باب: منقبتوں کا مجموعہ

فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمر سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا میرے ہاتھ میں ریشم کا ٹکڑا ہے میں اس کے ساتھ جنت میں جس جگہ جانا چاہتا ہوں وہ مجھے وہاں ہی لے کر اڑ جاتا ہے ۲؎میں نے یہ خواب بی بی حفصہ سے کہی جناب حفصہ نے نبی صلی الله علیہ و سلم پر پیش فرمائی ۳؎تو فرمایا کہ تمہارے بھائی نیک آدمی ہیں یا عبدالله نیک آدمی ہیں ۴؎(مسلم،بخاری)

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ فِي يَدِي سَرَقَةً مِنْ حَرِيرٍ لَا أَهْوِي بِهَا إِلٰى مَكَانٍ فِي الْجَنَّةِ إِلَّا طَارَتْ بِي إِلَيْهِ فَقَصَصْتُهَا عَلٰى حَفْصَةَ فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أَخَاكِ رَجُلٌ صَالِحٌ أَوْ إِنَّ عَبْدَ اللّٰهِ رَجُلٌ صَالح . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6196 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے تمام لوگوں میں حضور سے زیادہ مشابہہ طریقہ میں سیرت میں اور ہدایت میں ام عبد کے بیٹے ہی ہیں ۱∞؎جب سے وہ اپنے گھر سے نکلتے ہیں وہاں لوٹنے تک ہم کو یہ خبر نہیں کہ وہ اپنے گھر میں جب اکیلے ہوتے ہیں تو کیا کرتے ہیں ۲؎(بخاری)

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: إِنَّ أَشْبَهَ النَّاسِ دَلًّا وَسَمْتًا وَهَدْيًا بِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَابْنُ أُمِّ عَبْدٍ مِنْ حِينَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهٖ إِلٰى أَنْ يَّرْجِعَ إِلَيْهِ لَا تَدْرِي مَا يَصْنَعُ فِیْ أَهْلِهِ إِذَا خَلَا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6197 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں کہ میں اور میرے بھائی یمن سے آئے ہم بہت عرصہ ٹھہرے ۱∞؎ہم یہ ہی سمجھتے رہے کہ حضرت عبدالله ابن مسعود نبی صلی الله علیہ و سلم کے اہلِ بیت میں ہیں ۲؎کیونکہ ہم ان کا اور ان کی والدہ کا بہت ہی آنا جانا نبی صلی الله علیہ و سلم کے پاس دیکھتے تھے۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنَ الْيَمَنِ فَمَكَثْنَا حِينًا مَا نَرَى اِلَّا أَنَّ عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا نَرٰى مِنْ دُخُولِهٖ وَدُخُولِ أُمِّهٖ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6198 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ قرآن مجید چار شخصوں سے سیکھو ۱∞؎عبدالله ابن مسعود ۲؎ابو حذیفہ کے مولٰی سالم۳؎ابی ابن کعب اور معاذ ابن جبل ۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"اِسْتَقْرَؤُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ:مِنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَسَالِمٍ مَوْلٰى أَبِي حُذَيْفَةَ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَمُعَاذَ بْنِ جَبَلٍ ".(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6199 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے علقمہ سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں شام پہنچا تو میں نے دو رکعتیں پڑھیں پھر میں نے عرض کیا الٰہی مجھے نیک ساتھی ہم نشین عطا فرما ۲؎پھر میں ایک قوم کے ساتھ گیا ان میں بیٹھا تو ایک بوڑھے بزرگ آئے حتی کہ میرے برابر بیٹھ گئے ۳؎میں نے کہا یہ کون ہیں لوگوں نے کہا ابوالدرداء ہیں ۴؎میں نے کہا کہ میں نے الله سے دعا کی تھی کہ مجھے نیک ہم نشین نصیب کرے تو الله نے مجھے آپ کو میسر کیا وہ بولے تم کون ہو میں نے کہا میں کوفہ والوں میں سے ہوں ۵؎فرمایا کیا تمہارے پاس ام عبد کے بیٹے نہیں جو حضور کے نعلین اور تکیہ والے ہیں ۶؎اور وضو کے لوٹے والے ۷؎اور تم میں تو وہ بھی ہیں جنہیں الله نے اپنے نبی کی زبان پر شیطان سے امان دی ہے یعنی حضرت عمار ۸؎اور کیا تم میں حضور کے رازدار نہیں جن رازوں کو ان کے سواء کوئی نہیں جانتا ۹؎یعنی حضرت حذیفہ۱۰؎(بخاری)

وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَدِمْتُ الشَّامَ فَصَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قُلْتُ: اللّٰهُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَأَتَيْتُ قَوْمًا فَجَلَسْتُ إِلَيْهِمْ فَإِذَا شَيْخٌ قَدْ جَاءَ حَتّٰى جَلَسَ إِلٰى جَنْبِي قُلْتُ: مَنْ هٰذَا ؟ قَالُوا: أَبُو الدَّرْدَاءِ. قُلْتُ: إِنِّي دَعَوْتُ اللّٰهَ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَيَسَّرَكَ لِي فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ. قَالَ: أَو لَيْسَ عِنْدَكُمْ اِبْنُ أُمِّ عَبْدٍ صَاحِبُ النَّعْلَيْنِ وَالْوِسَادَةِ وَالْمَطْهَرَةِ وَفِيكُمُ الَّذِي أَجَارَهُ اللّٰهُ مِنَ الشَّيْطَانِ عَلٰى لِسَانِ نَبِيِّهِ؟ يَعْنِي عَمَّارًا أَوْ لَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي لَا يَعْلَمُهٗ غَيْرُهٗ؟ يَعْنِي حُذَيْفَة. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6200 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا مجھے جنت دکھائی گئی تو میں نے ابو طلحہ کی بیوی وہاں دیکھی ۱∞؎اور میں نے اپنے سامنے آہٹ سنی وہ بلال تھے۲؎(مسلم)

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أُرِيْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ امْرَأَةَ أَبِي طَلْحَةَ وَسَمِعْتُ خَشْخَشَةً أَمَامِي فَإِذَا بِلَالٌ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6201 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے حضرت سعد سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ چھ آدمی تھے تو مشرکین نے نبی صلی الله علیہ و سلم سے عرض کیا کہ ان کو نکال دیں کہ یہ لوگ ہم پر جرأت نہ کریں ۱∞؎فرماتے ہیں کہ وہ چھ آدمی میں اور ابن مسعود اور ہذیل کے ایک صاحب اور بلال اور دو شخص اور تھے جن کا نام نہیں لیتا۲؎تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے دل میں وہ بات آئی جو رب نے چاہا حضور نے دل میں کچھ سوچا ۳؎تب الله نے یہ آیت اتاری اور آپ انہیں نہ نکالیں جو شام سویرے اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اس کی رضا چاہتے ہیں ۴؎(مسلم)

وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ نَفَرٍ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اُطْرُدْ هَؤُلَاءِ لَا يَجْتَرِؤُوْنَ عَلَيْنَا. قَالَ: وَكُنْتُ أَنَا وَابْنُ مَسْعُودٍ وَرَجُلٌ مِنْ هُذَيْلٍ وَبِلَالٌ وَرَجُلَانِ لَسْتُ أُسَمِّيهِمَا فَوَقَعَ فِي نَفْسِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللّٰهُ أَنْ يَقَعَ فَحَدَّثَ نَفْسَهٗ فَأَنْزَلَ اللّٰهُ تَعَالٰى: وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6202 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے ان سے فرمایا اے ابو موسیٰ تم کو داؤد علیہ السلام کی سی خوش آواز عطا ہوئی ۱∞؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي مُوسٰى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: يَا أَبَا مُوسٰى لَقَدْ أُعْطِيْتَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آل دَاوُد (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6203 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے زمانہ میں چار صاحبوں نے قرآن جمع کیا ۱∞؎ابی ابن کعب،معاذ ابن جبل،زید ابن ثابت اور ابو زید،انس سے کہا گیا کہ ابو زید کون ہے فرمایا میرے ایک چچا ہیں ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلٰى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةٌ: أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَبُو زَيْدٍ قِيلَ لِأَنَسٍ: مَنْ أَبُو زَيْدٍ؟ قَالَ: أَحَدُ عُمُومَتِيْ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6204 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے خباب ابن ارت سے فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ ہجرت کی الله کی رضا تلاش کرتے تھے تو ہمارا ثواب الله پر ہوگیا ۱∞؎ہم میں سے بعض وہ تھے جو چلے گئے اپنا ثواب کچھ نہ چکھا۲؎ان میں سے جناب مصعب ابن عمیر ہیں ۳؎جو احد کے دن شہید ہوئے تو ان کے لیے اتنا کپڑا نہ ملا جس میں انہیں کفن دیا جاوے سواء ایک چادر کے کہ ہم جب ان کے سر ڈھکتے تو ان کے پاؤں نکل جاتے اور جب ان کے پاؤں ڈھکتے تو ان کا سر نکل جاتا نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ اس سے ان کا سر ڈھانپ دو اور ان کے پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دو۴؎بعض ہم میں وہ ہیں جن کے پھل پک گئے تو وہ انہیں چن رہا ہے ۵؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ قَالَ: هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبْتَغِي وَجْهَ اللّٰهِ تَعَالٰى فَوَقَعَ أَجْرُنَا عَلَى اللّٰهِ فَمِنَّا مَنْ مَضٰى لَمْ يَأْكُلْ مَنْ أَجْرِهٖ شَيْئًا مِنْهُمْ: مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ يُوجَدْ لَهٗ مَا يُكَفَّنُ فِيهِ إِلَّا نَمِرَةٌ فَكُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهٗ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسَهٗ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غُطُّوا بهَا رَأسَهٗ وَاجْعَلُوا عَلٰى رِجْلَيْهِ الْإِذْخِرِ . وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهٗ ثَمَرَتُهٗ فَهُوَ يَهْدِبُهَا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6205 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں میں نے نبی صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ سعد ابن معاذ کی موت سے عرش ہل گیا اور ایک روایت میں یوں ہے کہ فرمایا رحمان کا عرش سعد ابن معاذ کی موت سے ہل گیا ۱∞؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: اِهْتَزَّ الْعَرْشُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَفِي رِوَايَةٍ: اِهْتَزَّ عَرْشُ الرَّحْمٰنِ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6206 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حریر کا جوڑا پیش کیا گیا ۱∞؎حضور کے صحابہ اسے چھونے اور اس کی نرمی سے تعجب کرنے لگے۲؎تو فرمایا کیا تم اس کی نرمی سے تعجب کرتے ہو سعد ابن معاذ کے جنت میں رومال اس سے اچھے اور اس سے زیادہ نرم ہیں ۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةُ حَرِيرٍ فَجَعَلَ أَصْحَابُهٗ يَمَسُّونَهَا وَيَتَعَجَّبُونَ مِنْ لِينِهَا فَقَالَ: أَتَعْجَبُونَ مِنْ لِينِ هَذِهِ؟ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الجنَّةِ خيرٌ مِنْهَا وَأَلْيَنُ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6207 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے حضرت ام سلیم سے ۱∞؎انہوں نے عرض کیا یارسول الله انس آپ کا خدمت گار ہے اس کے لیے الله سے دعا فرمایئے حضور نے فرمایا الٰہی ان کا مال ان کی اولاد زیادہ کر اور انہیں تو جو عطا فرماوے اس میں برکت دے ۲؎حضرت انس فرماتے ہیں الله کی قسم کہ میرا مال بہت زیادہ ہے ۳؎اور میری اولاد اور اولاد کی اولاد آج تقریبًا سو سے زیادہ ہیں ۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَنَسٌ خَادِمُكَ اُدْعُ اللّٰهَ لَهٗ قَالَ: اَللّٰهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهٗ وَوَلَدَهٗ وَبَارِكْ لَہٗ فِيمَا أَعْطَيْتَهٗ قَالَ أَنَسٌ: فَوَ اللهِ إِنَّ مَالِي لَكَثِيرٌ وَإِنَّ وَلَدِي وَوَلَدَ وَلَدِي لَيَتَعَادُّونَ عَلٰى نَحْوِ الْمِائَةِ الْيَوْمَ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6208 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی الله علیہ و سلم کو کسی شخص کے متعلق جو روئے زمین پر چلتا ہو یہ کہتے نہیں سنا کہ وہ جنت والوں سے ہے سواء عبدالله ابن سلام کے متعلق ۱∞؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِأَحَدٍ يَمْشِي عَلٰى وَجْهِ الْأَرْضِ إِنَّهٗ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَّا لِعَبْدِ اللّٰهِ بْنِ سَلَامٍ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6209 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے حضرت قیس ابن عباد سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ کی مسجد میں بیٹھا تھا کہ ایک صاحب آئے جن کے چہرے پر انکسار کا اثر تھا لوگ بولے کہ یہ جنت والوں میں سے ہیں انہوں نے دو رکعت پڑھیں جن میں اختصار کرلیا ۲؎پھر نکل گئے اور میں ان کے پیچھے گیا میں نے کہا کہ آپ جب مسجد میں آئے تو لوگوں نے کہا یہ صاحب جنتیوں میں سے ہیں وہ بولے خدا کی قسم کسی کو مناسب نہیں کہ کسی کے متعلق وہ کہے جو جانتا نہ ہو۳؎میں تم کو بتاتا ہوں کہ یہ کیوں ہے میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے زمانہ میں ایک خواب دیکھا تھا میں نے وہ خواب حضور پر پیش کیا تھا۴؎میں نے دیکھا کہ گویا میں ایک باغ میں ہوں اس کی فراخی اس کی سرسبزی بیان کی اس کے بیچ میں لوہے کا ایک ستون ہے جس کا نچلا حصہ زمین میں ہے اور بالائی حصہ آسمان میں اس کے بالائی حصہ میں ایک دستہ ہے ۵؎مجھ سے کہا گیا کہ اس پر چڑھ جاؤ میں نے کہا کہ میں طاقت نہیں رکھتا تو میرے پاس ایک خادم آیا ۶؎اس نے میرے پیچھے سے میرے کپڑے اٹھائے تو میں چڑھ گیا حتی کہ اس کے اوپر پہنچ گیا پھر میں نے دستہ پکڑ لیا ۷؎مجھ سے کہا گیا کہ مضبوطی سے پکڑ لو پھر میں جاگ پڑا وہ میرے ہاتھ میں ہی تھی میں نے یہ خواب نبی صلی الله علیہ و سلم سے عرض کی ۸؎تو فرمایا کہ یہ باغ اسلام ہے اور یہ ستون اسلام کا ستون ہے ۹؎اور یہ دستہ عروہ وثقی ہے ۱۰؎تم مرتے دم تک اسلام پر رہو گے ۱۱∞؎یہ صاحب حضرت عبدالله ابن سلام تھے۔ (مسلم، بخاری)

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ فَدَخَلَ رَجُلٌ عَلٰى وَجْهِهٖ أَثَرُ الْخُشُوعِ فَقَالُوا: هٰذَارَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَصَلّٰى رَكْعَتَيْنِ تَجَوَّزَ فِيهِمَا ثُمَّ خَرَجَ وَتَبِعْتُهٗ فَقُلْتُ: إِنَّكَ حِينَ دَخَلْتَ الْمَسْجِدَ قَالُوا: هٰذَارَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ. قَالَ: وَاللّٰهِ مَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ مَا لَا يَعْلَمُ فَسَأُحَدِّثُكَ لِمَ ذَاكَ؟ رَأَيْتُ رُؤْيَا عَلٰى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ وَرَأَيْتُ كَأَنِّي فِي رَوْضَةٍ ذَكَرَ مِنْ سِعَتِهَا وَخُضْرَتِهَا وَسَطُهَا عَمُودٌ مِنْ حَدِيدٍ أَسْفَلُهٗ فِي الْأَرْضِ وَأَعْلَاهُ فِي السَّمَاءِ فِي أَعْلَاهُ عُرْوَةٌ فَقِيلَ لِيَ:اِرْقَهْ.فَقُلْتُ:لَا أَسْتَطِيعُ فَأَتَانِي مِنْصَفٌ فَرَفَعَ ثِيَابِي مِنْ خَلْفِي فَرَقَيْتُ حَتّٰى كُنْتُ فِي أَعْلَاهُ فَأَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ فَقِيلَ: اِسْتَمْسِكْ فَاسْتَيْقَظْتُ وَإِنَّهَا لَفِي يَدِي فَقَصَصْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: تِلْكَ الرَّوْضَةُ الْإِسْلَامُ وَذٰلِكَ الْعَمُودُ عَمُودُ الْإِسْلَامِ وَتِلْكَ الْعُرْوَةُ اَلْعُرْوَةُ الْوُثْقٰى فَأَنْتَ عَلَى الإِسْلَامِ حَتّٰى تَمُوتَ وَذَاكَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ سَلَامٍ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6210 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ثابت ابن قیس ابن شماس انصار کے خطیب تھے ۱∞؎جب یہ آیت اتری کہ اے ایمان والو اپنی آوازیں نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو آخر آیت تک ۲؎تو جناب ثابت اپنے گھر میں بیٹھ رہے نبی صلی الله علیہ و سلم کی بارگاہ سے غیر حاضر ہوگئے ۳؎نبی صلی الله علیہ و سلم نے جناب سعد ابن معاذ سے پوچھا۴؎فرمایا ثابت کو کیا ہوا کیا وہ بیمار ہیں تب سعد ان کے پاس گئے ان سے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کا فرمان بیان فرمایا تو ثابت بولے کہ یہ آیت نازل ہوچکی ہے اور تم جانتے ہو کہ میں تم سب میں حضور کی بارگاہ میں اونچی آواز والا ہوں تو میں تو دوزخیوں میں سے ہوں ۵؎یہ ماجرا حضرت سعد نے نبی صلی الله علیہ و سلم سے عرض کیا تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا بلکہ وہ تو جنت والوں سے ہیں ۶؎(مسلم)

عَن أَنَسٍ قَالَ: كَانَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ خَطِيْبَ الْأَنْصَارِ فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةِ: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ إِلٰى آخِرِ الْآيَةِ جَلَسَ ثَابِتٌ فِي بَيْتِهٖ وَاحْتَبَسَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ فَقَالَ: مَا شَأْنُ ثَابِتٍ أَيَشْتَكِي؟ فَأَتَاهُ سَعْدٌ فَذَكَرَ لَهٗ قَوْلَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ثَابِتٌ: أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي مِنْ أَرْفَعِكُمْ صَوْتًا عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَذَكَرَ ذٰلِكَ سَعْدٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَلْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6211 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم کے پاس ہم بیٹھے تھے کہ سورۂ جمعہ اتری ۱∞؎تو جب یہ آیت نازل ہوئی ان میں سے دوسرے جو ابھی ان سے نہ ملے صحابہ نے عرض کیا یارسول الله وہ لوگ کون ہیں ۲؎فرمایا اور ہم میں سلمان فارسی تھے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے اپنا ہاتھ حضرت سلمان پر رکھا ۳؎پھرفرمایا کہ اگر ایمان ثریا تارے کے پاس ہوتا تو ان میں سے بعض لوگ اسے پالیتے ۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ نَزَلَتْ سُورَةُ الْجُمُعَةِ فَلَمَّا نَزَلَتْ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ قَالُوا: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: وَفِينَا سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ قَالَ: فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهٗ عَلٰى سَلْمَانَ ثُمَّ قَالَ: لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَنَالَهٗ رِجَالٌ مِنْ هَؤُلَاءِ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6212 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے الٰہی اپنے ان بندوں کو یعنی ابوہریرہ کو اور ان کی ماں کو اپنے مؤمن بندوں کا پیارا بنادے اور مؤمنین کو ان کا محبوب بنادے ۱∞؎(مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَللّٰهُمَّ حَبِّبْ عُبَيْدَكَ هٰذَا يَعْنِي أَبَا هُرَيْرَةَ وَأُمَّهُ الٰى عِبَادِكَ الْمُؤْمِنِينَ وَحَبِّبْ إِلَيْهِمِ الْمُؤمنِينَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6213 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے حضر ت عائذ ابن عمرو سے کہ ابو سفیان حضرت سلمان اور صہیب اور بلال پرگزرے ۱∞؎جو ایک جماعت میں تھے تو ان حضرات نے کہا کہ الله کی تلواریں الله کے دشمن کی گردن میں اپنی جگہ پر نہ گزریں۲؎تو جناب ابوبکر بولے کہ کیا تم قریش کے بوڑھے اور ان کے سردار کے متعلق یہ کہتے ہو۳؎پھر وہ نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں آئے آپ کو خبر دی۴؎تو فرمایا اے ابوبکر شاید تم نے ان حضرات کو ناراض کردیا اگر تم نے انہیں ناراض کردیا تو تم نے اپنے رب کو ناراض کردیا ۵؎تب ابوبکر ان حضرات کے پاس آئے بولے اے میرے بھائیو کیا میں نے تم کو رنجیدہ کردیا وہ بولے نہیں اے میرے بھائی الله تم کو بخشے ۶؎(مسلم)

وَعَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ أَتٰى عَلٰى سَلْمَانَ وَصُهَيْبٍ وَبِلَالٍ فِي نَفَرٍ فَقَالُوا: مَا أَخَذَتْ سُيُوفُ اللّٰهِ مِنْ عُنُقِ عَدُوِّ اللّٰهِ مَأْخَذَهَا. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَتَقُولُونَ هٰذَالِشَيْخِ قُرَيْشٍ وَسَيِّدِهِمْ؟ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهٗ فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ لَعَلَّكَ أَغْضَبْتَهُمْ لَئِنْ كُنْتَ أَغْضَبْتَهُمْ لَقَدْ أَغْضَبْتَ رَبَّكَ " فَأَتَاهُمْ فَقَالَ: يَا إِخْوَتَاهْ أَغْضَبْتُكُمْ قَالُوا: لَا يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكَ يَا أَخِي. رَوَاهُ
مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6214 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ ایمان کی نشانی انصار سے محبت ہے اور منافقت کی نشانی انصار سے بغض ہے ۱∞؎(مسلم، بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: آيَةُ الْإِيمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ وَآيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُ الْأَنْصَارِ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6215 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ