- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- جنازوں کا بیان
- باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان
باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان
جنازوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جنازے کو تیز لے جاؤ ۱∞؎اگر وہ نیک ہے تو بھلائی ہے جس کی طرف تم اسے لے جارہے ہو اور اگر اس کے سوا کچھ اور ہے تو وہ ایک بری چیز ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتاررہے ہو ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ وَإِنْ تَكُ سِوٰى ذٰلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُوْنَهٗ عَنْ رِقَابِكُمْ”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1646 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان
روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب جنازہ رکھاجاتاہے پھر اسے لوگ اپنی گردنوں پر اٹھاتے ہیں تو اگر وہ نیک ہوتا ہے تو کہتاہے مجھے لے چلو ۱∞؎اور اگر بد ہوتو اپنے گھر والوں سے کہتا ہے ہائے اسے کہاں لے جاتے ہو اس کی آواز انسان کے سوا ہر چیزسنتی ہے اگر انسان سنے تو بے ہوش ہوجائے ۲؎(بخاری)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ فَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلیٰ أَعْنَاقِهِمْ فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ: قَدِّمُونِي وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ لأَهْلهَا: يَا وَيْلَهَا أَيْنَ يَذْهَبُوْنَ بِهَا؟ يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الْإِنْسَانَ وَلَوْ سَمِعَ الْإِنْسَانُ لَصَعِقَ ". رَوَاهُ البُخَارِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1647 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ ۱∞؎جو اس کے ساتھ جائے وہ نہ بیٹھے حتی کہ رکھ دیا جائے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا فَمَنْ تَبِعَهَا فَلَا يَقْعُدْ حَتّٰى تُوضَعَ”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1648 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں ایک جنازہ گزرا تو اس کے لیے رسول الله صلی الله علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ ہم بھی کھڑے ہوگئے ہم نے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم یہ تو یہودیہ تھی فرمایا موت وحشت ناک ہے تو جب تم جنازہ دیکھاکرو تو کھڑے ہوجایاکرو ۱∞؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: مَرَّتْ جَنَازَةٌ فَقَامَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْنَا مَعَهٗ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهَا يَهُودِيَّةٌ فَقَالَ: “إِنَّ الْمَوْتَ فَزَعٌ فَإِذَا رَأَيْتُمْ الْجَنَازَةَ فَقُوْمُوْا”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1649 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں ہم نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو کھڑے دیکھا تو ہم بھی کھڑے ہوتے رہے پھر آپ بیٹھنے لگےتو ہم بھی بیٹھنے لگے یعنی جنازے میں ۱∞؎(مسلم)اور مالک اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ اولًا جنازے میں کھڑے ہوتے تھے پھر بعد میں بیٹھنے لگے۔
وَعَنْ عَليٍّ قَالَ: رَأَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَقُمْنَا وَقَعَدَ فَقَعَدْنَا يَعْنِي فِي الْجَنَازَةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةِ مَالِكٍ وَأَبِي دَاوُدَ: قَامَ فِي الْجَنَازَةِ ثُمَّ قَعَدَ بَعْدُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1650 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جومسلمان کے جنازے کے ساتھ ایمان سے بہ نیت ثواب جائے ۱∞؎اور اس کے ساتھ ہی رہے حتی کہ اس پرنماز پڑھ لے اور اس کے دفن سے فارغ ہوجائے تو وہ ثواب کے دو قیراط(حصے)لےکر لوٹے گا ہرحصہ احد کے برابر اور جو اس پر نماز پڑھ کر دفن سے پہلے لوٹ جائے وہ ایک حصہ لے کر لوٹے گا ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَنِ اتَّبَعَ جَنَازَةَ مُسْلِم إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا وَكَانَ مَعَهٗ حَتّٰى يُصَلّٰى عَلَيْهَا وَيُفْرَغَ مِنْ دَفْنِهَا فَإِنَّهٗ يَرْجِعُ مِنَ الْأَجْرِ بِقِيرَاطَيْنِ كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ وَمَنْ صَلّٰى عَلَيْهَا ثُمَّ رَجَعَ قَبْلَ أَنْ تُدْفَنَ فَإِنَّهٗ يَرْجِعُ بِقِيْرِاطٍ”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1651 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان
روایت ہے انہی سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے لوگوں کو نجاشی کی موت کی خبر دی جس دن انہوں نے وفات پائی ۱∞؎اورحضور صحابہ کے ساتھ عیدگاہ تشریف لے گئے ان کی صفیں بنائیں اور چار تکبیریں کہیں ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعٰى لِلنَّاسِ النَّجَاشِيَّ الْيَوْمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَخَرَجَ بِهِمْ إِلَى المُصَلّٰى فَصَفَّ بِهِمْ وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1652 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان
روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن ابی لیلی سے فرماتے ہیں کہ زید ابن ارقم ہمارے جنازوں میں چارتکبیریں کہتے تھے انہوں نے ایک جنازہ پر پانچ کہیں تو ہم نے ان سے پوچھا تو فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم پانچ کہتے تھے ۱∞؎(مسلم)
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلٰى قَالَ: كَانَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ يُكَبِّرُ عَلیٰ جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا وَأَنَّهٗ كَبَّرَ عَلیٰ جَنَازَةٍ خَمْسًا فَسَأَلْنَاهُ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1653 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان
روایت ہے حضرت طلحہ ابن عبد الله ابن عوف سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں نے عبد الله ابن عباس کے پیچھے ایک جنازہ پر نماز پڑھی تو آپ نے سورۂ فاتحہ پڑھی پھر فرمایا تم جان لو کہ یہ بھی ایک طریقہ ہے ۲؎(بخاری)
وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلیٰ جَنَازَةٍ فَقَرَأَ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ فَقَالَ: لِتَعْلَمُوا أَنَّهَا سُنَّةٌ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1654 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان
روایت ہے حضرت عوف بن مالک سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایک جنازہ پرنماز پڑھی تو میں نے آپ کی دعا حفظ کرلی آپ فرماتے تھے الٰہی اسے بخش دے اور اس پر رحم کر،اسے عافیت دے،اسے معاف کر،اس کی مہمانی اچھی فرما،اس کی قبر فراخ کر اور اسے پانی برف اور اولے سے دھودے ۱∞؎اور اسے خطاؤں سے ایسا صاف کردے جیسے توسفید کپڑا میل سے صاف کرتاہے۲؎اور اس کو اس کے گھر سے اچھا گھر،گھر والوں سے اچھے گھر والے اور اس کی بیوی سے بہتر بیوی عطا فرما۳؎اور اسے جنت میں داخل کر اور قبر اور آگ کے عذاب سے بچالے اور ایک روایت میں ہے اسے قبر کے فتنہ اور آگ کے عذاب سے بچالے،فرماتے ہیں حتی کہ میں نے آرزو کی کہ یہ میت میں ہوتا۴؎(مسلم)
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: صَلّٰى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلیٰ جَنَازَةٍ فَحَفِظْتُ مِنْ دُعَائِهٖ وَهُوَ يَقُولُ: “اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهٗ وَارْحَمْهُ وَعَافِهٖ وَاعْفُ عَنْهُ وَأَكْرِمْ نُزُلَهٗ وَوَسِّعْ مَدْخَلَهٗ وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّهٖ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الْدَنَسِ وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْراً مِنْ دَارِهٖ وَأَهْلاً خَيْرًا مِنْ أَهْلِهٖ وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهٖ وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ” . وَفِي رِوَايَةٍ: “وَقِهٖ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَعَذَابَ النَّارِ” قَالَ حَتّٰى تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا ذٰلِكَ الْمَيِّتَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1655 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان
روایت ہے حضرت ابوسلمہ ابن عبدالرحمان سے کہ جب سعد ابن ابی وقاص کی وفات ہوئی ۱∞؎تو حضرت عائشہ نے فرمایا انہیں مسجد میں لے آؤ تاکہ میں بھی ان پرنماز پڑھ سکوں۲؎اس کا آپ پر اعتراض کیا گیا۳؎تو آپ نے فرمایا الله کی قسم بیضاء کے دو بیٹوں سہیل اور ان کے بھائی پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے مسجد میں نماز پڑھی تھی۴؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ أَبِيْ وَقَاصٍ قَالَتْ: اُدخُلُوْا بِهٖ الْمَسْجِدَ حَتّٰى أُصَلِّي عَلَيْهِ فَأُنْكِرَ ذٰلِكَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ: وَاللهِ لَقَدْ صَلّٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلیٰ ابْنَيْ بَيْضَاءَ فِي الْمَسْجِدِ: سُهَيْلٍ وَأَخِيهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1656 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان
روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے ایک عورت پر نماز پڑھی جو اپنے نفاس میں فوت ہوئی تھی تو آپ اس کے درمیان کھڑے ہوئے ۱∞؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: صَلَّيْتُ وَرَاءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلیٰ امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ وَسَطَهَا(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1657 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اس کی قبر پرگزرے جو رات میں دفن کیا گیا تھا فرمایا یہ کب دفن کیا گیا انہوں نے عرض کیا آج رات فرمایا تم نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی انہوں نے عرض کیا ہم نے اسے رات کے اندھیرے میں دفن کیا یہ ناپسند کیا کہ آپ کو جگائیں تو آپ کھڑے ہوئے ہم نے آپ کے پیچھے صفیں بنائیں آپ نے اس پر نماز پڑھی ۱∞؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَبْرٍ دُفِنَ لَيْلًا فَقَالَ: “مَتٰى دُفِنَ هَذَا؟” قَالُوا: الْبَارِحَةَ. قَالَ: “أَفَلَا آذَنْتُمُونِي؟” قَالُوا: دَفَنَّاهُ فِي ظُلْمَةِ اللَّيْلِ فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ فَقَامَ فَصَفَفْنَا خَلْفَهٗ فصَلّٰى عَلَيْهِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1658 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ ایک حبشی عورت یا مرد مسجد میں جھاڑو دیتے تھے اسے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے گم پایا تو اس عورت یا مرد کے متعلق پوچھا لوگوں نے عرض کیا کہ وہ فوت ہوگیا فرمایا تم نے مجھے اطلاع کیوں نہ دی ۱∞؎راوی کہتے ہیں کہ شاید انہوں نے اس کا معاملہ حقیر جانا فرمایا مجھے اس کی قبر بتاؤ لوگوں نے بتائی آپ نے اس قبر پر نماز پڑھی پھر فرمایا کہ یہ قبریں اپنی میتوں پر تاریکی سے بھریں ہیں الله میری نماز کی برکت سے انہیں نورانی کردیتا ہے ۲؎(مسلم،بخاری)لفظ مسلم کے ہیں۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ أَوْ شَابٌّ فَفَقَدَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عَنْهَا أَوْ عَنْهُ فَقَالُوا: مَاتَ. قَالَ: “أَفَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي؟” قَالَ: فَكَأَنَّهُمْ صَغَّرُوا أَمْرَهَا أَوْ أَمْرَهُ. فَقَالَ: “دَلُّوْنِيْ عَلیٰ قَبْرِهٖ” فَدَلُّوْهُ فصَلّٰى عَلَيْهَا. ثُمَّ قَالَ: “إِنَّ هٰذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلیٰ أَهْلِهَا وَإِنَّ اللهَ يُنَوِّرُهَا لَهُمْ بِصَلَاتِي عَلَيْهِمْ” . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَلَفْظُهٗ لِمُسْلِمٍ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1659 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان
روایت ہے حضرت کریب ابن عباس کے مولےٰ سے وہ عبد الله ابن عباس سے راوی کہ ان کا فرزند قدید یا عسفان میں وفات پا گیا ۱∞؎تو آپ نے فرمایا کہ اےکریب دیکھو کتنے لوگ جمع ہو گئے فرماتے ہیں میں نکلا تو کچھ لوگ جمع ہو ہی گئے تھے میں نے آپ کو خبردی،فرمایا کیا تم کہہ سکتے ہو کہ چالیس ہوں گے میں نے کہا ہاں،فرمایا میت کو لاؤ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ایسا کوئی مسلمان نہیں جو مرجائے اس کے جنازے پر چالیس آدمی کھڑے ہوں جو الله کا کوئی شریک نہ بناتے ہوں الله ان کی سفارش اس میت کے بارے میں ضرورقبول فرماتا ہے ۲؎(مسلم)
وَعَنْ كُرَيْبٍ مَوْلٰى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهٗ مَاتَ لَهٗ ابْنٌ بِقُدَيْدٍ أَوْ بِعُسْفَانَ فَقَالَ: يَا كُرَيْبُ انْظُرْ مَا اجْتَمَعَ لَهٗ مِنَ النَّاسِ. قَالَ: فَخَرَجْتُ فَإِذَا نَاسٌ قَدِ اجْتَمَعُوا لَهٗ فَأَخْبَرْتُهٗ فَقَالَ: تَقُولُ: هُمْ أَرْبَعُونَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: أَخْرِجُوهُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: “مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَقُومُ عَلیٰ جَنَازَتِهٖ أَرْبَعُونَ رَجُلًا لَا يُشْرِكُونَ بِاللهِ شَيْئًا إِلَّا شَفَّعَهُمُ اللهُ فِيهِ” . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1660 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا ایسا کوئی میت نہیں جس پر مسلمان کی جماعت نماز پڑھے جو سو کو پہنچے وہ سب اس کی شفاعت کرتے ہیں مگر اس کے بارے میں ان کی شفاعت قبول ہوتی ہے ۱∞؎(مسلم)
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"مَا مِنْ مَيِّتٍ تُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ الِمُسْلِمينَ يَبْلُغُونَ مِائَةً كُلُّهُمْ يَشْفَعُونَ لَهٗ : إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ".رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1661 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ لوگ جنازہ لےکرگزرے جس کی لوگوں نے اچھی تعریف کی تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی،پھر دوسرا جنازہ لےکرگزرے جس کی لوگوں نے برائی کی ۱∞؎حضور نے فرمایا واجب ہوگئی حضرت عمر نے عرض کیاحضور کیا واجب ہوگئی فرمایا یہ جس کی تم نے تعریف کی کہ اس کے لیے جنت واجب ہوگئی اور یہ جس کی تم نے برائی کی ہے اس کے لیے دوزخ واجب ہوگئی تم لوگ زمین میں الله کے گواہ ہو ۲؎(مسلم،بخاری)اور ایک روایت میں ہے کہ مؤمن زمین میں الله کے گواہ ہیں۳؎
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَرُّوا بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “وَجَبَتْ” ثُمَّ مَرُّوا بِأُخْرٰى فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا. فَقَالَ: “وَجَبَتْ” فَقَالَ عُمَرُ: مَا وَجَبَتْ؟ فَقَالَ: “هَذَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا فَوَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَهَذَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا فَوَجَبَتْ لَهُ النَّارُ أَنْتُم شُهَدَاءُ اللهِ فِي الأَرْضِ” . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَفِي رِوَايَةٍ: “الْمُؤْمِنُونَ شُهَدَاءُ اللهِ فِي الْأَرْضِ”
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1662 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان
روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جس مسلمان کی نیکی کی چار آدمی گواہی دیں گے الله اسے جنت میں داخل کرے گا ہم نے کہا اور تین فرمایا اور تین بھی ہم نے کہا اور دو فرمایا اور دوبھی پھر ہم نے حضور سے ایک کے بارے میں نہ پوچھا ۱∞؎(بخاری)
وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “أَيُّمَا مُسْلِمٌ شَهِدَ لَهٗ أَرْبَعَةٌ بِخَيْرٍ أَدْخَلَهُ اللهُ الْجَنَّةَ” قُلْنَا: وَثَلَاثَةٌ؟ قَالَ: “وَثَلَاثَةٌ” . قُلْنَا وَاثْنَانِ؟ قَالَ: “وَاثْنَانِ” ثُمَّ لم نَسْأَلُهٗ عَنْ الْوَاحِد. رَوَاهُ البُخَارِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1663 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے مُردوں کو برا نہ کہو وہ اپنے گزشتہ کیے تک پہنچ گئے ۱∞؎(بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلٰى مَا قَدَمُّوا” رَوَاهُ البُخَارِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1664 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان
روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم شہدائے احد میں سے ایک کپڑے میں دو کو جمع فرماتے تھے ۱∞؎پھر فرماتے ان میں زیادہ قرآن کسے یادہے جب ایک کی طرف اشارہ کیاجاتا تو اسی کو قبر میں آگے رکھتے اور فرماتے کہ میں ان لوگوں پر قیامت میں گواہ ہوں ۲؎اور ان کو مع ان کے خونوں دفن کا حکم دیا اور ان پر نماز پڑھی نہ ان کو غسل دیا گیا ۳؎(بخاری)
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يجمع بَينَ الرجلَيْنِ مِنْ قَتْلٰى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثُمَّ يَقُولُ: “أَيُّهُمْ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ؟” فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ الٰى أَحَدِهِمَا قَدَّمَهٗ فِي اللَّحْدِ وَقَالَ: “أَنَا شَهِيدٌ عَلیٰ هَؤُلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ” . وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ بِدِمَائِهِمْ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُغَسَّلُوا.رَوَاهُ البُخَارِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1665 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان