- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
باب: منقبتوں کا مجموعہ
فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8
روایت ہے حضرت خالد ابن ولید سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میرے اور عمار ابن یاسر کے درمیان کچھ تلخ کلامی ہوگئی تو میں نے گفتگو میں ان پر بہت سختی کی۲؎عمار میری شکایت کرنے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں گئے پھر خالد پہنچے۳؎فرمایا عمار نبی صلی الله علیہ و سلم سے شکایت کر رہے تھے تو خالد ان پر بہت سختی کرنے لگے۴؎ان کی سختی بڑھتی گئی نبی صلی الله علیہ و سلم خاموش تھے۵؎کچھ کلام نہیں فرماتے تھے جناب عمار رونے لگے۶؎بولے یارسول الله کیا حضور خالد کو دیکھتے نہیں ۷؎تو نبی صلی الله علیہ و سلم نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا جو عمار سے دشمنی کرے خدا اس سے دشمنی کرے اور جو عمار سے بغض رکھے خدا اس سے ناراض ہو۸؎خالد فرماتے ہیں کہ پھر میں نکلا تو مجھے حضرت عمار کی خوشنودی سے زیادہ پیاری کوئی چیز نہ تھی ۹؎پھر میں نے ان سے ان کی رضا کا برتاؤ کیا تو وہ راضی ہوگئے ۱۰؎
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ كَلَامٌ فَأَغْلَظْتُ لَهٗ فِي الْقَوْلِ فَانْطَلَقَ عَمَّارٌ يَشْكُونِي إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ خَالِدٌ وَهُوَ يَشْكُوهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَجَعَلَ يُغْلِظُ لَهٗ وَلَا يَزِيدُهُ إِلَّا غِلْظَةً وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاكِتٌ لَا يَتَكَلَّمُ فَبَكٰى عَمَّارٌ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَلَا تَرَاهُ؟ فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَسَهٗ وَقَالَ: «مَنْ عَادٰى عَمَّارًا عَادَاهُ اللّٰهُ وَمَنْ أَبْغَضَ عَمَّارًا أَبْغَضَهُ اللّٰهُ» . قَالَ خَالِدٌ: فَخَرَجْتُ فَمَا كَانَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ رِضَى عَمَّارٍ فَلَقِيتُهٗ بِمَا رَضِيَ فَرَضِيَ .
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6256 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ
روایت ہے حضرت ابو عبیدہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ خالد الله کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے ۱∞؎اور یہ اپنے کنبے کے بہترین جوان ہیں ۲؎(احمد)
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ أَنَّهٗ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «خَالِدٌ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ وَنِعْمَ فَتَى العَشِيرَةِ» . رَوَاهُمَا أَحْمَدُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6257 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ
روایت ہے بریدہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ الله تعالٰی نےمجھے چار شخصوں کی محبت کا حکم دیا ہے اور مجھے خبر دی کہ وہ ان سے محبت کرتا ہے ۱∞؎عرض کیا گیا یارسول الله ہم کو ان کے نام بتائیں ۲؎فرمایا علی ان میں سے ہیں یہ تین بار فرماتے رہے۳؎اور ابو ذر اور مقداد اور سلمان ہیں کہ مجھے ان سے محبت کا حکم دیا اور خبر دی کہ وہ ان سے محبت کرتا ہے۴؎(ترمذی)فرمایا کہ یہ حدیث حسن بھی ہے غریب بھی۔
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«إِنَّ اللّٰهَ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى أَمَرَنِي بِحُبِّ أَرْبَعَةٍ وَأَخْبَرَنِي أَنَّهٗ يُحِبُّهُمْ» . قِيلَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ سَمِّهِمْ لَنَا قَالَ: «عَلِيٌّ مِنْهُمْ» يَقُولُ ذٰلِكَ ثَلَاثًا «وَأَبُو ذَرٍّ وَالْمِقْدَادُ وَسَلْمَانُ أَمَرَنِي بِحُبِّهِمْ وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُحِبُّهُمْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6258 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ
روایت ہے حضرت جابر سے فرمایا کہ جناب عمر فرماتے تھے کہ ابوبکر ہمارے سردار ہیں اور عتیق ہمارے سردار یعنی بلال کو آزاد کیا ۱∞؎(بخاری)
وَعَن جَابر قال: كَانَ عُمَرُ يَقُولُ: أَبُو بَكْرٍ سَيِّدُنَا وَأَعْتَقَ سَيِّدَنَا يَعْنِي بِلَالًا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6259 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ
روایت ہے حضرت قیس ابن ابی حازم سے ۱ ∞؎کہ جناب بلال نے حضرت ابوبکر سے عرض کیا کہ اگر آپ نے مجھے اپنی ذات کے لیے خریدا ہے تو مجھے رکھیے اور اگر آپ نے مجھے الله کے لیے خریدا ہے تو مجھے الله کے عمل کے لیے چھوڑ دیجئے ۲؎(بخاری)
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ أَنَّ بِلَالًا قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: إِنْ كُنْتَ إِنَّمَا اشْتَرَيْتَنِي لِنَفْسِكَ فَأَمْسِكْنِي وَإِنْ كُنْتَ إِنَّمَا اشْتَرَيْتَنِي لِلّٰهِ فَدَعْنِي وَعَمَلَ اللهِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6260 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں آیا عرض کیا کہ میں بھوکا ہوں ۱∞؎تو حضور نے اپنی بعض ازواج کے پاس بھیجا۲؎وہ بولیں اس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ہمارے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں ۳؎پھر دوسری کے پاس بھیجا انہوں نے بھی اسی طرح کہا اور سب نے اسی طرح کہا۴؎تب رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ اسے کون مہمان بنائے گا الله اس پر رحم کرے۵؎تو انصار میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے جنہیں ابو طلحہ کہا جاتا تھا ۶؎وہ بولے یارسول الله میں چنانچہ وہ انہیں اپنے گھر لے گئے ۷؎اپنی بیوی سے بولے کیا تمہارے پاس کچھ ہے وہ بولیں نہیں سوائے میرے بچوں کے کھانے کے ۸؎فرمایا تم انہیں کسی چیز سے بہلا دینا سلا دینا۹؎پھر جب ہمارا مہمان آئے تو انہیں دکھانا کہ ہم کھا رہے ہیں ۱۰؎جب وہ اپنا ہاتھ کھانے کے لیے بڑھائیں تو تم چراغ کی طرف ٹھیک کرنے کے بہانے کھڑی ہونا اسے بجھا دینا ۱۱∞؎انہوں نے ایسا ہی کیا یہ سب بیٹھ گئے اور مہمان نے کھالیا انہوں نے بھوکے رات کاٹ دی ۱۲؎پھر سویرا ہوا یہ رسول الله کے پاس حاضر ہوئے ۱۳؎تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا الله تعالٰی خوش ہوا یا راضی ہوا فلاں اور فلاں سے۱۴؎ایک روایت میں ہے تو یوں ہی مگر ابوطلحہ کا نام نہیں لیا ہے اس کے آخر میں یہ ہے کہ تب الله نے یہ آیت اتاری اور ترجیح دیتے ہیں اپنی جانوں پر اگرچہ انہیں خود بھوک ہو ۱۵؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي مَجْهُودٌ فَأَرْسَلَ إِلٰى بَعْضِ نِسَائِهٖ فَقَالَتْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عِنْدِي إِلَّا مَاءٌ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلٰى أُخْرٰى فَقَالَتْ مِثْلَ ذٰلِكَ وَقُلْنَ كُلُّهُنَّ مِثْلَ ذٰلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يُضُيِّفُهُ؟ يَرْحَمُهُ اللّٰهُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهٗ أَبُو طَلْحَةَ فَقَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ فَانْطَلَقَ بِهٖ إِلٰى رَحْلِهٖ فَقَالَ لِامْرَأَتِهٖ هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ قَالَتْ لَا إِلَّا قُوتُ صِبْيَانِي قَالَ فَعَلِّلِيهِمْ بِشَيْءٍ وَنَوِّمِيهِمْ فَإِذَا دَخَلَ ضَيْفُنَا فَأَرِيهِ أَنا نَأْكُل فَإِذا أَهْوى لِيَأْكُلَ فَقُومِي إِلَى السِّرَاجِ كَيْ تُصْلِحِيهِ فَأَطْفِئِيهِ فَفَعَلَتْ فَقَعَدُوا وَأَكَلَ الضَّيْفُ فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ عَجِبَ اللّٰهُ أَوْ ضَحِكَ اللّٰهُ مِنْ فُلَانٍ وَفُلَانَةٍ»وَفِي رِوَايَةٍ مِثْلَهٗ وَلَمْ يُسَمِّ أَبَا طَلْحَةَ وَفِي آخِرِهَا فَأَنْزَلَ اللّٰهُ تَعَالٰى وَيُؤْثِرُونَ عَلٰى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6261 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ ایک منزل میں اترے تو لوگ گزرنے لگے ۱∞؎رسول الله صلی الله علیہ و سلم پوچھنے لگے،اے ابوہریرہ یہ کون ہے میں کہتا فلاں تو آپ فرماتے یہ اچھا بندہ ہے اور کہتے یہ کون ہے میں کہتا فلاں تو فرماتے یہ برا بندہ ہے ۲؎حتی کہ خالدابن ولیدگزرے تو حضور نے فرمایا یہ کون ہے۳؎میں نے کہا کہ خالد ابن ولید ہیں تو فرمایا خالد ابن ولید اچھے بندے ہیں الله کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں ۴؎(ترمذی)
وَعَنْهُ قَالَ:نَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا فَجَعَلَ النَّاسُ يَمُرُّونَ فَيَقُولُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَنْ هٰذَايَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟» فَأَقُولُ: فُلَانٌ. فَيَقُولُ:«نِعْمَ عَبْدُ اللّٰهِ هٰذَا » وَيَقُولُ: «مَنْ هٰذَا ؟» فَأَقُولُ: فُلَانٌ. فَيَقُولُ: «بِئْسَ عَبْدُ اللّٰهِ هٰذَا » حَتّٰى مَرَّ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَقَالَ: «مَنْ هٰذَا ؟» فَقُلْتُ: خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ. فَقَالَ:«نِعْمَ عَبْدُ اللّٰهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللهِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6262 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ
روایت ہے حضرت زید ابن ارقم سے فرماتے ہیں کہ انصار نے عرض کیا یا نبی الله ہر نبی کے خاص تابعین ہیں ہم نے آپ کی اتباع کی ہے ۱ ∞ ؎دعا فرمائیں کہ الله تعالٰی ہمارے تابعین ہم میں سے بنائے ۲؎چنانچہ حضور نے یہ دعا کی۳؎(بخاری)
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَالَتِ الْأَنْصَارُ: يَا نَبِيَّ اللّٰهِ لِكُلِّ نَبِيٍّ أَتْبَاعٌ وَإِنَّا قَدِ اتَّبَعْنَاكَ فَادْعُ اللّٰهَ أَنْ يَجْعَلَ أَتْبَاعَنَا مِنَّا فَدَعَا بِهٖ " رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6263 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ
روایت ہے حضرت قتادہ سے فرماتے ہیں کہ ہم عرب کے قبیلوں میں کوئی ایسا نہیں جانتے جو انصار سے زیادہ شہیدوں والا ہے اور قیامت میں زیادہ عزت والا ہو ۱ ∞؎بولے کہ حضرت انس نے فرمایا کہ انصار میں احد کے دن ستر شہید کیے گئے بیر معونہ میں ستر اور صدیق اکبر کے زمانہ میں یمامہ کے دن ستر ۲؎(بخاری)
وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ مَا نَعْلَمُ حَيًّا مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ أَكْثَرَ شَهِيدًا أَعَزَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْأَنْصَارِ. قَالَ: وَقَالَ أَنَسٌ: قُتِلَ مِنْهُمْ يَوْمَ أُحُدٍ سَبْعُونَ وَيَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ سَبْعُونَ وَيَوْمَ الْيَمَامَةِ عَلٰى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ سَبْعُونَ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6264 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ
روایت ہے حضرت قیس ابن ابی حازم سے فرماتے ہیں کہ بدر والوں کا عطیہ پانچ پانچ ہزار تھا حضرت عمر نے فرمایا کہ میں ان کو بعد والوں پر فضیلت دوں گا ۱ ∞ ؎(بخاری)ان بدر والوں کے نام جو بخاری کی جامع میں بیان کیے گئے ۲؎نبی محمد ابن عبدالله ہاشمی صلی الله علیہ وسلم ۳؎عبدالله ابن عثمان یعنی ابوبکر صدیق قرشی ۴؎عمر ابن خطاب عدوی۵؎عثمان ابن عفان قرشی جنہیں نبی صلی الله علیہ و سلم نے اپنی دختر رقیہ کی تیمار داری کے لیے پیچھے چھوڑا اور ان کے لیے حصہ الگ رکھا۶؎علی ابن ابی طالب ہاشمی۷؎ایاس ابن بکیر ۸؎بلال ابن رباح یعنی ابوبکر صدیق کے غلام۹؎حمزہ ابن عبدالمطلب ہاشمی ۱۰؎حاطب ابن ابی بلتعہ جو قریش کے حلیف تھے ۱۱ ∞ ؎ابو حذیفہ ابن عقبہ ابن ربیعہ قرشی ۱۲؎حارثہ ابن ربیع انصاری جو بدر کے دن شہید ہوئے ۱۳؎اور وہ حارثہ ابن سراقہ ہیں جو اوپی میں مقرر تھے ۱۴؎خبیب۱۵؎ابن عدی انصاری،خنیس ابن حذافہ سہمی۱۶؎رفاعہ ابن رافع انصاری۱۷؎رفاعہ ابن عبدالمنذر ابو لبابہ انصاری ۱۸؎زبیر ابن عوام قرشی۱۹؎زید ابن سہل یعنی ابوطلحہ انصاری۲۰؎ابو زید انصاری۲۱∞؎سعد ابن مالک زہری ۲۲؎سعد ابن خولہ قرشی۲۳؎سعید ابن زید ابن عمرو ابن نفیل قرشی۲۴؎سہل ابن حنیف انصاری۲۵؎ظہیر ابن رافع انصاری ۲۶؎اور انکے بھائی ۲۷؎عبدالله ابن مسعود ہذلی ۲۸؎عبدالرحمن ابن عوف زہری ۲۹؎عبیدہ ابن حارث قرشی۳۰؎عبادہ ابن صامت انصاری ۳۱ ∞؎عمرو ابن عوف جو بنی عامر ابن لوی کے حلیف تھے۳۲؎عقبہ ابن عمرو انصاری۳۳؎عامر ابن ربیعہ عنزی۳۴؎عاصم ابن ثابت انصاری۳۵؎عویمر ابن ساعدہ انصاری۳۶؎عتبان ابن مالک انصاری ۳۷؎قدامہ ابن مظعون ۳۸؎قتادہ ابن نعمان انصاری۳۹؎معاذ ابن عمرو ابن جموح ۴۰؎معوذ ابن عفراء ۴۱ ∞ ؎اور ان کے بھائی مالک ابن ربیعہ ابو اسید انصاری۴۲؎مسطح ابن اثاثہ ابن عباد ابن عبدالمطلب ابن عبدمناف۴۳؎مرارہ ابن ربیع انصاری ۴۴؎معن بن عدی انصاری۴۵؎مقداد ابن عمرو کندی جو بنی زہرہ کے حلیف ہیں ۴۶؎ہلال ابن امیہ انصاری ۴۷؎الله تعالٰی ان سب سے راضی رہے۔
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: كَانَ عَطَاءُ الْبَدْرِيِّينَ خَمْسَةُ آلَافٍ. وَقَالَ عُمَرُ: لَأُفَضِّلَنَّهُمْ عَلٰى مَنْ بَعدَهم. رَوَاهُ البُخَارِيُّ- النَّبِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰهِ الْهَاشِمِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ عُثْمَانَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ الْقُرَشِيُّ.عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْعَدَوِيُّ. عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ الْقُرَشِيُّ خَلَّفَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلٰى ابْنَتِهٖ رُقَيَّةَ وَضَرَبَ لَهٗ بِسَهْمِهٖ.عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ الْهَاشِمِيُّ.- إِيَاسُ بْنُ بُكَيْرٍ. بِلَالُ بْنُ رَبَاحٍ مَوْلٰى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ. حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْهَاشِمِيُّ.حَاطِبُ بْنُ أَبِي بَلْتَعَةَ حَلِيفٌ لِقُرَيْشٍ. أَبُو حُذَيْفَةَ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ الْقُرَشِيُّ. حَارِثَةُ بْنُ الرُّبَيعِّ الأَنْصَارِيُّ، قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ، وَهُوَ حَارِثَةُ بْنُ سُرَاقَةَ كَانَ فِي النَّظَّارَةِ. خُبَيْبُ بْنُ عَدِيِّ الأَنْصَارِيُّ. خُنَيْسُ بْنُ حُذَافَةَ السَّهْمِيُّ. رِفَاعَةُ بْنُ رَافِعٍ الأَنْصَارِيُّ. رِفَاعَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَبُو لُبَابَةَ الأَنْصَارِيُّ. الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ الْقُرَشِيُّ.- زَيْدُ بْنُ سَهْلٍ أَبُو طَلْحَةَ الأَنْصَارِيُّ. أَبُو زَيْدٍ الأَنْصَارِيُّ. سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ الزُّهْرِيُّ. سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ الْقُرَشِيُّ سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ الْقُرَشِيُّ. سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ الأَنْصَارِيُّ. ظُهَيْرُ بْنُ رَافِعٍ الأَنْصَارِيُّ. وَأَخُوهُ. عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ الْهُذَلِيُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الزُّهْرِيُّ. عُبَيْدةُ بْنُ الْحَارِثِ الْقُرَشِيُّ. عبادةُ بْنُ الصَّامِتِ الأَنْصَارِيُّ. عَمْرُو بْنُ عَوْفٍ حَلِيفُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ. عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو الأَنْصَارِيُّ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ الْعَنَزِيُّ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيُّ.عُوَيْمُ بْنُ سَاعِدَةَ الأَنْصَارِيُّ. عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ الأَنْصَارِيُّ. قُدَامَةُ بْنُ مَظْعُونٍ قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ الأَنْصَارِيُّ. مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ. مُعَوِّذُ بْنُ عَفْرَاءَ وَأَخُوهُ مَالِكُ بْنُ رَبِيعَةَ أَبُو أُسَيْدٍ الأَنْصَارِيُّ مِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ بْنِ عَبَّادِ بْنِ المُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ.مُرَارَةُ بْنُ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيُّ مَعْنُ بْنُ عَدِيٍّ الأَنْصَارِيُّ.مِقْدَادُ بْنُ عَمْرٍو الْكِنْدِيُّ حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ.- هِلَالُ بْنُ أُميَّة الأَنْصَارِيّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6265 ، باب: منقبتوں کا مجموعہ