باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان

جنازوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے پاس ننگا گھوڑا لایا گیا جس وقت آپ ابن دحداح کے جنازے سے واپس لوٹے اور ہم آپ کے اردگرد پیدل تھے ۱∞؎(مسلم)

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفَرَسٍ مَعْرُورٍ فَرَكِبَهٗ حِينَ انْصَرَفَ مِنْ جَنَازَةِ ابْنِ الدَّحْدَاحِ وَنَحْنُ نَمْشِيْ حَوْلَهٗ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1666 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان

روایت ہے حضرت مغیرہ ابن شعبہ سے ۱∞؎کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا سوار جنازے کے پیچھے ہی چلے۲؎اور پیدل اس کے آگےوپیچھے،دائیں،بائیں اس کے قریب چلے ۳؎اور گرے بچے پرنماز پڑھی جائے گی۴؎جس میں اس کے ماں باپ کے لیے بخشش اور رحمت کی دعا کی جائے ۵؎(ابوداؤد)اور احمد، ترمذی،نسائی،ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ سوار جنازے کے پیچھے چلے اور پیدل جدھر چاہے اور بچے پر نماز پڑھی جائے اور مصابیح میں مغیرہ بن زیادہ سے ہے۔

وَعَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “الرَّاكِبُ يَسِيرُ خَلْفَ الْجَنَازَةِ وَالْمَاشِيْ يَمْشِيْ خَلْفَهَا وَأَمَامَهَا وَعَنْ يَمِينهَا وَعَنْ يَسَارِهَا قَرِيْباً مِنْهَا وَالسَّقْطُ يُصَلّٰى عَلَيْهِ وَيُدْعٰى لِوَالِدَيْهِ بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ” . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةِ أَحْمَدَ وَالتِّرْمِذِيْ وَالنَّسَائِيّ وَابْنُ مَاجَه قَالَ: “الرَّاكِبُ خَلْفَ الْجَنَازَةِ وَالْمَاشِيْ حَيْثُ شَاءَ مِنْهَا وَالطِّفْلُ يُصَلّٰى عَلَيْهِ” وَفِي الْمَصَابِيْحِ عَنِ الْمُغِيْرَةِ بْنِ زِيَادٍ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1667 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان

روایت ہے حضرت زہری سے وہ سالم سے وہ اپنے والد سے راوی ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر اورحضرت عمر کو جنازے سے آگے چلتے دیکھا۲؎(احمد،ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ)ترمذی نے کہاکہ محدثین اسے مرسل سمجھتے ہیں۳؎

وَعَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ يَمْشُونَ أَمَامَ الْجَنَازَةِ. رَوَاهُ أَحْمدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ وَأَهْلُ الْحَدِيثِ كَأَنَّهُمْ يَرَوْنَهٗ مُرْسَلًا

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1668 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان

روایت ہے حضرت عبد الله ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نےکہ جنازے کے پیچھے رہا جاتاہے اسے پیچھے نہیں رکھا جاتا اور جو اس کے آگے رہے وہ اس کے ساتھ ہی نہیں ۱∞؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا ابوماجد راوی مجہول آدمی ہیں ۲؎

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “الْجَنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ وَلَا تُتَّبَعُ لَيْسَ مَعَهَا مَنْ تَقَدَّمَهَا” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ مَاجِدٍ الرَّاوِيُّ رَجُلٌ مَجْهُوْلٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1669 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو جنازے کے ساتھ گیا اور اسے تین بارکندھا دیا اس نے میت کا حق اداکردیا جو اس پر تھا ۱∞؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً وَحَمَلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: فَقَدْ قَضٰى مَا عَلَيْهِ مِنْ حَقِّهَا ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1670 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان

اور شرح سنہ میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے سعد ابن معاذ کا جنازہ دو لکڑیوں کے درمیان اٹھایا ۱∞؎

وَقَدْ رُوِىَ فِي “شَرْحِ السُّنَّةِ” : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَلَ جَنَازَةَ سَعْدِ ابْنِ معَاذٍ بَيْنَ الْعُمُوْدَيْنِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1671 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان

روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں گئے تو آپ نے کچھ لوگوں کو سوار دیکھا تو فرمایا کیا حیاءنہیں کرتے کہ الله کے فرشتے پیدل ہیں اور تم گھوڑوں کی پشتوں پر ۱∞؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور ابوداؤد نے اس کی مثل،ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حضرت ثوبان سے موقوفًا بھی منقول ہے۲؎

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَرَأٰى نَاسًا رُكْبَانًا فَقَالَ: “أَلَا تَسْتَحْيُونَ؟ إِنَّ مَلَائِكَةَ اللهِ عَلیٰ أَقْدَامِهِمْ وَأَنْتُمْ عَلیٰ ظُهُورِ الدَّوَابِّ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَرَوٰى أَبُو دَاوُدَ نَحْوَهٗ وَقَالَ التِّرْمِذِيْ: وَقَدْ رَوىٰ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْقُوفاً

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1672 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے جنازے پر سورۂ فاتحہ پڑھی۔(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)۱∞؎

وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ عَلَی الجَنَازَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ.رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْن مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1673 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم میت پر نماز پڑھ لو تو اس کے لیے خلوص دل سے دعا کرو ۱∞؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ر قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَی المَيِّتِ فَأَخْلِصُوا لَهُ الدُّعَاءَ” . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1674 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب جنازہ پر نماز پڑھتے تو کہتے الٰہی ہمارے زندوں،مُردوں، حاضر،غائب،چھوٹوں اور بڑوں،مَردوں اورعورتوں کو بخش دے ۱∞؎الٰہی تو ہم میں سے جسے زندہ رکھے تو اسلام پر زندہ رکھ اور ہم میں سے جسے موت دے تو اسے ایمان پر موت دے الٰہی ہمیں اس کے ثواب سے محروم نہ کر اور اس کے پیچھے فتنہ میں نہ ڈال ۲؎(احمد،ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ)

وَ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلّٰى عَلَی الجَنَازَةِ قَالَ: “اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا. اَللّٰهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهٗ مِنَّا فَأَحْيِهٖ عَلَی الإِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّيْتَهٗ مِنَّا فَتَوَفَّهٗ عَلَی الإِيمَانِ. اَللّٰهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهٗ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُ” . رَوَاهُ أَحْمدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ وَابْنُ مَاجَهْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1675 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان

اور نسائی نے ابراہیم اشہلی سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کیوانثاناپرختم ہوگئی اور ابوداؤد کی ایک روایت میں ہے کہ اسے ایمان پر زندہ رکھ اور اسلام پر موت دے ۱∞؎اور اس کے آخر میں ہے کہ اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کردے۔

وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْأَشْهَلِيِّ عَنْ أَبِيهِ وَانْتَهَتْ رِوَايَتَهٗ عِنْدَ قَوْلِهِ: وَ “أُنْثَانًا” . وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ: “فَأَحْيِهٖ عَلَی الإِيمَانِ وَتَوَفَّهٗ عَلَی الإِسْلَامِ”.وَفِي آخِرِهٖ:”وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهٗ”

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1676 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان

روایت ہے حضرت واثلہ ابن اسقع سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ایک مسلمان آدمی پر نماز پڑھائی میں نے آپ کو یہ کہتے سنا کہ الٰہی فلاں کا بیٹا فلاں تیرے ذمہ اورتیرے قریب کے عہد میں ہے تو اسے قبر کے فتنہ اور آگ کے عذاب سے بچالے تو وفاء اورحق والا ہے الٰہی اسے بخش دے اور اس پر رحم کر بے شک تو بخشنے والا مہربان ہے ۱∞؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: صَلّٰى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلیٰ رَجُلٍ مِنَ الِمُسْلِمينَ فَسَمِعْتُهٗ يَقُولُ: “اَللّٰهُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ وَحَبْلِ جِوَارِكَ فَقِهٖ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ وَأَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَقِّ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهٗ وَارْحَمْهُ إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ” . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْن مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1677 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله علیہ وسلم نے اپنے مُردوں کی خوبیاں بیان کرو اور ان کی برائیوں سے باز رہو ۱∞؎(ابوداؤد،ترمذی)

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “اذْكُرُوا مَحَاسِنَ مَوْتَاكُمْ وَكُفُّوا عَنْ مُسَاوِيهِمْ” . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1678 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان

روایت ہے حضرت نافع ابی غالب سے ۱∞؎فرماتےہیں کہ میں نے حضرت انس ابن مالک کے ساتھ ایک مرد کے جنازے پرنماز پڑھی۲؎تو آپ اس کے سر کے مقابل کھڑے ہوئے پھر لوگ ایک قریشی عورت کاجنازہ لائے بولے اے ابوحمزہ اس پر نماز پڑھیئے تو آپ درمیان تخت کے مقابل کھڑے ہوئے ان سے علاء ابن زیاد نے عرض کیا کہ کیا آپ نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو جنازے پر ایسے ہی کھڑے ہوئے دیکھا جیسے آپ مرد اورعورت کے جنازے پر کھڑے ہوئے فرمایا ہاں ۳؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور ابوداؤد کی روایت میں اس کی مثل ہے کچھ زیادتی کے ساتھ اور اس میں یہ بھی ہے کہ آپ عورت کے سرین کے مقابل کھڑے ہوئے ۴؎

وَعَنْ نَافِعٍ أَبِي غَالِبٍ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَلیٰ جَنَازَةِ رَجُلٍ فَقَامَ حِيَالَ رَأْسِهِ ثُمَّ جَاؤُوْا بِجَنَازَةِ امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالُوا: يَا أَبَا حَمْزَةَ صَلِّ عَلَيْهَا فَقَامَ حِيَالَ وَسَطِ السَّرِيرِ فَقَالَ لَهُ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ: هٰكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلیٰ الْجَنَازَة مَقَامَكَ مِنْهَا؟ وَمِنَ الرَّجُلِ مَقَامَكَ مِنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ نَحْوَهٗ مَعَ زِيَادَةٍ وَفِيهِ: فَقَامَ عِنْدَ عَجِيْزَةِ الْمَرْأَةِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1679 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان

روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن ابی لیلے سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ حضرت سہل ابن حنیف اورقیس ابن سعد قادسیہ میں بیٹھے ہوئے تھے۲؎کہ ان پر جنازہ گزرا وہ دونوں صاحب کھڑے ہوگئے ان سے کہا گیا کہ یہ جنازہ زمیندار یعنی ذمی کافر کا ہے۳؎تو انہوں نے فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر ایک جنازہ گزرا آپ کھڑے ہوگئے عرض کیا گیا کہ یہ تویہودی کا جنازہ ہے فرمایا کیا یہ جان نہیں ہے ۴؎(مسلم،بخاری)

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلٰى قَالَ: كَانَ سَهْلُ ابْنُ حَنِيْفٍ وَقَيْسُ ابْنُ سَعْدٍ قَاعِدَيْنِ بِالْقَادِسِيَّةِ فَمَرَّ عَلَيْهِمَا بِجَنَازَةٍ فَقَامَا فَقيل لَهما: إِنَّهَا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ أَيْ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ فَقَالَا: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهٖ جَنَازَةٌ فَقَامَ فَقِيلَ لَهٗ : إِنَّهَا جَنَازَة يَهُودِيٍّ. فَقَالَ: “أَلَيْسَتْ نَفْساً؟”

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1680 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب کسی جنازے کے ساتھ جاتے تو نہ بیٹھتے حتی کہ میت قبر میں رکھ دی جاتی آپ کے سامنے ایک یہودی پادری آیا عرض کیا کہ اے محمد ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں فرمایا کہ پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم بیٹھنے لگے اور فرمایا کہ ان کی مخالفت کرو ۱∞؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث غریب ہے اور بشر ابن رافع راوی قوی نہیں ہے۔

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَبِعَ جَنَازَةً لَمْ يَقْعُدْ حَتّٰى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ فَعَرَضَ لَهٗ حِبْرٌ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَ لَهٗ : إِنَّا هٰكَذَا نَصْنَعُ يَا مُحَمَّدُ قَالَ: فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: “خَالِفُوهُمْ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيْ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَبِشْرُ بْنُ رَافِعٍ الرَّاوِي لَيْسَ بِالْقَوِيِّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1681 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ہم کو جنازے کے لیے کھڑے ہونے کا حکم دیاتھا اس کے بعدپھر آپ بیٹھنے لگے اورہمیں بھی بیٹھا رہنے کاحکم دیا ۱∞؎(احمد)

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا بِالْقِيَامِ فِي الْجَنَازَةِ ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ ذٰلِكَ وَأَمَرَنَا بِالْجُلُوسِ. رَوَاهُ أَحْمدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1682 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان

روایت ہے حضرت محمد ابن سیرین سے فرماتے ہیں کہ ایک جنازہ حضرت حسن ابن علی اور ابن عباس پرگزرا تو حسن کھڑے ہوگئے ابن عباس نہ کھڑے ہوئے امام حسن نے فرمایا کہ کیا رسول الله صلی الله علیہ وسلم یہودی کے جنازے کے لیے نہ کھڑے ہوئے فرمایاہاں پھر بیٹھنے لگے ۱∞؎(نسائی)

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: إِنَّ جَنَازَةً مَرَّتْ بِالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَامَ الْحَسَنُ وَلَمْ يَقُمِ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ الْحَسَنُ: أَلَيْسَ قَدْ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ؟ قَالَ: نَعَمْ ثُمَّ جَلَسَ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1683 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان

روایت ہے حضرت جعفر ابن محمد سے ۱∞؎وہ اپنے والد سے راوی کہ حضرت حسن ابن علی بیٹھے تھے کہ آپ پر جنازہ گزرا تو لوگ کھڑے ہوگئے حتی کہ جنازہ آگے بڑھ گیا ۲؎تب حضرت حسن نے فرمایا کہ ایک یہودی کا جنازہ گزرا تھا جس کے راستہ پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم بیٹھتے تھے آپ نے یہ ناپسندکیاکہ یہودی کا جنازہ آپ کے سر سے اونچا ہو اس لیے کھڑے ہوگئے ۳؎(نسائی)

وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ كَانَ جَالِسًا فَمُرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ فَقَامَ النَّاسُ حَتّٰى جَاوَزَتِ الْجَنَازَةُ فَقَالَ الْحَسَنُ: إِنَّمَا مُرَّ بِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ وَكَانَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلیٰ طَرِيقِهَا جَالِساً وَكَرِهَ أَنْ تَعْلَوْا رَأْسَهٗ جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ فَقَامَ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1684 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان

روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب یہودی یا عیسائی یا مسلمان کا جنازہ تم پرگزرے تو تم کھڑے ہوجاؤ تم اس کے لیے نہیں کھڑے ہوتے بلکہ اس کے ساتھ والے فرشتوں کے لیئے کھڑے ہوتے ہو ۱∞؎(احمد)

وَعَنْ أَبِي مُوسٰى أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “إِذَا مَرَّتْ بِكَ جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ أَوْ نَصْرَانِيٍّ أَوْ مُسْلِمٍ فَقُومُوا لَهَا فَلَسْتُمْ لَهَا تَقُومُونَ إِنَّمَا تَقُومُونَ لِمَنْ مَعهَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ” . رَوَاهُ أَحْمدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1685 ، باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان