- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
باب: منقبتوں کا مجموعہ
فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8
روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ انصار سے محبت نہ کرے گا مگر مؤمن اور ان سے عداوت نہ کرے گا مگر منافق ۱؎تو جس نے ان سے محبت کی الله اس سے محبت کرے،جس نے ان سے بغض رکھا الله اس سے ناراض ہو۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْأَنْصَارُ لَايُحِبُّهُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يَبْغَضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ فَمَنْ أَحَبَّهُمْ أَحَبَّهُ اللّٰهُ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ أَبْغَضَهُ اللّٰهُ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6216 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ
روایت ہے حضرت انس سے کہ کچھ انصاری لوگوں نے کہا جب الله نے اپنے رسول کو ہوازن کے مال غنیمت میں بہت کچھ دیا ۱؎آپ قریشی لوگوں کو سو سو اونٹ دینے لگے ۲؎تو انصار نے کہا کہ الله رسول صلی الله علیہ و سلم کے درجے بلند کرے آپ قریش کو تو دیتے ہیں ہم کو چھوڑتے ہیں ۳؎حالانکہ ہماری تلواریں کفار کے خون سے ٹپک رہی ہیں ۴؎رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو ان کی اس بات کی خبر دی گئی۵؎تو حضور نے انصار کو بلایا انہیں چمڑے کے ایک خیمہ میں جمع کیا ان کے ساتھ کسی کو نہ ٹھہرنے دیا۶؎جب وہ سب جمع ہوگئے تو ان کے پاس رسول الله صلی الله علیہ و سلم تشریف لائے فرمایا کہ مجھ کو تمہارے متعلق کیا خبر پہنچی ہے تو ان کے سمجھ دار بولے کہ یارسول الله صلی الله علیہ و سلم ہم میں سے سمجھ داروں نے تو کچھ نہیں کہا رہے ہم میں سے نو عمر لوگ انہوں نے کہا ہے ۷؎کہ الله رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی شان بڑھائے آپ قریش کو دیتے ہیں انصار کو چھوڑتے ہیں حالانکہ ہماری تلواریں ان کے خون سے ٹپک رہی ہیں ۸؎تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں ان لوگوں کو دیتا ہوں جو ابھی نئے نئے کفر سے لوٹے ہیں میں انکی تالیف قلب کرتا ہوں۹؎کیا تم اس سے راضی نہیں کہ لوگ مال لے کر جائیں اور تم رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو لے کر اپنے گھر واپس ہوؤ ۱۰؎انصار بولے ہاں یارسول الله ہم راضی ہیں ۱۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: إِنَّ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَالُوا حِينَ أَفَاءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُولِهٖ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ مَا أَفَاءَ فَطَفِقَ يُعْطِي رِجَالًا مِنْ قُرَيْشٍ الْمِائَةَ مِنَ الْإِبِلِ فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللّٰهُ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَدَعُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ فَحُدِّثَ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَقَالَتِهِمْ فَأَرْسَلَ إِلَى الأَنْصَارِ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مَنْ أَدَمٍ وَلَمْ يَدْعُ مَعَهُمْ أَحَدًا غَيْرَهُمْ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَاءَهُمْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا كَانَ حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ؟ فَقَالَ فُقَهَاؤُهُمْ: أَمَّا ذَوُو رَأْيِنَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا وَأَمَّا أُنَاسٌ مِنَّا حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ قَالُوا: يَغْفِرُ اللّٰهُ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَدَعُ الْأَنْصَارَ وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي أُعْطِي رِجَالًا حَدِيثِي عَهْدٍ بِكُفْرٍ أَتَأَلَّفُهُمْ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ وَتَرْجِعُونَ إِلٰى رِحَالِكُمْ بِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالُوا بَلٰى يَا رَسُولَ اللّٰهِ قد رَضِينَا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6217 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ اگر ہجرت نہ ہوتی تو ہم انصار میں سے ایک صاحب ہوتے ۱؎اور اگر لوگ ایک جنگل میں چلیں اور انصار دوسرے جنگل میں یا دوسری گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کے جنگل یا ان کی گھاٹی میں چلوں۲؎اور انصار اندرونی لباس ہیں اور باقی لوگ بیرونی لباس ہیں۳؎تم میرے بعد ترجیح دیکھوگے تو صبرکرنا حتی کہ تم مجھ سے حوض پر ملو۴؎(بخاری)۵؎
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَءًا مِنَ الْأَنْصَارِ وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِوَشِعْبَهَا الأَنْصَارُ شِعَارٌ وَالنَّاسُ دِثَارٌ إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتّٰى تَلْقَوْنِي عَلَى الحَوْضِ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6218 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ تھے فتح مکہ کے دن ۱؎تو فرمایا جو ابو سفیان کے گھر میں گھس جاوے اسے امان ہے اور جو ہتھیار کو رکھ دے اسے امان ہے ۲؎تو انصار بولے کہ ان محبوب کو اپنے کنبہ سے محبت اور اپنے وطن کی رغبت ہوگئی۳؎رسول الله صلی الله علیہ و سلم پر وحی نازل ہوگئی۴؎فرمایا کیا تم نے یہ کہا ہے کہ ان محبوب کو اپنے کنبہ کی محبت اپنے وطن کی رغبت ہوگئی ایسا ہرگز نہیں ہے ۵؎میں الله کا بندہ اور اس کا رسول ہوں،میں نے الله کی اور تمہاری طرف ہجرت کرلی ہے ۶؎اب میری زندگی تمہاری زندگی میں ہے اور میری وفات تمہاری موت میں ہے ۷؎وہ بولے کہ ہم نے جو کچھ کہا ہے الله رسول پر بخل کی وجہ سے ہے ۸؎فرمایا کہ الله رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تم کو معذور جانتے ہیں ۹؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ:كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَقَالَ: «مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَلْقَى السِّلَاحَ فَهُوَ آمِنٌ».فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهٖ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهٖ. وَنَزَلَ الْوَحْيُ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «قُلْتُمْ أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهٖ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهٖ كَلَّا إِنِّي عَبْدُ اللّٰهِ وَرَسُولُهٗ هَاجَرْتُ إِلَى اللهِ وإلَيْكُمْ، الْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ» قَالُوا: وَاللّٰهِ مَا قُلْنَا إِلَّا ضِنًّا بِاللّٰهِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6219 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ
روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے کچھ بچوں عورتوں کو دیکھا ایک شادی سے آتے ہوئے تو نبی صلی الله علیہ و سلم کھڑے ہوگئے ۱∞؎فرمایا الٰہی تو جانتا ہے اے انصار تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو الٰہی تو جانتا ہے اے انصار تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو یعنی انصار ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأٰى صِبْيَانًا وَنِسَاءً مُقْبِلِينَ مِنْ عُرْسٍ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «اللّٰهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ اللّٰهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ» يَعْنِي الأَنْصَارَ.(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6220 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ جناب ابوبکر و عباس انصار کی مجلسوں سےکسی مجلس پرگزرے وہ حضرات رو رہے تھے ۱∞؎تو ان دونوں نے کہا کہ تم کو کیا چیز رلاتی ہےوہ بولے کہ ہم کو نبی صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ اپنی ہم نشینی یاد آگئی ۲؎تو ان دونوں میں سے ایک نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے حضور کو اس کی خبر دی۳؎تو نبی صلی الله علیہ و سلم باہر تشریف لائے آپ نے اپنے سر پر چادر کے کنارہ کی پٹی باندھی ہوئی تھی آپ منبر پر چڑھے اور اس دن کے بعد پھر کبھی نہ چڑھے۴؎الله کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا کہ میں تم لوگوں کو انصار کے متعلق وصیت کرتا ہوں ۵؎کیونکہ یہ لوگ میرے خاص مشیر اور میرے خاص ہیں ۶؎یہ لوگ وہ حق ادا کرچکے جو ان پر تھا اور وہ حق باقی رہ گیا جو ان کا ہے ۷؎تو ان کے نیکوں سے قبول کرو اور ان کے بروں سے درگزر کرو ۸؎(بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: مَرَّ أَبُو بَكْرٍ وَالْعَبَّاسُ بِمَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ الْأَنْصَارِ وَهُمْ يَبْكُونَ فَقَالَ: مَا يُبْكِيكُمْ؟ قَالُوا: ذَكَرْنَا مَجْلِسَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَّا فَدَخَلَ أَحَدُهُمَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهٗ بِذٰلِكَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ عَصَّبَ عَلٰى رَأْسِهٖ حَاشِيَةَ بُرْدٍ فَصَعِدَ الْمِنْبَر وَلم يَصْعَدهُ بَعْدَ ذٰلِكَ الْيَوْمِ. فَحَمِدَ الله وَأَثْنٰى عَلَيْهِ. ثُمَّ قَالَ: «أُوصِيكُمْ بِالْأَنْصَارِ فَإِنَّهُمْ كَرِشِي وَعَيْبَتِي وَقَدْ قَضَوُا الَّذِي عَلَيْهِمْ وَبَقِيَ الَّذِي لَهُمْ فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6221 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم اس بیماری میں باہر تشریف لائے جس میں حضور کی وفات ہوئی ۱∞؎حتی کہ منبر پر جلوہ گر ہوئے تو الله کی حمدوثنا کی۲؎پھر فرمایا کہ بعد حمد کے جان لو کہ لوگ بڑھیں گے اور انصار گھٹیں گے۳؎حتی کہ ایسے ہوجائیں گے جیسے کھانے میں نمک ۴؎تو میں تم میں سے جوبھی کسی ایسے عہدہ کا مالک ہو جس میں کسی قوم کو نفع اور دوسروں کو نقصان پہنچا سکے ۵؎تو وہ ان کے نیکوں سے قبول کرے اور برائی کرنے والوں سے درگزر کرے۶؎(بخاری)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهٖ الَّذِي مَاتَ فِيهِ حَتّٰى جَلَسَ عَلَى المِنْبَرَ فَحَمِدَ اللّٰهَ وَأَثْنٰى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ النَّاسَ يَكْثُرُونَ وَيَقِلُّ الْأَنْصَارُ حَتّٰى يَكُونُوا فِي النَّاسِ بِمَنْزِلَةِ الْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ فَمَنْ وَلِيَ مِنْكُمْ شَيْئًا يَضُرُّ فِيهِ قَوْمًا وَيَنْفَعُ فِيهِ آخَرِينَ، فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَلْيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ» رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6222 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ
روایت ہے حضرت زید ابن ارقم سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے الٰہی انصار کو انصار کی اولادکو انصار کی اولاد کی اولاد کو بخش دے ۱∞؎(مسلم)
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6223 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ
روایت ہے حضرت ابواسید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ انصار کے گھروں میں بہتر گھرانہ بنونجار ہیں پھر بنی عبدالاشہل پھر بنی حارث ابن خزرج پھر بنی ساعدہ ۱∞؎اور انصار کی سارے گھرانوں میں خیر ہے ۲؎(مسلم، بخاری)
وَعَنْ أَبِي أُسَيْدٍ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ وَفِى كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6224 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے مجھے اور زبیر اور مقداد کو بھیجا ۱∞؎دوسری روایت میں بجائے مقداد کے ابو مرثد ہیں ۲؎تو فرمایا کہ تم جاؤ حتی کہ خاخ کے باغ میں پہنچو۳؎وہاں ایک بوڑھی عورت ہے ۴؎جس کے پاس ایک خط ہے وہ اس سے لے لو ۵؎چنانچہ ہم چلے کہ ہم کو ہمارے گھوڑے دوڑا رہے تھے حتی کہ ہم باغ میں آئے ۶؎تو ہم اس بوڑھی کے پاس تھے ہم نے کہا خط نکال دو وہ بولی میرے پاس کوئی خط نہیں ہم نے کہا یا خط نکال ورنہ کپڑے اتار ۷؎تب اس نے اپنی چوٹی سے خط نکالا ۸؎ہم وہ خط نبی صلی الله علیہ و سلم کے پاس لائے تو اس میں حاطب بن بلتعہ کی طرف سے مکہ والے مشرکوں کی طرف پیغام تھا وہ مشرکوں کو نبی صلی الله علیہ و سلم کے بعض کاموں کی خبر دے رہے تھے ۹؎تب رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا اے حاطب یہ کیا۱۰؎وہ بولے یارسول الله حضور مجھ پر جلدی نہ کریں ۱۱∞؎میں قریش میں ایک الحاقی شخص ہوں میں خود قریش میں سے نہیں ہوں اور جو مہاجرین آپ کے ساتھ ہیں ان کی قریش سے قرابت داریاں ہیں جن سے وہ مکہ میں ان کے مالوں ان کے گھر والوں کی حفاظت کرتے ہیں ۱۲؎میں نے چاہا کہ جب مجھے ان سے نسبی رشتہ حاصل نہیں تو میں ان پر ایک احسان کردوں جس سے وہ میرے عزیزوں کی حفاظت کریں۱۳؎میں نے یہ کام نہ تو کفر کی وجہ سے کیا نہ اپنے دین سے پھرتے ہوئے اور نہ اسلام کے بعد کفر سے راضی ہوکر۱۴؎تب رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ انہوں نے تم سے سچ کہا۱۵؎جناب عمر بولے یارسول الله مجھے چھوڑیئے میں اس منافق کی گردن مار دوں۱۶؎رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ بدر میں حاضر ہوئے ہیں ۱۷؎تمہیں کیا خبر شاید الله تعالٰی نے بدر والوں پر توجہ فرمائی ہے ۱۸؎فرمایا ہو کہ جو چاہو کرو۱۹؎تمہارے لیے جنت واجب ہوچکی۲۰؎اور ایک روایت میں ہے کہ میں تم کو بخش چکا تب اللہ تعالٰی نے یہ آیت اتاری کہ اے ایمان والو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ ۲۱∞؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَالزُّبَيْرَ وَالْمِقْدَادَ وَفِي رِوَايَةٍ: أَبَا مَرْثَدٍ بَدَلَ الْمِقْدَادِ - فَقَالَ: «انْطَلِقُوا حَتّٰى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ فَخُذُوا مِنْهَا» فَانْطَلَقْنَا تَتَعَادٰى بِنَا خَيْلُنَا حَتّٰى أَتَيْنَا الرَّوْضَةَ فَإِذا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ قُلْنَا لَهَا: أَخْرِجِي الْكِتَابَ قَالَتْ: مَا مَعِيَ مِنْ كِتَابٍ. فَقُلْنَا لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَتُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا فَأَتَيْنَا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فِيهِ: مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلٰى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا حَاطِبُ مَا هٰذَا ؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَكَانَ مَنْ مَعَك من الْمُهَاجِرين لَهُمْ قَرَابَةٌ يحْمُونَ بهَا أَمْوَالَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ بِمَكَّةَ فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذٰلِكَ مِنَ النَّسَبِ أَنْ أَتَّخِذَ فِيهِمْ يَدًا يَحْمُونَ بِهَا قَرَابَتِي وَمَا فَعَلْتُ كُفْرًا وَلَا ارْتِدَادًا عَنْ دِينِي وَلَا رِضًى بِالْكُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهٗ قَدْ صَدَقَكُمْ» فَقَالَ عُمَرُ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَضْرِبْ عُنُقَ هٰذَاالْمُنَافِقِ. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهٗ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللّٰهَ اطَّلَعَ عَلٰى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُم فَقَدْ وَجَبَتْ لَكُمُ الْجَنَّةُ وَفِي رِوَايَةٍ: "فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ فَأَنْزَلَ اللّٰهُ تَعَالٰى يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6225 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ
روایت ہے حضرت رفاعہ ابن رافع سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ حضرت جبریل نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں آئے ۲؎عرض کیا کہ آپ لوگ اپنے میں بدر والوں کو کیسا شمار کرتے ہیں ۳؎فرمایا مسلمانوں میں بہترین یا اس طرح کی اور بات کہی۴؎وہ بولے کہ یوں ہی فرشتوں میں وہ فرشتے جو بدر میں حاضر ہوئے ۵؎(بخاری)
وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا تَعُدُّونَ أَهْلَ بَدْرٍ فِيكُمْ . قَالَ: مِنْ أَفْضَلِ الْمُسْلِمِينَ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا قَالَ: وَكَذٰلِكَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْمَلَائِكَة. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6226 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ
روایت ہے حضرت حفصہ ۱∞؎سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ امید کرتا ہوں کہ جو بدر یا حدیبیہ میں حاضر ہوا وہان شاءاللهدوزخ میں نہ جاوے گا ۲؎میں بولی یا رسول الله کیا رب تعالٰی نے یہ نہ فرمایا کہ تم میں کوئی نہیں مگر دوزخ پر ضرور وارد ہوگا۳؎فرمایا تو کیا تم نے نہیں سنا کہ فرماتا ہے پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے۴؎اور ایک روایت میں ہے کہان شاءاللهکوئی وہ شخص جس نے درخت کے نیچے بیعت کی شجرہ والوں میں سے وہ دوزخ میں نہ جائے گا ۵؎(مسلم)
وَعَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلَ النَّارَ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ أَحَدٌ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا قَالَ: " فَلَمْ تَسْمَعِيهِ يَقُولُ:ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا"وَفِي رِوَايَةٍ:«لَا يَدْخُلُ النَّارَ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ أَحَدُ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَهَا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6227 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ہم حدیبیہ کے دن ایک ہزار چار سو تھے ۱∞؎ہم سے نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم آج سارے زمین والوں سے بہتر ہو۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَمِائَةٍ.قَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرُ أَهْلِ الأَرْضِ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6228 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ اس گھاٹی پر کون چڑھے گا یعنی مرار گھاٹی پر ۱∞؎اس سے وہ گناہ معاف ہوں گے جو بنی اسرائیل سے معاف ہوئے تھے۲؎تو اس پر پہلے جو چڑھا وہ ہمارے سوار تھے بنی خزرج پھر لوگ تانتا باندھ کر چڑھے۳؎پھر رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم سب کی بخشش ہوگئی سواء اس سرخ اونٹ والے کی۴؎تو ہم اس کے پاس پہنچے ہم نے اس سے کہا آتیرے لیے رسول الله صلی الله علیہ و سلم دعاء مغفرت فرما دیں۵؎وہ بولا کہ میرا اپنی گمی چیز پالینا تمہارے صاحب کی دعاء مغفرت سے مجھے زیادہ پیارا ہے ۶؎(مسلم)حضرت انس کی حدیث کہ حضور نے ابی ابن کعب سے فرمایا کہ الله نے مجھے حکم دیا کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں ۷؎فضائل قرآن کے بعد باب میں ذکر کردی گئی ۸؎
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَصْعَدِ الثَّنِيَّةَ ثَنِيَّةَ الْمُرَارِ فَإِنَّهٗ يُحَطُّ عَنْهُ مَا حُطَّ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ».وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ صَعِدَهَا خَيْلُنَا خَيْلُ بَنِي الْخَزْرَجِ ثُمَّ تَتَامَّ النَّاسُ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّكُمْ مَغْفُورٌ لَهٗإِلَّا صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ» .فَأَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا: تَعَالَ يَسْتَغْفِرْ لَكَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَأَنْ أَجِدَ ضَالَّتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِي صَاحِبُكُمْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَذَكَرَ حَدِيثَ أَنَسٍ قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: إِنَّ اللّٰهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ فِي "بَاب" بَعْدَ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6229 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ ان لوگوں کی پیروی کرو جو میرے بعد میرے صحابہ ہیں ابوبکروعمر کی ۱∞؎اور جناب عمار کا طریقہ اختیار کرو ۲؎اور ام عبد کے بیٹے کے عہد و پیمان مضبوطی سے پکڑو۳؎اور حذیفہ کی روایت میں ہے کہ تم کو جو چیز ابن مسعود دیں اس کی تصدیق کرو۴؎بجائے اس کے کہ ام عبد کے بیٹے کا عہد مضبوط تھامو۔(ترمذی)
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي مِنْ أَصْحَابِي: أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَاهْتَدُوا بِهَدْيِ عمّارٍ وَتَمَسَّكُوا بِعَهْدِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6230 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اگر میں کسی کو بغیر مشورہ امیر بناتا تو لوگوں پر ام عبد کے فرزند کو بناتا ۱∞؎(ترمذی،ابن ماجہ)
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ كُنْتُ مُؤَمِّرًا مِنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ لَأَمَّرْتُ عَلَيْهِمُ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6231 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ
روایت ہے حضرت خیثمہ ابن ابی سبرہ سے ۱ ∞؎فرماتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ آیا میں نے اللہ سے دعا کی کہ مجھے نیک ہم نشین میسر فرمائے تو اس نے میرے لیے جناب ابوہریرہ میسر فرمائے ۲؎میں ان کے پاس بیٹھا میں نے کہا کہ میں نے اللہ سے دعا کی تھی کہ وہ مجھے کوئی نیک ہم نشین میسر کرے تو مجھے آپ دیئے گئے ۳؎فرمایا تم کہاں کے ہو میں نے کہا کوفے والوں میں سے ہوں میں یہاں بھلائی تلاش کرنے اسے حاصل کرنے آیا ہوں۴؎تو فرمایا کیا تم میں سعد ابن مالک نہیں جو مقبول الدعاء ہیں ۵؎اور ابن مسعود نہیں جو حضور کی طہارت شریف کے منتظم اور نعلین پاک والے ہیں ۶؎اور حذیفہ نہیں جو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے رازدان ہیں اور کیا عمار نہیں جنہیں اللہ تعالٰی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان پر شیطان سے امان دی اور کیا سلمان نہیں جو دو کتابوں یعنی انجیل اور قرآن والے ہیں ۷؎(ترمذی)
وَعَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْتُ اللّٰهَ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَيَسَّرَ لِي أَبَا هُرَيْرَةَ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ: إِنِّي سَأَلْتُ اللّٰهَ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَوُفِّقْتَ لِي فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ جِئْتُ أَلْتَمِسُ الْخَيْرَ وَأَطْلُبُهٗ. فَقَالَ: أَلَيْسَ فِيكُمْ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ مُجَابُ الدَّعْوَةِ؟ وَابْنُ مَسْعُودٍ صَاحِبُ طَهُورِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَعْلَيْهِ؟ وَحُذَيْفَةُ صَاحِبُ سِرِّ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَعَمَّارٌ الَّذِي أَجَارَهُ اللّٰهُ مِنَ الشَّيْطَانِ عَلٰى لِسَانِ نَبِيِّهٖ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَسَلَّمَانُ صَاحِبُ الْكِتَابَيْنِ؟ يَعْنِي الْإِنْجِيلَ وَالْقُرْآنَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6232 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ابوبکر اچھے آدمی ہیں،عمر اچھے آدمی ہیں،ابو عبیدہ ابن جراح اچھے شخص ہیں ۱∞؎اسید ابن حضیر اچھے شخص ہیں۲؎ثابت ابن قیس ابن شماس اچھے شخص ہیں،معاذ ابن جبل اچھے شخص ہیں،معاذ ابن عمرو بن جموح اچھے شخص ہیں۳؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو بَكْرٍ نِعْمَ الرَّجُلُ عُمَرُ نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ نِعْمَ الرَّجُلُ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ نِعْمَ الرَّجُلُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ نِعْمَ الرَّجُلُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ نِعْمَ الرَّجُلُ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ .رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6233 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جنت تین شخصوں کی مشتاق ہے ۱∞؎علی،عمار اور سلمان۲؎(ترمذی)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّ الْجَنَّةَ تَشْتَاقُ إِلٰى ثَلَاثَةٍ عَلِيٍّ وَعَمَّارٍ وَسَلْمَانَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6234 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ جناب عمار نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے حاضری کی اجازت مانگی تو فرمایا انہیں اجازت دے دو خوب آئے پاکیزہ اور پاکباز ۱∞؎(ترمذی)
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: اسْتَأْذَنَ عَمَّارٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ائْذَنُوا لَهٗ مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6235 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ