باب: منقبتوں کا مجموعہ

فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ عمار کو کبھی دو چیزوں میں اختیار نہیں دیا گیا مگر آپ نے ان میں سے سخت ترین کو اختیار کیا ۱∞؎(ترمذی)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا خُيِّرَ عَمَّارٌ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَشَدَّهُمَا» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6236 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ جب سعد ابن معاذ کا جنازہ اٹھایا گیا تو منافق بولے کہ ان کا جنازہ کتنا ہلکا ہے یہ ہلکا پن ان کے بنی قریظہ میں فیصلہ کی وجہ سے ہے ۱∞؎یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو پہنچی تو فرمایا کہ یہ جنازہ فرشتے اٹھائے
ہوئے تھے۲
؎(ترمذی)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا حُمِلَتْ جِنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ الْمُنَافِقُونَ: مَا أَخَفَّ جِنَازَتَهٗ وَذٰلِكَ لِحُكْمِهٖ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ فَبَلَغَ ذٰلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّ الْمَلَائِكَةَ كَانَتْ تَحْمِلُهٗ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6237 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ آسمان نے کسی ا یسے پر سایہ نہ کیا اور نہ زمین نے اپنے اوپر ایسے کو اٹھایا ۱∞؎جو ابوذر سے زیادہ سچا ہو ۲؎(ترمذی)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٌو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ وَلَا أَقَلَّتِ الْغَبْرَاءُ أَصْدَقَ مِنْ أَبِي ذَر . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6238 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ آسمان نے کسی ایسے پر سایہ نہ کیا زمین نے کسی ایسے کو نہ اٹھایا جو ابو ذر سے زیادہ سچا ہوا ۱∞؎اور زیادہ وفادار ہو وہ عیسیٰ ابن مریم سے مشابہہ ہیں یعنی ترک دنیا
میں۲
؎(ترمذی)

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ وَلَا أَقَلَّتِ الْغَبْرَاءُ مِنْ ذِي لَهْجَةٍ أَصْدَقَ وَلَا أَوْفٰى مِنْ أَبِي ذَرٍّ شِبْهِ عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ" »يَعْنِي فِي الزّهْد

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6239 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے کہ جب انہیں موت آئی تو فرمایا کہ تم چار شخصوں کے پاس علم تلاش کرو عویمر یعنی ابوالدرداء ۱∞؎سلمان اور ابن مسعود اور عبداللہ ابن سلام کے پاس۲؎جو پہلے یہودی تھے۳؎پھر اسلام لائے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ وہ جنت والوں کے دس میں سے دسویں ہیں ۴؎(ترمذی)

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ لَمَّا حَضَرَهُ المَوْتُ قَالَ: اِلْتَمِسُوا الْعِلْمَ عِنْدَ أَرْبَعَةٍ: عِنْدَ عُوَيْمِرٍ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَعِنْدَ سَلْمَانَ وَعِنْدَ ابْنِ مَسْعُودٍ وَعِنْدَ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ سَلَامٍ الَّذِي كَانَ يَهُودِيّا فَأسلم فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّهٗ عَاشِرُ عَشَرَةٍ فِي الْجَنَّةِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6240 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ آپ کسی کو خلیفہ بنادیتے ۱∞؎فرمایا اگر میں تم پر خلیفہ مقرر کردوں پھر تم اس کی نافرمانی کرو تو عذاب میں گرفتار ہوجاؤ گے۲؎لیکن جو تم کو حذیفہ خبر دیں اس کو سچ مانو۳؎اور جو تم کو عبداللہ پڑھائیں تم پڑھو۴؎(ترمذی)

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ لَوِ اسْتَخْلَفْتَ؟ قَالَ: «إِنِ اسْتَخْلَفْتُ عَلَيْكُمْ فَعَصَيْتُمُوهُ عُذِّبْتُمْ وَلٰكِنْ مَا حَدَّثَكُمْ حُذَيْفَةُ فَصَدِّقُوهُ وَمَا أَقْرَأَكُمْ عَبْدُ اللَّهِ فَاقْرَؤُوهْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6241 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ لوگوں میں کوئی نہیں جسے فتنہ پہنچے مگر میں اس پر خوف کرتا ہوں سواء محمد ابن مسلمہ کے ۱∞؎کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ تم کو فتنہ نقصان نہ دے گا۲؎

وَعَنْهُ قَالَ: مَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ تُدْرِكُهُ الفِتْنَةُ إِلَّا أَنَا أَخَافُهَا عَلَيْهِ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْلَمَةَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا تَضُرُّكَ الْفِتْنَةُ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6242 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت زبیر کے گھر میں چراغ دیکھا تو فرمایا اے عائشہ میں نہیں سمجھتا مگر یہ کہ اسماء کے ہاں بچہ پیدا ہوگیا ۱∞؎تو تم لوگ اس کا نام نہ رکھنا حتی کہ میں اس کا نام رکھوں چنانچہ حضور نے ان کا نام عبداللہ رکھا اور آپ نے ہاتھ سے چھوہارے سے ان کی تحنیک کی۲؎(ترمذی)

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأٰى فِي بَيْتِ الزُّبَيْرِ مِصْبَاحًا فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ مَا أُرَى أَسْمَاءَ إِلَّا قَدْ نُفِسَتْ وَلَا تُسَمُّوهُ حَتّٰى أُسَمِّيَهُ» فَسَمَّاهُ عَبْدَ اللّٰهِ وَحَنَّكَهٗ بِتَمْرَةٍ بِيَدِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6243 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن ابی عمیرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ انہوں نے جناب معاویہ ۱∞؎کے لیے فرمایا الٰہی انہیں ہدایت دینے والا ہدایت یافتہ بنا اور ان سے ہدایت دے۲؎(ترمذی)

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِي عَمِيرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ: اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهٖ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6244 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ لوگ تو اسلام لائے مگر عمرو ابن عاص ایمان لائے ۱∞؎(ترمذی) اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اس کی اسناد قوی نہیں۔

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلَمَ النَّاسُ وَآمَنَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وقال: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهٗ بِالْقَوِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6245 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ملے تو فرمایا اے جابر کیا وجہ ہے کہ میں تم کو دل شکستہ دیکھتا ہوں ۱ ∞؎میں نے عرض کیا کہ میرے والد شہید ہوگئے اور بچے اور قرض چھوڑ گئے ۲؎فرمایا کیا میں تم کو اس کی بشارت نہ دوں جس سے اللہ نے تمہارے والد سے ملاقات کی ہے ۳؎میں نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ فرمایا اللہ نے کسی سے بھی کبھی کلام نہ کیا مگر پردے کے پیچھے سے اور تمہارے والد کو زندہ کیا تو ان سے منہ در منہ کلام فرمایا۴؎فرمایا اے میرے بندے مجھ سے تمنا کر میں تجھے دوں گا۵؎انہوں نے عرض کیا اے رب مجھے زندہ کر تاکہ دوبارہ تیری راہ میں قتل کیا جاؤں۶؎تو رب تعالٰی نے فرمایا کہ ہمارا قانون جاری ہوچکا ہے کہ وفات یافتہ لوٹائے نہ جائیں گے۷؎تب یہ آیت اتری کہ جو اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے انہیں مردہ نہ سمجھو۸؎(ترمذی)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "يَا جَابِرُ مَا لِي أَرَاكَ مُنْكَسِرًا" قُلْتُ: اسْتُشْهِدَ أَبِي عِيَالًا وَدَيْنًا قَالَ أَفَلَا أُبَشِّرُكَ بِمَا لَقِي اللهُ بِهٖ أَبَاكَ قَالَ قُلْتُ بَلٰى يَا رَسُولَ اللّٰهِ قَالَ مَا كَلَّمَ اللّٰهُ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ وَأَحْيَا أَبَاكَ فَكَلَّمَهُ كَفَاحًا فَقَالَ يَا عَبْدِي تَمَنَّ عَلَيَّ أُعْطِكَ قَالَ يَا رَبِّ تُحْيِينِي فَأُقْتَلُ فِيكَ ثَانِيَةً قَالَ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: إِنَّهُ قَدْ سَبَقَ مِنِّي أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ"، فَنَزَلَتْ هٰذِهِ الآيَةُ: {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ أَمْوَاتًا} الآيَةَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6246 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے میرے لیے پچیس بار دعاء مغفرت کی ۱∞؎(ترمذی)

وَعنهُ قال: اسْتَغْفَرَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا وَعِشْرِينَ مَرَّةً. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6247 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ بہت سے پریشان بال غبار میں اٹے ہوئے پرانے کپڑے والے جن کی پرواہ نہ کی جاوے اگر الله پر قسم کھالیں تو الله پوری کر دے ۱∞؎ان میں سے براء ابن مالک ہیں۲؎(ترمذی، بیہقی دلائل النبوۃ)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَمْ مِنْ أَشْعَثَ أَغْبَرَ ذِي طِمْرَيْنِ لَا يَؤُبَّهٗ لَهٗ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللّٰهِ لَأَبَرَّهٗ مِنْهُمُ الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكٍ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ"

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6248 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ آگاہ رہو میرے وہ خاص لوگ جن کی طرف میں رجوع کرتا ہوں میرے گھر والے ہیں ۱∞؎اور میرے اندرونی مشیر کار انصار ہیں تو ان کے خطاکاروں سے درگزر کرو اور ان کے نیک کاروں سے نیکی قبول کرو۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن ہے۔

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « أَلَا إِنَّ عَيْبَتِيَ الَّتِي آوِي إِلَيْهَا أَهْلُ بَيْتِي، وَإِنَّ كَرِشِيَ الأَنْصَارُ، فَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ، وَاقْبَلُوا عَنْ مُحْسِنِهِمْ » . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6249 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ نہیں بغض رکھے گا انصار سے کوئی وہ شخص جو الله اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہو ۱∞؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ أَحَدٌ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6250 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے حضرت انس سے وہ ابو طلحہ سے راوی ہیں کہ مجھے رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ اپنی قوم کو سلام کہو ۱∞؎کیونکہ جیسا میں جانتا ہوں وہ لوگ پاک باز صبر والے ہیں۲؎(ترمذی)

وَعَنْ أَنَسٍ وَأبي طَلْحَةَ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَقْرِئْ قَوْمَكَ السَّلَامَ فَإِنَّهُمْ مَا عَلِمْتُ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6251 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ حاطب کا غلام نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۱∞؎حاطب کی شکایت حضور سے کرتا تھا تو بولا یا رسول الله حاطب دوزخ میں جائیں گے۲؎تب رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم نے جھوٹ کہا وہ دوزخ میں نہیں جائیں گے کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ میں حاضر ہوئے ہیں۳؎(مسلم)

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ عَبْدًا لِحَاطِبٍ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْكُو حَاطِبًا إِلَيْهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ لَيَدْخُلَنَّ حَاطِبٌ النَّار فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « كَذَبْتَ لَا يَدْخُلُهَا فَإِنَّهٗ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6252 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ اگر تم منہ پھیرو گے تو رب دوسری قوم تمہارے سوا بدل لائے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے ۱∞؎صحابہ نے عرض کیا یارسول الله یہ لوگ کون ہیں جن کے متعلق الله نے ذکر فرمایا کہ اگر ہم منہ پھیریں تو وہ ہماری عوض بدلہ میں لائیں جائیں گے پھر وہ ہم جیسے نہ ہوں گے۲؎تو حضور نے جناب سلمان فارسی کی ران پر ہاتھ مارا پھر فرمایا کہ یہ اور ان کی قوم ہے ۳؎اگر دین ثریا تارے کے پاس ہوتا تو فارس کے کچھ لوگ اسے پالیتے ۴؎(ترمذی)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ ذَكَرَ اللّٰهُ إِنْ تَوَلَّيْنَا اسْتُبْدِلُوا بِنَا ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَنَا؟ فَضَرَبَ عَلٰى فَخِذِ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ثُمَّ قَالَ: «هٰذَاوَقَوْمُهٗ وَلَوْ كَانَ الدِّينُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَتَنَاوَلَهٗ رِجَالٌ مِنَ الْفُرْسِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6253 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے پاس عجمیوں کا ذکر کیا گیا تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا میں ان پر یا ان کے بعض پر زیادہ بھروسہ رکھتا ہوں جتنا مجھ کو تم پر یا تمہارے بعض پر بھروسہ ہے ۱∞؎(ترمذی)

وَعَنْهُ قَالَ: ذُكِرَتِ الْأَعَاجِمُ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنَا بِهِمْ أَوْ بِبَعْضِهِمْ أَوْثَقُ مِنِّي بِكُمْ أَوْ بِبَعْضِكُمْ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6254 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ ہر نبی کے سات برگزیدہ حافظین ہوئے ۱∞؎اور مجھے چودہ عطا فرمائے گئے ہم نے عرض کیا وہ کون ہیں فرمایا میں اور میرے دونوں بیٹے جعفر،حمزہ۲؎ابوبکر،عمر، مصعب ابن عمیر، بلال، سلیمان،عمار، عبدالله ابن مسعود،ابوذر،مقداد۳؎(ترمذی)

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ سَبْعَةَ نُجَبَاءَ رُقَبَاءَ وَأُعْطِيْتُ أَنَا أَرْبَعَةَ عشرَة قُلْنَا: مَنْ هُمْ؟ قَالَ: " أَنَا وَابْنَايَ وَجَعْفَرٌ وَحَمْزَةُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَمُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَبِلَالٌ وَسَلَّمَانُ وَعَمَّارٌ وَعَبْدُ اللّٰهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَأَبُو ذَرٍّ وَالْمِقْدَادُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6255 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ