وہ اس مجموعہ میں مذکورہ بالا مَحاسن کو نہ تلاش کریں اور یہ سمجھ کر اس مجموعہ کو شرف ِقبول سے سرفراز فرمائییں کہ ؎
گل آورد سعدی سوئے بوستاں بشوخی ، چو فلفل بہ ہندوستاں
(۳)میں نے بالقصد اس کتاب میں نہ باب اور فصل کی قیدرکھی نہ مضامین کی ترتیب کا کوئی خاص اہتمام کیا بلکہ مختلف مضامین کی حدیثوں کو یکے بعد دیگرے کسی خاص ترتیب کے بغیر تحریر کرتا چلا گیا کیونکہ میرا تجربہ ہے کہ ایک ہی قسم کے مضامین کو لگاتار پڑھتے رہنے سے عموماً مطالعہ کرنے والے اکتا جاتے ہیں اور تازہ بہ تازہ نَوع بَنوع مختلف قسم کے نئے نئے مَضامین کو عجیب عجیب عُنوانوں کے ساتھ پڑھنے سے طبیعت کی تازگی اور ذوق کا نشاط برابربڑھتا رہتا ہے ۔خدا کرے کہ میری یہ غیر معروف اور بے ڈھنگی رَوِش ناظرینِ کرام کو بھی پسند آجائے ۔
(۴)میں اُن تمام ناظرین کرام کا انتہائی مَمْنون اور شکر گزار ہوں گا جو اس کتاب کا مطالعہ کرنے کے بعد اخلاصِ قلب کے ساتھ میرے حق میں یہ دعا فرمائییں گے کہ خداوند کریم اپنے فضل وکرم سے میری اس حقیر قلمی خدمت کو دونوں جہانوں میں مقبولیت کی کرامتوں سے سرفراز فرمائیے اور میرے لئے اور میرے والدین کے لئے اس کوتَوشۂ آخرت اور سامانِ مغفرت بنائے ؎
نذرِ من در دوجہاں باعزت و تمکین باد
ایں دعا از من و از جملہ جہاں ’’آمین‘‘باد
(۵)لکھ چکا وعظ بھی حکایت بھی تھیں یہ میرے نصیب کی باتیں
اب مدینہ کی یاد آئی ہے لکھ رہا ہوں حبیب کی باتیں
گلشن قدس کی بہاروں میں باغِ جنت کے پھول لایا ہوں
عاشقو! بھرلو دامنِ دل کو میں ’’حدیثِ رسول‘‘ لایا ہوں
عمر گزری ہے لکھنے پڑھنے میں سب کتابوں سے ہو چکا دل سیر
اب لگن ہے حدیث وقرآں سے اس کو کہتے ہیں ’’خاتمہ بالخیر‘‘وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی اَشْرَفِ الْانبیاءِ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَ اَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَعبدالمصطفیٰ الاعظمیعفی عنہ۲۷رمضان المبارک ۱۳۹۴ھ
محلہ کریم الدین پور، پوسٹ گھوسی ضلع اعظم گڑھ
اِنتساب و
ا یصالِ ثواب
میں اپنی اس کتاب کے ذریعے ان تمام علمائے دین اور فُقہاء ومُحدثین
کی ارواحِ طیبہ کو ایصال ثواب کرتاہوں جن کے نوک ِ قلم
کی سیاہی شہیدوں کے خون کا درجہ رکھتی ہے ۔
ناظرین کرام بھی فاتحہ پڑھ کر اس کتاب کا مطالعہ کریںاِنْ شَآءَ اللہ تَعَالٰیخیر وبرکت پائیں گے ۔
خاکپائے علمائے کرام
عبدالمصطفیٰ الاعظمیعفی عنہحدیث کی چند اصطلاحیںحضور نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَیا صحابہ ، تابعینرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمنے جو کچھ فرمایا اور جو کچھ کیا یا کسی کو کچھ کہتے سنا یا کچھ کرتے دیکھا اوراس پر منع و انکار نہیں فرمایا بلکہ خاموش رہے تو ان سب چیزوں کو محدثین کی اصطلاح میں ’’حدیث ‘‘ کہا جاتاہے ۔
اس اعتبار سے حدیث کی تین قسمیں ہوگئیں :
(۱)حدیث ِمَرْفُوع (۲)حدیث ِمَوْقُوف (۳) حدیث ِمَقْطوعحدیثِ مَرْفُوع: وہ حدیث جو حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَتک پہنچ جائے یعنی اس حدیث میں یہ ذکر کیا گیاہو کہ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ایسا فرمایا، یا حضور نے ایسا کیا، یا حضور کے سامنے لوگوں نے ایسا کہا یا ایسا کیا اس کو ’’حدیث ِ مرفوع‘‘ کہتے ہیں ۔حدیث مَوْقُوف: وہ حدیث جو صحابی تک پہنچے یعنی اس حدیث میں یہ مذکور ہو کہ مثلاً ابن عباسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے کہا، یا ابن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے کیا، یا ابن مسعودرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے ایسا دیکھا یا سنا تو اس کو ’’حدیث موقوف‘‘ کہتے ہیں ۔حدیث مَقْطوع:وہ حدیث جو تابعی تک پہنچے یعنی اس حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہو کہ مثلاً سعید بن جُبَیْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے ایسا کہا یا ایسا کیا، یا عِکرمہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے لوگوں کویہ کرتے دیکھا یا یہ کہتے سنا تو اس کو ’’حدیث ِ مَقْطوع‘‘ کہتے ہیں ۔رِوایت: حدیث نقل کرنا ، حدیث بیان کرنا ۔
راوی : حدیث نقل کرنے والا، حدیث کوبیان کرنے والا۔سند ِ حدیث: حدیث کو نقل کرنے والے راویوں کا سلسلہ جیسےعَنِ ابْنِ شِھَابٍ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمتنِ حدیث: جہاں سند ختم ہوجائے اسکے بعد کے الفاظ کو ’’متنِ حدیث‘‘ کہا جاتاہے ۔صَحابی: جس کو بحالت ِایمان حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی صحبت نصیب ہوئی اور ایمان ہی پر اس کا خاتمہ ہوا۔تابعی: جس نے بحالت ِایمان کسی صحابی سے ملاقات کی اورایمان ہی پراس کا خاتمہ ہوا۔
اس اعتبار سے کہ اصل حدیث راوی تک کس طرح پہنچی حدیث کی چار قسمیں ہیں :
(۱)حدیث ِمتواتر (۲)حدیث ِمشہور(۳)حدیث ِعزیز(۴)حدیث ِغریبحدیث متواتر: وہ حدیث ہے جس کے روایت کرنے والے ہر زمانے میں اس قدر کثیر لوگ ہوں کہ ان کا جھوٹ پر متفق ہوجانا عادتاً محال ہو۔حدیث ِمشہور: وہ حدیث ہے جس کے راوی ہر دور میں دوسے زیادہ رہے ہوں اس کو ’’حدیث مستفیض ‘‘ بھی کہتے ہیں ۔حدیث ِعزیز: وہ حدیث ہے جس کو ہر دور میں دو راوی روایت کرتے رہے ہوں اور پوری سند میں کہیں بھی دوراوی سے کم نہ ہوں ۔حدیث ِغریب: وہ حدیث ہے جس کے سلسلۂ سند میں کہیں صرف ایک ہی راوی رہ گیا ہو۔وَضَّاعُالحدیث: جھوٹی حدیثیں گھڑلینے والا ، ایسا آدمی سخت گناہگار اور جہنمی ہے ۔حدیث مَوضُوع: جھوٹے راوی کی بیان کی ہوئی حدیث جس کا حدیث ِ رسول ہونا ثابت نہ ہو یہ ’’حدیث موضوع‘‘ ہے جو قطعاً غیر معتبر ہے ۔
محدثین : علومِ حدیث میں مشغول ہونے والے حضرات ’’محدثین ‘‘ کہلاتے ہیں ۔مُؤرخین: گزرے ہوئے زمانے کی تَواریخ اور حالات بیان کرنے والے ’’مؤرخین‘‘ یا ’’ اخباری ‘‘ کے لقب سے یاد کیے جاتے ہیں ۔صحاحِ ستّہ:(۱)بخاری شریف (۲)مسلم شریف
(۳)ترمذی شریف (۴)ابوداؤد شریف
(۵)نساء شریف (۶)ابن ما جہ شریف
حدیث کی یہ چھ مشہور کتابیں ’’صحاحِ ستہ ‘‘ کہلاتی ہیں ۔دین میں حدیث کا مقامزمانۂ نبوت سے آج تک تمام مسلمانوں کا یہی عقیدہ رہا ہے کہ احکام شریعت کی دلیلوں میں سے سب سے مقدم اور سب سے اعلیٰ خدا کی مُقدس کتاب ’’قرآن مجید‘‘ ہے اور چونکہ قرآن ہی کی تصریحات وہدایات کے بموجب حضور نبی اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی اِتّباع واِطاعت بھی ہر مسلمان کے لئے لازمُ الایمان اور واجبُ العمل ہے کیونکہ بغیر اس کے قرآن مجید کی آیتوں کے صحیح مفہوم اورحقیقی مراد کو سمجھ لینا غیر ممکن اور محال ہے اس لئے قرآن مجید کے بعد احکام شریعت کی دلیل بننے میں حدیث ہی کادرجہ ہے ۔ اس کے بعد اجماعِ امّت اور قیاسِ مجتہدکا درجہ ہے اس لئے یہ عقیدہ رکھنا ضروریاتِ دین میں سے ہے کہ قرآن مجید و حدیث دونوں ہی دین اسلام کی مرکزی بنیاد اور احکامِ شرع کی مضبوط دلیلیں ہیں ۔
اس دَور کے بعض مُلحدین جو اپنے آپ کو ’’اہل قرآن‘‘ کہتے ہیں اور حدیثوں کے دلیلِ شرعی ہونے کا انکار کرتے ہیں قرآن مجید نے صاف اور صریح لفظوں میں ان ظالموں کے اس کافرانہ نظریہ کا رد فرمایا ہے ۔ چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے کہوَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ(∞حشر)∞ ( )
یعنی رسول جو کچھ تم کو (حکم )دیں اس کو لو اور جس چیز سے تم کو منع کریں اس سے باز رہو۔
مسلمانو! دیکھ لو! قرآن کا یہ فرمان صاف صاف اعلان کررہا ہے کہ رسولصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے اَوامر ونَواہی جو حدیثوں کی صورت میں ہیں یقینا بلاشبہ واجب العمل اور احکام ِشرع کی حُجت اور مضبوط دلیلیں ہیں ۔منصبِ رسالتحقیقت تو یہ ہے کہ جولوگ حدیثوں کے دلیل شرعی ہونے کا انکار کرتے ہیں وہ در حقیقت مقامِ نبوت و منصبِ رسالت ہی کے منکر ہیں ۔ ان لوگوں کے نزدیک رسول کی حیثیت محض ایک ’’قاصداور ایلچی ‘‘کی سی ہے حالانکہ قرآن مجید نے صاف و صریح لفظوں میں اس مُلحدانہ نظریہ اور کافرانہ بکواس کی جڑ ہی کاٹ ڈالی ہے ۔
چنانچہ قرآن مجید کا ارشاد ہے کہمَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ(نساء)( )
یعنی جس نے رسول کی اطاعت کی اس نےاللہکی اطاعت کی ۔
کہیں ارشاد فرمایا :وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِؕ(نساء)( )
یعنی ہم نے جس رسول کو بھی بھیجا اسی لئے بھیجا تاکہاللہکے حکم سے اسکی اطاعت کریں
اسی طرح ارشادِ ربانی ہے کہیَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓىٕثَ(اعراف) ( )
یعنی رسول لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہیں اور بدی سے منع کرتے ہیں اور لوگوں کے لیے ستھری چیزوں کو حلال فرماتے ہیں اور گندی چیزوں کو حرام فرماتے ہیں ۔
مذکورہ بالا آیات اور اس قسم کی دوسری بہت سی آیتیں اعلان کررہی ہیں کہ رسول ایک’’ قاصد اور ایلچی‘‘ کی پوزیشن میں نہیں ہیں بلکہ رسول کا منصب رسالت اس قدر بلند وبالا ہے کہ رسول مقتدیٰ ومُطاع ہیں ، رسول آمروناہی ہیں ، رسول حلال کرنے والے، حرام کرنے والے ہیں ، رسول حاکم و حکم اور معلم و شارع ہیں ۔
مسلمانو! ذرا سوچوتو سہی کہیں قاصدا ور ایلچی کی بھلا یہ شان ہوا کرتی ہے!منکرین ِحدیث کی نفسانیتپھر یہ بھی ذہن میں رکھیے کہ منکرین ِحدیث نے کسی دینی جذبہ کے ماتحت قرآن پر عمل اور حدیثوں کے انکار کا اعلان نہیں کیا ہے بلکہ اس فِتنہ وفَساد سے ان کی غرضِ فاسد یہ ہے کہ حدیثوں کا انکار کرکے قرآن کے مَعانی ومَطالب بیان کرنے میں وہ تشریحاتِ نبوت کی مقدس حدبندیوں سے آزاد ہوجائیں اور بالکل آوارہ ہوکر قرآن کے مفہوم و مراد کو اپنی نفسانی خواہشوں کے مطابق ڈھال سکیں ۔ چنانچہ اس سلسلے میں ایک لطیفہ بہت ہی دلچسپ بھی ہے اور نہایت ہی عبرت خیز و نصیحت آموز بھی۔لطیفہ: ایک منکر ِحدیث خواہ مخواہ مجھ سے الجھ گیا اور کہنے لگا کہ قرآن میں ’’اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ‘‘ کے معنی مولویوں نے جو ’’نماز پڑھنا‘‘بتایا ہے وہ غلط ہے کیونکہ لغت میں ’’صلوٰۃ‘‘ کے معنی تو دعا مانگنے کے ہیں ۔ لہٰذااَقِیْمُواالصَّلٰوۃَکا یہ مطلب ہوا کہ پابندی کے ساتھ دعا مانگتے رہو۔
میں نے اس سے کہا کہ الفاظِ قرآن کے معانی لغت سے بیان کیے جائیں گے یا رسولعلیہ الصلوٰۃ والسلامکی تشریحات کے مطابق قرآن کا ترجمہ کیا جائے گا تواس نے نہایت بے باکی کے ساتھ برجستہ کہا کہ جناب ! قرآن عربی زبان میں نازل ہوا ہے لہٰذا عربی کی لغات ہی سے قرآن کا ترجمہ کیا جائے گا رسولعلیہ الصلوٰۃ والسلامکی تشریحات کا پابند ہونا ہمارے لئے کوئی ضروری نہیں ہے ۔
یہ سن کرمیرا خون کھول گیا مگر میں نے ضبط کیا لیکن جل بھُن کر میں نے اس سے کہا کہ جناب !اگر لغت ہی سے قرآن کا ترجمہ کرنا ہے تو لغت میں ’’صلوٰۃ‘‘ کے بہت معنی لکھے ہوئے ہیں اور ایک بہت ہی دلچسپ مگر پھوہڑ معنی ’’تحریک ا لصلَوَ ْین‘‘ (سرین ہلانا) بھی ہے (تفسیر بیضاوی) تو پھر’’اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ‘‘کا یہ ترجمہ کیوں نہ کیجئے کہ ’’پابندی سے سُرین ہلاتے رہو۔‘‘ چلو چھٹی ہوئی نہ نماز پڑھنے کی ضرورت نہ دعا مانگنے کی حاجت بس ہر دم سرین ہلاتے رہو اور قرآن پر عمل کرتے رہو۔
میری یہ غضب ناک مگر حقیقت افروز تقریر سن کر وہ اس قدر مَرْعُوب ہوا اور جِھینْپ گیا کہ پھر نہ وہ مجھ سے آنکھ ملا سکا نہ کچھ بول سکا بلکہ دُم دبا کر چپکے سے بھاگ نکلا۔
بہرحال حقیقت تو یہ ہے کہ دین میں احادیث ِرسول کی اہمیت کا یہ عالم ہے کہ بغیر احادیث کے تو قرآن مجید کا کلام الٰہی ہونابھی نہیں معلوم ہوسکتا ۔ اگررسول اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَیہ نہ فرمادیتے کہ’’اَلْحَمْد‘‘سے ’’وَالنَّاس‘‘تک کا پورا کلام قرآن مجید اور کلام الٰہی ہے تو قیامت تک کوئی نہیں جان سکتا تھا کہ کون ’’کلاماللہ‘‘اور کون ’’کلام رسول‘‘ہے ۔
لہٰذاہر مسلمان کو اس حقیقت پر پوراپورا ایمان رکھنا چاہیے کہ مَسائلِ شریعت کی دلیلوں میں قرآن شریف کے بعد حدیث شریف ہی کا درجہ ہے اور بغیر احادیث ِرسول پر ایمان لائے ہوئے نہ کوئی قرآن کے مَعانی و مَطالب کو کما حقہٗ سمجھ سکتا ہے نہ دین اسلام پرعمل کرسکتا ہے ۔
اس لئے اس زمانے میں جو لوگ حدیثوں کے خلاف عَلَمِ بغاوت بلند کیے ہوئے ہیں مسلمانوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ یہ لوگ گمراہ ، بد مذہب بلکہ بعض تومُلحد اور مُرتد ہوچکے ہیں لہٰذا ان لوگوں کی کوئی تحریر پڑھنی اور ان لوگوں کے وَعْظوں میں شرکت حرام و ناجائز ہے ۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ ان کی صحبت کو سَمِ قاتل اور زہرِ ہَلاہَل سمجھ کر ان سے اجتناب وپرہیز کولازم پکڑیں یہی حکم تمام گستاخِ رسول فرقوں اور ان کی کتب کے متعلق ہے خواہ یہ حضرات کتنی ہی مَکّاری سے اپنے اوپر حنفی ، شافعی کا لیبل چسپاں کریں ۔
دعوتِ اسلامی کے سنتوں کی تربیت کے مدنی قافلوں میں سفر اور روزانہ فکر مدینہ کے ذریعہ مدنی انعامات کا کارڈپُر کر کے ہر مدنی ماہ کے ابتدائی دس دن کے اندر اندر اپنے یہاں کے ذمہ دار کو جمع کروانے کا معمول بنا لیجئے۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کی برکت سے پابندِ سنت بننے، گناہوں سے نفرت اور ایمان کی حفاظت کیلئے کڑھنے کا ذہن بنے گا۔