منتخب حدیثیں
حضرت عمر بن خطابرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسولاللّٰہ عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ تمام اعمال کا ثواب نیتوں سے ہے اور ہر آدمی کے لئے وہی ہے جو اس نے نیت کی ۔ جس شخص کی ہجرتاللّٰہاور اس کے رسول کی طرف ہوتو اس کی ہجرتاللّٰہاور اس کے رسول کے لئے ہے اور جس شخص کی ہجر ت دنیا حاصل کرنے کے لئے یا کسی عورت سے نکاح کے واسطے ہوتو اس کی ہجرت اسی کے لئے ہوگی جس کی طرف اس نے ہجرت کی ہے ۔
عَنْ عُمَرَ ابْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَاِنَّمَا لِامْرِیٍٔ مَّا نَویٰ فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ فَھِجْرَتُہٗ اِلَی اللّٰہ وَرَسُوْلِہٖ وَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ اِلَی دُنْیَا یُصِیْبُھَا اَوِامْرَأَۃٍ یَّتَزَوَّجُھَا فَھِجْرَتُہٗ اِلٰی مَا ھَاجَرَ اِلَیْہِ۔ (صحیح البخاری،کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم، الحدیث:۱، ج۱، ص۵, وصحیح مسلم،کتاب الامارۃ،باب قولہصلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم:انما الاعمال۔۔۔الخ، الحدیث:۱۹۰۷، ص۱۰۵۶)
منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 1
حضرت ابو ہریرہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایک دن حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّملوگوں سے ملاقات کے لئے مکان سے باہر تشریف فرما تھے تو ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ ایمان کیا ہے ؟ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہاللّٰہکو اور اس کے فرشتوں کو اور اس کی ملاقات کو اور اس کے رسولوں کو اور موت کے بعد اُٹھنے کو تو دل سے مان لے ۔اس نے کہا: اسلام کیا ہے ؟ تو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تو خاصاللّٰہ تعالیٰہی کی عبادت کرے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائے اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے جو فرض ہے اور رمضان کے روزے رکھے ۔ اس نے کہاکہ احسان کیا ہے ؟تو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ احسان یہ ہے کہ تواللّٰہکی عبادت اس طرح کرے گویا کہ تواللّٰہ تعالیٰکو دیکھ رہا ہے پس اگر تو اس کو نہیں دیکھتاتو (اس طرح عبادت کرکہ ) وہ تجھ کو دیکھ رہا ہے۔ پھر اس نے کہا کہ قیامت کب آئے گی ؟ تو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا ۔ ہاں میں ابھی تجھ کو قیامت کی کچھ نشانیاں بتاتاہوں (جو یہ ہیں ) جبکہ باندی اپنے مولیٰ کو جنے گی اور اونٹوں کے چرواہے کالے کالے رنگ والے بڑی بڑی عمارتوں میں فخر و گھمنڈ کرنے لگیں گے۔ یہ (علم ِقیامت ) ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کوخدا کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاِنَّ اللّٰہ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ( ترجمۂ کنز الایمان:بیشک اللّٰہ کے پاس ہے قیامت کا علم۔(پ۲۱،لقمٰن:۳۴)کی آیت تلاوت فرمائی (جس میں قیامت وغیرہ پانچ چیزوں کا ذکر ہے ) پھر وہ (سائل) واپس چلا گیا۔ اس کے بعد حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ اس کو واپس بلالاؤ ۔ تو لوگوں کو کچھ نظر نہیں آیا تو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ یہ حضرت جبریل تھے جو لوگوں کو دین سکھانے کے لئے آئے تھے ۔
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ:کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰٰلِہٖ وَسَلَّمَ بَارِزًا یومًا لِلنَّاسِ فَاَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ:مَا الْاِیْمَانُ؟ قَالَ:اَلْاِیْمَانُ اَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰہ وَمَلٰئِکَتِہٖ وَبِلِقَائِہٖ وَرُسُلِہٖ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ قَالَ:مَا الْاِسْلَامُ؟ قَالَ:اَلْاِسْلَامُ اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہ وَلَا تُشْرِکَ بِہٖ وَتُقِیْمَ الصَّلَاۃَ وَتُؤَدِّیَ الزَّکَاۃَ الْمَفْرُوْضَۃَ وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ قاَلَ: مَا الْاِحْسَانُ؟ قَالَ: اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ قَالَ: مَتٰی السَّاعَۃُ؟ قَالَ:مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْہَا بِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ وَسَاُخْبِرُکَ عَنْ اَشْرَاطِھَا اِذَا وَلَدَتِ الْاَمَۃُ رَبَّھَا وَاِذَا تَطَاوَلَ رُعَاۃُ الْاِبِلِ الْبُھْمُ فِی الْبُنْیَانِ فِیْ خَمْسٍ لَا یَعْلَمُھُنَّ اِلَّا اللّٰہ ثُمَّ تَلَا النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اِنَّ اللّٰہ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ اَلْاٰیَۃُ، ثُمَّ اَدْبَرَ فَقَالَ: رُدُّوْہُ فَلَمْ یَرَوْا شَیْئًا فَقَالَ:ھٰذَا جِبْرِیْلُ جَائَ یُعَلِّمُ النَّاسَ دِیْنَھُمْ۔ (صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب سؤال جبریل۔۔۔الخ،الحدیث:۵۰،ج۱،ص۳۱)
منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 2
حضرت ابو ہریرہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے کہ حضور نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا کہ ایمان کی شاخیں ساٹھ سے کچھ زیادہ ہیں اور’’ حیا‘‘ ایمان کی ایک بہت بڑی شاخ ہے۔ اس حدیث کو امام بخاری کے علاوہ مسلم ،نسائی ،ابودائود ،ابن ما جہ نے بھی اپنی اپنی کتابوں میں تحریر فرمایا ہے۔
توضیح ِالفاظ: بِضْعٌ کا لفظ گنتی میں تین سے لے کر نو تک کے عدد پر بولا جاتا ہے۔شُعْبَۃٌشاخ کو کہتے ہیں ۔حَیَائٌکا ترجمہ ’’شرم ‘‘ہے جس کو ہندی میں ’’لاج‘‘ بھی کہتے ہیں ۔
حضرت علامہ بیضاویرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِنے لفظ ِحیاء کی تفسیر فرماتے ہوئے تحریر فرمایا کہاَلْحَیَائُ اِنْقِبَاضُ النَّفْسِ عَنِ الْقَبِیْحِ مُخَافَۃَ الذَّمِّ(بیضاوی شریف)یعنی مذمت کا خوف کرتے ہوئے برے کاموں سے نفس کا سکڑ جانا،اس کیفیت کا نام’’ حیا‘‘ہے۔
یہ در حقیقت ’’وَقاحَت ‘‘اور ’’خَجالت ‘‘کے درمیان کی ایک صفت ہے۔ ’’وقاحت‘‘ یہ ہے کہ انسان اس قدر بے شرم و بے غیرت بن جائے کہ اس کو کسی بُرے سے بُرے کام کرنے سے بھی کوئی جھجک ہی نہ ہو ۔اور ’’خجالت ‘‘یہ ہے کہ انسان اتنا شرمیلا ہوجائے کہ اچھے اور بُرے کام سے جھجکنے لگے اور ’’حیا‘‘یہ ہے کہ بُرے کاموں سے یہ خیال کرکے جھجک ہو کہ لوگ مذمت کریں گے اور اچھے کاموں سے کوئی جھجک نہ ہو۔ وقاحت اور خجالت یہ دونوں انسان کی مذموم اور بُری صفتیں ہیں اور حیاء انسان کی انتہائی محمود اور پسندیدہ صفت ہے۔
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:اَلْاِیْمَانُ بِضْعٌ وَّ سِتُّوْنَ شُعْبَۃً وَّالْحَیَائُ شُعْبَۃٌ مِّنَ الْاِیْمَانِ (صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب امور الایمان، الحدیث:۹، ج۱،ص۱۵)
منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 3
: حضرت ابو موسٰی اَشْعَریرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے،صحابہ نے عرض کی: یارسولاللّٰہ!عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکون سا اسلام افضل ہے؟ تو ارشاد فرمایا کہ اس شخص کا اسلام جس کی زبان اور ہاتھ سے تمام مسلمان سلامت رہیں ۔
عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ قَالَ:قَالُوْا:یَارَسُوْلَ اللّٰہ اَیُّ الْاِسْلَامِ اَفْضَلُ قَالَ:مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِہٖ وَیَدِہٖ۔ ( صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب ایّ الاسلام افضل؟،الحدیث:۱۱،ج۱،ص۱۶)
منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 4
حضرت انَسرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے،حضور نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ تم میں سے کوئی مومن (کامل) نہیں ہوگاجب تک کہ اپنے بھائی (مومن) کے لئے وہی چیز نہ پسند کرے جو اپنی ذات کے لئے پسند کرتاہے۔
عَنْ اَنَسٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبَّ لِاَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ۔ ( صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب من الایمان ان۔۔۔الخ، الحدیث:۱۳،ج۱،ص۱۶)
منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 5
حضرت عبداللّٰہبن عمرورضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے کہ بے شک حضورنبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:جس شخص میں یہ چار باتیں ہوں گی وہ خالص مُنافِق ہے اور جس شخص میں ان چار باتوں میں سے ایک بات ہوگی اس میں نِفاق کی ایک خصلت ہوگی یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑدے۔{۱}جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے{۲}جب بات کرے تو جھوٹ بولے{۳}اور جب کسی سے کوئی عہد کرے تو عہدشِکْنی کرے{۴}اور جب جھگڑا کرے تو بدزبانی کرے۔
عَنْ عَبْدِ اللّٰہ بْنِ عَمْرٍو اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اَرْبَعٌ مَنْ کُنَّ فِیْہِ کَانَ مُنَافِقًا خالِصًا وَمَنْ کَانَتْ فِیْہِ خَصْلَۃٌ مِّنْھُنَّ کَانَتْ فِیْہِ خَصْلَۃٌ مِّنَ النِّفَاقِ حَتّٰی یَدَعَھَا اِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ وَاِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَاِذَا عَاھَدَ غَدَرَ وَاِذَا خَاصَمَ فَجَرَ ( صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب علامۃ المنافق، الحدیث:۳۴، ج۱، ص۲۵)
منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 6
عامر (شعبی) سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیررضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسولاللّٰہ عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حلال ظاہر ہے اور حرام ظاہر ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ مُشْتَبَہ چیزیں ہیں جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے تو جو کوئی شبہ کی چیزوں سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور اپنی آبرو کو بچا لیا اور جو کوئی ان شبہ کی چیزوں میں پڑگیا تو اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو بادشاہ کی محفوظ چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چرائے تو ہوسکتا ہے کہ وہ جانور شاہی چراگاہ میں داخل ہوجائیں ۔سُن لو ! ہر بادشاہ کی ایک ’’حمی‘‘ (محفوظ و مخصوص چراگاہ) ہو تی ہے اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی ’’حمی‘‘ اس کی زمین میں وہ چیزیں ہیں جن کو اس نے حرام ٹھہرایا ہے ۔خبردار! بدن میں ایک گوشت کی بوٹی ایسی ہے کہ اگر وہ درست ہے تو سارا بدن درست ہے اور اگر وہ فاسد ہوگئی تو سارا بدن بگڑ گیا سن لو! وہ دل ہے۔
عَنْ عَامِرٍ قَالَ:سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیْرٍ یَقُوْلُ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ اَلْحَلَالُ بَیِّنٌ وَالْحَرَامُ بَیِّنٌ وَبَیْنَھُمَا مُشْتَبِھَاتٌ لَا یَعْلَمُھَا کَثِیْرٌ مِنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَی الْمُشَبَّھَاتِ اِسْتَبْرَأَ لِدِیْنِہٖ وَ عِرْضِہٖ وَمَنْ وَّقَعَ فیِ الشُّبُھَاتِ کَرَاعٍ یَرْعٰی حَوْلَ الْحِمٰی یُوْشِکُ اَنْ یُّوَاقِعَہٗ اَلَا وَاِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمًی اَلَا اِنَّ حِمَی اللّٰہ فِیْ اَرْضِہٖ مَحَارِمُہٗ اَلَا وَاِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً اِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ اَلَا وَھِیَ الْقَلْبُ (صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب فضل من استبرأ لدینہ،الحدیث:۵۲،ج۱،ص۳۳)
منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 7
حُمَیْد بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امیر مُعاوِیہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکو بحالت خطبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ حضور نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرماتے تھے کہاللّٰہ تعالیٰجس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اس کو دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے اور میں تقسیم کرنے والا ہوں اوراللّٰہ تعالیٰعطا فرماتا ہے اور اس امت کی ایک جماعت ہمیشہاللّٰہ تعالیٰکے دین پر قائم رہے گی،ان کے مخالفین ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکیں گے یہاں تک کہاللّٰہکا امر آجائے۔
حضرت امیر مُعاوِیہ:اس حدیث کے راویوں میں حضرت امیر معاویہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکی ہستی قابل ذکر ہے۔آپ سردارِ مکہ ابو سفیانرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکے فرزند ہیں ۔آپ کی والدہ ماجدہ کا نام ’’ ہند ‘‘تھا ۔ ۸ھ فتح مکّہ کے سال آپ نے اسلام قبول کیا اور دربار رسالت میں اتنے مُعْتَمَد صحابی قرار پائے کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ’’کاتِبِ وَحی‘‘ کا عہدہ ان کو عطا فرمایا ۔خلافتِ راشدہ کے دور میں شام کے گورنر رہے ۔پھر تمام عالم اسلام کے بادشاہ ہوگئے۔رجب ۶۰ھمیں اٹھتّر برس کی عمرپاکر وفات پائی ۔آپ سے ایک سو چھتِّیس حدیثیں مروی ہیں ۔ (1) (فیوض الباری،ج۱،ص۲۲۶)
قَالَ حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ:سَمِعْتُ مُعَاوِیَۃَ خَطِیْبًا یَقُوْلُ:سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ:مَنْ یُّرِدِ اللّٰہ بِہٖ خَیْرًا یُّفَقِّھْہُ فِی الدِّیْنِ وَاِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ وَاللّٰہ یُعْطِیْ وَلَنْ تَزَالَ ھٰذِہِ الْاُمَّۃُ قَائِمَۃً عَلٰی اَمْرِاللّٰہ لَا یَضُرُّھُمْ مَنْ خَالَفَھُمْ حَتّٰی یَأتِیَ اَمْرُ اللّٰہ ( صحیح البخاری،کتاب العلم،باب من یرد اللّٰہ بہ۔۔۔الخ،الحدیث:۷۱،ج۱،ص۴۲)
منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 8
رِبْعِی بن حراش کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علیرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اﷲ∞ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر جھوٹ مت باندھو کیونکہ جو مجھ پر جھوٹ باندھے گا وہ ضرور جہنم میں داخل ہوگا۔
سَمِعْتُ رِبْعِیَّ بْنَ حِرَاشٍ یَقُوْلُ:سَمِعْتُ عَلِیًّا یَّقُوْلُ: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لاَ تَکْذِبُوْا عَلَیَّ فَاِنَّہٗ مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ فَلْیَلِجِ النَّارَ (صحیح البخاری،کتاب العلم،باب اثم من کذب علی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم، الحدیث:۱۰۶،ج۱،ص۵۶)
منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 9
حضرت ابن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُماسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضور نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدو قبروں کے پاس سے گزرے تو ارشاد فرمایا کہ یقینایہ دونوں عذاب میں مبتلا ہیں اور کسی ایسے گناہ میں عذاب نہیں دیا جارہا ہے جس سے بچنا بہت زیادہ دشوار ہو ۔ان میں سے ایک تو پیشاب کے وقت پردہ نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغل خوری کرتا تھا ۔پھر آپ نے کھجور کی ایک ہری ٹہنی لی اور اس کو چیر کر دو ٹکڑے کئے پھر ہر قبر میں ایک ایک ٹکڑا گاڑدیا ۔صحابہ نے عرض کیا کہ یارسولاللّٰہ!عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآپ نے ایسا کیوں کیا ؟ تو حضورصلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلمنے فرمایا : اس لئے کہ جب تک یہ ٹہنیاں خشک نہ ہوں گی ان دونوں کے عذاب میں تَخْفِیْف ہوجائے گی۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:مَرَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَیْنِ فَقَالَ: اِنَّھُمَا لَیُعَذَّبَانِ وَمَا یُعَذَّبَانِ فِیْ کَبِیْرٍ اَمَّا اَحَدُھُمَا فَکَانَ لاَ یَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ وَاَمَّا الاٰخَرُ فَکَانَ یَمْشِیْ بِالنَّمِیْمَۃِ ثُمَّ اَخَذَ جَرِیْدَۃً رَطَبَۃً فَشَقَّھَا بِنِصْفَیْنِ ثُمَّ غَرَزَ فِیْ کُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَۃً قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہ لِمَ صَنَعْتَ ھٰذَا؟فَقَالَ:لَعَلَّہٗ اَن یُّخَفَّفَ عَنْھُمَا مَا لَمْ یَیْبِسَا ( مشکاۃ المصابیح،کتاب الطھارۃ،باب آداب الخلائ، الحدیث:۳۳۸، ج۱، ص۸۱)
منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 10
حضرت اَنسرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ تین چیزیں جس شخص میں ہوں وہ ایمان کی مٹھاس پائے گا{۱}جس کواللّٰہو رسول ان دونوں کے ماسوا (سارے جہان ) سے زیادہ مَحبوب ہوں ۔{۲}اور جو کسی آدمی سے خاصاللّٰہہی کے لئے محبت رکھتا ہو{۳}اور جو اسلام قبول کرنے کے بعد پھر کفر میں جانے کو اتنا ہی بُرا جانے جتنا آگ میں جھونک دئیے جانے کو بُرا جانتا ہے۔
عَنْ اَنَسٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:ثَلٰثٌ مَنْ کُنَّ فِیْہِ وَجَدَ حَلَاوَۃَ الاِْیْمَانِ اَنْ یَّکُوْنَ اللّٰہ وَرَسُوْلُہٗ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِمَّا سِوَاھُمَا وَاَنْ یُّحِبَّ الْمَرْئَ لَا یُحِبُّہٗ اِلَّا لِلّٰہِ وَاَنْ یَّکْرَہَ اَنْ یَّعُوْدَ فِی الْکُفْرِکَمَا یَکْرَہُ اَنْ یُّقْذَفَ فِی النَّارِ ( صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب حلاوۃ الایمان، الحدیث:۱۶، ج۱،ص۱۷)
منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 11
حضرت عبادہ بن صامترضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ(جو بدر کی لڑائی میں شریک ہوئے اور لیلۃُ الْعَقَبہ کے نقیبوں میں سے ایک ہیں ) سے روایت ہے کہ رسولاللّٰہ عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس حال میں جبکہ آپ کے گرد صحابہ کی ایک جماعت تھی،یہ فرمایا کہ تم لوگ مجھ سے بیعت کرو (ان باتوں پر){۱}اللّٰہ تعالیٰکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا ؤ گے{۲}چوری نہیں کروگے{۳}زنا نہیں کروگے{۴}اپنی اولاد کو قتل نہیں کروگے{۵}اپنے ہاتھ پائوں کے درمیان گھڑ کر کسی پر بہتان نہ باندھوگے{۶}کسی شرعی حکم میں نافرمانی نہیں کروگے۔ تو جو اس عَہْد و پَیمان کو پورا کرے گااس کا اجراللّٰہ تعالیٰکے ذمے ہے اور جو ان گناہوں میں سے کچھ کر بیٹھے اور اس کو دنیا میں اس کی سزا مل جائے تو یہ اس کے لئے کفارہ ہے اور جس نے ان گناہوں میں سے کسی گناہ کو کرلیا اوراللّٰہ تعالیٰنے اس کے گناہ کو چھپائے رکھا تو اس کا معاملہاللّٰہکے حوالے ہے، وہ چاہے گا تو اس کو معاف فرمادے گا یا آخرت میں اس کو سزا دے گا، تو ہم سب لوگوں نے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اس بات پر بیعت کی۔
عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ وَکَانَ شَہِدَ بَدْرًا وَّھُوَاَحَدُ النُّقَبَاءِ لَیْلَۃَ الْعَقَبَۃِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ وَحَوْلَہٗ عِصَابَۃٌ مِنْ اَصْحَابِہٖ:بَایِعُوْنِیْ عَلٰی اَنْ لَّاتُشْرِکُوْا بِاللّٰہ شَیْئًا وَّلَاتَسْرِقُوْا وَلَاتَزْنُوْا وَلَاتَقْتُلُوْا اَوْلَادَکُمْ وَلَاتَأْتُوْا بِبُھْتَانٍ تَفْتَرُوْنَہٗ بَیْنَ اَیْدِیْکُمْ وَاَرْجُلِکُمْ وَلَا تَعْصُوْا فیِْ مَعْرُوْفٍ فَمَنْ وَّفیٰ مِنْکُمْ فَاَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہ وَمَنْ اَصَابَ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا فَعُوْقِبَ فیِ الدُّنْیَا فَھُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ وَ مَنْ اَصَابَ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا ثُمَّ سَتَرَہٗ اللّٰہ فَھُوَ اِلَی اللّٰہ اِنْ شَائَ عَفَا عَنْہُ وَاِنْشَائَ عَاقَبَہٗ فَبَایَعْنَاہٗ عَلٰی ذٰلِکَ ( صحیح البخاری،کتاب الایمان، ۱۱۔باب، الحدیث:۱۸، ج۱، ص۱۷)
منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 12
حضرت اُمّ ِسَلَمَہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہانے کہا کہ ایک رات حضور نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبیدار ہوئے تو فرمایا کہسبحان اللّٰہ! اس رات میں کیسے کیسے فتنے اتارے گئے اور کیسے کیسے خزانے کھولے گئے ان حجرے والیوں کو (عبادت کے لئے ) جگاؤ کیونکہ بہت سی عورتیں دنیا میں لباس پہنے ہوئے ہیں مگر وہ آخرت میں ننگی ہوں گی۔
عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ اِسْتَیْقَظَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَقَالَ سُبْحَانَ اﷲِ مَاذَا اُنْزِلَ اللَّیْلَۃَ مِنَ الفِتَنِ وَمَاذَا فُتِحَ مِنَ الْخَزَائِنِ اَیْقِظُوْا صَوَاحِبَ الْحُجُرِ فَرُبَّ کَاسِیَۃٍ فِی الدُّنْیَا عَارِیَۃٌ فِی الْاٰخِرَۃِ ( صحیح البخاری،کتاب العلم،باب العلم والعظۃ باللیل، الحدیث:۱۱۵، ج۱،ص۶۱)
منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 13
حضرت جریررضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے کہ ان سے حضور نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ’’حجۃ الوداع‘‘ میں فرمایا کہ’’تم لوگوں کو خاموش کرو‘‘ پھر حضور نے فرمایا کہ تم لوگ میرے بعد پلٹ کر کُفَّار مت ہوجانا کہ تمہارا بعض بعض کی گردن مارے۔
عَنْ جَرِیْرٍ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ لَہٗ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ: اِسْتَنْصِتِ النَّاسَ فَقَالَ:لَا تَرْجِعُوْا بَعْدِیْ کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ( صحیح البخاری،کتاب العلم،باب الانصات للعلماء، الحدیث:۱۲۱، ج۱، ص۶۳)
منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 14
حضرت ابو ہریرہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے کہ حضور نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ ایک آدمی نے ایک کتے کو دیکھا جو پیاس کی و جہ سے گیلی مٹی چاٹ رہا تھا تو اس شخص نے اپنا موزہ لیا اور اس میں چلو سے پانی بھر کر اس کتے کو پلایا یہاں تک کہ وہ سیراب ہوگیا تواللّٰہ تعالیٰکو اس کا یہ کام پسند آیا اور اس کو جنت میں داخل کردیا۔
عَنْ اَبیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّ رَجُلًا رَاٰی کَلْبًا یَأْکُلُ الثَّریٰ مِنَ العَطَشِ فَاَخَذَ الرَّجُلُ خُفَّہٗ فَجَعَلَ یَغْرِفُ لَہٗ بِہٖ حَتّٰی اَرْوَاہُ فَشَکَرَ اللّٰہ لَہٗ فَاَدْخَلَہُ الْجَنَّۃَ (صحیح البخاری،کتاب الوضوء،باب اذا شرب الکلب فی اناء احدکم۔۔۔ الخ، الحدیث:۱۷۳، ج۱،ص۸۳)
منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 15
: حضرت عبداللّٰہبن عمررضی اللّٰہ تعالیٰ عنہروایت کرتے ہیں کہ حضور نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ ایک عورت ایک بلی کے معاملہ میں جہنم میں داخل ہوئی۔ اُس نے ایک بلی کو باندھ رکھا تھا نہ تو اس کو کچھ کھلایا نہ اس کو چھوڑا کہ وہ حشرات الارض کو کھاتی۔(یہاں تک کہ وہ بھوکی مرگئی)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:دَخَلَتْ اِمْْرَأَۃٌ النَّارَ فِیْ ھِرَّۃٍ رَبَطَتْہَا فَلَمْ تُطْعِمْھَا وَلَمْ تَدَعْھَا تَأْکُلُ مِنْ خُشَاشِ الْاَرْضِ ( صحیح البخاری،کتاب بدء الخلق،باب خمس من الدواب۔۔۔الخ، الحدیث:۳۳۱۸، ج۲،ص۴۰۸)
منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 16
حضرت ابو وائل ( شقیق بن سلمہ ) سے روایت ہے کہ حضرت عبداللّٰہبن مسعودرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہہر جمعرات کے دن وعظ فرمایا کرتے تھے تو ایک آدمی نے ان سے کہا کہ اے ابو عبد الرحمن!میری تمنا ہے کہ آپ روزانہ ہم کو وعظ سُنایا کریں تو آپ نے فرمایا کہ( روزانہ وعظ کہنے سے) جو چیز مجھے روکتی ہے وہ یہ ہے کہ میں تم لوگوں کو تنگی میں ڈالنا نہیں چاہتا اور تمہاری فرصت کا خیال رکھتا ہوں جیسے کہ نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموعظ سنانے میں ہماری فرصت کا خیال رکھتے تھے اس خوف سے کہ ہم اکتا نہ جائیں ۔
عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ قَالَ:کَانَ عَبْدُ اللّٰہ یُذَکِّرُ النَّاسَ فِیْ کُلِّ خَمِیْسٍ فَقَالَ لَہٗ رَجُلٌ:یَا اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ لَوَدِدْتُ اَنَّکَ ذَکَّرْتَنَا کُلَّ یَوْمٍ۔قَالَ:اَمَا اِنَّہٗ یَمْنَعُنِیْ مِنْ ذٰلِکَ اَنِّیْ اَکْرَہُ اَنْ اُمِلَّکُمْ وَاِنِّیْ اَتَخَوَّلُکُمْ بِالْمَوْعِظَۃِ کَمَا کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَخَوَّلُنَا بِھَا مَخَافَۃَ السَّامَۃِ عَلَیْنَا۔ (صحیح البخاری،کتاب العلم،باب من جعل لاھل العلم ایاما معلومۃ، الحدیث:۷۰، ۱،ص۴۲)
منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 17
حضرت اَبو سعید خُدْریرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسولاللّٰہ عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا ہے کہ عنقریب وہ زمانہ آئے گا کہ مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گی جن کے پیچھے پیچھے وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے مقامات پر بھاگتا ہوا چلا جائے گاتاکہ وہ اپنے دین کو فتنوں سے بچالے۔
عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الخُدْرِیِّ اَنَّہٗ قَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُوْشِکُ اَنْ یَّکُوْنَ خَیْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ یَتْبَعُ بِھَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَ مَوَاقِعَ القَطْرِ یَفِرُّ بِدِیْنِہٖ مِنَ الْفِتَنِ۔ ( صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب من الدین الفرار من الفتن، الحدیث:۱۹،ج۱،ص۱۸)
منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 18
حضرت مَعْرور سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابو ذر غِفَاریرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے ’’رَبَذَہ‘‘ میں ملاقات کی، وہ اور ان کا غلام ایک ہی جیسا جوڑا پہنے ہوئے تھے تو میں نے اس کے بارے میں ان سے سوال کیا تو حضرت ابوذررضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے فرمایا کہ میں نے ایک شخص سے گالی گلوچ کی اور اس کو ماں کی گالی دی تو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ اے ابوذر! تم نے اس کو ماں کی گالی دی تم ایسے آدمی ہو کہ تمہارے اندر جاہلیت کی خَصْلَت ہے تمہارے لونڈی غلام تمہارے (دینی) بھائی ہیں ۔اللّٰہ تعالیٰنے ان لوگوں کو تمہارا ماتحت بنادیا ہے تو جس کا بھائی اس کے ماتحت ہو اس کو چاہئے کہ جو خود کھائے اس کو کھلائے اور جو خود پہنے اس کو پہنائے اور تم ان خادموں کو ایسے کاموں کی تکلیف مت دو جو انہیں لاچار کردے اور اگر تم ایسی تکلیف دو تو خود بھی کام میں ان کی مددکرو۔
عَنِ الْمَعْرُوْرِ قَالَ: لَقِیْتُ اَبَاذَرٍّ بِالرَّبَذَۃِ وَعَلَیْہِ حُلَّۃٌ وَعَلٰی غُلَامِہٖ حُلَّۃٌ فَسَئَلْتُہٗ عَنْ ذَالِکَ فَقَالَ: اِنِّیْ سَابَبْتُ رَجُلًا فَعَیَّرْتُہٗ بِاُمِّہٖ فَقَالَ لِیَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَا اَبَاذَرٍّ اَعَیَّرْتَہٗ بِاُمِّہٖ اِنَّکَ اِمْرَؤٌ فِیْکَ جَاہِلِیَّۃٌ اِخْوَانُکُمْ خَوَلُکُمْ جَعَلَھُمُ اللّٰہ تَحْتَ اَیْدِیْکُمْ فَمَنْ کَانَ اَخُوْہُ تَحْتَ یَدِہٖ فَلْیُطْعِمْہُ مِمَّا یَأْکُلُ وَ لْیُلْبِسْہُ مِمَّا یَلْبَسُ وَلَا تُکَلِّفُوْھُمْ مَا یَغْلِبُھُمْ فَاِنْ کَلَّفْتُمُوْھُمْ فَاَعِیْنُوْھُمْ۔( صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب المعاصی من امر الجاھلیۃ۔۔۔الخ، الحدیث:۳۰، ج۱،ص۲۳)
منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 19
حضرت ابو ہریرہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسولاللّٰہ عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ جب تمہارے اُمراء تم میں سے بہترین لوگ ہوں اور تمہارے مالدار سخی ہوں اور تمہارا معاملہ آپس کے مشوروں سے طے ہوتا رہے تو تمہارے لیے زمین کی پیٹھ زمین کے پیٹ سے بہتر ہے اور جب تمہارے اُمراء بدترین لوگ ہوں اور تمہارے مالدار بخیل ہوں اور تمہارے معاملات تمہاری عورتیں طے کرنے لگیں تو تمہارے لیے زمین کا پیٹ زمین کی پیٹھ سے بہتر ہے۔
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِذَا کَانَ اُمَرَائُکُمْ خِیَارَکُمْ وَاَغْنِیَائُکُمْ سَمْحَائَکُمْ وَاُمُوْرُکُمْ شُوْریٰ بَیْنَکُمْ فَظَھْرُ الْاَرْضِ خَیْرٌ لَّکُمْ مِنْ بَطْنِھَا وَاِذَا کَانَ اُمَرَائُکُمْ شِرَارَکُمْ وَاَغْنِیَائُکُمْ بُخَلَائَکُمْ وَ اُمُوْرُکُمْ اِلٰی نِسَائِکُمْ فَبَطْنُ الْاَرْضِ خَیْرٌ لَّکُمْ مِنْ ظَہْرِھا۔ رواہ الترمذی ( مشکاۃ المصابیح،کتاب الرقاق،باب تغیرالناس، الحدیث:۵۳۶۸، ج۲، ص۲۷۵)
منتخب حدیثیں ، حدیث نمبر: 20
- 1
- 2